لوگوں کا کام ہے کہنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اپنے بہت سے خوابوں، خواہشات اور آرزووں کو اس خوف سے پورا نہیں کر پاتے کہ لوگ کیا کہیں گے، یا کیا سوچیں گے۔ یہ بات ہم یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ زندگی ہماری ہے اس پہ ہمارا حق ہے اور اسے اپنی مرضی سے گزارنے کا اختیار ہمیں حاصل ہے لیکن ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہونا جو جانتا ہی نہیں کہ پرسنل سپیس کیا ہے، فرد کی انفرادی حیثیت کتنی اہم ہے، شخصی آزادی بنیادی حق ہے بذات خود ایک مسئلہ ہے۔ آپ پیدا بعد میں ہوتے ہیں سماجی دباؤ، رسوم و رواج، والدین کی توقعات کی باؤنڈریز پہلے سے طے کر دی جاتی ہیں۔

ایک فلاحی ریاست اپنے افراد کی ذمہ داری خود لیتی ہے ان کے لیے صحت، تعلیم، بچپن اور بڑھاپے میں مناسب سا وظیفہ مقرر کرتی ہے تاکہ افراد کسی پہ بوجھ نہ بنی‍ں بلکہ ایک آزاد اور خود مختار زندگی گزار سکیں۔ جبکہ ہمارے جیسے سماج میں ایسا کوئی تصور موجود نہیں ہے یہاں بچے والدین پہ اور والدین بچوں پہ ڈیپینڈنٹ ہوتے ہیں۔ اسی انحصار نے ہمارے سماجی خیالات، روایات اور رسوم کو جنم دیا ہے۔ اس بات کا تعین کہ کیا سوچنا اور سمجھنا ہے جو سماج سے ہم آہنگ ہو، اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ کیسے سوچنا ہے۔

اس کی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ ہم احترام کا بہت چرچا کرتے ہیں لیکن اس کا معنی کچھ اور لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس کا مطلب ہے کہ عمر سے بڑا، بزرگ یا رشتے میں بڑا جو بھی کہے اسے درست سمجھنا ہے۔ چاہے وہ بات کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو۔ جبکہ احترام کا مطلب رائے کا احترام ہے۔ کسی اپنے سے چھوٹے یا رتبے میں کم انسان کی رائے کی بھی وہی اہمیت ہے جو کسی عمر میں بڑے فرد کی۔ لیکن یہاں عقل و سمجھ کا براہ راست عمر اور تجربے سے جوڑا جاتا ہے۔

معاشی استحکام کو کسی بھی طور اچھی سوچ سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا انسان جو معاشی عدم استحکام کا شکار ہو جسے ان سیکیورٹیز ہوں اس سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ تخلیقی سوچ، سوچنے سمجھنے یا رائے دینے میں آزاد ہو گا۔ یہ ایک نفسیاتی عمل ہے جو شخص ہر وقت روزی روٹی کی سوچ میں گم رہے گا اس کی فکر یہ ہوگی کہ سرکل کیسے چلے گا، مستقبل کا کیا ہو گا وہ اپنے پیٹ سے ہی سوچے گا اس کے دماغ میں کوئی یونیک آئیڈیا آ سکتا ہے نہ وہ زندگی کے دوسرے پہلووں پہ توجہ دے سکتا ہے۔ یہ سوچ کہ انسان کا بڑھاپا کیسے گزرے گا اور اس کا سہارا کون ہو گا، اور ساتھ ہی مالی عدم استحکام، مستقبل کی بد حالی کا خوف افراد کو لا شعوری طور پہ یہ سوچنے پہ مجبور کر دیتا ہے وہ اپنے بچوں پہ انویسٹ کر رہا ہے اور اس کا نتیجہ اسے ریٹائرمنٹ میں بچوں کی طرف سے خدمت کی صورت ملے گا۔

ایسی صورت میں اس سوچ اور ان روایات کا پنپنا لازم ہے جو یہ طے کرتی ہیں کہ ایک انسان کو تمام عمر دوسروں کے خیال، لوگوں اور معاشرے کو خوش رکھنے کی تگ و دو کرنا ہے۔ خود کو اپنے خوابوں کو، زندگی کو یکسر نظر انداز کرنا ہے۔

یہی سوچ سماجی دباؤ کو اتنا شدید کر دیتی ہے کہ کسی فرد کی ذاتی زندگی کیا ہے یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی۔ پھر یہ کہ فرد کی اپنی سوچ ہے جو مختلف ہے، اس کا جینے کا اپنا انداز ہے، اپنا لائف پٹرن ہے یہ باتیں بالکل عجیب بلکہ باغیانہ لگتی ہیں۔

سماج نے پہلے سے طے کر رکھا ہے کہ آپ نے کیسے پرورش پانی ہے، کن باتوں کو پسند کرنا ہے کن کو ناپسند، کن چیزوں کو اپنانا ہے اور کن کو برا سمجھنا ہے کون سا لائف سٹائل زمانے کے لیے ایکسپٹ ایبل ہے اور کون سا طریقہ زندگی نا قابل قبول۔ تو پھر اہمیت رہ جاتی ہے تو صرف اس بات کی کہ لوگ کیا سوچیں گے اور لوگ کیا کہیں گے۔ لوگ زندگی پہ سیاہ سائے کی طرح چھائے رہتے ہیں۔ سماجی دباؤ کی یہ شکل انسان کو پورا کا پورا نگل لیتی ہے۔ زندگی گویا سماج کے ہاتھ گروی رکھی ہوئی ہے۔ جس میں سماج اپنی کوئی ذمہ داری نہیں نبھاتا بس یہی چاہتا ہے کہ انسانی اکائی اس ہجوم میں گم ہو جائے جو خود ابتری کا شکار ہے۔

لوگ کیا کہیں گے یا کیا سوچیں گے کا پریشر کتنی زندگیوں کو نگل لیتا ہے، کتنے خوابوں اور آنکھوں کو بے رنگ کرتا ہے لیکن اس کے باوجود۔ معاشی، جذباتی اور سماجی ان سیکیورٹیز کے باعث ہمیں خود سے زیادہ اس معاشرے کا شور سنائی دیتا ہے۔ اپنے دل کی من کی اور سوچ کی آواز کہیں دب جاتی ہے بلکہ دبا دی جاتی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments