انگریز ڈاکٹرز نہ ملتے تو پتہ نہیں کیا ہوتا
مطیع اللہ خان نیازی ضلع میاں والی کی تحصیل عیسٰی خیل سے ہے۔ سپائنل کارڈ انجری کا شکار ہیں۔ ایم۔ اے اسلامیات، سی۔ ٹی اور بی۔ ایڈ بھی ہیں۔ گورنمنٹ سکول میں پندرہویں گریڈ کے ٹیچر ہیں۔ تعلیمی سفر میں سکول کی طرف سے بہترین استاد کا ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈی۔ ای۔ او کی طرف سے بھی لیٹر آف ایپریسی ایشن حاصل کر چکے ہیں۔ سکول کی ڈسپلنری کمیٹی کے سینئر رکن ہیں۔ ڈسپلن کے تمام فیصلے دباؤ، سفارش اور حیثیت سے بالاتر ہو کر کرنے کی وجہ سے مطیع اللہ خان کی رائے کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے مطیع اللہ خان سمر کیمپ کا اہتمام کرتے ہیں جس میں گاؤں کے بہت سے بچوں کو بغیر کسی فیس کے امتحانات کی تیاری کروائی جاتی ہے۔ مطیع اللہ خان کا سمر کیمپ اتنا مشہور ہے کہ بعض اوقات بچوں کی تعداد سو سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔
مطیع اللہ خان کا خاندان علاقے میں ذمہ داری کی وجہ سے مشہور ہے۔ والد محترم ابتداء میں ذمہ داری کے ساتھ مال مویشیوں کا کاروبار بھی کرتے تھے۔ آج کل بہاولپور شہر میں ٹریکٹرز، زرعی آلات، کھاد اور ادویات کا کاروبار کر رہے ہیں۔ مطیع اللہ خان کے والد صاحب نے دو شادیاں کی ہیں۔ پہلی والدہ سے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، جبکہ دوسری والدہ سے پانچ بہنیں اور چار بھائی ہیں۔ بھائی شعبہ تعلیم، کاروبار اور زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ سارے بھائی بہنیں خوشگوار زندگی بسر کر رہے ہیں۔
مطیع اللہ خان پیدائشی طور پر نارمل تھے۔ آنکھوں میں سہانے خواب سجائے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج عیسٰی خیل سے بی۔ اے کر رہے تھے۔ 29 مئی 1990 ء کو مطیع کے خاندان کی گاؤں کے دوسرے خاندان کے ساتھ جھگڑے کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا، نہ چاہتے ہوئے بھی لڑائی کا حصہ بننا پڑا۔ اچانک کہیں سے ایک گولی آئی جو گردن کے بائیں حصے سے ہوتی ہوئی کندھے سے باہر نکل گئی۔ گولی جسم سے باہر تو نکل گئی لیکن نکلتے نکلتے مطیع کے حرام مغز کو نقصان پہنچا گئی۔ جس کے بعد مطیع کے دھڑ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔
مطیع اللہ خان کا لاہور کے مشہور ہسپتالوں سے علاج ہوتا رہا۔ ڈاکٹر نے امید دلائی کہ کچھ عرصہ ورزش کے بعد چلنے کے قابل ہو جائیں گے۔ بہت سی ورزشوں کے بعد جب آرام نہ آیا تو کسی نے پشاور کے مشہور ترین ہسپتال پیرا پلیجک سینٹر جانے کا مشورہ دیا۔ پیرا پلیجک سینٹر سپائنل کارڈ انجری کے حوالے سے پاکستان کا جدید ترین ہسپتال ہے۔ جہاں انگریز ڈاکٹرز بھی فرائز سر انجام دیتے ہیں۔ مطیع اللہ خان کیونکہ پڑھے لکھے تھے اس لیے انگریز ڈاکٹروں سے بات چیت کر لیا کرتے تھے۔
دوران علاج ظاہر خان نام کے ایک فزیو تھراپسٹ دوستی ہوگی۔ جینین موری نام کی ڈاکٹر نے بحالی کے اس عمل میں بھر پور تعاون کیا۔ انگریز ڈاکٹر صبح مریضوں کو چیک کرتے، دن کے وقت پشاور میں اپنے آفس میں مل کر بیٹھا کرتے تھے۔ جینین مطیع اللہ خان کو اپنے ساتھ آفس لے جاتیں جہاں انھیں ٹائپنگ کی ٹرینگ دی جاتی۔ شام ہونے پر ہسپتال میں واپس چھوڑ دیا جاتا۔ مطیع اللہ خان کہتے ہیں بحالی کے اس عمل میں اگر انگریز ڈاکٹرز کا ساتھ نہ ہوتا تو شاید آج یہ اس مقام پر نہ ہوتے۔
چار ماہ پیرا پلیجک سینٹر میں گزارنے کے بعد جب مطیع اللہ خان گھر واپس آئے تو انگریز ڈاکٹرز نے ایک ٹائپ رائٹر بھجوا دیا۔ لیکن کچہری اور عدالتیں دور ہونے کی وجہ سے مطیع اس سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
مطیع اللہ کے استاد محترم حافظ لطیف صاحب جو اس وقت سینئر ہیڈ ماسٹر کام کر رہے ہیں، ایک روز مطیع اللہ خان سے ملنے آئے، انھیں خوب سمجھایا اور ان کا داخلہ پی۔ ٹی۔ سی کے لئے بھجوا دیا۔ پی۔ ٹی۔ سی پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ سکول کی جاب کے لئے ٹیسٹ دلوایا، جسے مطیع اللہ خان باآسانی پاس کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس طرح 1993 ء میں پرائمری سکول میں بطور استاد بھرتی ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ دس سال تک بطور پرائمری ٹیچر پڑھاتے رہے۔
اس دوران لطیف صاحب مطیع کو مزید پڑھنے کی ترغیب دیتے رہے۔ بی۔ اے ابھی نامکمل تھا۔ حافظ لطیف صاحب نے مطیع اللہ خان کا پرائیویٹ داخلہ بھجوا دیا۔ امتحانات گورنمنٹ کالج عیسٰی خیل میں ہوئے۔ جن کے لئے پندرہ دن شہر میں رہنا پڑا۔ سیکنڈ ڈویژن میں بی۔ اے پاس کرنے کے بعد اب مطیع اللہ خان کی نظر ایم۔ اے پر لگ گئیں۔
ایم۔ اے سے پہلے سی۔ ٹی کا کورس کیا جس کے امتحانات گورنمنٹ کالج عیسٰی خیل میں ہوئے۔ پرچے دینے کے لئے صبح تین بجے گھر سے نکلتے۔ گھر سے بس سٹاپ کا راستہ دو کلومیٹر تھا۔ جسے ویل چیئر پر ہی طے کرنا پڑتا۔ پھر بیس کلومیٹر کا سفر بس پر طے کرنا پڑتا۔ انہی مشکلات کے ساتھ واپسی ہوتی۔ سی۔ ٹی کے بعد بی۔ ایڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے امتحانات سرگودھا میں ہوئے، جو میاں والی سے دو ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ امتحانات کے لئے بیس دن سرگودھا میں رہے۔
پھر اسلامیات میں ایم۔ اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ گھر میں ہی تیاری کی۔ امتحانات کا سینٹر گھر سے پینسٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ بس میں آیا جایا کرتے۔ اس طرح دو سال میں ایم۔ اے مکمل کیا۔
مطیع اللہ کہتے ہیں کہ یہ سب باتیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ گاؤں میں آگہی اور سہولیات کی شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ ہر جگہ آنے جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
2003 ء میں مطیع اللہ خان کی پرموشن ہو گئی۔ جس کے بعد سے اب تک یہ ہائی سکول میں پڑھا رہے ہیں۔ پڑھانے کے ساتھ ساتھ سکول کی ڈسپلنری کمیٹی کے چیئر مین بھی رہے ہیں۔ آج بھی ڈسپلنری کمیٹی کے سینئر ممبر ہیں۔ ڈسپلنری کمیٹی سکول انتظامیہ، اساتذہ کرام، طالب علموں اور معاشرے کے درمیان پل کا کام کرتی ہے۔ پالیسیز کو نافذ کرواتی ہے، طلبہ اور معاشرے کو رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ کسی بھی نا خوشگور واقعے کی صورت میں مطیع اللہ خان سینئر رکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی رائے کو مقدم سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے بیشتر معاملات موقعے پر ہی نمٹا لیے جاتے ہیں۔
مطیع اللہ خان نے ہمیں اپنے سکول کے کچھ سابقہ پرنسپل صاحبان کے نمبرز دیے۔ ہم نے جنید صاحب سے رابطہ کیا جو اس وقت راولپنڈی کے علاقے ٹینچ بھاٹہ کے ایک سرکاری سکول میں تعینات ہیں۔ جنید صاحب نے کہا کہ چار سال مطیع اللہ خان ان کی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ چار سالوں میں انھوں نے کبھی محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ وہ جسمانی معذوری کا شکار ہیں۔ وہ مشکل سے مشکل ترین کام ان کو سونپ دیا کرتے جسے وہ با آسانی پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا کرتے تھے۔ اپنی ایڈمنسٹریشن کے دوران انھوں نے مطیع اللہ خان کو بڑی جماعتوں اور پرائمری تک میں آزمایا۔ ہر جگہ مطیع نے بھر پور کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جنید صاحب نے مطیع کا طریقہ تدریس، اخلاق، محنت اور مینجمنٹ کو سرہاتے ہوئے رول ماڈل قرار دیا ہے۔
مطیع اللہ خان کہتے ہیں کہ خدا نے انھیں معاشرے میں وہ عزت اور مقام عطا کیا ہے جو بہت سے ہاتھوں پیروں والے بھی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مطیع اللہ خان اپنے سٹاف، سابقہ اور موجودہ پرنسپل صاحبان کے بھی شکر گزار ہیں جن کے تعاون سے آج یہ اس مقام پر ہیں۔
نوکری ملنے کے بعد والد صاحب نے دو چھوٹے بھائی اور ایک بہن کی ذمہ داری مطیع کو سونپ دی۔ ایک بہن کے شوہر جوانی میں فوت ہو گئے تھے۔ ان کے بچوں کی کفالت بھی مطیع اللہ خان نے ہی کی۔ سب کو پڑھایا، اعلٰی مقام تک پہنچا کر سب کی شادیاں بھی کیں۔ ساتھ ہی مطیع نے بڑے بھائی کے ساتھ مل کر گھر تعمیر کیے، شہر میں ایک کنال اور گاؤں میں دو کنال کے پلاٹ بھی لیے ۔
آج کل مطیع اپنے گھر میں اکیلے رہتے ہیں۔ ایک کمرے کو لائبریری بنا رکھا ہے۔ فارغ اوقات میں اپنی زمینوں کا چکر لگانا اور کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔
مطیع اللہ خان کہتے ہیں کہ دس سال قبل علاقے کے ایک معذور شخص نے ان سے رابطہ کیا اور اپنے مسائل کا حل دریافت کرنے کی کوشش کی۔ مطیع اللہ خان نے اس شخص سے کہا کہ سب سے پہلے گھر سے باہر نکلو اور ویل چیئر پر بیٹھے دنیا کا مقابلہ کرنے کوشش کرو۔ وہ شخص مطیع اللہ خان کی رائے سے بہت متاثر ہوا۔ اب وہ باہر نکلتا ہے اور خوب گھومتا پھرتا ہے۔ یہی مشورہ مطیع اللہ خان کا تمام معذور افراد کے لئے ہے کہ گھر سے باہر نکلیں اور حالات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں۔



