اپوزیشن عوام کو مایوس کررہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نیئربخاری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے تمام آئینی وقانونی راستے اپنائے گی۔ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف قدم بڑھائیں توعمران حکومت گرجائے گی۔ یہ پیغام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومتی بدانتظامی اور معاشی ناکامی کی وجہ سے ملک میں شدید بے چینی موجود ہے لیکن اپوزیشن عوام کی آواز بننے کی صلاحیت سے محروم دکھائی دیتی ہے۔

اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے یہ تاثر بھی غلط اور بنیادی جمہوری اصول کے خلاف ہے کہ موجودہ حکومت کو گراکر ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ ملکی اپوزیشن پارٹیاں جن میں خاص طور سے دونوں بڑی پارٹیوں کا ذکر کرنا مناسب ہے، موجودہ حکومت کو سیاسی طور سے چیلنج کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ مہنگائی اور حکومتی حلقوں میں مالی پالیسیوں کے حوالے سے شدید بدحواسی کے باوجود اپوزیشن لیڈر نہ تو ان پالیسیوں کا مناسب تجزیہ کرکے عوام میں آگاہی پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی پارلیمنٹ میں حکومت کا راستہ روکنے یا اس کے اقدامات کے بارے میں مؤثر طور سے آواز اٹھا کر یہ باور کروانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ ان کے پاس ملکی مسائل حل کرنے کا متبادل اور قابل عمل حل موجود ہے۔

اس کا ایک مظاہرہ تو دو ہفتے قبل اس وقت دیکھنے میں آیا جب حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 33 بل منظور کروالئے اور اپوزیشن اپنی تمام تر تیاریوں کے باوجود نہ تو ذبردستی کی اس قانون سازی کا راستہ روک سکی اور نہ ہی پیش کئے گئے بلوں کے بارے میں کوئی ایسے نکات سامنے لائے جاسکے جنہیں جان کر عوام یہ سمجھنے کی کوشش کرتے کہ حکومت کی زور ذبردستی کیوں کر بنیادی عوامی مفاد کے خلاف ہے۔ ان بلوں میں سب سے زیادہ گفتگو الیکشن ترمیمی بل پر کی گئی بلکہ اس کے بھی صرف ایک یا دو نکات ہی عام طور سے بحث و مباحثہ کا حصہ بن سکے۔ ان میں ایک تو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کے بارے میں قانون سازی ہے اور دوسرے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ ہے۔ اپوزیشن نے ان دونوں نکات پر اس بل کی مخالفت کی تھی لیکن تمام تر جوش و خروش کے باوجود یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اپوزیشن کیوں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں یا غیرملکی پاکستانیوں کے ووٹ دینے کے طریقہ کی مخالفت کررہی ہے۔

اپوزیشن کے مقابلے میں عمران خان اور حکومتی ترجمان زیادہ مؤثر طریقے سے یہ بتانے میں کامیاب رہے ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہوگا ۔ اس طرح ہر انتخابات کے بعد دھاندلی اور ہیرا پھیری کے جو الزامات عائد کئے جاتے ہیں، ان کا خاتمہ ہوسکے گا۔ البتہ عمران خان یہ بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ ان مشینوں میں کام کرنے والے سافٹ وئیر کو کیسے کنٹرول کیا جائے گا اور اگر متعدد اور مستند جمہوری ملکوں میں الیکٹرانک ووٹنگ کے عمل کو مشکوک اور ناقابل عمل سمجھا جاتا ہے تو پاکستان جیسی خام اور طاقت ور حلقوں کے زیر سایہ کام کرنے والی جمہوریت میں صرف ای و ی ایم کے استعمال سے دھاندلی کے امکانات اور شبہات کیوں کر ختم ہوجائیں گے؟ اپوزیشن لیڈروں کے پاس پارلیمنٹ میں تقریریں کرتے ہوئے اور بعد میں بیانات دیتے ہوئے اس صورت حال کی وضاحت کا مناسب موقع موجود تھا لیکن اگر شہباز شریف یا بلاول بھٹو زرداری کی تقریروں کا جائزہ لیا جائے تو وہ عمران خان کی الزام تراشی کا ردعمل تو محسوس ہوں گی لیکن کسی ایک خاص معاملہ پر ٹھوس معلومات سامنے لانے کا باعث نہیں ہیں۔

حکومت پر طعنوں کے تیر برسانے یا عمران خان کو برا بھلا کہنے کی بجائے اگر اپوزیشن الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بارے میں کوئی جائزہ رپورٹس سامنے لاتی یا یہ تفصیلات عام کی جاتیں کہ کن ملکوں میں ان مشینوں کے استعمال سے کیوں گریز کیا جاتا ہے تو معاملہ کسی حد تک قابل فہم ہوسکتا تھا۔ ورنہ عام رائے تو یوں ہی ترتیب پائے گی کہ حکومت تو ایسی مشینیں لانا چاہتی ہے جس میں انسانوں کا عمل دخل نہیں ہوگا اور ووٹر کا ووٹ براہ راست ایک مشین سے دوسری مشین میں منتقل ہوجائے گا اور الیکشن کمیشن ان نتائج کو سامنے لاکر حقیقی کامیاب امید وار کا اعلان کرسکے گا۔ اپوزیشن نے متبادل دلائل دینے کی بجائے شدت سے ان مشینوں کے استعمال کو مسترد کیا ہےاور یہ اعلان کیا ہے کہ اگر ای وی ایم کو آئیندہ انتخابات میں استعمال کیا گیا تو ان انتخابات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

یہ نعرہ انتہائی بوگس اور کمزور ہے۔ کیوں کہ پاکستان کی تمام اپوزیشن پارٹیوں نے تو 2018 کے انتخابات کو بھی قبول نہیں کیا تھا اور بدستور عمران خان کو نامزد وزیر اعظم کہہ کر دل کی بھڑاس نکالی جاتی ہے۔پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ حکومت کے دباؤ ڈالنے پر اگر 2023 کے انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے منعقد ہوئے تو اپوزیشن ان کے خلاف کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرسکے گی؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسا وقت آنے پر اپوزیشن پارٹیوں کے جوتوں میں دال بٹتی نظر آئے گی۔ اس لئے بہتر ہوتا کہ اگر ای وی ایم کا استعمال اسی قدر ناگوار اور ناجائز تصور کیا جارہا ہے تو ابھی سے اس کے بارے میں دلائل جمع کرکے اس حکمت عملی کا بھی اعلان کردیا جاتا جس کے تحت اپوزیشن ایسا انتظام ہونے کی صورت میں انتخابات کو بے اعتبار ثابت کرنے میں کامیاب رہے گی۔ جب اپوزیشن پارٹیاں غیر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے حکومت کی بجائے ، ایک دوسرے کے خلاف اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں زیادہ مصروف ہوں گی تو سیاسی اور مالی معاملات میں ناکامیوں کے باوجود حکمران پارٹی اپنا حلقہ انتخابات محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے گی ۔ اس کے علاوہ تحریک لبیک جیسے گروہوں کے ساتھ ساز باز کے ذریعے آئیندہ کسی انتخاب میں اپنی کامیابی کا یقین حاصل کرنے کی کوشش بھی کرے گی۔

یہی صورت حال بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ دینے کے بارے میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ اپوزیشن یہ تو کہتی ہے کہ وہ غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے حق کی حامی ہے لیکن ووٹنگ کے طریقہ کار سے متفق نہیں ہے۔ اپوزیشن کا یہ پیغام بھی واضح طور سے سامنے نہیں آسکا بلکہ یہ تاثر زیادہ قوی ہؤا ہے کہ عمران خان کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں چونکہ مقبولیت حاصل ہے، اس لئے اپوزیشن اس ترمیم کی مخالفت کررہی ہے تاکہ ان ووٹوں کو استعمال کرتے ہوئے تحریک انصاف آئیندہ انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوجائے۔ گو کہ حکومت کے بارے میں یہ دعوے کئے جاتے ہیں کہ وہ صرف ایک دھکے کی مار ہے اور اپوزیشن جب چاہے اس کے خلاف عدم اعتماد لا سکتی ہے۔ پھرمستقبل کے کسی انتخاب میں صرف ایک گروہ کی حمایت یا مخالفت سے کیوں پریشانی لاحق ہورہی ہے؟ حقیقت احوال تو یہ ہے کہ غیر ملکی پاکستانیوں میں عمران خان کی مقبولیت کا اندازہ امریکہ یا یورپی ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کے رویوں سے کیا جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں مقیم ہے۔ انہی کا روانہ کردہ زر مبادلہ ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی بنا ہے اور ان کی سیاسی رائے یا وابستگی کا کوئی ٹھوس جائزہ بھی پیش نظر نہیں ہے۔

بہتر ہوتا کہ اپوزیشن تارکین وطن کے قومی انتخابات میں ووٹ دینے کے حق کی حمایت میں زیادہ صاف طور سے بات کرتی اور اس خوف کو خود پر مسلط نہ ہونے دیتی کہ یہ سب لوگ تو عمران خان کے حامی ہیں ، اس لئے کسی بھی طرح انہیں ووٹ دینے کا حق نہ ہی ملے تو بہتر ہے۔ اس کے علاوہ انتخابی ترامیم میں جو طریقہ وضع کیا گیا ہے ، اس کے نقائص اور کمزوری کی نشاندہی کی جاتی۔ کہ یہ ووٹر کن حلقوں میں کس بنیاد پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔ اس حولاے سے خاص طور سے یہ نکتہ اہم ہوسکتا تھا کہ مشرق وسطی کے ممالک میں تو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہی نہیں ہے تو وہاں مقیم پاکستانیوں کو سیاسی جماعتوں کا پیغام کیسے پہنچے گا؟ کیا حکومت سرکاری ذرائع کو ناجائز طور سے حکمران جماعت کے حق میں استعمال کرکے ان ووٹروں کو گمراہ نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی سہولت، اس میں تحریف اور ہیکنگ وغیرہ کے مسائل کے بارے میں ٹھوس شواہد سامنے لائے جاتے اور اس معاملہ کو سیاسی مباحث کا حصہ بنایا جاتا۔ اپوزیشن اس پہلو سے بھی ناکام رہی ہے۔

حال ہی میں حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے ، اس کے تحت سٹیٹ بنک کو خود مختاری دی جائے گی اور 550 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جائیں گے۔ اپوزیشن ان اقدامات کے سنگین نتائج سے بھی عوام کو آگاہ کرنے اور اس افسوسناک معاہدے کا مناسب اور عوام دوست تجزیہ سامنے لانے میں بھی ناکام رہی ہے۔ بلکہ آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے حکومت کو کوورنا وبا کے امدادی مصارف کی آڈٹ رپورٹ پبلک کرنا پڑی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ساڑھے تین سو ارب روپے کے منصوبوں میں سے 40 ارب روپے کی بدعنوانی کا انکشاف ہؤا ہے۔ اپوزیشن ان دھماکہ خیز انکشافات کو حکومت کا کرپشن کے خلاف مقدمہ کمزور کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکی۔ وزیر اعظم نے آج جہلم میں تقریر کرتے ہوئے ایک بار پھر کرپشن کا پرانا راگ الاپا اور کہا کہ سابقہ لیڈروں کی بدعنوانی کی وجہ سے ملک آگے نہیں بڑھ سکا۔ لیکن اپنی حکومت کے اہلکاروں کی چالیس ارب کی ثابت شدہ کرپشن پر وہ کوئی ذمہ داری لینے کی بات نہیں کرتے۔ اسی طرح تھوڑی مدت پہلے پنڈورا پیپرز میں متعدد حکومتی عہدیداروں کے نام سامنے آنے کے معاملہ پر بھی کوئی پیش رفت ہوسکی اور نہ اپوزیشن اس معاملہ کو اچھالنے میں کامیاب ہوئی۔

حکومت گرانے کی باتیں کرنے والی اپوزیشن کے بارے میں یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ وہ کسی طرح ان قوتوں کو قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے جن کی تائد و حمایت کی وجہ سے ملک میں ایک ہائیبرڈ نظام مسلط کیا گیا ہے اور عمران خان کو اقتدار دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلز پارٹی، اگر وہ کسی بھی طریقے سے صرف عمران خان کی جگہ ہی لینا چاہتی ہے تو اس سے ملک کے حالات کیوں کر تبدیل ہوسکتے ہیں؟ عوام اب اتنا تو جان چکے ہیں کہ اصل مسئلہ سیاسی چہروں کا نہیں بلکہ ان قوتوں کا ہے جو انہیں کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرتی ہیں۔

 جو اپوزیشن طاقت ور اسٹبلشمنٹ کے خلاف مؤثر تحریک نہیں چلاسکتی، وہ عمران خان کے خلاف تحریک اعتماد بھی نہیں لاسکتی۔ یہ عجوبہ اسی وقت سرزد ہوگا جب درپردہ طاقتیں ایسا چاہیں گی۔ اسے جمہوریت کہنا یا سمجھنا ممکن نہیں ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2078 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments