بیرون ممالک سے آئے طلبا، امریکہ میں
سال 2018 میں امریکہ میں پاکستان سے تقریباً 8 ہزار کے قریب طلباء تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ آئے (ٹوٹل آج کی تاریخ میں تقریباً گیارہ ہزار) ، امریکہ میں آنے والے طلباء اپنے اپنے ممالک کے صحیح طور پر نمائندہ ہوتے ہیں، یہاں پر تعلیم حاصل کرنے کے بعد زیادہ تر یہاں کے سسٹم کا حصہ بن جاتے ہیں، وقت کے ساتھ کچھ لوگ تو ایسے عہدوں پر پہنچ جاتے ہیں جو اپنے اپنے ممالک سے متعلقہ امریکی پالیسیوں پر اثرانداز بھی ہوتے ہیں، اپنے لوگوں اور ممالک کے لیے ریلیف فراہم کرنے میں ان کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، چونکہ امریکہ ایک بڑی معیشت اور بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اس لیے یہاں پر ہونے والی گروپ بندی اور ایجیٹیشن میں وہ لوگ (خواہ وہ ہمیشہ کے لئے یہاں آباد ہو گئے ہوں ) اپنے آبائی وطن کے لیے نرم گوشہ ضرور رکھتے ہیں۔
چند اور ممالک سے آنے والے طلبہ کے سٹیٹسٹکس ملاحظہ فرمائیں،
اس سے اندازہ لگائیے کہ بین الاقوامی معاملات اور ترقی یافتہ ممالک میں ہماری نمائندگی کا مستقبل کیا ہے۔
بھارت : تقریباً 1,67,000 سے زیادہ
چین: تقریباً 3,80,000 سے زیادہ
نیپال: جس کی آبادی پاکستان سے کئی گنا کم ہے صرف 2017 میں وہاں سے گیارہ ہزار سے زیادہ طلباء تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ آئے۔
یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ پاکستان سے آنے والے طلباء زیادہ تر متمول گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جو سائیکالوجی، تاریخ اور کلچر جیسے مضامین میں ڈگریز لے کر صرف امریکی تعلیم کا ٹھپا لگوا نے یہاں آتے ہیں، اور واپس جا کر یا تو اپنے کاروبار سنبھالتے ہیں یا اپنے پرکھوں کے پیسوں پر زندگی گزار دیتے ہیں، جبکہ بھارت اور نیپال سے آنے والے طلباء کی زیادہ تر تعداد مڈل اور اپر مڈل کلاس سے ہے جو آگے بڑھنے اور کچھ کر گزرنے کا ارادہ لے کر آتے ہیں اور بخوشی اس نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔


