سب ایک ہیں مگر۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ہماری غلط فہمی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کبھی ایک نہیں ہوسکتے سیاست بڑی بے رحم ہے یہ ہمیشہ مفاد کے گرد گھومتی ہے۔ سب اختلاف، سب مخالفت، سب نظریات، سب اصول، سب قانون، سب بیانیے اور سیاست کا سب کچھ مفادات کے گرد طواف کرتا ہے جہاں مفاد ایک ہوجائیں وہاں ایک ہونے میں دیر نہیں لگتی اور جہاں مفاد ٹکرا جائیں وہاں سب ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے ہر سیاسی جماعت اور سیاستدان ہمیشہ یہی تاثر دیتے ہیں کہ وہ ملک، قوم اور عوام کے وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں ہم آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے لڑ رہے ہیں ہم اداروں کے استحکام اور جمہوریت کی بقاء کے لیے نبرد آزما ہیں۔

سیاستدانوں کی باتوں، دعوؤں اور تقریروں کو سامنے رکھیں تو لفظ لفظ سے عوام کی ہمدردی ٹپک رہی ہوتی ہے بات بات سے عوام کا درد محسوس ہو رہا ہوتا ہے یہی وجہ عوام بھی ان پر اعتماد کر لیتے ہیں ان کے جھوٹے حسین خوابوں میں کھو کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر کوئی ہمارا ہمدرد نہیں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ سیاستدانوں کی باہمی مخالفت ایک خاص حد تک ہوتی ہے جو صرف بیانوں اور تقریروں میں نظر آتی جو صرف مفادات کے ٹکراؤ تک محدود ہوتی ہے جیسے ہیں مفاد ایک ہوتے ہیں جہاں بھی ضرورتیں ایک ہوتی ہیں تو پھر دیر نہیں لگتی تمام اصول، تمام نظریات، تمام قانون، تمام ضابطے، تمام اخلاقیات، تمام دعوے، تمام باتیں اور تمام الزامات دھرے رہ جاتے ہیں اور تمام ایک ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ روز اسپیکر صوبائی اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ نون کی جانب سے اراکین اسمبلی کے الاؤنسز میں اضافے کی قرار داد پیش کی گئی جسے تمام ممبران اسمبلی بشمول تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، آزاد اور ترین گروپ سمیت سب نے حمایت کی اور یہ قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی کسی ایک رکن نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی یہاں تک کہ پاکستان تحریک انصاف کے کسی رکن نے بھی کھڑے ہو کر یہ نہیں کہا کہ میں اس لیے اس قرار داد کی مخالفت کرتا ہوں کیونکہ یہ اس جماعت کی طرف سے پیش کی گئی ہے جو ملک کی تباہی کی ذمہ دار ہے اس جماعت کے قائدین ملک لوٹ کر فرار ہوچکے ہیں۔

پی ٹی آئی کا کوئی ایک رکن بھی نہیں بولا کہ اس جماعت کا لیڈر عدالتوں سے سزا یافتہ اور عدالتی مفرور ہے اس لیے میں الاؤنسز بڑھانے کی قرارداد کی مخالفت کرتا ہوں انھوں نے ملک کو قرضوں میں جکڑا ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم مہنگائی سے دوچار ہوئے۔ کیونکہ اس قرارداد سے سب کے مفاد جڑے ہوئے تھے تو ایک ہی پل میں سب ایک ہو گئے جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے بھی ذرا دیر نہیں لگائی فوری طور پر صوبائی وزیر قانون کو فنانس ڈویژن سے بات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا پی آئی اے کے کرائے تین سے چار گنا بڑھ چکے ہیں اس لیے اراکین اسمبلی کے الاؤنسز میں فوری طور پر اضافہ کیا جائے۔ جہازوں میں سفر کرنے والوں کو تو پی آئی اے کا پتا ہے مگر اب انہیں یہ کون بتائے گا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کا کرایہ بھی کئی گنا بڑھ چکا ہے لیہ سے لاہور کا کرایہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ عام آدمی کے پاس اتنی سکت نہیں کہ لاہور جا کر اسمبلی کے سامنے اپنے درد کی کوئی کہانی سنا ہی سکے۔

مجھے اس بات پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ اپنی مراعات میں اضافے کے لیے ممبران اسمبلی اپنے تمام سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر ایک ہو گئے مگر اس وقت بے حد حیرت ہوتی ہے جب عوام کی بات کرتے ہوئے ان کی زبان بند اور اختلاف شروع ہو جاتے ہیں اور پھر حکومتی اراکین اسمبلی پہلے تو مہنگائی کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور اگر تسلیم کر بھی لیں تو اس کا کوئی حل پیش کرنے کے بجائے جواز پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں یا پھر دوسرے ممالک سے موازنہ شروع کر دیتے ہیں مگر کبھی دوسرے ممالک کی فی کس آمدنی سے موازنہ کرنے کی تکلیف نہیں کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم عمران خان بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ان کا گزارہ اپنی تنخواہ سے مشکل ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جہاں مہنگائی کی وجہ سے وزیر اعظم کے اخراجات پورے نہ ہوتے ہوں اور جہاں اراکین اسمبلی اپنے الاؤنسز بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہوں وہاں سوچئے عام آدمی کی کیا حالت ہوگی۔ 500 سے 700 روپے دیہاڑی لینے والا مزدور کس طرح اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہو گا ایک سفید پوش اور ایک معمولی ملازم کی گزر بسر کس طرح ہو رہی ہوگی۔ اراکین اسمبلی اپنی تنخواہوں، مراعات اور الاؤنسز کے بل خود تو پیش کر سکتے ہیں مگر عام آدمی تو وہ بھی نہیں کر سکتا مگر وہ کیا کر سکتا ہے سوائے ووٹ دینے اور نعرے لگانے کے۔

سچ تو یہ اراکین اسمبلی صرف تنخواہوں اور مراعات کے لیے ایک نہیں بلکہ ہمیشہ سے ایک ہیں اشرافیہ کا یہ طبقہ ہمیشہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے ایک دوسرے کو سپورٹ کرتا ہے یہ طبقہ کبھی ایک دوسرے پر آنچ نہیں آنے دیتا مگر بدقسمتی سے عوام ان حکمرانوں، سیاستدانوں اور اشرافیہ کے مفاد کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے سے برسر پیکار رہتے ہیں یہی وجہ ہے عوام تقسیم در تقسیم ہیں۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اپنے مفادات کے لیے ایک ہونے والی اشرافیہ کے خلاف اس ملک کے غریب عوام بھی ایک ہوں سچ تو یہ ہے کہ اس ملک کے غریب عوام اگر ایک ہوتے تو ایک ایک کے ہاتھوں رسوا نہ ہوتے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments