سیکورٹی اسٹیٹ یا جمہوری ریاست؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نومبر کا تیسرا ہفتہ بالآخر گزر گیا۔ یہ اور بات کہ ہمارے سیاسی بحران، معاشی مسائل اور داخلی امن وسلامتی کی گْتھیاں وا نہیں ہوئیں۔ خرابی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مختلف حکومتیں دراصل ایک خاص ریاستی نمونے کا تسلسل رہی ہیں۔ ہم نے اس ریاستی نمونے کا انتخاب اب سے ستر برس پہلے کیا تھا جب ریاستی افسر شاہی نے سیاسی قیادت کو حقیقی اقتدار سے بے دخل کر کے فلاحی مملکت کی بجائے سیکورٹی اسٹیٹ کا نمونہ اختیار کر لیا تھا۔ عوامی فلاحی ریاست میں طرز حکمرانی جمہوری ہوتا ہے جب کہ حکومت اور اس کے معاون ریاستی اداروں کا بنیادی فرض اپنے شہریوں کا معیار زندگی بلند کرنا ہوتا ہے۔ دوسری طرف مفروضہ قومی سلامتی کو ترجیح دینے والی ریاستیں اپنے موعودہ نظریاتی مفادات کی آڑ میں ایسا نظام حکومت تشکیل دیتی ہیں جس کا بنیادی مقصد داخلی اور خارجی سطح پر استحصالی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ قومی سلامتی کا نمونہ اپنانے والی ریاستیں عوامی خدمات کی بجائے دفاعی امور پر ملکی دولت خرچ کرتی ہیں۔ اپنے عوام کی آزادیوں کا تحفظ کرنے کی بجائے مفروضہ نظریاتی مقاصد کے نام پر ایسا ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیا جاتا ہے جس میں ریاستی اہلکار کسی جواب دہی سے بے نیاز ہو کر شہریوں کی زندگی سے کھلواڑ کر سکتے ہیں۔ وسیع تر نظریاتی مفادات کی مالا جپنے والی ریاست اپنے عوام کا علمی، تخلیقی اور پیداواری امکان بلند کرنے کی بجائے مختلف جغرافیائی، نسلی اور مذہبی تنازعات کے ذریعے ایسے تصورات کو فروغ دیتی ہے جنہیں نہ عوام سمجھ سکتے ہیں اور نہ ایسے تنازعات سے عوام کا مفاد منسلک ہوتا ہے۔ یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ ریاستی اہلکاروں کا ایک مْٹھی بھر ٹولہ ہی اِن مفادات کی درست تفہیم رکھتا ہے اور وہی نادیدہ ٹولہ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ اِن مفروضہ قومی مطالبات اور مفادات پر بنیادی فیصلے کرے۔ قومی سلامتی کی ریاست دفاع اور تحفظ کے نام پر قائم کی جاتی ہے لیکن ایسی ریاست نہ اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ ہی عوام کی فلاح کا تحفظ ہی کر سکتی ہے۔

سرد جنگ کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ جان فاسٹر ڈلس نے اشتراکی اثر و نفوذ کے سامنے بند باندھنے کے لیے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ ترقی پذیر ممالک میں سلامتی ہی ترقی ہے۔ ڈلس صاحب کے خیال میں سلامتی کا مفہوم ہر جائز اور ناجائز طریقے سے اشتراکی فکر کے اثر و نفوذ کو روکنا تھا۔ ’’سلامتی ہی ترقی ہے‘‘ کے اِس فلسفے سے دو بنیادی نتائج برآمد ہوئے۔ نو آزاد ریاستوں میں عوام کی معاشی اور سماجی ترقی بنیادی ترجیح نہ رہی جس سے ایشیا اور افریقا کے درجنوں نو آزاد ممالک میں عوام معاشی اور سیاسی اعتبار سے پس ماندہ رہ گئے۔ سلامتی کا تصور ناگزیر طور پر فوجی قوت سے جڑا ہوا ہے چنانچہ ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا کے درجنوں ممالک میں فوج نے اقتدار پر براہِ راست قبضہ کرلیا۔

سلامتی کو ترقی پر ترجیح دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ نوآزاد ریاستوں میں جمہوریت اور معاشی ترقی کا امکان ختم ہو کر رہ گیا، سماجی و علمی پس ماندگی کے سائے لمبے ہونے لگے۔ اِن ممالک میں غیر جواب دہ اور آمرانہ حکومتوں نے بدعنوانی کے گوناگوں انداز ایجاد کیے۔ جمہوری اور معاشی حقوق کا مطالبہ کرنے والے سیاسی کارکنوں اور دانشوروں کو جبر و تشدد کے ذریعے کچل کر رکھ دیا گیا۔ اشتراکی نظام جان فاسٹرڈلس کے سلامتی کے نظریے کی بنا پرنہیں، اپنے داخلی، معاشی اور سیاسی تضادات کے نتیجے میں منہدم ہوا۔ سلامتی کے کو تاہ اندیش نظریے کے نتیجے میں انسانی آبادی کے وسیع حصے معاشی غربت، سیاسی پسماندگی، سماجی بدحالی اور علمی ابتری کا شکار ہیں۔ آج سرد جنگ ختم ہونے کے باوجود ترقی پذیر ممالک میں ریاستی قوتوں نے مقامی استحصالی گروہوں، جرائم پیشہ گروہوں نیز عوام کے جمہوری حقوق سے انکار کرنے والے مذہبی اجارہ داروں کے ساتھ گٹھ جوڑ قائم رکھا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے سلامتی کے نظریے سے ترقی کے نظریے کی طرف سفر بے حد کٹھن ہے کیونکہ اِن کے انفرادی اور ادارہ جاتی امکانات کو کمزور کر دیا گیا ہے۔ سلامتی کے نظریے کی موجودگی میں جمہوریت کامیاب نہیں ہوسکتی اور جمہوریت کے بغیر اِنسانی ترقی ممکن نہیں۔

اس وقت پاکستان اس کش مکش سے دوچار ہے کہ سیکورٹی اسٹیٹ کو کس طرح ایسے جمہوری نمونے میں تبدیل کیا جائے جو شہریوں کے تحفظ، اقتصادی ترقی اور اجتماعی وقار کی ضمانت دے سکے۔ یہ بات طے ہے کہ خارجہ پالیسی کو داخلی مفادات کے تابع ہونا چاہیے۔ قومی سلامتی کے ریاستی نمونے سے استحصالی مفادات بٹورنے والے عناصر کو پاکستان کی جمہوری قیادت کا یہ ڈھنگ پسند نہیں۔ سکیورٹی اسٹیٹ، تعاون کی بجائے تصادم، تجارت کی بجائے جنگ، مشترکہ ثقافتی نکات پر زور دینے کی بجائے اختلافی نکات کو اْبھارنے نیز مخالف گروہوں میں صلاحیت، وسائل اور امکانات کے تنوع سے فائدہ اٹھانے کی بجائے بیگانگی کو بڑھاوا دینے کو ترجیح دیتی ہے۔ کسی ملک کے جغرافیائی محل وقوع کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک یہ کہ سٹرکیں، ریلوے اور دوسری سہولتیں تعمیر کی جائیں تاکہ یہاں سے گزرنے والے ان سے استفادہ کر سکیں۔ اس سے معیشت فروغ پاتی ہے۔ اس کے متبادل نقطہ نظر میں جغرافیائی حقائق کو گھات لگانے کا امکان سمجھا جاتا ہے۔ سیکورٹی اسٹیٹ نے پاکستان کو جنگجویانہ تشخص فراہم کیا ہے۔ جدید جمہوری ریاست اس طرز فکر کی حمایت نہیں کرتی۔

ہم نے ستر برس تک ایک راستے پر چل کر دیکھ لیا۔ ہماری پسماندگی دور نہیں ہوئی۔ ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر کم ہیں، کرنسی کی قیمت گر رہی ہے، تجارت کا خسارہ بڑھ رہا ہے۔ ہماری معاشرت کے بخیے ادھڑ رہے ہیں۔ ہمارے عوام کو علاج اور بچوں کو تعلیم میسر نہیں۔ اس حالت میں ہم نے دنیا سے مجادلے پر کمر باندھ رکھی ہے۔ آج کی دنیا میں جب تک باہمی مفاد کی ضمانت کے بغیر کوئی ملک کسی دوسرے ملک کا بھلا کرنے کو تیار نہیں۔ حالیہ عشروں کی پالیسیاں اب ہمارے کام نہیں آ سکتیں۔ اگر ہم تجارت، سلامتی، علم اور پیداوار کا راستہ اپناتے ہیں تو ہمارے پاس بھی دنیا کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ جنگل سے دو راستے پھوٹتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments