تحریک انصاف حکومت، دعوے اور کارکردگی۔ ( 3 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئی ایم ایف سے معاہدہ

23 نومبر 2021 کو عالمی مالیاتی ادارے اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک ارب ڈالر کے قرض کا معاہدہ طے پایا ہے جس کی حتمی منظوری عالمی مالیاتی ادارے کا بورڈ دے گا۔ یاد رہے کہ یہ ایک ارب ڈالر پہلے سے منظور شدہ چھ ارب ڈالر کی قسط ہے جس کو ادارے نے معاہدے پر عملداری نہ کرنے کی وجہ سے روک رکھا تھا۔ اس معاہدے کی حتمی مدت تو ابھی تک محتاج رویت ہیں لیکن جن اہم مدات کی وجہ سے یہ معاہدہ تاخیر کا شکار ہوا اور جن مدوں پر ادارے اور حکومت پاکستان کے درمیان سب سے زیادہ لے دے ہوئی ان میں بجلی، گیس، اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہے۔

ان تمام نکات پر ادارے کے سخت اور بے لچک رویے کی وجہ سے حکومت پاکستان کے ان تمام شرائط کے ماننے تک یہ معاہدہ تاخیر کا شکار رہا۔ اس معاہدے کا دوسرا مطلب مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں ہی ایک اور منی بجٹ اور مہنگائی کا ایک نہ رکنے والا سیلاب ہو گا۔ وزیر خزانہ صاحب نے 26 جون 2021 کو اپنی قومی اسمبلی کے فلور پر کی گئی تقریر میں ببانگ دہل یہ فرمایا تھا کہ ”عمران خان اس ملک کے غریب عوام کے لئے ڈٹ گیا ہے وہ بہت کچھ کر رہا ہے اور بہت کچھ کرنا چاہتا ہے اور آپ کا وزیراعظم عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے ڈٹ کے کھڑا ہو گیا ہے۔

آپ کا وزیراعظم اب آپ کے اوپر مزید مہنگائی کا ظلم کبھی نہیں کرے گا۔ اب اس ملک کے غریب عوام کو ریلیف ملے گا وغیرہ وغیرہ“ ۔ مہنگائی کو کم کرنا تو درکنار، عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے ڈٹ جانا تو دور کی بات، وہی وزیر خزانہ ہیں جو وزیر اعظم صاحب کے اذن سے، دو ہفتے پہلے تک عالمی مالیاتی ادارے کی سماجتیں کر رہے تھے، اور عالمی مالیاتی ادارے کی کڑی سے کڑی شرائط کو تسلیم کرنے کے بعد ، قوم کو یہ نوید سنا رہے تھے کہ قوم کو مبارک ہو عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ ایک ارب ڈالر کے قرضے کا معاہدہ بخیر و خوبی طے پا گیا ہے۔

اور 23 نومبر 2021 کو یہ فرما رہے تھے کہ انشاء اللہ ایک ہفتے کے اندر اندر منی بجٹ پیش کر دیں گے۔ بجلی کی قیمت 2 روپے 62 پیسے فی یونٹ پہلے سے ہی بڑھا دی گئی ہے پٹرول کی قیمت میں 30 روپے اضافے کی نوید پہلے ہی سنا چکے ہیں۔ اشیائے صرف اور خرد و نوش کی قیمتوں میں مہنگائی کی شرح 17.5 فی صد سے بڑھ کر 19 فی صد ہو گئی ہے۔ لیکن منی بجٹ ابھی آنا ہے۔ اکتوبر 2021 میں پاکستان مہنگائی کی شرح کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا سب سے مہنگا ملک ہے اور جس تیزی سے نومبر 2021 سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن خطرے میں ہیں۔ اس کالم کے شروع میں عرض کیا تھا کہ روز افزوں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے ثمرات ہیں کہ پاکستان میں اس قاتل تکون نے ایک عام آدمی کا جینا مشکل کر دیا ہے۔

ٹیکس محصولات اور بجٹ خسارہ

2018 میں ٹیکس محصولات 3.8 کھرب روپے تھی جو 2019 میں کچھ 22 ارب کم ہوئی اور 2020 میں یہ لگ بھگ 4 کھرب رہی۔ محصولات 2021 میں وفاقی محصولاتی بورڈ کے مطابق 4.7 کھرب رہی جو کہ سالانہ 6 فی صدی کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ جب کہ 2018 میں بجٹ خسارہ 6 فی صد کے قریب تھا جو کہ اب بڑھ کر 7.4 فی صد ہو گیا ہے۔”

ایل این جی درآمدی معاہدہ

پاکستان 2018 میں آٹھ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے قطر سے گیس خرید رہا تھا جب کہ آج وہی گیس 31 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو خرید رہا ہے اور صرف گیس کی اضافی قیمت کی مد میں ابھی تک لگ بھگ 500 ملین امریکی ڈالر ادا کر چکا ہے، اب اس مہنگی خرید کا نتیجہ گیس کی قیمت میں اضافے کی صورت میں قوم کو ادا کرنا پڑے گا۔ تحریک انصاف حکومت نے 2018 میں 8 ڈالر کے معاہدے کو بہت مہنگا قرار دے کر اپنی تنقید کی زد پر رکھا تھا۔ آج جناب شوکت ترین صاحب نے فرمایا ہے کہ حکومت کے بر وقت انتظام نہ کرنے سے گیس کا بحران آیا ہے۔ آنے والے دنوں میں گیس کی انتہائی مہنگے داموں خرید، ضرورت سے کم رسد اور گیس کے معاملے میں حکومتی بد انتظامی ایک شدید بحران کی شکل اختیار کرتی نظر اتی ہے۔

مجموعی بیرونی قرضہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ پچاس ہزار ارب سے تجاوز کر گیا ہے۔ اس وقت پاکستان کا کل بیرونی قرض پچاس ہزار چار سو چوراسی ارب روپے ہے۔ جب تحریک انصاف کی حکومت قائم ہی تو اس وقت پاکستان کا 71 برس کا مجموعی قرض انتیس ہزار آٹھ سو ارب روپے تھا۔ اس طرح صرف سوا تین سال میں موجودہ حکومت نے اکیس ہزار ارب روپے کا قرض لیا ہے۔

چینی، گیس ، آٹا، ادویات اور پیٹرولیم بحران

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے آج مورخہ 25 نومبر 2021 سے ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے نظیر اضافہ اور مزید اضافے کی نوید کے درمیان پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال بہت پیچیدہ صورت حال کی غمازی کرتی ہے۔ موجودہ وزیر اعظم صاحب جب حزب مخالف میں تھے تو فرماتے تھے کہ ”جب چینی کی قیمت ایک روپیہ بڑھتی ہے تو ساڑھے پانچ ارب روپے کا چینی مافیا کو فائدہ ہوتا ہے۔ وزیراعظم اور وزرا کی کرپشن کی قیمت غریب عوام مہنگی بجلی، پیٹرول، آٹا اور چینی کی صورت میں ادا کرتی ہے“ خود ان کے دور اقتدار میں چینی کی قیمت 100 روپے فی کلو بڑھی ہے، آٹے کی قیمت چالیس روپے فی کلو، پیٹرول کی قیمت اسی روپے اور ڈالر کی 75 روپے بڑھی ہے۔ لیکن اب کوئی نہیں جو اس مہنگائی اور غربت کی چکی میں پستی ہوئی عوام کی آواز بنے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments