کچھ نہیں پڑھ رکھا، کوئی بات نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ نے بدیسی زبان میں لکھی گئی بہت ساری فکشن نہیں پڑھ رکھی اور آپ غلط دوستوں کی کمپنی میں پھنسے ہوئے ہیں جنہوں نے بہت پڑھ رکھا ہے اور آنے والی ہر نئی کتاب کو فوراً پڑھ ڈالتے ہیں اور شام کی محفل میں اجنبی بدیسی ادیبوں اور کتابوں کے بار بار حوالے دیتے ہیں تو تھوڑا بہت ڈپریس ہونا تو بنتا ہے۔ تھوڑا بہت سے میری مراد ہے صرف اتنا سا ڈپریشن جس کا کل کفارہ ایک فالتو گلاس اور آدھا سگریٹ ہو۔ ڈپریشن کی اتنی مقدار ”صحت مندانہ“ حدود کے اندر ہے۔ گھبرانے یا کوئی انتہائی قدم اٹھانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ مثلاً اندر ہی اندر اپنے ساتھ کوئی ایسا وعدہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ اگلی کسی ایسی شام میں شرکت سے پہلے آپ بھی کم از کم ایک بدیسی لکھاری کی کوئی ایک کتاب تو پڑھ ڈالیں گے۔ ایسا کرنا اپنے ساتھ سراسر زیادتی ہو گی۔ خاص طور پر اگر آپ ایک لکھاری بننا چاہتے ہیں پھر تو بالکل بھی ایسا نہ کیجیے گا کیونکہ کتاب لکھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کتابیں پڑھنا ہے۔

لگے ہاتھوں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ کہ کتابیں پڑھنا آپ کے لکھاری بننے کی راہ میں رکاوٹ بننے کے علاوہ بھی بہت حوالوں سے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ وقت کا ضائع ہونا، حواس کھو بیٹھنا اور اپنے بیوی بچوں کو بھوکا مار دینا۔ لیکن اگر آپ کتابیں لکھنا چاہتے ہیں، شاعری کرنا چاہتے ہیں یا ٹی وی میں اینکر کے طور پر کام کر کے ایک دولت مند سیلیبرٹی بننا چاہتے ہیں تو پھر کتابیں پڑھنا بہت ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر آپ کو کتابیں پڑھنے کی لت لگ جائے تو عین ممکن ہے کہ آپ کے پاس لکھنے کے لیے تو وقت ہی نہ بچے۔ کیونکہ ہر سال اتنی کتابیں آتی ہیں کہ بس بندہ پڑھنے بیٹھ جائے تو پھر پڑھتا ہی رہے۔ اور اگر لکھنے کا وقت نہ بچا تو آپ کے قیمتی اور نادر خیالات سے دنیا محروم رہ جائے گی۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ کتابیں پڑھنے سے آپ کے ذاتی خیالات آلودہ ہو جاتے ہیں اور وہ خالص حالت میں لوگوں تک پہنچ نہیں پاتے۔

ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ کتابیں پڑھنے والا اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے اور اس میں کچھ لکھنے کا حوصلہ ہی نہیں رہتا۔ اس کی بھی تین مستند وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ دوسروں کے لکھنے کے معیار سے غیر ضروری طور پر متاثر ہو جاتے ہیں، دوسرا یہ کہ آپ لکھنے کے آداب جان جانے کی وجہ سے بھٹک سکتے ہیں اور تیسرا یہ ہے کہ آپ ادھار مانگتے ہوئے شرمندگی محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگوں میں ادھار مانگنے اور مل جانے پر واپس نہ کرنے میں مرزا جی کے علاوہ شاید ہی کسی نے شہرت پائی ہو۔

بہت کتابیں پڑھنے سے یہ صورت حال بھی ہو سکتی ہے کہ آپ کو لگے گا کہ سب کچھ تو لکھا جا چکا ہے اور آپ کے لکھنے کو کچھ بچا ہی نہیں۔ اس کے علاوہ آپ پر نقالی کا الزام بھی لگ سکتا ہے۔ غرض کہ کتابیں پڑھنے کی عادت آپ کے ایک کامیاب لکھاری بننے کے خواب کو چکنا چور کر سکتی ہے۔ پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ کتابیں پڑھنے کی عادت ان لوگوں کے لیے بھی کچھ مناسب نہیں جو لکھاری نہیں بننا چاہتے۔

پہلے زمانوں میں تو اگر آپ بہت ساری کتابیں پڑھتے تو لوگ آپ کو پروفیسر کے نام سے پکارنا شروع کر دیتے تھے۔ شکر ہے کہ اب اس بدنامی کا تو ڈر نہیں رہا کیونکہ پروفیسروں نے اپنی روش درست کر لی ہے۔ کتابیں پڑھنا اب پروفیسروں کا کام نہیں رہا۔ انہوں نے اپنے وقت کا بہتر استعمال ڈھونڈ لیا ہے۔ کچھ نے کریانے کی دکانیں کھول لی ہیں اور جن کی نہ چل سکیں ان کی ٹیوشن اکیڈمیاں بہت زور شور سے چل رہی ہیں۔ باقی ماندہ پروفیسر خواتین و حضرات نے ہمت کر کے اپنے یا پڑوسیوں کے بچوں سے ٹچ موبائل چلانا سیکھ لیا ہے انہیں بھی کتابیں پڑھنے کی چنداں ضرورت نہیں رہی۔ انہوں نے وٹس ایپ گروپس جوائن کر لیے ہیں اور وطن کے خلاف ہونے والی ففتھ جنریشن یلغار کو روکنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس محاذ پر بھی انہیں کچھ لکھنے یا پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس گروپ پر ایلومیناٹی کی تازہ اور پرانی سازشوں کے اندرونی راز، کورونا کے نام پر لاشیں اکٹھی کر کے امریکہ بھیجنے کے اعداد و شمار اور جوانی واپس لانے کے تیر بہدف آزمودہ نسخے دوسرے دوستوں تک پہنچاتے رہتے ہیں اور ثواب دارین حاصل کرتے ہیں۔

پہلے ادوار میں تو کتابیں پڑھنے والوں کی اولادوں کے بگڑ جانے کا بھی خطرہ ہوتا تھا۔ امکان ہوتا تھا کہ آپ کی اولاد بھی کتابیں پڑھنے میں ہی اپنا وقت ضائع کرتی رہے اور کوئی ڈھنگ کا کام سیکھ سکے نہ نام اور پیسہ کما سکے۔ لیکن شکر ہے کہ اب یہ بیماری متعدی نہیں رہی ہے۔ کتابیں پڑھنا کوئی قابل تقلید کام نہیں رہا۔

آج کل کتابوں کے میلے لگانے کا رواج عام ہے۔ لوگ بڑے شوق سے ان میلوں میں جاتے ہیں اور کتابوں کے سٹالز اور گمنام ادیبوں کے ساتھ اپنی سیلفیاں بناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر کے داد پاتے ہیں۔ یہ ایک اچھی اور صحت مند سرگرمی ہے۔ اس کے فوائد سے سبھی واقف ہیں۔ ادیبوں کو حوصلے کے ساتھ ساتھ کچھ امید بھی مل جاتی ہے کیونکہ ان تصویروں کو لائیک کرنے والی کچھ آئی ڈیز خواتین کے فوٹو والی بھی ہوتی ہیں۔ بس کتاب سے اتنا رشتہ کافی ہے۔ اس سے آپ کا وقت ضائع ہوتا ہے نہ آپ کے ٹیلنٹ پر کوئی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کتاب سے محبت کا اظہار بھی ہو جاتا ہے۔

پس ثابت ہوا کہ کتابیں پڑھنے سے بچیں تاکہ آپ ایک اچھے لکھاری بن سکیں۔ اور اگر آپ ایک لکھاری نہیں بننا چاہتے تو بھی ایسا ہی کریں۔

ٹیل پیس یا پس نوشت میں سے جو مناسب لگے سمجھ لیں : مجھے تو اپنے اچھے لکھاری ہونے کی وجہ پہلے سے معلوم تھی۔ اس تحریر سے میں اور بھی زیادہ پر اعتماد محسوس کر رہا ہوں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 302 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments