اے بی ڈیویلیئرز نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا
اے بی ڈیویلیئرز (Abraham Benjamin de Villiers) 17 فروری 1984 کو جنوبی افریقہ کے شہر پریٹوریا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام ”ابراہم بی ڈی ویلیرس ،اور والدہ نام ،میلی ڈی ویلیرس، ہے۔ اس کے دو بھائی ہیں، ایک نام“ ویسیلس ڈی ویلیرس، اور دوسرے کا جان ڈی ویلیرس ”ہے۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پریٹوریا کے افریقانسی ہوور سیونسکول میں حاصل کی۔ اے بی ڈیویلیئرز کے والد پیشے سے ڈاکٹر تھے اور رگبی یونین کے کھیل سے بھی منسلک تھے اور اے بی ڈیویلیئرز کو بچپن سے ہی کھیلنے کی ترغیب بھی دیتے تھے۔
انڈرنائینٹین اور ڈومیسٹک کرکٹ کی سطح پر متاثر کن کارکردگی پیش کرنے کے بعد انہیں جنوبی افریقہ کی ٹیم میں شامل کیا گیا۔ اور 20 سال کی عمر میں ’ابراہام بنجامن ڈیویلیئرز‘ نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا۔ بیٹنگ آرڈر میں وہ اوپننگ پوزیشن سے لے کر مختلف پوزیشنوں پر بیٹنگ کرتے رہے ہیں، لیکن بطور مڈل آرڈر بلے باز وہ زیادہ کامیاب رہے۔
37 سالہ اے بی ڈیویلیئرز نے 17 دسمبر 2004 کو اپنا پہلا ٹیسٹ میچ انگلینڈ کے خلاف کھیلا، اور ایک روزہ کیریئر کا آغاز 2 فروری 2005 کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کیا۔ اور پہلا ٹی ٹونٹی میچ انہوں نے 24 فروری 2006 کو آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔
2004 سے باقاعدہ انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے 114 ٹیسٹ، 228 ایک روزہ اور 78 ٹی ٹونٹی میچز میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی ہے۔
دائیں ہاتھ کے بلے باز نے 114 ٹیسٹ میچوں میں 50.7 کی اوسط سے 8765 رنز بنائے، اور اگر ایک روزہ کیریئر کی بات کریں تو 228 میچوں میں اسے نے 53.5 کی اوسط سے 9577 رنز اسکور کیے۔ اور 26.1 کی اوسط سے 78 ٹی ٹونٹی میچوں میں اس نے 1672 رنز اپنے کھاتے میں ڈالے۔
2015 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 31 گیندوں میں سنچری سکور کرتے ہوئے تیز ترین سنچری کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔ اینڈرسن اور شاہد آفریدی کا ریکارڈ توڑتے ہوئے ریکارڈ بک میں اپنا نام درج کرایا۔
یاد رہے کہ تیز ترین 50 اور 150 کا ریکارڈ بھی انہیں کے سپرد ہے۔
انہوں نے اپنے کیریئر میں کل 47 سنچریاں اسکور کی ہیں۔ جس میں 22 ایک روزہ اور 25 ٹیسٹ سنچریاں شامل ہیں۔
مارک باؤچر کے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے باقاعدہ طور پر وکٹ کیپنگ کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے لاتعداد کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ 222 ٹیسٹ، 176 ایک روزہ اور 65 ٹی ٹونٹی کیچز اس کے کھاتے میں درج ہیں۔
2012 سے 2017 تک وہ بحیثیت کپتان ٹیم کی نمائندگی بھی کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے قدم جماتے ہی کرکٹ کے شائقین کو اپنا دیوانہ بنا دیا۔ ایک منفرد انداز اور جدید طرز کی بلے بازی نے اسے کرکٹ میں ایک اعلیٰ مقام عطا کیا۔
اے بی ڈیویلیئرز جس انداز سے بلے کے استعمال کا سلیقہ جانتے تھے وہ میں نے کسی اور بلے باز میں نہیں دیکھا۔ جس طریقے کے شاٹس انہوں نے دریافت کیے تھے، شاید ہی کوئی اور کر سکتا تھا، یا کر سکتا ہے۔ گراؤنڈ کے چاروں اطراف شاٹس کھیلنے کی اس صلاحیت نے اسے ایک مقبول اور مثالی کرکٹر بنا دیا۔ وہ اپنے جارحانہ اور جدید انداز کے شاٹس کی بدولت مسٹر 360 کے نام سے بھی مشہور ہے۔
اے بی ڈیویلیئرز نے اپنے 15 سالہ کیریئر میں تین بار آئی سی سی ون ڈے پلیئر آف دی ائر کا اعزاز اپنے نام کیا۔
اے بی ڈیویلیئرز نے کہی غیر ملکی لیگز میں بھی حصہ لیا۔ جن میں IPL، PSL، CPL، BBL وغیرہ وغیرہ۔ جہاں وہ ہر سال اپنے جلوے بکھیرتے ہوئے شائقین کو اپنی طرف راغب کرتے تھے۔
اور جہاں تک ہم اے بی ڈیویلیئرز کی ریٹائرمنٹ کے متعلق بات کریں تو اس کا یہ فیصلہ شائقین کی سمجھ سے بالاتر تھا۔ جب اس نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تب وہ اپنے کیریئر کے بہترین دور سے گزر رہے تھے۔ عموماً کرکٹر اپنے اس دور میں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرتے ہیں جب وہ اپنی کارکردگی سے ناخوش ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب انہیں کرکٹ کو خیر باد کہہ دینے کا وقت آ پہنچا ہے لیکن اگر ہم اے بی ڈیویلیئرز کی بات کریں تو یہاں حالات کچھ مختلف تھے۔
اس نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے 23 مئی 2018 کو باقاعدہ طور پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔
وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کئی برس IPL میں کرکٹ سے منسلک رہے ہیں۔ لیکن حال ہی میں انہوں نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے تمام طرز کی کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ یہ ٹویٹ اس نے 19 نومبر 2021 کو جاری کیا تھا۔


