میرا گاؤں اور ہاکی کا جنون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں۔

مقابلہ شروع ہوا۔ گیند شہباز سینئر کے پاس۔ شہباز نے کامران اشرف کو ڈی کے اندر پاس دیا۔ کامران کی ہٹ اور۔ پاکستان کا جرمنی کے خلاف پہلا گول۔

80۔ 70 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد ذاکر حسین سید کی ہاکی پر رننگ کمنٹری کو شاید کبھی بھول نہیں سکیں گے۔ جن کی آواز کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جایا کرتی تھی۔ چار عالمی کپ، تین اولمپک گولڈ میڈل، تین چیمپیئنز ٹرافی اور بے شمار ایشیا کپ اور اذلان شاہ جیسے ٹورنامنٹ جیتنے والی قومی ہاکی ٹیم کی حیثیت 90 کی دہائی تک وہی ہوتی تھی جیسے آج فٹ بال میں برازیل، فرانس اور جرمنی کی ہے۔ جن کے بغیر فٹ بال کا کھیل ادھورا محسوس کیا جاتا ہے۔

مگر پھر شہباز سینیئر (جسے ہاکی کا میراڈونا بھی کہا جاتا ہے ) کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان ہاکی کا عروج بھی رخصت ہو گیا۔ اور اب یہ کھیل شاید وینٹیلیٹر پر اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ یہ صرف جنرل نالج کے سوال کی حد رہ گیا ہے کہ ’پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے‘ ورنہ قومی سطح پر ہاکی لاوارث ہو چکی ہے۔ اس قومی کھیل کو زوال کیوں آیا، اس کے ساتھ کھلواڑ کس نے اور کیوں کیا وہ ایک الگ بحث ہے۔ مگر آج بھی اس کھیل کے کچھ بے لوث دیوانے پاک سر زمین پر اسے مصنوعی تنفس کے سہارے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اور اس جرم میں میرا گاؤں بھی شامل ہے۔

ضلع گوجرانوالا سے 25 کلومیٹر دور حافظ آباد روڈ ہر چھوٹا سا گاؤں پھلوکی۔ ہوش سنبھالتے ہی میری نسل نے اپنے گاؤں کے باسیوں کو ہاکی سے والہانہ محبت کرتے دیکھا۔ خواہ وہ چاچا غلام قادر (مرحوم) جیسے چند ٹی وی رکھنے والے مخصوص گھروں میں براہ راست میچ دیکھنا ہو یا گاؤں میں آل پنجاب ٹورنامنٹس کا انعقاد۔ اس گاؤں نے درجنوں برادریوں، فرقوں اور مختلف نظریات کے حامل لوگوں کو ہمیشہ ہاکی کے لیے ایک چھت کے نیچے اکٹھا دیکھا۔

وہ غربت کے زمانے تھے۔ بلیک اینڈ وائیٹ ٹی وی اور ریڈیو کا دور تھا۔ ہاکی ہمیشہ سے ایک مہنگا کھیل ثابت ہوا ہے۔ گاؤں کی سینئر ٹیم کے ارکان تو اس وقت کے مشہور برانڈ احسان اور ڈیٹا کی ہاکی اور سٹینڈرڈ بال مینیج کر لیتے تھے۔ مگر ہم بچے درختوں سے مخصوص زاویے سے مڑی ہوئی لکڑیاں کاٹ کر اسے ہاکی بنا لیتے اور کاک بال کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ اگر کبھی وہ بھی میسر نہ ہوتا تو شوق پورا کرنے کے لئے شاپنگ بیگز جلا کر ٹیڑھا میڑھا گیند بنا کر اس کے پیچھے دوڑ بھاگ کر لیتے۔

اس گیند کو تیار کرنے کی کوشش میں انگلیوں کی پوریں بھی جل جاتیں۔ دوران کھیل ٹانگ پر ہاکی کی ضرب سے بچنے کے لیے شین پیڈ کا تصور بھی نہ تھا۔ آج بھی پنڈلیوں پر زخموں کے درجنوں نشان ہاکی سے محبت کی گواہی دیتے ہیں۔ گاؤں کے واحد باقاعدہ گراؤنڈ پر کھیلنے کا کبھی چانس نہیں ملتا تھا۔ اگرچہ وہ سہ پہر تک خالی ہوتا مگر ہماری صبحوں اور دوپہروں پر مادر علمی کا قبضہ تھا۔ اور سہ پہر کے بعد سینیئر ٹیم کا میدان پر قبضہ ہو جاتا۔ زمین زرخیز ہونے کی وجہ سے خالی قطعہ شاذونادر ملتا تھا۔ اس لیے لہو گرم کرنے کے لیے کبھی فصل کٹنے کا انتظار رہتا تو کبھی کسی خالی قطعہ پر اپنا شوق پورا کر لیتے۔

ہمارا گاؤں اگرچہ ہمیشہ سے بہت پر امن رہا ہے مگر ایک بار گاؤں میں آل پنجاب ٹورنامنٹ ہو رہا تھا۔ صبح نو بجے مہمان ٹیموں کا افتتاحی میچ تھا۔ مگر رات کے اندھیرے میں کسی اللہ کے بندے نے ایک ذاتی رنجش پر ٹریکٹر سے حل چلا کر سارا گراؤنڈ کھود ڈالا (بالکل بال ٹھاکرے کی طرح جس نے پاکستان کے میچ سے پہلے ممبئی کی پچ اکھاڑ ڈالی تھی) ۔ صبح سویرے اپنے ڈھور ڈنگر کی سیوا کے لیے جانے ولے ایک کسان کی تباہ حال گراؤنڈ پر نظر پڑی تو اس نے فی الفور مسجد میں جا کر اعلان کروا دیا کہ رات کسی نے گاؤں کا گراؤنڈ کھود ڈالا ہے۔

پنڈ کی عزت کا سوال تھا۔ بس پھر کیا تھا۔ جس کے ہاتھ میں جو اینٹ، لکڑی، بالٹی، پتھر آیا وہ لے کر گراؤنڈ کی طرف چل دیا۔ اور پھر صرف تین گھنٹوں میں گراؤنڈ میچ کے لیے دوبارہ تیار تھا۔ اسی جنون نے اس پسماندہ ٹکرے سے دو انٹرنیشنل کھلاڑی پیدا کیے۔ جن میں سے ایک صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے والے خالد حمید صاحب ہیں، جن کو 1984 کا اولمپکس اور 3 چیمپیئن ٹرافیاں کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ (آج کل قومی ہاکی ٹیم کے سلیکٹر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں ) ۔

پھر اکیسویں صدی کی پہلی مشینی دہائی کا آغاز ہو گیا۔ اکثر سینئر کھلاڑیوں کو فکر معاش نے جکڑ لیا۔ کچھ گھر بار کے ہو کر رہ گئے اور کچھ نے پردیس میں جا کر دل لگا لیا۔ نئی نسل کے نوجوان نسبتاً آسان اور کم لوازمات ہونے کی وجہ سے کرکٹ کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے۔ حسن سردار اور کلیم اللہ کی بجائے شاہد آفریدی اور شعیب اختر ذہنوں پر چھا گئے۔ کئی نوجوانوں نے بلوغت کے بعد تعلیم اور بہتر مستقبل کی تلاش میں شہر کا رخ کر لیا۔ اور یوں گاؤں کی گلیاں، میدان، کھلیان اور نہریں بہت پیچھے رہ گئیں۔

پھر رفتہ رفتہ ہاکی گاؤں سے بالکل ختم ہو گئی۔ عدم دلچسپی کی وجہ سالانہ ٹھیکا بھی ادا نہ کیا گیا اور پھر گاؤں کے واحد چٹیل میدان پر سر سبز فصل لہرانے لگی۔ ہاکی کے زوال کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ آج گاؤں میں ہاکی کا فائنل میچ کھیلنے والی حافظ آباد کی ٹیم میں ایک سابقہ اولمپیئن بھی کھیل رہا تھا۔ جس کی بابت علم میں آیا کہ وہ اپنی گزر بسر کے لیے ٹیکسی چلا رہا ہے۔ مزید پہلے کبھی ٹورنامنٹ کھیلنے کی انٹری فیس ہوا کرتی تھی۔

مگر اب کھیلنے کے لیے آنے والی ٹیم کو TA/DA کے نام پر میزبان ٹیم اپنی جیب سے پیسے دے کر بھیجتی ہے۔ ان کے کھانے پینے کے الگ سے اخراجات ہوتے ہیں۔ ایسے میں لگتا نہیں تھا کہ اس شاندار ماضی رکھنے والے کھیل کا اب یہاں کوئی نام لیوا ہو گا۔ مگر پھر طارق سیکھو صاحب اور منشی ریاض صاحب (جو اپنے زمانے کے بہترین کھلاڑی بھی رہ چکے ہیں ) جیسے مزید کچھ گم نام ستاروں کے اندر سے ہاکی کی سوئی ہوئی محبت کی چنگاری نے آگ پکڑی۔

انہوں نے ہمت کر کے تمام مسائل کا سامنا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور گاؤں کے بچے اکٹھے کر کے ہاکی شروع کر دی۔ اپنے بچوں کی عمر کے لڑکوں ساتھ کھیلنے پر انہیں طنزو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ وقت اور مالی مشکلات نے بھی راستے کی رکاوٹ بننے کی کوشش کی۔ مگر وہ کسی مسئلے کو خاطر میں نہ لائے۔ مغرب کی نماز کے قریب ہر کسی نے گاؤں کی سڑک سے گزرتے ہوئے ان دونوں کو سیٹی بجاتے میدان میں بھاگتے دیکھا۔ ان کے جذبے کو دیکھتے ہوئے گاؤں کے ارباب اختیار نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا اور روایات کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی اپنی سکت کے مطابق بھرپور حصہ ڈالنے کا وعدہ کیا۔

اس طرح پرانے گراؤنڈ کو بھی بازیاب کروا لیا گیا۔ انہوں نے بچوں کے اندر اس کھیل کی محبت پیدا کر کے بہترین کوچنگ کی، جنہوں نے آج ہر سال منعقد ہونے والے کیپٹن حمید شہید ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچ کر اس قدر شاندار کھیل پیش کیا کہ ایک بار پھر گاؤں کی پرانی ٹیم ’پرنس ہاکی کلب‘ کے درخشاں ماضی کی یاد تازہ ہو گئی۔ یہ ان کی محنت کا ہی نتیجہ تھا کہ آج کے مصروف ترین موبائل اور انٹرنیٹ کے دور میں بھی میچ سے لطف اندوز ہونے کے لیے عوام کا جم غفیر امڈ آیا۔ جن کا جوش اور جذبہ دیدنی تھا۔ یقینی طور پر اس کھیل کو زندہ رکھنا ایک مشکل اور غیر منفعت بخش ٹاسک ہے۔ جس کا ملکی یا عالمی سطح پر کوئی مستقبل بھی نہیں ہے۔ مگر محبت اور جنون نے ہمیشہ ہی گھاٹے کا سودا کیا ہے۔

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments