گھریلو تشدد یا گھریلو محبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چوبیس نومبر عالمی سطح پر گھریلو تشدد کے دن کے طور پر یاد کیا گیا۔ اس دن پروگرام ہوئے ہوں گے، سیمینار منعقد کیے گئے ہوں گے، مقالے سنائے گئے ہوں گے۔ مثالیں دی گئیں ہوں گی اور متعلقہ قوانین کو دہرایا بھی گیا ہو گا۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ پر درست ہیں۔ لیکن کیا اس تشدد سے پہلے کے مراحل کسی نے محسوس کیے ہوں گے۔ یہ مراحل کسی نے تخیل کا حصہ بنا کر تخلیق کی بھٹی کے تپش سے گزار کر دیکھے، سنے یا پرکھے ہوں گے۔ یہ مراحل اپنے مشاہدات اور تجربات کے تناظر میں کیا کس نے سامنے لائے ہوئے ہوں گے۔

ممکن ہے لائے بھی ہوں۔ لیکن بہت کم اور وہ اس لئے کہ اندرونی جذبات کی بات میں اثر ہوتا ہے کیونکہ وہ دل سے نکلتی ہے اور جو بات دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے لیکن یہ بے اثر پن اس بات کی دلیل ہے کہ اس دن کسی نے بھی کوئی بات دل سے نہیں کی ہوگی کہ وہ اثر رکھتا اور زبان زد عام ہوتا بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ مردوں کی سوسائٹی ہے اور یہ بات براہ راست مردوں پر آتی ہے اور ایسے پروگراموں میں مرد ہی مقرر اور مرد ہی سامع یا ناظر ہوتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ صنفی امتیاز کا شکار ہو گئے ہوں گے۔

لیکن جو اصل بات ہے وہ یہ ہے کہ گو کہ عورت کی ابتدا بیوی یا عورت کی صورت میں آئی ہے لیکن اس کے بعد سے لے کر اب تک عورت کی ابتدا سب سے پہلے ایک نرم نازک کلی اور چہیتی جیسے بیٹی کی صورت میں ہوتی ہے۔ جس کو بیٹے کے مقابلے میں رحمت تصور کیا جاتا ہے اور رحمت کبھی بھی زحمت نہیں ہو سکتی۔ پھر دوسرا مرحلہ بیوی بننے کا اتا ہے لیکن یہ رشتہ کئی حصوں میں بٹا ہوا ہوتا ہے۔ اس سٹیج پر بیٹی صرف بیوی نہیں بوتی بلکہ بہو، بھابھی۔

ممانی، چاچی اور اخر میں ماں بھی بنتی ہے۔ اور یہ تمام رشتے بیٹی کے بعد ان کو نبھانے ہوتے ہیں۔ یہی سے مثبت یا منفی مرحلے شروع ہو جاتے ہیں۔ بطور بیوی، بیوی کو یہ سارے رشتے نبھانے بھی ہوتے ہیں لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ شوہر کو بیوی ان تمام رشتوں کی موجودگی میں صرف اور صرف بیوی کو بیوی ہی کی روپ میں دیکھنا چاہتا ہے یہ اور سارے رشتے ان پر کافی مشکل اور بھاری پڑتے ہیں۔ بیوی جب ماں بنتی ہے تو شوہر اور بچے کے درمیان تقسیم ہوجاتی ہے۔

لیکن بچے کو مفت یہ تمام رشتے بنے بنائے مل جاتے ہیں۔ شوہر اپنی بیوی سے محبت تو کسی کی بیٹی ہونے کی وجہ یا حوالے سے تو کرتا ہے لیکن تشدد کسی کی بیٹی ہونے کی وجہ سے نہیں روکتا ہے۔ شوہر اپنی بیوی سے کسی کی بہن سمجھ کر ان سے عشق کی بازی تو کھیلتا ہے لیکن غصے کے وقت یہ نہیں دیکھتا یا سوچتا کہ میری یہ بیوی جو میرے بچے کی ماں ہے یہ بھی کسی کی بہن ہے۔ بیوی جب بہو ہوتی ہے تو ساس سسر کے لئے بیٹی جیسی ہوتی ہے لیکن بہت کم بیٹی بنا کر یا بیٹی سمجھ کر ان کے ساتھ برتاؤ کیا جاتا ہے۔

اگر شوہر بیوی کو بیوی کے علاوہ دیگر رشتوں کے ساتھ قبول کریں تو گھریلو تنازعات جنم لیتے ہیں۔ اس لئے اس تشدد میں شوہر اکیلا نہیں ہوتا ہے اس کی پیچھے زیادہ تر ہاتھ ہی ان رشتوں کا ہوتا ہے۔ بیوی تشدد کے لئے نہیں ہوتی بلکہ جیون ساتھ کے لئے ہوتی ہے، پیار اور محبت کے لئے ہوتی ہے۔ بیوی شوہر کے لئے تخلیقی عمل کی حصہ دار ہوتی ہے اور اس فنکارانہ اور استاکارانہ کارکردگی کے دوران وہ زندگی کے کینوس پر تخلیقات ہی متعارف کرواتی ہیں۔

کسی بھی تخلیق کار پر تشدد تخلیق پر تشدد کرنا ہوتا ہے۔ لیکن بصد احترام تشدد اور نفرت یا ظلم کرنے والوں کے مقابلے میں محبت کرنے والوں کا ریشو زیادہ ہے اس لئے تو جب کبھی یا جہاں کہیں ظلم یا تشدد ہوتا ہے تو نظر اتا ہے اور یہ نظر انا اس بات کی دلیل ہے کہ معاشرہ اس عمل کو قبیح عمل گردانتا ہے۔ اب تو اس پر باقاعدہ لاء پاس ہوا ہے جس پر پھر کبھی سیر حاصل گفتگو ہوگی آج اس موضوع پر دل اور جذبات کے لحاظ سے کچھ باتیں کرنا تھیں کیونکہ میں شوہر ہونے کے ساتھ ساتھ بفضل خدا ایک بیٹی کا باپ بھی ہوں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments