آپ کے انڈر ویئر کا رنگ کون سا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ نے زندگی میں مختلف لوگوں کو اپنے دوست احباب یا رشتہ داروں سے اس قسم کے سوال پوچھتے ہوئے سنا ہو گا کہ (آپ کا پسندیدہ مشغلہ، پسندیدہ کتب، پسندیدہ کھانا، پسندیدہ ممالک یا پسندیدہ مٹھائی وغیرہ کیا ہے ) ؟ ان باتوں کا جواب ہر کوئی اپنے ذوق و شوق اور پسندیدگی سے دینے کی کوشش کرے گا مگر جیسے ہی آپ اس سے یہ سوال پوچھیں گے کہ آپ جو انڈر ویئر پہنتے ہیں اس کا رنگ کیا ہے؟ اس بات کا واضح امکان موجود ہے کہ وہ آپ کو فوری طور پر بدتمیز اور بے شرم ڈکلیئر کر دے گا کیوں کہ آپ نے اس سے انتہائی نجی سی بات پوچھی ہے جس کا تعلق اس کی پرائیویٹ لائف سے ہے اور ایسا عمل کسی کی پرسنل سپیس یا باؤنڈری میں مداخلت کرنا تصور کیا جائے گا۔

اسی طرح اگر آج کے دور میں ہم کسی سے اس کا مذہب و عقیدہ کے متعلق سوال پوچھیں گے یہ جاننے کے لیے کہ وہ کس مذہب، عقیدہ یا فرقہ سے تعلق رکھتا ہے، یہ حرکت یا رویہ اسی بدتمیزی کے ساتھ جڑ جاتا ہے کہ جیسے آپ نے کسی کے انڈر ویئر کے متعلق پوچھ لیا ہو۔ آج کی دنیا میں مذہب و عقیدہ کو آپ کا نجی معاملہ تصور کیا جاتا ہے جسے سڑکوں پر لا کر دکھاوا کرنا یا تبلیغ کرنا غیر مہذب رویوں میں شمار ہوتا ہے اور مہذب و سیکولر ممالک میں اس کی قطعاً اجازت نہیں دی جاتی۔

جب آپ کسی سے اس کا مذہب و عقیدہ پوچھتے ہیں تو آپ ایک طرح سے ججمینٹل بن رہے ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر آپ اس قسم کے فیصلے لینے لگتے ہیں کہ یہ تو مخالف مذہب یا فرقہ کا بندہ ہے اس لئے میں اس کے ساتھ اپنے راہ و رسم برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اسی مذہبی نفرت کا خمیازہ یورپ نے صدیوں جنگ و جدل کی صورت میں بھگتا ہے جب تک پوپ اور کلیسائی کلاس کی حکمرانی رہی یورپ تاریکی میں ڈوبا رہا جیسے ہی انہوں نے اس استحصالی طبقے کو اپنے راستہ سے ہٹا کر شعوری راہ اختیار کی تو یورپ احیاء العلوم کے عمل سے گزر کر آج دنیا کے تمام علوم کا بادشاہ بن چکا ہے۔

آج کی مہذب دنیا میں (انفرادیت) کو اولین حیثیت حاصل ہے اور ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت میں فیصلہ سازی اور اپنی رائے کے آزادانہ اظہار کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہے بشرطیکہ کسی کی جان و مال کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اگر لوجیکل گراؤنڈ پر سوچا جائے تو مذہب و عقیدہ ہر انسان کا اندرونی ( بلیف سسٹم) ہوتا ہے جسے وہ بچپن سے لاشعوری طور پر اپنے روایتی بیک گراؤنڈ سے لے کر اختیار کرنے لگ پڑتا ہے، ماں کی کوکھ سے تو کوئی بھی کسی مذہب کی مہر اپنی پیٹھ پر لگوا کر پیدا نہیں ہوتا بلکہ بچہ تو لامذہب ہوتا ہے مگر پیدا ہوتے ہی ہم بچے کا بلوغت تک پہنچنے کا انتظار کیے بغیر اسے اپنے آبائی مذہب میں داخل کرنے کی رسم ادا کر لیتے ہیں۔

حالات کی ستم ظریفی ہے کہ انسان جس مذہب میں پیدا ہوتا ہے وہ اس کا شعوری انتخاب نہیں ہوتا۔ ایک جگہ میں نے بہت اچھی بات پڑھی تھی جس کا میں یہاں حوالہ دینا چاہوں گا کہ (بچہ خدا کے گھر سے بطور کافر پیدا ہوتا ہے مگر ہم اسے اپنے آبائی مذہب میں داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ) آبائی مذہب کے مطابق زندگی بسر کرنا ہماری روایتی سکولنگ کا حصہ ہوتا ہے اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے بلکہ ایسا ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور بہت کم لوگ روایتی بلیف سسٹم سے پیچھا چھڑا پاتے ہیں۔

لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ اسی اندرونی بلیف سسٹم کی بنیاد پر کسی کو اچھے یا برے خانہ میں تقسیم کرنا آج کے دور میں بدتہذیبی اور انسانیت سے گرا ہوا انتہائی پست عمل سمجھا جاتا ہے، بطور انسان ہمیں آج یہ جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم آج ایک ایسی دنیا کا حصہ بن چکے ہیں جہاں چند سیکنڈ میں بہت کچھ تبدیل ہو جاتا ہے، حقائق اور اعداد و شمار بڑی تیزی سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں، آج کی دنیا ماضی کی دنیا کی طرح ٹھہری ہوئی یا معلق نہیں ہے بلکہ متحرک پذیر ہے۔

آج کا دور خیالات کی گہما گہمی اور سائنسی معجزات کا ہے اور ہم آج اپنے محدود تصوراتی ببل میں قید ہو کر ایک بھرپور زندگی گزارنے کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ ہمیں یہ موٹی سے بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم آج کسی کو زور زبردستی اپنے خیالات منوا نہیں سکتے اور اس حقیقت کو جاننے کی ضرورت ہے کہ اگر ہمیں کسی کے خیالات سے اتفاق نہیں ہے تو ہم اختلاف کر سکتے ہیں مگر اس بندے کی تذلیل کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پرسنل بلیف کی تشہیر و تبلیغ کرنا اس دور کی باتیں ہیں جب کمیونیکیشن اور رسل و رسائل کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے اور مذہبی گرو دوسرے علاقوں میں اپنے پیغامبر پر بھیج کر اپنا پیغام پہنچایا کرتے تھے بلکہ ابتدائی تھیٹر اسی مذہبی فریضہ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔

آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں اس میں وہ مخصوص اجارہ داریاں ختم ہو چکی ہیں جنہیں چند لوگ اپنے ہاتھوں میں لے کر لوگوں کا ذہنی استحصال کیا کرتے تھے، مذاہب اپنی فکس مخصوص زبان میں ہونے کی وجہ سے چند لوگوں تک سمٹ کر رہ گئے تھے۔ صرف وہی لوگ مذاہب کی رمز و کنایہ کو سمجھتے تھے جو اس مذہب کی مخصوص زبان و اصطلاحات کو جانتے تھے اور انہی برائے نام قسم کے واقف کاروں کا آج بھی یہی دعویٰ ہے کہ مقدس کتاب کی پوری جانکاری لینے کے لیے عربی زبان پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے ورنہ آپ کو گمراہ اور ناقص العقل تصور کیا جائے گا۔

لیکن آج اس قسم کی اجارہ داری کا دعویٰ کرنا ایک بے وقوفانہ اور بے بنیاد رویہ سمجھا جائے گا وہ اس لئے کہ آج گوگل پر مختلف زبانوں کی لغات موجود ہیں اور آپ ایک ایک لفظ کو مختلف زبانوں میں سرچ کر کے اپنی فہم میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جس طرح پوری دنیا کے لوگ رنگ، قد، نسل اور زبان کے حساب سے مختلف ہوتے ہیں بالکل اسی طرح ہر انسان کے پسند و ناپسند، ذائقے اور سوچ بھی مختلف ہوتی ہے، جسے جو پسند ہو، ہو سکتا ہے دوسروں کو اس سے قے آتی ہو۔

اس لیے یہ کہنا یا سمجھنا بے وقوفی ہو گا کہ دوسروں کو لازمی طور پر ہمارے مطابق ہی چلنا پڑے گا یہ عمل قانون فطرت کے خلاف ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر انسان کی سوچ مختلف ہوتی ہے کبھی ایک سی نہیں ہو سکتی تو اسی طرح سے سوچنے کا انداز بھی ہر ایک کا مختلف ہو گا اور نتائج بھی مختلف ہوں گے۔ اب ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جن خیالات اور بلیف سسٹم کو آپ اپنے لئے بہتر سمجھتے ہوں اور دوسروں سے بھی یہی امید رکھیں کہ وہ بھی انہی تعلیمات کو من و عن تسلیم کر کے زندگی بسر کریں گے اس قسم کا رویہ ذاتی انا کی تسکین کے علاوہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور آپ کے ذاتی تصورات کی کمزوری کو ثابت کرتا ہے۔

جس بلیف سسٹم کو منوانے کے لیے زور زبردستی کی ضرورت درکار ہو تو سمجھ لیجیے کہ اس کی بنیادیں کھوکھلی ہیں اسی کھوکھلے پن اور کمزوری کو چھپانے کے لئے ایسے فلسفہ کو ڈنڈا بردار محافظین اور کی بورڈ جنگجوؤں کی ضرورت پڑتی ہے، اس فلسفے یا سوچ کا تعلق چاہے قدیم وقتوں سے ہو یا آج کے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جن تصورات کو علمی سیلاب کے اس دور میں کلاشنکوف، ڈراؤ دھمکاؤ اور تشدد و بربریت کی ضرورت پڑی اور جس فلسفہ کے پرچارکوں کو اپنے تحفظ کے لئے اسلحہ بردار محافظ رکھنا پڑیں تو سمجھ لیجیے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔

آج کے دور کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ انسان کو اپنے ذاتی سچ یا بلیف سسٹم کے ساتھ جینے کا پورا حق ہے اور ہمیں اس حق کو تسلیم کر کے دوسروں کو بھی اپنے طور پر جینے کا حق دینا چاہیے، جو جس سوچ کے ساتھ کمفرٹ ہو اسے اپنی حد تک رکھنا چاہیے دوسروں پر ڈنڈے کے زور پر تھوپنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments