جنرل صاحب کب تک خاموش رہیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد نے گزشتہ ہفتہ کے روز لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کسی ایک جنرل کا ذکر کیا تھا جو 22 کروڑ لوگوں پر حاوی ہے اور عوام کی جمہوری و انسانی ضرورتوں کو جوتی کی نوک پر رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مساوات اور برابری کے اصول کی رو سے یہ صورت حال ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتی۔ یا تو جنرل کو عام لوگوں کی سطح پر اترنا ہوگا یا عوام کو اوپر اٹھ کر سب کے لئے مساوی حقوق کے اصول کو مروج کرنا پڑے گا۔

اس پرجوش تقریر میں علی احمد کرد نے یہ تو نہیں بتایا کہ اگر جنرل صاحب نے نیچے آنے سے انکار کردیا تو عوام کیسے اوپر اٹھیں گے اور برابری کے جس اصول کو یہ ممتا زوکیل رہنما ملک و قوم کے لئے بے حد اہم قرار دے رہا ہے، اسے مروج کرنے کی کیا صورت ہوگی۔ اسی تقریر میں علی احمد کرد نے ان مظلوم سائلین کا ذکر بھی کیا تھا جو صبح سویرے عدالتوں میں جاتے ہیں اور شام گئے مایوس و نامراد گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ علی احمد کرد کے خیال میں عوام کے ساتھ یہ برتاؤ کرنے والی عدلیہ عالمی انڈیکس میں نچلے درجے تک تو جا سکتی ہے لیکن عوام کے قانونی و آئینی حقوق بحال کرنے میں کوئی کردار دا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ علی احمد کرد کے اس خطاب میں عدلیہ سے متعلق اٹھائے گئے سوالوں کا جواب تو چیف جسٹس گلزار احمد نے اسی سیشن کی اختتامی تقریر میں دے دیا تھا۔

چیف جسٹس نے ایک تو علی احمد کرد کی یہ غلط فہمی دور کردی کہ کوئی مائی کا لعل انہیں فیصلے ڈکٹیٹ کرنے کی جرات کرسکتا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ تمام فیصلے قانونی میرٹ کی بنیاد پر خود لکھتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان کے تمام معزز برادر جج حضرات بھی اسی روایت پر عمل کرتے ہیں۔ اس حسن ظن کی بنیاد پر جسٹس گلزار احمد نے علی احمد کرد کے اس دعویٰ کو مسترد کردیا کہ عدالتیں عوام کے آئینی حقوق کی حفاظت کرنے کی اہل نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتیں ملک میں جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی ضامن ہیں ۔ اسی لئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ملک پر لوگوں کی حکومت نہیں ہے بلکہ قانون اور اصول کی حکمرانی ہے۔ چیف جسٹس کے اس دعوے پر بہت سے لوگوں نے حیرت سے دانتوں میں انگلی داب لی تھی کہ مبادا کوئی ایسا لفظ منہ سے نکل جائے جو توہین عدالت قرار پائے اور بیٹھے بٹھائے لینے کے دینے پڑ جائیں۔

جسٹس گلزار احمد نے البتہ اپنے دعوے کو درست ثابت کرنے کے لئے دلیل کے طور پر علی احمد کرد کو دعوت دی کہ وہ اعلی عدالتوں میں آئیں، وہاں ججوں کے کام کرنے کے طریقے کو دیکھیں اور عدلیہ کے فیصلے پڑھیں ، اس کے بعد بتائیں کہ وہ کس بنیاد پر اعلیٰ عدالتوں کو کم ہمت اور اپنے فرائض سے رو گردانی کرنے والی ٹھہرا رہے ہیں۔ علی احمد کرد نے اس موقع پر یا اس کے بعد چیف جسٹس کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کوئی جواب نہیں دیا تاہم عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں یہ اصول تو طے ہوگیا کہ اس ملک کا کوئی بھی شہری چیف جسٹس کے سامنے اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑ سکتا ہے ، اور وہ اس دکھ کو اگر نہ بھی سمجھیں تو یہ وضاحت ضرور کرتے ہیں کہ متعلقہ شخص بلاوجہ ہی پریشانی کا شکار ہے اور وہ جس تکلیف کے بارے میں بدحواس ہو رہاہے، اس کا تو وجود ہی نہیں ہے۔

انسانی حقوق کی علمبردار کہلانے والی وکلا کی مرحومہ لیڈر عاصمہ جہانگیر کے نام سے منعقد ہونے والی کانفرنس میں یوں یہ بات تو طے ہوگئی کہ عوام کی کسمپرسی کے بارے میں آواز اٹھانے کا جو مشن عاصمہ جہانگیر نے ساری زندگی عزیز رکھا، وہ ان کے انتقال کے بعد بھی جاری و ساری ہے اور سال میں ایک مرتبہ ہی سہی، ان کے نام سے منعقد ہونے والی کانفرنس میں حقوق کی بات بھی کی جاتی ہے اور ان حقوق کے محافظ ڈائس پر آکر یہ وضاحت بھی کرتے ہیں کہ وہ اپنے فرائض پورے کررہے ہیں اور بعض عالمی انڈیکس کی بھول بھلیوں سے عدالتوں کے بارے میں غلط فہمیاں نہیں پھیلانی چاہئیں۔اس حد تک تو عاصمہ جہانگیر کا مشن کسی نہ کسی طرح اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہورہا ہے۔ سال روں کی کانفرنس نے یہ واضح کردیا کہ ملک کے وکیل، دانشور، سیاست دان بنیادی حقوق اور آئین کی بالادستی کے بارے میں سوال بھی اٹھا رہے ہیں اور ملک کے دیگر ججوں کے علاوہ خود چیف جسٹس بنفس نفیس جواب دینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کے اس جرات مندانہ اقدام سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ان دعوؤں کی کوئی قانونی یا اخلاقی بنیاد نہیں ہے کہ جس کانفرنس سے نواز شریف جیسے ’مفرور ملزم‘ کو خطاب کی دعوت دی گئی ہو، اس میں سرکاری نمائیدے شرکت نہیں کرسکتے۔ چیف جسٹس کی اسی کانفرنس میں موجودگی اور خطاب سے یہ جمہوری نکتہ بھی واضح ہؤا ہے کہ جمہوری سیٹ اپ میں سوال اٹھانا بھی درست ہے ، خواہ وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں اور ان کا جواب دینا بھی ضروری ہے تاکہ واقعی غلط فہمیاں دور کرنے کا کام کیا جاسکے۔ اس تناظر میں ملک کے وزیر اعظم کی طرف سے اس کانفرنس کو مسترد کرنے کا رویہ ناجائز اور ناقابل قبول قرار پائے گا۔ ملک میں قانون و آئین کی حفاظت کا ذمہ دار ملک کا چیف جسٹس ہے۔ جب وہ خود اس کانفرنس میں شریک ہوکر شکایات سنتا ہے اور اپنی رائے اور تجربہ کی بنیاد پر ان کا جواب دینا بھی ضروری سمجھتا ہے تو حقیقی قانونی پوزیشن تو اسے ہی سمجھا جائے گا۔ وزیر اعظم کے بیان کو سیاسی شعبدہ بازی ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ یوں ملک میں جمہوری روایت کے حوالے سے عمران خان کا رویہ افسوسناک ہے کیوں کہ ایک جمہوری لیڈر کے طور پر انہیں مکالمہ اور اختلاف رائے کے طریقہ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، جائز سوالوں کا جواب دینا چاہئے اور الزامات کے طوفان میں ذمہ داری سے گریز کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔

عمران خان حکومت کا یہ رویہ بھی ناقابل قبول اور افسوسناک تھا کہ اس کے زیر انتظام متعدد اداروں نے پوری کوشش کہ کسی طرح نواز شریف کانفرنس سے خطاب نہ کرسکیں۔ اسی لئے ہوٹل کو انٹر نیٹ کی فراہمی منقطع کی گئی اور موبائل نیٹ بھی بند کردیا گیا جس کے بعد مجبور ہو کر منتظمین کو نواز شریف کا خطاب موبائل فون کے ذریعے آڈیو تقریر کے طور پر سامعین تک پہنچانا پڑا۔ فواد چوہدی کے پنجہ استبداد میں دبکی ہوئی وزارت اطلاعات اور دیگر اداروں نے قومی مین اسٹریم میڈیا پر اس تقریر کے مندرجات شائع یا نشر کرنے پر بھی پابندی لگائی لیکن نواز شریف یا علی احمد کرد کی باتیں حرف بہ حرف عوام تک پہنچ گئیں۔ عام حالات میں جو لوگ ایسی تقریریں سننے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لیتے، پابندی کی وجہ سے انہوں نے بھی انہیں سنا اور جاننے کی کوشش کی کہ حکومت کو ان خیالات کے عام ہونے سے کیا پریشانی لاحق ہوسکتی تھی۔

علی احمد کرد کی تقریر میں عدلیہ کے بارے میں اٹھائے ہوئے سوالوں کا جواب تو چیف جسٹس نے فوری طور سے پیش کردیا۔ اب علی احمد کرد کا بیان اور جسٹس گلزار احمد کا جواب لوگوں کی ملکیت ہے اور وہ ان کا جائزہ لے کر اپنی رائے ترتیب دے سکتے ہیں۔ تاہم اسی تقریر میں ایک جنرل کے حوالے سے جو باتیں پرجوش طریقے سے کی گئی تھیں ، اور جنہیں سن کر کسی کے کان اور کسی کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے، ان کا جواب ابھی تک موصول نہیں ہوسکا۔ بجا طور سے عاصمہ جہانگیر کانفرنس کا موضوع انسانی حقوق، جمہوریت اور عدلیہ تھا۔ وکیلوں اور سیاست دانوں کے علاوہ ججوں کی کثیر تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی اور چیف جسٹس کے علاوہ متعدد دیگر ججوں نے بھی ان حساس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرکے عوام کو ملک میں قانون کی بالادستی کے حوالے سے اپنی رائے ترتیب دینے کا موقع فراہم کیا۔ البتہ اس پلیٹ فارم پر کوئی جنرل ، علی احمد کرد کی للکار کا جواب دینے کے لئے موجود نہیں تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ منتظمین کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ کوئی وکیل لیڈر ’ایک جنرل ، ایک جنرل ۔۔۔ ‘ کا حوالہ دے کر ایسا ماحول پیدا کردے گا کہ غیر ضروری نعرہ زنی سے ماحول میں سنسنی پیدا ہوجائے گی۔ تاہم یہ سنسنی اور جوش و خروش قابو میں ہی رہا ۔ علی احمد کرد البتہ ایک اہم معاملہ کو بحث کا حصہ بنانے میں کامیاب رہے۔ اب اس پراسرار خاموش جنرل کی طرف سے جواب کا انتظار ہے جسے مخاطب کرکے علی احمد کرد عوام کو اوپر اٹھانے یا جنرل کو نیچے اتارنے کی بات کررہے تھے۔ملک میں چونکہ کوئی بھی عہدیدار بہر صورت اسٹیٹس اور قانونی اختیار میں چیف جسٹس سے بلند نہیں ہے ، اس لئے توقع کرنی چاہئے کہ اس بے چہرہ جنرل کی طرف سے بھی اپنے بارے میں اٹھائے گئے سوالوں کا جواب سامنے آئے گا۔

یہ جواب یوں بھی ضروری ہوگیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی کے بعد، گلگت بلتستان کے سابق چیف جج نے ایک بیان حلفی میں کسی نادیدہ قوت کے خوف کا ذکر کیا ہے جو ملک کے چیف جسٹس کو بعض ہدایات جاری کرنے پر مجبور کرتا تھا۔ بات یہیں تک رہتی تو بھی شاید دب جاتی لیکن اب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ایک آڈیو کلپ نے دھوم مچائی ہوئی ہے جس میں وہ کسی نادیدہ قوت کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز کو بہر طور سزا دینے کی مجبوری ظاہر کررہے ہیں۔ اب سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر صلاح الدین احمد اور جوڈیشل کمیشن کے رکن سید حیدر امام رضوی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اس معاملہ کی تہ تک پہنچنے کے لئے کمیشن بنانے کی استدعا کی ہے۔ درخواست دہندگان کا کہنا ہے کہ ’ یہ تاثر قوی ہؤا ہے کہ عدلیہ بیرونی طاقتوں کے اثر میں کام کرتی ہے۔ اس آڈیو ٹیپ سے عدلیہ کی شہرت کو نقصان پہنچاہے اور اس کی خود مختاری کے بارے میں متعدد اہم سوال سامنے آئے ہیں۔ اس لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ آڈیو حقیقی ہے یا نہیں‘۔

اس درخواست سے آڈیو ٹیپ اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے کردار کے حوالے سے معلومات سامنے لانے کا مطالبہ زور پکڑے گا لیکن یہ سوال یہیں پر ختم نہیں ہوں گے بلکہ ان کی گونج علی احمد کرد کے ’ایک جنرل ، ایک جنرل‘ والے نعرے کے ساتھ مل کر درپردہ قوتوں کی طرف سے ملک کے جمہوری عمل پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کے بارے میں سنگین سوالات کو جنم دے گی۔ ایسی صورت میں خاموش رہ کر مخالفانہ آوازوں کو ’بے وقعت‘ ثابت کرنے والے عناصر کو بھی کوئی وضاحت تو دینا پڑے گی۔ جنرل صاحب کے لئے شاید ہمیشہ کے لئے خاموش رہنا آسان نہیں رہے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2073 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments