فطرت کی شیدائی شاعرہ شاہدہ حسن کے جنم دن کے موقع پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج 24 نومبر ہماری ایک ایسی صوفی منش دوست کا جنم دن ہے جنہیں آپ شاعرہ شاہدہ حسن کے نام سے جانتے ہیں اور میں انہیں اپنی بہت ہی پیاری دوست گردانتی ہوں۔ میرا ادب سے تعلق واجبی سا ہے بس اردو کو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی حد تک لہٰذا ان کی ادبی حیثیت پہ گفتگو کی توقع رکھنا ان کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہو گا۔ ان کی بہت اعلی معیار کی شاعری پہ خیال آرائی میں ناقدین ادب اور ادب شناس لوگوں کے لیے رکھ چھوڑتی ہوں۔

مجھے شاہدہ سے اپنی بالکل پہلی ملاقات تو یاد نہیں لیکن کئی دہائیوں قبل کا وہ زمانہ نہیں بھولتا جب میری عمر غالباً سات یا آٹھ سال کی ہوگی۔ اس وقت مجھے رضویہ کالونی میں اپنے رشتے داروں کے گھر اکثر و بیشتر چھٹیاں گزارنے کا موقعہ ملتا تھا۔

رضویہ کالونی کراچی کی وہ بستی ہے جہاں گھروں میں ماہ محرم کے چاند کے ساتھ صف ماتم بچھانے کا اہتمام شروع ہوجاتا۔ گھر کے عزا خانوں میں علم اور پٹکے سج جاتے۔ غم کی سفید چاندنی بچھ جاتی۔ سیاہ غلاف چڑھے تکیے جن پہ مرثیوں کی بیاض رکھ کر میر انیس، دبیر اور دوسرے شعراء کے کلام کو بینہ طرز میں پڑھا جاتا۔ گلیوں میں سبیلیں سجائی جاتیں اور جلوس نکالے جاتے۔ اس طرح کربلا کے خون آشام واقعہ کی تاریخ دھرائی جاتی۔ شاہدہ کا تعلق بھی ایسے ہی گھرانے سے ہے۔ جہاں باطل کے سامنے صدائے احتجاج بلند کرنے کی روایات سینہ بہ سینہ منتقل ہوئی۔

میرے بچپن کا وہ زمانہ نسبتاً محفوظ گلیوں کا تھا۔ جہاں میں اپنی کزن گلچین (جو آج بھی اپنے نام کی طرح خوبصورت اور ملنسار ہے ) اور شائستہ اور شنو کے ساتھ کھیلتی، جو شاہدہ کی دو چھوٹی بہنیں تھیں۔ ہم جب کھیلتے کھیلتے تھک جاتے تو شاید پانی پینے کے بہانے شائستہ اور شنو کے گھر چلے جاتے۔ اس گھر سے ہماری رسائی صرف مختصر سے آنگن تک ہی محدود تھی۔ جہاں سب سے زیادہ دلچسپی ہمیں شاہدہ (جنہیں ہم اس وقت شاہدہ باجی کہتے تھے ) سے تھی۔

کھلتی رنگت، عمر کے حساب سے کچھ زیادہ ہی لمبی قامت، کانوں کے عین اوپر سیاہ گھنے بالوں کی گندھی دو موٹی موٹی چوٹیاں اور چہرہ پہ جھولتی چھوٹے گھونگریالے بالوں کی کچھ لٹیں۔ یہ بال وہ تھے جو اپنی کوتاہ قامتی کے سبب لمبے بالوں کی چوٹی کی قید سے محفوظ ہو جاتے تھے۔ ان شریر لٹوں کی خوبصورتی کا تو کیا کہنا۔ لیکن یہ شرارت صرف لٹوں تک محدود تھی۔ کیا مجال ہے جو ہم نے اس کم عمری میں بھی شاہدہ کو اٹکھیلیاں کرتے دیکھا ہو۔ اس وقت بھی ان کے چہرے پہ بلا کی سنجیدگی اور باتوں میں فلسفہ تھا۔ باوجود کچی عمر کے ان میں بزرگانہ شفقت، محبت اور متانت بھری ہوئی تھی۔ جو آج کی شاہدہ کی صوفی منش اور پرخلوص طبیعت کی غماز ہے۔

پھر وقت نے کروٹ لی۔ ہمارے رشتہ دار اسلام آباد منتقل ہو گئے اور شائستہ، شنو اور شاہدہ وقت کے دھول میں کہیں گم ہو گئے۔ رہی میں تو میری یاداشت کی مٹھی میں فقط مہکتی یادوں کے جگنو جھلملاتے رہ گئے۔ کیا کریں کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس وقت ٹیکنالوجی نے گوگل جیسی زبردست تخلیق کو جنم نہیں دیا تھا جو زندگی کے سفر میں کھوئے افراد کو منٹ کی چوتھائی میں ڈھونڈ نکالتا۔

ایک بار پھر وقت نے لمبی جست لگائی۔ اب کراچی یونیورسٹی سے مائیکرو بیالوجی میں ماسٹرز کر کے ہماری تقرری کراچی کے عبد اللہ ڈگری کالج میں بطور مائیکرو بیالوجی لیکچرر ہو گئی۔ یہ قدرت کا حسین اتفاق ہی تو تھا کہ کچھ ماہ بعد ہی ہماری کالج کی انگریزی کی استاد مسز عالیانی نے بتایا کی ان کا تبادلہ باہمی رضامندی کی بنیاد پہ پی ای سی ایچ ایس کالج میں ہو رہا ہے۔ وہاں سے یہاں آنے والی لیکچرر کا نام شاہدہ حسن ہے اور یہ کہ وہ بہت عمدہ شاعرہ بھی ہیں۔ اس وقت تک ہمیں اپنی بسیار کوشش کے بعد یہ خبر مل چکی تھی کہ کراچی ٹی وی پہ مشاعرہ پڑھنے والی شاعرہ شاہدہ حسن وہی شاہدہ ہیں جو عرصہ پہلے ہم سے بچھڑ گئی تھیں۔ یہ خبر گویا بہار کے پھول کھلا گئی۔ اور بالا آخر شاہدہ کی تقرری بطور انگریزی کی استاد ہمارے کالج میں ہو گئی۔

کالج میں شاہدہ میرے لیے شائستہ، شنو کی آپا نہیں بلکہ ساتھی استاد تھیں۔ میں نے کسی دن بھی انہیں شاہدہ باجی نہیں کہا لیکن ان سے دوستی، محبت اور احترام میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہی ہوا۔ ہر روز ملنا اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا، محبت کے پل مضبوط کر دیتا ہے۔ اپنی نٹ کھٹ اور ظرافت سے بھر پور چلبلی طبیعت کے باوجود میرا شاہدہ کی سنجیدہ اور باوقار طبیعت سے اچھا میل تھا۔ اس کی وجہ ہمارے درمیان وہ اعتماد جو روز اول سے آج تک قائم ہے۔

شاہدہ کی طبعیت میں متانت اور احساس ذمہ داری حادثاتی نہیں۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔ ان پہ پہلی نظم لوری کی صورت 1969 میں اس وقت وارد ہوئی جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کو گود میں سلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ آج شاہدہ اپنے تین بیٹوں کی بہترین ماں ہیں بلکہ اب تو دادی بھی ہیں، لیکن وہ خود بھی خوش قسمت ہیں کہ ان کو اپنی ماں اور باپ کی شکل میں مثالی کردار ملے۔ ان کا ایک شعر جو میں بار بار دہراتے نہیں تھکتی ہوں۔

آئینہ دیکھ کے خوش ہیں میری آنکھیں بے حد
میرے چہرے میں میری ماں کی شباہت بھی ہے
شاہدہ نے اپنی خاندانی قدروں کی پچھلی سے اگلی نسل منتقلی کو ایک شعر میں اس طرح کہا ہے کہ
اپنے دادا پر ہی گیا ہے میرا بیٹا بھی
پہلے سچ کہتا ہے پھر اس پر ڈٹ جاتا ہے

شاہدہ نے اکثر مجھ سے اپنی روحانی طاقت کا سرچشمہ آل نبی کے گھرانے اور کربلا میں باطل سے صف آراء حسینی گھرانے کی قربانی کو قرار دیا۔ جس کا برملا اظہار وہ گاہے بگاہے اپنی شاعری میں بھی کرتی رہی ہیں۔

ذاتی طور پہ میں نے خود انہیں حق کی پاسداری کرتے دیکھا ہے۔ مثلاً ہمارے کالج میں ہر ماہ پرنسپل کی سرکردگی میں اساتذہ کی میٹنگز ہوتی تھی۔ انہی میٹنگز میں میں نے شاہدہ کو اکیلے ہی حق کی آواز بلند کرتے سنا۔ ہوا یہ کہ ایک دن شمیم جعفری جو زولوجی کی استاد تھیں ان کی غیر موجودگی میں ان کے خلاف شکایتا کوئی بات بڑے شد و مد سے کہی جا رہی تھی۔ شاہدہ نے فوراً احتجاج کیا کہ شمیم کی غیر موجودگی میں ان کے خلاف کچھ کہنا اصول کی خلاف ورزی اور منافقت ہے۔ کیونکہ وہ اس وقت اپنی دفاع کے لیے موجود نہیں۔ انہوں نے کہا وہ اس رویہ کے خلاف احتجاج کرتی ہیں۔ یہ کہتے ہوئے ان کا لہجہ سنجیدہ اور دو ٹوک تھا۔ پرنسپل اور اساتذہ کو بات ختم کرنی پڑی۔

سخت روایتی اور مذہبی گھرانے میں پرورش پانے والی شاہدہ نے گو کئی موقعوں پہ سماجی دباؤ اور روایات کے خلاف بغاوت بھی کی۔ لیکن کچھ روایتوں اور قدروں سے وہ غالباً لاشعوری طور پہ اس حد تک جڑی ہوئی ہیں کہ انہیں ان سے جدا کر کے دیکھنا محال ہے۔ مثلاً جس سید شیعہ گھرانے سے ان کا تعلق ہے وہاں شادی جیسے اہم فیصلے کی منظوری یا انکار کی بنیاد استخارے پہ تھی۔ جو ان کے والد پورے ایمان اور یقین کے بعد کرتے تھے اور یہ دو ٹوک ہوتا تھا۔

شاہدہ اپنے والد کی ہر لحاظ سے متاثرکن شخصیت کی پرستار تھیں۔ لہٰذا میرا خیال ہے کہ انہوں نے اپنی شادی کے فیصلہ کے اس حق کو استخارہ پہ ہی چھوڑ دیا تھا۔ ان کی خالصتاً ارینج شادی کا قرعہ سید علی جعفری کے نام کھلا جو شاہدہ کے برخلاف کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے شخص تھے۔ جبکہ شاہدہ کی شخصیت انگریزی اور اردو ادب خاص کر شاعری میں مکمل ڈوبی ہوئی۔ لیکن محبت کی طاقت نے دو مختلف مزاج رکھنے والوں کے درمیان مطابقت کے معرکہ کو بالآخر بخوبی سر کر لیا۔ جس میں میرا خیال ہے کہ شاہدہ کی دانشمندی، امن پسندی اور لوگوں سے محبت کرنے کی صلاحیت نے یقیناً اہم کردار ادا کیا ہو گا۔ ان کا یہ رویہ ہمیشہ سائے کے مانند ان کے ساتھ رہا ہے۔

سبب کیا ہے کبھی سمجھی نہیں میں
کہ ٹوٹی تو بہت بکھری نہیں میں۔

شادی کے بعد میرا سسرال ان کے گھر سے قریب ہو گیا تھا۔ لہذا کالج کے بعد اکثر وہ اپنی گاڑی پہ مجھے چھوڑتی ہوئی جاتیں۔ راستہ بھر رسان سے دلچسپ گفتگو کرتی جاتیں۔ گو ٹریفک اس وقت بھی اتنی بے قابو تھی جتنی آج ہے۔ کراچی کی بے ڈھنگی ٹریفک اکثر لوگوں کو اعصابی مریض بنا دیتی ہے۔ ایسے میں بیشتر ڈرائیورز ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والوں سے گالیوں کی بوچھاڑ سے نبٹتے ہیں۔ لیکن شاہدہ اپنے جذبات اور غصہ کو قابو میں رکھنے کی عادی نہیں قائل بھی ہیں۔ مثلاً اگر آگے والا رکا ہوا ہے تو بجائے ہارن دینے کے کہیں گی ”جی حضور اب تو تشریف لے چلیں۔ جی محترم آپ ہی سے فرمایا جا رہا ہے۔“ کیا مجال کوئی دشنام طرازی یا سطح سے گری بات ان کے منہ سے ادا ہو۔ مجھے ایسا لگتا کہ جیسے گاڑی چلانے کے بجائے انتہائی مہذب انداز میں کسی مشاعرہ میں کلام فرما رہی ہوں۔

عبداللہ کالج میں تدریس کے دس سال بعد میں نے امریکہ کا رستہ ناپا۔ شاہدہ امریکہ آتی جاتی رہیں کہ ان کے بچے یہاں پڑھ رہے تھے اور میکہ بھی یہیں آن بسا تھا۔ شاہدہ اور علی بھائی نے کینیڈا اور امریکہ آنے جانے کا سلسلہ برقرار رکھا کہ وطن سے جڑیں اکھاڑنے میں دل لہو لہان ہوتا ہے۔ یہ کھیل تو نہیں۔

وقت کچھ اور لمبے ڈگ بھر تا ہوا گزر رہا ہے۔ ملازمت سے مکمل سبکدوشی کے بعد اب شاہدہ کینیڈا کے شہر آٹوا میں بیٹے کے پاس آن بسی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ یہاں کس حد تک مطمئین اور خوش ہیں۔ لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ سالوں قبل انہوں نے مجھ سے اس کا اظہار کیا تھا کہ ان کا اپنی زمین کی مٹی سے کتنا گہرا رشتہ ہے۔ جب بین الاقوامی سفر کے بعد طیارہ پاکستان کی زمین کو چھوتا ہے تو وہ قدر مسرور ہوجاتی ہیں۔

خلا میں تیرتی ہوں اے زمیں کٹتے ہی تجھ سے
یہ میں ہوں یا یہ طیارہ فضا میں ڈولتا ہے

لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ وہ مزاجاً صوفی منش ہیں۔ صوفی جو ہر رنگ و نسل اور قومیت کے فرد کو گلے لگاتا ہے۔ اس کا مسلک انسانوں سے محبت ہوتا ہے۔ جو جغرافیائی حدود سے آزاد ہے۔

شاہدہ ہمیشہ ہی سے کسی خاص ادبی گروپ سے منسلک ہو کر دوسرے حلقہ کے خلاف نفرت کے بیچ بونے کی قائل نہیں رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں مطمئن اور پر اعتماد ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی ہر حلقہ میں بہت عزت ہے۔ وہ ادبی گروہ بندی سے بہت عاجز نظر آتی ہیں جو خواہ اپنے وطن میں ہو یا بیرون ملک امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک میں۔ انہوں نے بارہا بہت دکھ سے ایسے جینوئن قلمکاروں کا ذکر کیا جو باوجود ادب میں اہم کام انجام دینے کے، متعصبانہ رویوں کا شکار ہو کر کسی کونے میں خاموشی سے منہ دیے بیٹھے گویا اپنی زندگی کو جھیل رہے ہیں۔

شاہدہ خاموشی سے اپنے ادبی کاموں میں مصروف ہیں۔ ان کا حساس قلم ہر اس واقعہ پہ گریہ کناں ہے جس سے انسانیت کی پامال ہوئی۔ انہوں نے مسلسل ہر دلفگار واقعہ پہ خون دل میں انگلیاں ڈبو کر اپنا احتجاجی نوحہ رقم کیا ہے۔ وہ استحصالی اور غیر منصفانہ معاشرہ پہ مسلسل احتجاج کرتی رہیں گی۔ لیکن ساتھ ہی ان کی رجائیت فطرت کی رعنائیوں سے محبت کرنے پہ بھی مجبور ہے کہ جس میں پودوں پہ لگے خوبصورت پھول ہیں تو ماؤں کی بانہوں میں حسین بچوں کی کلکاریاں۔

جب تک آگ کے شہر سے بارش کھیلے گی
پھول کھلیں گے
جب تک ماں بچے کو بانہوں میں لے گی
پھول کھلیں گے
(نظم ”پھول کب تک کھلیں گے؟“ )

نومبر کی 24 تاریخ شاہدہ کا جنم دن ہے۔ آج کے دن ہمیں یقین ہے کہ انسانوں سے محبت کرنے والی ہماری صوفی دوست اور بھرپور اور توانا لہجہ کی شاعرہ شاہدہ حسن کا قلم ہر آنے والے دن پوری رجائیت کے ساتھ امید کی کونپلیں اور پھول کھلاتا ہی رہے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments