کہروڑ پکا کی نیلماں ( 6 )


افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال

قسط نمبر 5 کا آخری حصہ

بے چارہ. چلو اس کی کوئی مدرنگ کرتے ہیں اس نے اپنا ٹرینچ کوٹ اس کے گارمنٹ بیگ سے نکالا اور ارسلان پر ڈال دیا تاکہ امیر مقام خوشبو بھی سونگھتے رہیں گے اور اس کی وجود کی متروکہ گرماہٹ سے لپٹ کر سوتے بھی رہیں گے. رات کی خنکی کے پیش نظر اپنا کیپ پہن لیا اور شال سے ایک طرح سے پشت پر جمالی اور اپنے آئی پیڈ پر ہیلن میکڈونلڈ کی مشہور کتاب ایچ از فار دی ہاک پڑھنے لگی. ایک بیٹی نے اپنے مرحوم باپ کی یاد میں باز کو سدھانا سیکھا. یہ وہ داستان تھی.

٭٭٭ ٭٭٭

دوران مطالعہ جلد ہی اسے احساس ہوا کہ دھیان کچھ منقسم سا ہے. کتاب ایک صدمے، ایک محرومی کے نشیب و فراز سے نمٹنے کے لیے انفرادی mechanisms کی اہمیت اجاگر کرتی ہے. اسے عین اس وقت گڈی کے کے گاؤں کے شیو کمار بٹالوی یاد آ گئے. ان کی مشہور نظم اس کتاب کے ٹائٹل اور حوالے سے اسے اداس کر گئی. اس مرد خوابیدہ کو کچھ پتہ نہ تھا کہ اس کے سامنے بیٹھی ہوئی خاتون کو سردست زندگی کے کن بڑے فیصلوں کا سامنا ہے.

گڈی ہفتے دس دن میں کسی شام بار سے نکل کر اپنے فلیٹ پر دھونی رماتی. نیلم اپنے میاں سعید کو ایک مختصر سا میسج اپنی دیر سے آمد کے بارے میں کر دیتی. اس بے راہ روی پر ساس بڑبڑاتی تو سعید موضوع بدل دیتا. دھونی کا اہتمام یوں ہوتا کہ ایک بڑا سا کھلا کھلا گیروے رنگ کا بے بٹن، بے تسمہ کفتان پہن کر جب کسی نئی جسمانی قربت کا احوال سنانا ہوتا، جسموں پر پڑے نشانات وحشت اسے بطور ترغیب دکھانا ہوتے تو وہ تانپورہ لے کر جگجیت سنگھ کے انداز میں یہ گیت بخور جلا کر گاتی. اس کی ضد ہوتی کہ نیلم بھی اس کے سامنے برہنہ یا کم از کم ایک سرخ یا سیاہ ساڑھی پہن کر دیوی بن کر بیٹھے. سرخ رنگ اس وقت جب شب وصال آسودہ اور من پسند ہوتی اور سیاہ اگر وہ کوئی شب مایوسی رہی ہوتی. کیرتن (سکھوں کی عبادت میں تعریفی نغمات ) کی محافل میں شرکت کی وجہ سے گڈی کو گائیکی کا غیرمعمولی گیان تھا. گڈی گاتی.

مائے نی مائے میں اک شکرہ یار بنایا
اوہدے سر تے کلغی
تے پیریں جھانجر
او چوگ چگیندا آیا
اک اودے روپ دی دھوپ تکھیری
او دوجا مہکاں ترایا
تیجا او دا رنگ گلابی
او کسی گوری ماں دا جایا.

نیلم نے یہ سوچ کر خود اپنے بدن کو اندر جھانکا. سینے کی گولائیاں بے نشان تھیں اس نے زیر لب گڈی کی نقل میں گاتے ہوئے سوچا کہ کیا یہ مصنفہ ہیلن میک ڈونلڈ کا وہ Goshawk. Mabel. ہے ویسا ہی ایک شکرہ جس کا ذکر شیو کمار نے اپنی نظم میں کیا تھا. کیا وہ بھی اس کی طرح پرندے پالنے کے شوق میں پڑ رہی تھی.

اپنے درد و الم کو دور کرنے کے لیے وہ بھی میبل پالنے پر تو نہیں اتر آئی. اسے سدھانا اور پالنا آسان نہ ہو گا. پل بھی گیا اور سدھا بھی لیا تو کیا میبل اس کا بن کر رہے گا. جب وہ اسے پرواز کے لیے اسلام آباد ائرپورٹ پر رہا کرے گی تو کیا وہ لوٹ کر واپس آئے گا؟
پڑھتے پڑھاتے. سوتے جاگتے، اسے دیکھتے دیکھتے جانے کیا لمحات آئے گئے کہ کسی پل نامحسوس انداز میں وہ نیند کی وادیوں میں اس وقت تک بھٹکا کی جب تک کے اسے صبح کے شور نے بیدار کر دیا. صبح کی پہلی فلائٹوں کے مسافروں کی ہل چل سنائی دی. حضرت اب بھی سو رہے تھے. بڑے آئے فجر کی اذان سے کچھ دیر پہلے اٹھنے، ذکر اذکار کرنے والے، کہاں کی تلاوت اور نماز سے فراغت. ارے آپ کی پلے ہوئے مرغے یہاں اس کی پول ائر پورٹ پر کہاں. ایک آدھ دیسی مرغ بھی نہیں کہ دڑبے سے باہر نکال کر اس کو پکڑنے کی کوشش کریں. کراٹے کے کاتھاز بھی کرنے کی جگہ نہیں بھلے سے براؤن بیلٹ ہوں. ہاں آپ کو تو اوشا ہاتھ پکڑ کر بیڈ روم تک چھوڑ آتی تھی. یہ غلطی ہوئی اس لئے آپ ٹھیک سے سو نہیں پائے. میں کون ہوں کہ آپ کے لیے یہ سب کچھ کرتی. یہ تو ایک چانس میٹنگ ہے. آپ کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے اگر آپ پر میں نے Burberry کے پرفیوم کی خوشبو سے رچا ہوا ٹرینچ کوٹ ڈالا ہو.

گھر کے بستر کا مزہ اور ہے اوشا کی کون جانے کیا پتہ وہ واپس اپنے بیٹے اور گرے پریٹ والے کمرے میں جاتی ہے یا اس کے فرائض میں افسر خوابیدہ کو کمبل سی گرمی کا فراہم کرنا بھی شامل ہے. فیاض آدمی ہیں، بستر بھی یقیناً مقام فیض و کشاکش ہو گا. اسلام آباد میں سونے والیاں، بستر زادیاں، لندن سے کم نہیں. ملازمت اور مال کے فوائد کی بھرمار کے لیے کونے کونے سے اہل طلب آتے ہوں گے. گڈی کہتی تھی وہاں ہندوستان میں عورت کنفیوژن میں زیادہ سیکس کرتی ہے بہ نسبت ادھر اپنی طرف انگلینڈ کے It is all about choice If you like it do it Whats a big deal. (ایسا بھی کیا، یہ تو من چلے کا سودا ہے، من کرے تو موج کرو)

وہ اس سوچ میں تھی کہ اسے کیسے جگائے عین اس لمحے کسی کا ہات سے سیل فون گرا اور حضرت کی آنکھ کھل گئی ورنہ اس کا ارادہ تھا کہ وہ اسے خود ہلکی سی چپت لگا کر منا بھائی ایم بی بی ایس والوں کی طرح کہے گی چندا ماموں سو گئے سورج چاچو جاگے. دیکھو پکڑو یارو، گھڑی کے کانٹے بھاگے، ایک کہانی ختم تو دوجی شروع ہو گئی ماموں. اس کا مردوں کے ساتھ صبح اٹھنے کا تجربہ بہت محدود تھا. وجدان کے ساتھ اس کا نائٹ کرفیو رات دس بجے شروع ہوجاتا تھا. وہ بھی اس کا احترام کرتا تھا. یہ سوچ کر کہ نیلم اگر مہرباں ہوئی تو گھڑی کا وجود بے معنی ہو گا، شکھری دوپہر میں کالج سے آن کر پردے کھینچ لیں گے، بلائنڈ گرا لیں گے تو رات خود ہی دھمی لڈی چل پڑے گی. سعید کو ایک دفعہ اس نے چھیڑنے کے لیے اعلی صبح یہ کہہ کر کہ جگا دیا تھا کہ صبح ہو گئی ماموں تو اس نے لیٹے اس کے کولہے پر لات رسید کی تھی اور انگریزی میں ایف. او بھی کہا تھا. یعنی F. k off

مسکرا کر گڈو نے اسے اے ویری گڈ مارننگ کہا اور ایک جھٹکے سے اس کا کوٹ سنبھال کر اٹھ بیٹھا سلیقے سے اس کا کوٹ لٹکایا اور باتھ روم سے ہو کر آیا. سعید ایسا نہ تھا اس کے کپڑے اشیا کرسیوں اور صوفے پر پڑی ہوتی تھیں. واپسی پر ناشتے پر اس نے بتایا کہ وہ ناشتے کا شوقین ہے، نیلم کو کافی کراساں کی عادت تھی.

اتوار ہونے کی وجہ سے ائرپورٹ پر رش نہ تھا. یہ واپس لوٹنے والوں کا دن تھا جانے والوں کا نہیں. لنچ تک وہ وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے. فون نمبر اس کے ڈائریکٹر اسپیشل پراجیکسٹس اینڈ فارن اسسٹنس. منفل والے کارڈ پر لکھا تھا وہ اسلام آباد آنا چاہے تو اس کا اپنا گھر بھی حاضر ہے. ان کے پاکستان بھر میں مختلف مقامات پر پراجیکٹس ہیں. طعام اور قیام کا معقول بندوبست ہے. وہ جہاں ہو بتادے وہ بھی دورہ بنا کر پہنچ جائے گا. نیلم نے احتیاط سے اس کے فوٹو گریبس بنائے. وہ کارڈ وغیرہ گم کر دیتی تھی مگر اس کا کارڈ اپنے تین چار کریڈٹس کارڈ کے درمیان اس نے Lulu Guinness Applique Lip Lottie Pouch میں اڑس لیا. یہ گم ہو گیا تو ظلم ہو گا. وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اسے دفاتر میں خوار ہو کر تلاش کرے. میرا شکرہ میرا میبل میرا گڈو میرے بلانے پر آئے گا. وہ ہنس دی جس پر ارسلان کو خاصی حیرت ہوئی.

باہمی گفتگو اور مسافروں کو دیکھنے میں ان پر اس کے دل چسپ تبصرے اور اپنی مختلف پوسٹنگز سے جڑے واقعات نیلم کو پتہ ہی نہ چلا کہ ان کی پونے تین بجے کی فلائیٹ کا وقت آ گیا ہے. اس کی ناخوشی کے حوالے سے جب ارسلان نے مزید کریدا تو وہ کہنے لگی اگر ترکی میں نہیں تو بہت ممکن ہے پاکستان جاکر اس کی یہ شادی ختم ہو جائے. ایسا ہوا تو اس کا پاسپورٹ پاکستانی ہے. اس کا نجی سامان شوہر کے گھر موجود ہے وہ کیسے ملے گا؟

ارسلان نے کہا عدالت میں جو فیصلہ ہو گا اس میں وکیل کے ذریعے یہ بات ڈلوائی جا سکتی ہے کہ وہ یہ سامان گڈی کے حوالے کریں گے. میں اور گڈی دونوں ساتھ جا کر اس کی دی ہوئی فہرست کے حساب سے لے لیں گے. وہ نہ دیں تو نیلم نے پوچھا. ہم ان کا کشمیر میں ناطقہ بند کر دیں گے. عدالت کے حکم پر اس کا جینا دوبھر کیا جاسکتا ہے.

ساڑھے تین گھنٹے کی ٹرکش ائرلائن کی فلائٹ انہیں ساڑھے آٹھ بجے استنبول پہنچانا ہے. دونوں ممالک کے وقت میں دو گھنٹے کا فرق تھا. نیلم کے دل میں یہ تفکرات کلبلا رہے تھے کہ رات ایک اجنبی ملک میں ایک مکمل اجنبی مرد کے ساتھ ائرپورٹ سے ہوٹل کے مراحل کیسے طے ہوں گے. اسے یہ بخوبی علم تھا کہ وہاں سعید اسے لینے نہیں آیا ہو گا. کیا یہ ممکن ہے کہ وہ استنبول سے سیدھا اسلام آباد کا ٹکٹ لے لے. وہ اگر استنبول میں قیام کرتی ہے تو سعید کے پاس اس کے الزام لگانے کو ایک اور کھڑکی کھل جائے گی. سعید کے خیال کو تو اس نے اپنا بورڈنگ کارڈ سنبھالتے وقت ایک جھرجھری لے کر جھٹک دیا. اس جھپک میں اسے یاد نہ رہا کہ وہ اپنے بلندیوں کے خوف (Acrophobia) کی وجہ سے یہ کاؤنٹر پر بتانا بھول گئی کہ اسے ونڈو سیٹ نہ دی جائے.

تین مسافروں کی سیٹ میں درمیان والی پر کوئی ترکی بوڑھا براجمان تھا. مسئلہ یہ تھا کا اسے انگریزی نہیں آتی تھی. آیئل سیٹ پر ارسلان میاں درمیان میں وہ اور خود ونڈو سیٹ کے ساتھ. کچھ یوں بندوبست تھا. وہ سن نہیں پائی کہ مرد فضائی میزبان کو انگریزی میں ارسلان نے جانے کیا کہا کہ وہ اس بوڑھے کوے کر کہیں اور بٹھانے چل دیا اور ارسلان نے کہا کہ وہ اب اپنے خوف اور سچ کو نبھانے کے لیے چاہے تو آئیل کی سیٹ پر آ سکتی ہے بلکہ وہ چاہے تو درمیان سے ہینڈل ہٹانے کی وجہ سے وہ سو بھی سکتی ہے، اس کی جانب پیر کر کے. جہاز میں رش نہ تھا اس لیے اس کے ذہن میں نہ رہا کہ وہ پوچھتی کہ درمیان والے مسافر کو اس نے کیوں کر ٹھکانے لگایا گیا.

جہاز کے بلند ہونے کا اعلان ہوا تو وہ کچھ پریشان لگی. ارسلان نے یہ سب بھانپ لیا. اپنی سیٹ سے کمبل ہٹا کر اس اوڑھنے کی تلقین کی. اس نے یہ تجویز رد کردی. البتہ اپنا آئی ماسک آنکھوں پر چڑھا لیا. فلائٹ کے دوران وہ چپ چپ رہی، شاید کچھ دیر کو سو بھی گئی تھی کہ رات جب حضرت سویا کیے تھے تو موصوفہ انہیں تا دیر انہماک سے دیکھا کیے تھیں. مہ نو کو کیا پتہ ہے کہاں جا کے رات ٹھہرے. ارسلان کو کچھ نہیں خبر تھی کہ نیلم کو ملنے والے آخری ایس. ایم. ایس سے اس شادی کا ڈراپ سین ہو گیا تھا. وہ رات اسے بہت دیر دیکھ دیکھ کر یہ سوچ سوچ کر دیر تک اشکبار رہی تھی. اچھا ہوا کہ اس نے اس اعزا داری کے لمحات میں اسے آنکھ کھول کر نہیں دیکھا. اس نے دو تین دفعہ پوچھا بھی کہ وہ کل شام کی نسبتاً چپ چپ ہے مگر اس نے اسے ایک خوب صورت انگریزی کے فقرے پر There is a tide in the affairs of men. Which، taken at the flood، leads on to fortune "سے ٹال دیا تھا چوں کہ اس جملے میں آئندہ طوفانوں سے فائدہ اٹھانے کی نوید تھی لہذا ارسلان کو پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ وہ انگریزی نہیں جس کا مطلب وہ سمجھ رہا ہے. اس جملے سے نیلم کو ایک دھواں. پردہ (Smoke. Screen) تان لینے کی مہلت مل گئی.

ہر عورت کو اللہ نے اس صلاحیت سے نوازا کہ وہ بہ یک وقت کئی لیول پر کئی پہلو سے سوچ سکتی ہے. اپنی اس ذہنی گتکے بازی میں دکھاوے کا ایک روپ بھی دنیا کی خاطر وہ سب کی نگاہوں کے سامنے لہراتی رہتی ہے. یہ دکھاوا اس بنیادی کیفیت سے بہت جدا ہوتا ہے جو اس کے ذہن میں در پیش مسائل سے جڑ کر چل رہی ہوتی ہے. اس لیے ارسلان کو بھی اس کیفیت کا کچھ زیادہ اندازہ نہ ہوا

جس کا نیلم رات گئے شکار ہوئی تھی. ایک خوش فہمی البتہ اسے دامن گیر رہی کہ شاید وہ اس کے ساتھ ترکی گھومنا چاہتی ہے اور اس بات کے حوالے سے ذہنی الجھن کا شکار ہے کہ وہاں اس کا میاں سعید اگر موجود ہوا تو یہ رومانٹک تعلق ایک ائر پورٹ سے شروع ہو کر دوسرے ائر پورٹ پر اختتام پذیر ہو جائے گا. اسے اس احساس تفاخر نے سرشار رکھا کہ کہیں دور جاکر نیلم نے اسے اپنے میاں سعید گیلانی سے بہتر سمجھا ہے.

ائر پورٹ لاؤنج میں آتے ہوئے احتیاط آشنا ارسلان نے نیلم سے دور چلنا شروع کر دیا. نیلم کو یہ اچھا لگا. اس نے اشارے سے کہا بھی کہ ساتھ رہیں مگر وہ کہنے لگا کہ شیشوں کے پار اگر کھڑا سعید دیکھ رہا ہو گا تو مشکل ہوگی. یہ فیصلہ جہاز میں ہی ہو گیا تھا کہ نیلم اپنا بڑا سا سوٹ کیس اور چھوٹا سا رول آن وہاں امانت بیگج یعنیAtaturk Airport Left Luggage/ Baggage میں چھوڑ

دے گی. اس کے چھوٹے سے سوٹ کیس میں اپنا سامان رکھ لے گی جو چار پہیوں کی وجہ سے لانا لے جانا آسان تھا. ارسلان نے پوچھا بھی کہ اگر سعید نے پوچھا یہ کیا ہے کہ اس کا سامان دوسرے کے بیگ میں اس کا سامان نکل رہا تو وہ کہے گی کہ غلط ٹیگ لگ جانے کی وجہ سے یہ گڑبڑ ہوئی ہے. اس کی مزید تفتیش سے بچنے کے لیے اس نے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا My Husband، My Answers. This is# metooویسے اسے یقین ہے کہ وہ لوزر وہاں اس کے لیے نہیں رکا ہو گا. بس ایکout of an abundance of caution (ایسی احتیاط جو کسی ایسے امر کے حوالے سے ہو جس کا امکان محض ایک اندیشۂ دور دراز ہو) ہم کچھ دیر انتظار کریں گے.

سامان جلد آ گیا اور وہ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر لاؤنج سے باہر آ گئے.

نیلم کی زندگی کا مشکل ترین مرحلہ یہ ائرپورٹ اور ہوٹل تک کا تھا. جہاز سے باہر آتے ہوئے لگا کہ زندگی میں اتنا بڑا چیلنج کا کبھی اسے سامنا نہیں کرنا پڑا تھا. وہ تمام بڑے فیصلے کی جو اس کی زندگی کے سنگ ہائے میل تھے ان کی ایک ہائی اسپیڈ فلم اس کے نہاں خانہ وجود کے اسکرین پر چلنے لگی. وجدان سے شادی کا سوچنا اور اس فیصلے پر اپنے جبرو باپ کے احترام میں شادی نہ کرنا جوانی کی کنٹرول اسٹریک تھی. اپنے ضبط اور والدین سے وفاداری کا پاس.

سعید کی دلہن بن کر برطانیہ آنا ایک رسم دنیا اور ایک نئی دنیا کی کھوج تھی. سعید کے مد مقابل دستیاب سب رشتے قرابت داروں اور برادری والوں کے تھے. سب ہی بہت روٹین سے مرد تھے. برطانیہ آنے کے فیصلے میں نیلم کا سامنے یہ نقطہ بھی تھا کہ اگر شادی میں کوئی اڑچن آئی تو وہ اس سے جان چھڑا کر وجدان اور گڈی جیسا بوہیمیئن لائف اسٹائل اپنا لے گی یا کوئی مالدار مرد گھیر کر اس کی دولت کے مزے لوٹے گی. یہ فلائٹ کیا مس ہوئی، یہ اجنبی کیا ملا، یہ کیسی عجب صورت حالات بنی کہ جو محض ایک حادثہ تھا وہ ہی پیار کا عنوان بن گیا. وہ جو اجنبی تھا وہی روح کا ارمان بن گیا.

(جاری ہے )

Latest posts by اقبال دیوان (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 93 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments