شین خالئی


دریائے آمو کی مغرب سے لے کر سندھو دیوتا کی جنوب تک کا خطہ جو اونچے اونچے پر ہیئت پہاڑوں پہ مشتمل ہے۔ یہ خطہ تو ہے ہی حسین پر یہاں کے باسی بھی کوئی کم حسین نہیں۔ نہ ان کے ارادے یہاں کی پہاڑوں سے کم اونچے ہیں۔ یہ سارا خطہ پشتون قبائل کی اکثریت پہ مشتمل ہے۔

وہ چاہے امن و آشتی کے پیامبر مہاتما گوتم بدھ کی قدیم مجسموں کا وارث، شہر جلال آباد ہو یا کوہ ہندوکش سے نکلنے والی دلفریب دریا کے کنارے واقع شہر کابل، اپنی اناروں کی طرح سرخ سرخ رخساروں والی حسیناؤں کی دیس قندھار ہو یا شہر رومان پشاور، گندھارا تہذیب سے یادگار شہر مردان یا گل نرگس سے مزین وادیوں کی سر زمین مالاکنڈ۔ العرض جہاں کہیں پشتون آباد ہیں۔ ان میں بہت کچھ کامن ہے۔ اور اسی طرح یہاں پروان پانے والا ادب بالخصوص رومانوی ادب ”شین خال“ کی تذکرے کے بغیر مکمل ادھورا ہے۔

” شین خال“ یعنی نیلا تل وہ نشانات ہوتے ہیں جو پشتون دوشیزائیں و خواتین اپنی حسن آرائی کے لیے ماتھے، ٹھوڑی یا رخساروں پہ کندہ کرتی ہیں۔ واضح رہے پہلے زمانے میں یہ نقوش مستقل ہوتے تھیں۔ اگرچہ اب یہ رسم رو بہ زوال ہے اور خال خال ہی موجود ہے۔ تاہم آج بھی پشتون خواتین شادی بیاہ کی تقریبات پہ عارضی نوعیت کے تل لگاتی ہیں۔

اس رسم کی بنا کب پڑی؟ اس بارے وثوق سے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ تاہم چونکہ آج بھی پشتون مائیں اپنی بچوں کو نظر بد سے بچانے کے لیے سرمہ سے یہ خال لگاتی ہے۔ سو گمان غالب ہے کہ اس رسم کا آغاز اسی طرح سے ہوا ہو گا۔

بہرحال خال کودنا ہر ایک کی بس کی بات نہیں ہوا کرتی تھی۔ اس کے لئے ہر دیہہ میں خصوصی عورتیں ہوتی تھیں۔ جو اس کام میں مہارت رکھتی۔ وہ تین چار سوئیوں کے ذریعے اس جگہ کو آہستگی سے چھوتی جہاں خال لگوانا ہوتا۔ اور یوں خون نکلنے کے بعد وہاں کاجل مل لیتی۔ نتیجتاً ایک مستقل نقش ترتیب پاتا۔

تصویر میں سانولی رنگت والی حسینہ کا نام شلپا ادوانی عرف شین خالئی ( نیلے تل والی ) ہے۔ ان کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ ان کے اجداد نے بٹوارے کے وقت دیگر کئی خاندانوں کی طرح بلوچستان سے ہندوستان ہجرت کیا اور وہاں راجھستان میں ایک کمیونٹی کی صورت قیام پذیر ہوئے۔ یہ کاکڑ قبیلے کی ایک ذیلی شاخ ہے اور واحد پشتون قبیلہ جو مذہباً ہندو ہیں۔

شلپا کہتی ہے کہ وہ کئی سال اپنی اصل شناخت کے بارے میں سرگرداں رہی۔ تا اینکہ ان کی افغان طلباء سے ملاقات ہوئی۔ اگرچہ شلپا پلی بڑھی راجھستان کی تہذیب میں بے پر گھریلو ماحول کی وجہ سے پشتو سمجھ اور بول لیتی ہے۔ اور یوں انہیں اپنی کمیونٹی کی زبان اور بزرگ خواتین کی طرف سے خاص خاص مواقع پہ کیے جانے والی رقص ”اتن“ کی اصل بارے معلوم ہوا۔ پر سب سے بڑھ کر ان کے لئے کمیونٹی کے بزرگ خواتین کی چہروں پہ وہ پراسراریت کے حامل، ہزاروں سالوں کی تاریخ سمیٹے، نیلے رنگ کے نقوش ”شین خال“ اب مزید پراسرار نہیں رہیں۔

شلپا ادوانی اپنی اس پوری کہانی کو ایک ڈاکیومنٹری کی شکل میں فلم بند کر چکی ہے۔ جسے بارڈر کے دونوں پار کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ ڈاکیومنٹری یوٹیوب پر ”شین خالئی“ کے نام سے موجود ہے۔

پشتو فولک لٹریچر تو شین خال کی مرکزی خیال سے مزین ہے۔
پیکی لہ سترگو سہ بالا کھ
زہ دی دا شین خال پہ ارمان راغلی یمھ
محبوب اپنی محبوبہ سے ؛
( یہ زلفیں اپنی جبیں سے ہٹاؤ
کہ میں تیرے نیلے تل کی دیدار کی امید لے کر آیا ہوں )
دا مخ دی سپین خال پکی شین دے
دا می یقین دی لیونے بہ شم میینھ
( ایک تو آپ کا چہرہ سفید اوپر سے اس پہ نیلا تل
مجھے یقین ہے دیکھ کر میں مجنون ہو جاؤں گا)

افسوس جس طرح سے جنگ اور شدت پسندی نے کئی ہزار افراد کی جان لی۔ اسی طرح سے یہ خوبصورت رسم بھی ان کی نذر ہوا۔ مذہبی شدت پسندوں نے خال کو حرام جانا۔ کیوں؟ یہ کسی کو نہیں پتہ۔ اور نتیجتاً شین خال رخصت ہوتا رہا۔

بہرحال پشتون پر امید ہے کہ امن اور آشتی کا وہ سنہرا دور پھر سے لوٹ آئے گا۔ یہی خطہ ہو گا، ٹپہ ہو گا اور نغمۂ رباب ہو گا۔

امید می شتہ امن بہ راشی
بیا بہ جوڑہ دا باچا خان زیارت لہ زونھ
( امید یہی ہے کہ امن آئے گا
( تب ساتھ ساتھ باچا خان کی زیارت پہ جائیں گے ) ۔

حسیب یوسفزئی شعبہ نفسیات کے طالب علم اور اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔

Facebook Comments HS