قرآن کی اجمالی تصویر (پہلی قسط)
قرآن صحیفۂ قانون بھی ہے اور صحیفۂ اخلاق بھی، تاریخی دستاویز بھی ہے اور سوانح کی کتاب بھی، علم نفسیات کا دفینہ بھی ہے اور علم و حکمت خزینہ بھی۔ پھر ان سب حیثیتوں کے بعد اور ان سب حیثیتوں سے پہلے قرآن روشنی اور ہدایت ہے، علم اور نور ہے اور آخری وحی ہے۔ پھر یہ روشنی اور ہدایت قرآن کی ہر حکایت میں، ہر حکم میں، ہر تعلیم میں اور اس کی ہر تاریخی و دستوری اور سوانحی حیثیت میں، سب میں موجود ہے۔ جس طرح اجسام میں روح موجود ہے، زبان میں صفت تکلم موجود ہے، ذہنوں میں خیال موجود ہے اور دعا میں اثر موجود ہے اور جس طرح دوا میں شفا، گل میں خوشبو اور شاخ گل میں باد سحرگاہی کا نم موجود ہے۔
قرآن اپنے بیانیے کے اعتبار سے دعا بھی ہے اور رب سے مکالمہ بھی ہے۔ قرآن کی ابتدا بھی دعا ہے اور انتہا بھی دعا ہے۔ ابتدا میں صراط مستقیم کی دعا ہے اور صراط مستقیم کی پیروی کرنے والوں کی پیروی کرنے کی توفیق کا سوال ہے۔ اور انتہا میں شیاطین جن و انس اور چیزوں کی بری خصلتوں اور تاثیر سے پناہ مانگنے کے دعائیہ کلمات ہیں۔
قرآن زندگی کے بہت ہی ٹھوس حقائق سے بھرا ہوا بھی ہے، لہذا قرآن میں سائنس بھی ہے اور اسی قرآن میں مافوق الفطرت واقعات بھی ہیں۔ قرآن میں ایسی چیزیں بھی ہیں جو انسان کی قوت ادراک سے ماورا ہیں۔
قرآن میں جتنا کچھ دنیا اور دنیا کے بارے میں ہے اس سے کہیں زیادہ آخرت اور آخرت کے حقائق کے بارے میں ہے، پھر بھی آخرت کا پورا نقشہ قرآن میں موجود نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایسا ہے کہ دنیا کی ہر شے قرآن میں موجود ہے۔ قرآن مکالمہ اس حیثیت سے ہے کہ اس میں لوگوں کے کہے اور ان کہے سوالات کے جواب دیے گئے ہیں۔ نزول قرآن کے وقت جن لوگوں نے رسول اللہﷺ سے سوالات کیے، اللہ نے ان سب کے شافی و کافی جواب دیے، قرآن کا معتدبہ حصہ انہی سوال و جواب پر مشتمل ہے۔ قرآن میں بعض ایسے سوالات کے جواب بھی مل جاتے ہیں جو آپ کسی سے نہیں پوچھتے، بلکہ آپ سوچتے ہیں یا یوں کہیں کہ اپنے آپ سے ہی پوچھتے ہیں۔ آپ پوچھتے ہیں :
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے؟
اور قرآن جواب دیتا ہے کہ یہ سب اللہ کی قدرت کاملہ اور رحمت عامہ کا مظہر ہے اور ان کی ایک غایت اور مقصد ہے۔ پھر قرآن وہ مقصد تفصیل سے بتاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ اللہ نے کوئی بھی چیز عبث نہیں پیدا کی۔
”ہم نے آسمان، زمین اور ان کے مابین کی کسی بھی شے کو بے فائدہ اور بے مقصد نہیں بنایا“ (سورۃ ص: آیت:27)
قرآن اس عظیم الشان کائنات کے خالق و مالک کا ، یعنی اللہ کا کلام ہے، نزول قرآن کے اختتام کے ساتھ ہی اللہ کی طرف سے لوگوں کی شرعی رہنمائی اور گائیڈنس کی بھی تکمیل ہو گئی اور اللہ نے اس بات کا اعلان فرمانا بھی ضروری سمجھا ہے، اسی لیے فرمایا:
”آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا۔“ (المائدۃ:3)
یہاں دین کی تکمیل سے مراد دین کی اس تعلیم کی تکمیل ہے جو انبیاء کرام کے ذریعے انسانوں کو دی گئی۔ اور اس تعلیم کا آغاز نزول قرآن کے آغاز سے بہت پہلے سے جاری تھا۔ یہ ظاہر ہے کہ نزول قرآن کا ایک آغاز ہے اور ایک اختتام بھی ہے۔ مگر دین کی تعلیم کا آغاز انسانی دنیا پر انسان کے نقش اول یعنی حضرت آدم و حوا سے ہی ہو گیا تھا اور اس کی تکمیل مختلف ادوار میں مختلف شریعتوں سے گزرتے ہوئے نزول قرآن کے اختتام پر ہوئی۔
اللہ نے جب دین کو مکمل کیا اور نبوت و وحی کے سلسلے کو ختم کیا، تو تکمیل دین کا اعلان کیا۔ جس طرح بوتل میں کسی بھی مطلوبہ مواد کی مطلوبہ مقدار بھرنے کے بعد اسے سیل بند کر دیتے ہیں، کہ اب اس میں مزید کچھ نہیں بھرا جاسکتا، اسی طرح اللہ نے بھی وحی کا سلسلہ موقوف کر کے قرآن کو سیل بند کر دیا۔ اب قرآن میں مزید کچھ نہیں لکھا جاسکتا، قیامت تک بھی نہیں۔ مگر چونکہ قرآن کے الفاظ جامد ہیں اور اس کی تعلیمات و احکامات غیر منصرف، مگر ان کا جو مظروف ہے یعنی زمانہ، وہ ہر لحظہ متغیر اور غیر ثابت و سیار ہے۔
یہ ایک طرح سے دو مختلف، متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف کھڑی ہونے والی چیزیں ہیں۔ اس لیے اللہ نے ان دونوں متضاد حالتوں کے درمیان تطبیق اور انضباط پیدا کرنے کے لیے شریعت میں ’اجتہادات‘ کی ایک ونڈو کھلی رکھ دی۔ یہ ایک طرح سے قرآن کے جامد و ثابت الفاظ اور غیر منصرف اوامر و نواہی کو منصرف حالت میں لانے جیسا ہے تاکہ صبا رفتار تہذیب و تمدن کی اخلاقی و تہذیبی رہنمائی کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا جا سکے۔
سلسلۂ نبوت کے اختتام کے ساتھ ہی شرعی تعلیم کا سلسلہ بے شک بند ہو گیا مگر اللہ کی طرف سے انسانوں کو فطرت اور نیچر کے حوالے سے تعلیم دینے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ خود اللہ ہی کا فرمان ہے :
” (آج بھلے ہی یہ لوگ قرآن کو جھٹلا رہے ہیں مگر ) آنے والے وقتوں میں ہم انہیں اپنی ایسی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق (کائنات) میں بھی اور خود ان کے اپنے نفس کے اندر بھی، تب ان پر یہ پوری طرح واضح ہو جائے گا کہ یہ قرآن بر حق ہے۔“ (فصلت: 53)
آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل کو ایک پرندے (کوے ) کے ذریعہ تعلیم دینے کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ (المائدہ:31) ۔ انسان کو تعلیم دینے کا یہ فطری طریقہ آج بھی جاری ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اللہ انسانوں کو ایسی صلاحیتوں اور علوم و فنون سے نوازے گا جو ان کے لیے سوچ کی یہ راہ پیدا کریں گے کہ وہ قرآن کی حقانیت کو سمجھ سکیں گے اور قرآن میں موجود اللہ کی ذات و صفات اور اس کی قدرت کاملہ کا صحیح معنیٰ میں ادراک کرسکیں گے۔ آج جب نبی ﷺ کے ذریعے انہیں قرآن کی آیات سنائی جا رہی ہیں تو ان کے دلوں نے اس کی حقانیت کو تسلیم نہیں کیا مگر آنے والے کل میں جب انسان کے علم و فن اور عقل و شعور میں اضافہ ہو گا، تجربات اور مشاہدات میں وسعتیں اور گہرائیاں پیدا ہوں گی تو اسی انسان کے ذہن اس بات کو قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
اللہ کیسا ہے؟ قرآن میں یہ بیان نہیں ہوا۔ اللہ کی شان اور اس کی قدرت کیسی ہے؟ قرآن میں یہ بیان ہوا ہے۔ قرآن میں اللہ سے متعلق جو کلام ہے وہ بہت مختصر ہے، آیۃ الکرسی، سورۂ اخلاص اور دیگر آیات مل کر اللہ کی عظمت و شان بیان کرتی ہیں اور اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک ہیولیٰ تشکیل دیتی ہیں اور ایک پیکر تراشتی ہیں تاہم یہ پیکر ایسا ہے کہ انسان اس کے بارے میں مکمل نہیں جان سکتا، کیونکہ اللہ کی شان اتنی اعلیٰ و ارفع ہے کہ انسان کو عطا کی گئیں تمام کی تمام ادراکی اور حسی قوتیں مل کر بھی اللہ کی شان کا ادراک نہیں کر سکتیں۔
اگر پورا قرآن صرف اور صرف اللہ کی قدرت، صفات، ہیولیٰ اور اس کی شان ہی بیان کرتا تب بھی انسان اللہ کو اس سے زیادہ نہیں سمجھ پاتا جتنا موجودہ قرآن کے ذریعہ سمجھ سکتا ہے، جس میں اللہ کا تفصیلی تعارف نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ کو نہ دیکھا جاسکتا ہے، نہ سنا جاسکتا ہے، نہ چھوا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس سے ہم کلام ہوا جاسکتا ہے۔ اللہ کو صرف محسوس کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی صرف اس کی قدرت ہی کو محسوس کیا جاسکتا ہے، ذات کو محسوس نہیں کیا جاسکتا۔
اللہ کی قدرت کو اور اس کی شان کو ہر جگہ، ہر وقت اور ہر چیز میں محسوس کیا جاسکتا ہے، قرآن کے سیپاروں میں اور آیتوں میں بھی، آفاق وانفس کی پہنائیوں میں بھی اور اس کی پنہائیوں میں بھی، اسی طرح آفاق وانفس کی وسعتوں اور بے کرانیوں میں بھی، ذروں میں بھی اور قطروں میں بھی اور ان چیزوں میں بھی جو ذروں اور قطروں کے فارم میں نہ ہوں جیسے روح اور خوشبو، برقی رو اور مقناطیسیت وغیرہ۔ اللہ کی شان کو اور اس کی قدرت کو ان سب چیزوں میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس سے آگے انسان کی رسائی نہیں ہے۔
اگر یک سر موئے برتر پرم
فروغ تجلی بسوزد پرم
قرآن ایسی گائڈ بک ہے جو انسان کو دونوں جہانوں کے بارے میں گائڈ کرتی ہے، دنیا کے بارے میں بھی اور آخرت کے بارے میں بھی۔ اس گائڈ بک کی رہنما ہدایات کی روشنی میں ہر انسان دنیا و آخرت دونوں جگہ آسانی اور سہولت کے ساتھ سفر کر سکتا ہے۔ اور اپنی دنیاوی زندگی کو مزید خوبصورت اور اسے اپنے پیدا کرنے والے کی منشا و مرضی کے مطابق بنا سکتا ہے۔
قرآن میں جزا و سزا کا بیان بھی ہے۔ جزاؤں کا بیان ہے تو وہ بھی اپنی انتہاؤں پر ہے، کہ انسان ایسی جزاؤں کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہ سکے۔ اور سزاؤں کا ذکر ہے تو ایسی سزاؤں کا ذکر بھی ہے کہ انسان انہیں سن کر سر سے پیر تک لرز اٹھے۔ جو سزائیں دنیا کی زندگی سے متعلق ہیں ممکن ہے انسان ان کے بار میں یہ خیال کرے کہ ایسی سزائیں تو اس دنیا میں رات دن دی جاتی ہیں، جیلوں کے اندر بھی اور جیلوں کے باہر بھی، محلوں کے بند دروازوں کے پیچھے بھی اور سیاست کے ایوانوں کی کھلی چھتوں پر اور ان کے سامنے پھیلے تاحد نگاہ باغات اور صحرا نما میدانوں میں بھی۔
مگر قرآن میں آخرت سے متعلق جن سزاؤں کا بیان ہے اور جس جہنم کا ذکر ہے اور جہنم کی جن سزاؤں کا خلاصہ ہے اگر انسان ان پر سنجیدگی سے غور کر لے تو سر سے پیر تک لرز اٹھے۔ پھر اس کے ساتھ ہی قرآن میں معافیوں کا اعلان بھی ہے، دنیا کے خالق کی رحمتوں کا بیان بھی ہے۔ پھر یہ رحمتیں بھی اپنی انتہاؤں پر ہیں اور معافیاں بھی۔ قرآن میں یہ بھی ہے کہ اللہ رحمان و رحیم ہے، ستار و غفار ہے، کریم ہے اور بے نیاز ہے۔ اللہ کی رحمتیں بے حد و بے حساب ہیں، دنیا کا کوئی بھی انسان دنیا کے اپنے کسی بھی پیمانے سے اللہ کی رحمتوں کو ناپ نہیں سکتا، ناپنا تو دور کی بات ہے اللہ کی رحمتوں کی انتہاؤں کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
قرآن میں سیکڑوں آیات ہیں جو سائنس کا موضوع ہیں۔ بعض انسان کی اور کائنات کی تخلیق سے متعلق ہیں اور بعض کائنات و انسان کے راز ہائے سربستہ سے متعلق بھی ہیں۔ پھر انسان کی تخلیق کے جو مراحل ہیں ان سے متعلق ہیں۔ اور یہ سب سائنس کا موضوع ہیں۔ علمائے اسلام نے سائنس کی طرف زیادہ توجہ نہیں کی ورنہ موجودہ دور تک سائنس نے جتنی ترقی کرلی ہے اس کے سہارے قرآن میں تحقیقات کا ایک نیا باب کھل سکتا تھا۔ علمائے اسلام کی مہارتیں جن موضوعات میں سامنے آئی ہیں ان میں حدیث، فقہ، لغت، عقائد، علم کلام، منطق و فلسفہ، تاریخ، صرف و نحو اور صنائع و بدائع جیسے علوم ہی رہے ہیں۔ باوجود اس کے کہ مسلمانوں میں سائنسی علوم نے اپنے عروج کا زمانہ دیکھا ہے اور مسلمانوں میں اعلیٰ پائے کے درجنوں سائنسداں بھی پیدا ہوئے ہیں پھر بھی ایسا ہوا کہ قرآنی تشریحات میں سائنسی علوم کو بار نہیں مل سکا۔ یہ ایک قومی المیہ رہا اور تاحال یہ المیہ ہی ہے۔
قرآن کا بیانیہ نارمل حالات کا بیانیہ نہیں ہے، کیونکہ قرآن میں ایسے ہی واقعات اور کردار بیان ہوئے ہیں جو نارمل کردار و واقعات بہر حال نہیں ہیں۔ اسی طرح قرآن کا بیانیہ اتنا سادہ و سپاٹ بھی نہیں ہے جتنا تصور کر لیا گیا ہے یا کیا جاسکتا ہے۔ یہ یک موضوعی بھی نہیں ہے، نہ یہ بعض موضوعات کا تفصیلی بیانیہ ہے۔ اس بیانیے میں بعض بہت اہم یعنی اساسی اور بنیادی سمجھے جانے والے اعمال و افعال کی مکمل وضاحت نہیں ہے، بلکہ صرف اشارہ ہے یا حکم ہے۔ جبکہ بعض دوسرے اعمال کی قدرے تفصیلات موجود ہیں۔ نماز اور روزہ اسلام کے بنیادی ارکان ہیں مگر قرآن میں ان کا صرف ذکر ہے، متعدد جگہ صحیح، مگر ذکر محض یا حکم محض سے آگے بڑھ کر وضاحت یا تفصیل نہیں ہے، جبکہ بعض قدرے معمولی چیزوں کی وضاحت ہے، خاص کر معاشرتی آداب و احکام قدرے تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔
قرآن کا بیانیہ ایجابی، جوابی مگر تخلیقی، اجمالی اور اعجازی بیانیہ ہے۔ ایجابی ہے یعنی سلبی نہیں ہے، جوابی تخلیقی ہے یعنی یہ بیشتر سوالات کے جواب پر مشتمل ہے، تاہم جوابات محض جواب نہیں ہیں بلکہ تخلیقی نوعیت کے ہیں، خصوصی صورت حال سے متعلق نہ ہو کر عمومی صورت حال سے متعلق ہیں اور پھر وہ وقتی نہ ہو کر ایسے امکانات سے متعلق بھی ہے جو مستقبل میں کبھی بھی اور کسی بھی صورت میں حقیقت بن سکتے ہیں۔ اسی طرح یہ اجمالی بیانیہ ہے یعنی تفصیلی نہیں ہے، قرآن میں زیادہ تر کلیات بیان ہوئے ہیں، جزئیات زیادہ بیان نہیں ہوئے ہیں۔
اور پھر یہ اعجازی بیانیہ بھی ہے، پھر اعجازی بیانیے کے بھی کئی پہلو ہیں۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایسا بیانیہ تخلیق کرنے سے مخلوق عاجز ہے۔ اور ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں اختصار انتہائی درجے پر پایا جاتا ہے۔ اور پھر یہ اختصار بذات خود ایسا ہے کہ اس سے قرآنی بیانیے کی سلاست، ادبیت اور حسن پر کچھ بھی اثر نہیں پڑا ہے۔
سورۂ یوسف قرآن کی سب سے طویل اور مکمل کہانی ہے، یہ تقریباً پندرہ بیس صفحات پر پھیلی ہوئی ہے، مگر یہ اتنی مختصر ہے کہ اسے مزید مختصر کیا جانا تقریباً ناممکن تھا۔ یہ کہانی پورے ایک خاندان اور کم وبیش دو نسلوں کی کہانی ہے اور دو ملکوں اور دو قوموں کے درمیان کے زمانی و زمینی فاصلوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ایک کہانی ضرور ہے، مگر یہ افسانوی کہانی نہیں ہے، اس کے سب کردار حقیقی ہیں، ان کے نام بھی حقیقی ہیں، ڈائیلاگ بھی حقیقی ہیں اور خواب بھی حقیقی ہیں، وہ خواب بھی حقیقی ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا، وہ بھی جو قیدیوں نے دیکھے اور وہ خواب بھی جو عزیز مصر نے دیکھا۔ چاند، سورج اور ستاروں کا یوسف علیہ السلام کو خواب میں سجدہ کرنا ایک علامتی وقوعہ تھا اور یہ کہانی کے آخر میں واضح ہوجاتا ہے ۔ کہانی میں وارد دیگر تمام وقوعے حقیقی ہیں، یہاں تک کہ وہ بھی جو مافوق الفطرت ہیں جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی کا لوٹ آنا۔
علم وراثت اسلامی علوم فنون میں ایک مکمل فن ہے، مگر قرآن میں یہ اس قدر اجمالی اور اعجازی پیرایۂ بیان میں آیا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ صرف تین آیات ہیں جو بمشکل تمام دو سو الفاظ پر مشتمل ہوں گی۔ اور صرف دو سو الفاظ میں اتنا عظیم الشان علم بیان کر دیا گیا ہے کہ اس علم کی تشریحات سیکڑوں صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔


