گدھ جاتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سورج سوا نیزے پر تھا، دھوپ میں اتنی سختی تھی جیسے جسم جلتے توے پر دھرا ہو۔ عادل نے بند آنکھیں کھولیں لیکن فوراً ہی نڈھال ہو کر بند کر لیں۔ صحرا میں بھٹکتے ہوئے اسے دوسرا دن تھا۔ سانس نس نس سے الجھتی تھی، اور روح پیاس کے کانٹوں پر گھسٹ گھسٹ کر تار تار ہوئی جاتی تھی۔

عادل سبحانی، تیس کے لگ بھگ ایک رپورٹر تھا۔ ہر لمحہ مصالحہ دار اور تہلکہ مچاتی اسٹوریز کی تلاش میں سرگرداں، جو بر یک ہو تو آگ لگا دے۔ آگے اس کے نتائج معاشرے پر کتنی ضربیں لگاتے ہیں یہ اس کا درد سر نہیں تھا بس چینلوں کا بھوکا پیٹ ہر وقت بھرتا رہے، نیوز کاسٹرز بریکنگ نیوز کا ڈھول صبح سے شام تک پیٹتے رہیں اور اس جیسی زرد صحافت کی گاڑی چلتی رہے۔ تھر کے وسیع و عریض صحرا میں بھی وہ خبر کی تلاش بلکہ انسانی بے بسی کو تصویر کرنے آ یا تھا۔ اس کی بھیجی گئی رپورٹ خبر کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ کر دیتی تھی۔ وہ آئے دن انسانی المیوں، دکھوں اور بے بسی کو رپورٹ کرتا تھا۔ اور اب احساس اور درد دل جیسی کیفیات سے عاری ہی تھا۔

پچھلے چار سال سے تھر، مٹھی، ڈیپلو، بدین اور آس پاس کے تمام گاؤں شدید قحط کی لپیٹ میں تھے۔ تازہ رپورٹ جو اس نے چار بچوں کی اموات کے بعد مٹھی سے اپنے ہیڈ کوارٹر بھیجی تھی لوگوں کا کلیجہ چیر گئی تھی۔ اس سال اب تک 191 بچوں کی اموات ہو چکی تھیں اور حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی تھی۔ عادل خوش تھا کہ اس کی بنائی گئی خبر نہ صرف چینل کی ریٹنگ میں اضافہ کر رہی تھیں بلکہ ہیڈکوارٹر میں اس کو پروموشن کی بھی قوی امید تھی۔

گرم ہوا کا ایک تھپیڑا آ یا اور عادل نے پیاس سے چٹختے ہوئے ہونٹوں پر زبان پھیری صحرا کی ہوا نے گونجتی ہوئی سرگوشی کی۔

” حاضرین! حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ غیبت کرنا اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔ ہم جانے انجانے کتنے ہی لوگوں کی پیٹھ پیچھے برائی کر جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ کیا ہوا یہ تو میں فلاں کے منہ پر بھی کہہ سکتا ہوں ہو خدارا ایسا نہ کیجئے۔“ عادل کو یوں لگا وہ اپنے اسٹوڈیو میں بیٹھا ہے، نہ صحرا ہے، نہ تپتی دھوپ۔

پچھلے ہفتے ہی ایک مذہبی پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران مولانا صاحب کے الفاظ اس کی سماعتوں سے ٹکرا رہے تھے۔ اس وقت عادل اپنے چیمبر میں بیٹھا بریانی اور کولڈ ڈرنک اڑا رہا تھا۔ اس وقت ایک لمحے کو اسے ادراک ہوا کہ کیا میں بھی مردار کھا تا ہوں؟

کئی اداکاروں، سیاستدانوں، صنعتکاروں کی عزتیں، پگڑیاں وہ اچھال چکا تھا۔ رنگارنگ اسکینڈل مصالحے لگا کر پیش کرنا اور نجی محفلوں میں مشہور شخصیات کی جگتیں پیش کرنا، یہ صرف اس کا پیشہ نہیں، مشغلہ بھی تھا۔

” اونہہ! یہی تو میری روزی روٹی ہے اور پھر مشہور شخصیات کو شہرت کی کچھ قیمت تو چکانی پڑتی ہے۔ گویا:
*بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا ”
اس نے سر جھٹک کر سوچا تھا اور حلال، پاکیزہ کھانے پر ہاتھ صاف کرنے لگا تھا۔

یہ الوژن اس قدر گہرا تھا کہ اسے لگا وہ ہاتھ بڑھائے گا اور کولڈرنک کا گھونٹ بھر لے گا۔ مگر اس کے ہاتھ صرف صحرا کی ریت آئی۔ اس نے ایک بار پھر تھک کر آنکھیں بند کر لیں۔

” پچھلے دو دن سے مشہور رپورٹر عادل سبحانی تھر کے گاؤں سلام کوٹ کے مضافات سے لاپتہ ہو گئے ہیں۔ عادل سبحانی وہاں رپورٹنگ کے سلسلے میں گئے تھے۔ ان کی تلاش میں کراچی، اور اندرون سندھ سے کئی پولیس ٹیمیں روانہ ہو چکی ہیں اور تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اس واقعے کا ازخود نوٹس لیا ہے اور جلد از جلد مشہور صحافی کو تلاش کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاحال اس سلسلے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ ہم آپ کو دوبارہ بتاتے چلیں۔“ نیوز کاسٹر چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی اور وہ آج خود ایک خبر بنا ہوا تھا۔

مٹھی اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی کوریج کرنے کے بعد عادل نے تھوڑا آ گے جانے کا ارادہ کیا۔ موت اور بھوک کا رقص ہر طرف جاری تھا۔ اسے بستی والوں سے پتہ چلا کہ سلام کوٹ سے آ گے بھی کئی بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔ مٹھی میں اس کے بیس کیمپ میں ایک کیمرہ مین اور ایک عملے کا فرد موجود تھے۔ طے یہ ہوا کہ اگلی صبح جلد ہی وہ لوگ رپورٹنگ کے لئے نکل جائیں گے اور قریبی علاقوں کو کور کر کے جلد واپس شہر کو لوٹ جائیں گے۔

صحرا کی صبح بہت حسین ہوتی ہے۔ عادل کی آ نکھ علی الصبح سورج نکلنے سے بھی قبل کھل گئی تھی۔ نماز فجر کے بعد اس نے کیمپ سے باہر نکل کر آس پاس کی خوبصورت فضا کا نظارہ کیا۔ قدرت کی صناعی ہر شے سے جھلک رہی تھی مگر قحط اور بھوک نے صحرا کی فضا پر ایک بے نام اداسی طاری کر رکھی تھی۔ ابھی اس کے ساتھی کیمپ میں سو رہے تھے۔ عادل نے سوچا کہ جب تک اس کے ساتھی بیدار ہوں، وہ قریبی علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لے کر آ جائے پھر واپسی پر ناشتے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد گاؤں کی طرف روانہ ہوجائیں گے۔

یہ خیال آتے ہی اس نے جیپ اسٹارٹ کی اور دھول اڑاتا صحرا کی گرد میں گم ہو گیا۔ کچھ دور تک تو عادل کو جانی پہچانی آ بادی دکھائی دیتی رہی مگر جلد ہی اس کو اندازہ ہو گیا کہ وہ کسی اور ہی سمت نکل آ یا ہے۔ عادل کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ صحرا میں بھٹک جانا اتنا آ سان ثابت ہو سکتا ہے۔ اسے تو لگا تھا کہ وہ سب راستوں سے آشنا ہے، اور جلد ہی اپنے ساتھیوں سے جا ملے گا۔ مگر یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

دوسری غلطی اس نے یہ کی کہ ایک سمت اندازے سے اندھا دھند جیپ دوڑانا شروع کردی جو اس کے حساب سے مٹھی جانے والا راستہ تھا۔ نتیجتاً جلد ہی وہ بری طرح تھک گیا گھبراہٹ اور وحشت سے اس کی حالت خراب ہونے لگی اب دن چڑھ آ یا تھا اور وہ ہنوز جیپ ادھر ادھر دوڑا رہا تھا۔ جب دن ڈھلنے لگا اور شفق کی سرخی سارے میں چھا گئی تو اسے احساس ہوا کہ وہ پچھلے 18 گھنٹوں سے بھوکا پیاسا ہے اس کا آ خری کھانا، پچھلی رات کا کھانا تھا اور اب اس کی بچھی کچھی توانائی بھی ختم ہو رہی تھی۔

اسے معلوم تھا کہ اس علاقے میں اسے زہریلے حشرات الارض اور دیگر جانداروں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اچانک ہی جیپ ایک جھٹکے سے رک گئی۔ ”اوہ! یعنی ڈیزل ختم!“ عادل جیپ سے اتر آیا۔ اسے اب رہ رہ کر احساس ہو رہا تھا کہ اس نے کسی کو بغیر بتائے آ کر کتنی بے وقوفی کی ہے۔ اس سے زیادہ بڑی بے وقوفی اس نے موبائل کیمپ میں بھول کر کی ہے۔ ہر طرح کے خیال اس کے دماغ میں چکرا رہے تھے۔ اب تک اس کے ساتھی یقیناً اسے ہر جگہ ڈھونڈ رہے ہوں گے، اس کے گھر والے شدید پریشان ہوں گے۔ کیونکہ وہ ایک میڈیا پرسن ہے اس لیے ٹی۔ وی پر اس کی گمشدگی کی خبر بار بار چل رہی ہوگی۔

” کیا میں اپنی پیاری بیٹی عنایہ اور شریک حیات علوینہ کو کبھی دوبارہ دیکھ پاؤں گا، یا اسی صحرا میں بھٹک بھٹک کر جان دے دوں گا۔ ایسی خوفناک موت کا تو میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا جہاں میری لاش بھی کسی کو نہ ملے۔ اے میرے رب! تو کہاں ہے۔ بچا لے مجھے۔“ عادل نے اپنی پوری قوت سے خدا کو پکارا۔

” راجھستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں اور تھر سمیت کئی اضلاع میں گندم کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی طرف سے گندم اور بجلی کی فراہمی میں شدید دشواری کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں گندم کا بحران پیدا ہوا۔ جب کہ دوسری جانب عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ فلور ملز مالکان نے ناجائز منافع خوری کے لئے ذخیرہ اندوزی کی ہے اور مصنوعی بحران پیدا کیا گیا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق چکی مالکان کا منافع سات سو بارہ فیصد کے کے لگ بھگ ہے اور حقیقتاً گودام آٹے کی بوریوں سے بھرے ہیں اور دوسری طرف تھر کے معصوم اور غریب بچے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں۔“

ٹی وی پر عادل سبحانی کی گمشدگی کی خبر کے ساتھ ساتھ اس کی بھیجی گئی آخری رپورٹ بار بار چلائی جا رہی تھی۔ علوینہ ساکت نظروں سے بیٹھی اسکرین کو گھور رہی تھی دو دن سے روتے رہنے کے باعث اس کی آنکھیں سوج چکی تھیں۔ ”ماما! بابا گھر کب واپس آئیں گے“ ۔ پانچ سالہ عنایہ کی آواز سے اس کا سکتہ ٹوٹا، مگر زبان عنایہ کو تسلی دینے سے قاصر تھی۔ عنایہ کو گود میں بھینچ کر اس کے ضبط کے بندھن ٹوٹنے لگے۔

”سر! اس دفعہ گرچہ پیداوار اچھی نہیں ہوئی تھی۔ ٹڈی دل اور سفید سنڈیوں کے حملے کے باعث بھی گندم کی فصل کو خاصا نقصان پہنچا ہے مگر سر ہمارے نفع کا مارجن ماشاء اللہ پچھلے پانچ برسوں میں سب سے زیادہ رہا ہے۔ اس وقت بھی اسٹاک کی صورتحال تسلی بخش ہے۔“ ، پچھلے آدھے گھنٹے سے سیٹھ کریم علی شاہ کی سیکرٹری ماریہ ان کو بریفنگ دے رہی تھی۔ سیٹھ کریم، سندھ کے جانے مانے زمیندار، صنعت کار اور سیاستدان تھے۔ ”سر! جیسا کہ میں نے آپ کو ابھی دادو کی فیکٹری کی تفصیلات پیش کیں اور کراچی میں آپ کی فلور ملز کی مکمل فائل بھی آپ کے سامنے ہے۔ لیکن سر!“ بولتے بولتے ماریہ کی آ واز دھیمی ہو گئی۔

” لیکن۔ لیکن کیا بابا۔“
”سر! میڈیا اندرون سندھ قحط کی صورتحال پر بہت واویلا مچا رہا ہے اور آپ سمیت کچھ لوگوں کے نام۔“
” او بس کرو بی بی۔ بس۔“

سیٹھ کریم علی شاہ کی قوت برداشت جواب دے گئی۔ ”ان بکاؤ صحافیوں کو بھونکنے کے علاوہ آتا ہی کیا ہے۔ ہم کئی مرتبہ بیان دے چکے ہیں کہ قحط میں ہمارا کوئی قصور نہیں، قدرتی آفات میں ہمارا تو کوئی ہاتھ نہیں اور ساری انسانیت کا ٹھیکہ ہم نے تو نہیں لے رکھا ناں وفاق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پاتا اور الزام ہم پر دھر دیتا ہے اور ادھر وہ ان میڈیا والوں کو سوائے عزت داروں کی بوٹیاں نوچنے کے علاوہ آتا ہی کیا ہے۔ سالے مردار خور کہیں کے۔“ سیٹھ کریم کی مغلظات جاری تھیں۔

” ہاں بھئی رحیم داد! کچھ پتہ چلا اس عادل سبحانی کا؟“ مٹھی تھانے میں تعینات سب انسپکٹر خورشید شاہ نے اپنے ماتحت سے پوچھا۔ ”نہیں سر! کوئی خبر نہیں۔ کراچی سے بھی ٹیمیں اس صحافی کی تلاش میں کل سے صحرا میں نکلی ہوئی ہیں مگر دو دن سے تیز ہواؤں کی وجہ سے تمام نشانات بھی ختم ہو گئے ہیں۔ ویسے عجیب باؤ تھا، ایک دم ہی لاپتا ہو گیا اب آسمان نگل گیا یا صحرا کی ریت کچھ کہہ نہیں سکتے۔“ رحیم داد نے قہقہہ مار کر خورشید شاہ کو دیکھا اور جواب میں گھوری پا کر سنجیدہ ہو گیا۔

صبح کی کرنوں نے عادل سبحانی کی بند آنکھوں کو چوما اور اور سارے جہاں کو روشن کر گئیں۔ عادل نے بمشکل تمام اپنی آنکھوں کو کھولا، رات بھر بے ہوشی، نیم بے ہوشی میں گزر گئی تھی اپنی تمام تر طاقت مجتمع کرتے ہوئے ہوئے عادل نے جیپ سے باہر قدم رکھا، ایک موہوم سی آس، امید پر۔ شاید دور سے کوئی اسے تلاش کرتے ہوئے آ رہا ہو۔ ”بابا! پانی پی لیں۔“ قریب ہی سے عنایہ کی آ واز آئی۔ جب وہ شام کو آفس سے گھر آ تا تو عنایہ اکثر پانی لے کر اس کے پاس آتی۔

اس وقت بھی اسے بالکل وہی آ واز سنائی دی۔ اس نے مڑ کر دیکھا! دور عنایہ سفید فراک میں پانی کا گلاس لئے کھڑی تھی۔ عادل کو علم تھا کہ یہ ایک سراب ہے، دھوکہ ہے، الوژن ہے، مگر بعض سراب اتنے خوبصورت ہوتے ہیں کہ سو حقیقتیں ان پر قربان اور اس کی حقیقت تو بہت ہی درد ناک تھی وہ نہ چاہتے بھی عنایہ کی طرف بڑھنے لگا جتنا وہ اس کے قریب جاتا وہ دوبارہ اسے اتنے ہی فاصلے پر نظر آتی۔ کچھ بھوک، پیاس، صدمے نے بھی اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دی تھی، عادل سبحانی، نامور صحافی گرتے پڑتے آگے بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ نہ عنایہ ہاتھ آتی تھی نہ پانی! آخر کار عادل بے دم ہو کر، ٹھوکر کھا کر صحرا کی ریت پر گر پڑا۔ سر پر نیلا آ سمان تھا، چمکتا سورج اور تپتی دھوپ اور پشت پر گرم ریت کا سمندر۔ اس کے علاوہ کوئی تیسرا منظر یا ذی روح اس کی حد نگاہ میں نہیں تھا۔ ہاں کہیں دور، بہت دور فضا میں اڑتے پرندے!* بھوک، افلاس کے عفریتوں کو
دیکھتے ہیں اور ڈر جاتے ہیں
کتنے قاسم، ۔ کتنے ٹیپو۔
بچپن میں ہی مر جاتے ہیں
ماں کی جھولی خالی کر کے
قبروں کے منہ بھر جاتے ہیں
فاقوں کی اک ناؤ بنا کر۔
دریا پار اتر جاتے ہیں۔
کتوں کو ملتا ہے سب کچھ
بچے بھوک سے مر جاتے ہیں!

نیوز چینل ”اسٹار نیوز“ کے اسٹوڈیو میں ”باخبر عوام“ کا خصوصی ٹاک شو جاری تھا۔ تجزیہ کار اور تبصرہ نگار تھر کے قحط پر زوروشور سے تبصرے کر رہے تھے۔ اسمبلی ممبران، اور حکومتی عمائدین پر بھرپور تنقید جاری تھی۔ نامور سیاستدانوں کے کچے چٹھے کھولے جا رہے تھے۔ کف اڑاتے دانشور قوم کے درد میں میز پر مکے مار مار کر الزامات اور دشنام طرازی کی فہرست سنا رہے تھے۔ ایک دانشور غریبوں کا نوحہ پڑھتے آبدیدہ ہوئے جا رہے تھے۔

پروگرام کے اختتام کے ساتھ ہی کمرشلز چلنا شروع ہو گئے۔ سیٹھ کریم علی شاہ نے غصے سے تھوکتے ہوئے 56 انچ ایل۔ ای۔ ڈی کا ریموٹ اسکرین پر دے مارا اور کراچی فلور ملز کے دورے کے لئے اپنی سفید پراڈو کی طرف بڑھ گئے۔

اسٹار نیوز کے اسٹوڈیو میں رنگوں، روشنیوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ ”باخبر عوام“ کے پروڈیوسر اور اینکر، بلند ترین ریٹنگ پر ٹیم ارکان کو مبارکباد دے رہے تھے۔ ”ارے بھئی آج تو کمال ہی کر دیا۔ سچ کہا ہے کسی نے دکھ بکتے ہیں، غربت، افلاس کے دام لگ جاتے ہیں اور درد و اذیت کیش ہو جاتے ہیں۔ یعنی جتنی دردناک تصویر، اتنی ہی مقبول“

” جی مشتاق صاحب، درست فرمایا! اور دیکھیں ناں، حکومت بھی دباؤ میں، عوام بھی ہم سے خوش اور اپنی دال روٹی بھی چلتی رہتی ہے۔“ ایک دانشور نے دانشوری بگھاری۔

” آفتاب اسی بات پر اچھی سی چائے تو پلانا اور سموسے بھی پکڑ لینا۔“ اینکر صاحب نے اسسٹنٹ کو آواز لگائی۔

دور، کہیں دور فضا میں اڑتے پرندے اب نزدیک آتے جا رہے تھے۔ عادل کے سامنے اب دھند چھاتی جا رہی تھی۔ لمحہ بہ لمحہ زندگی، قطرہ قطرہ اس کی نسوں سے ٹپک رہی تھی۔ عادل نے بند ہوتی آنکھوں سے پرندوں کو اپنے نزدیک اترتے اور کچھ فاصلے پر بیٹھتے دیکھا۔ وہ سارے کے سارے گدھ تھے۔ بوٹیاں نوچنے والے، مردار خور، اس کی موت کے تماشائی اور منتظر۔ عادل کی آنکھیں دہشت سے پھیلنے لگیں۔

”چلیے چائے آ نے تک اگلے پروگرام کا لائحہ عمل بھی طے کرلیتے ہیں“ ۔ مشتاق صاحب نے گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا۔ ”کافی عرصے سے میں سابق سینیٹر اور سماجی کارکن ’عظیم مزاری‘ کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنا چاہ رہا تھا۔“

سیٹھ کریم علی شاہ کی سفید پراڈو تیزی سے کراچی کی طرف گامزن تھی جہاں ملز کے کھاتوں کا حساب لئے ان کے مینیجر ان کے منتظر تھے۔

گدھ جاتی کے سب ہی شریک اپنے اپنے شکار نوچنے کے لئے تیار تھے۔

Latest posts by عائشہ یوسف (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عائشہ یوسف کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments