ہونڈورس والے ابو عمر کی دوسری شادی

آئیں آپ کو اپنے تاجر میمن ایکسپورٹر دوست ابو عمر کاپڑیا سے ملوائیں۔ بحر الکاہل اور کیریبئن سمندر کے درمیاں آباد اس وسطی امریکہ کے ملک کا نام ہے ہونڈورس۔ مگر ہسپانوی زبان میں ہ کو ڈراپ کر کے بولا جاتا ہے اسی لیے وہاں مقامی لہجے میں اسے اون دو رس پکارتے ہیں، جب کہ امریکہ میں اسے ہونڈورس پکارتے ہیں۔ اب وہ وہاں رہتا ہے۔ ابو عمر پہلے ایسا نہیں تھا۔ اب عیاش بھی بہت ہو گیا ہے۔

Read more

پھر یہ سودا گراں نہ ہو جائے

سیدنا نظام الدین اولیاؒ کے ملفوظات کا مجموعہ فوائد الفواد (یعنی قلوب کا فائدہ) ان کے مرید خاص علائوالدین سنجری نے مرتب کیا ہے۔ راہ سلوک کا مسافر اگر طلب صادق رکھتا ہو تو تالیف قلب کے لیے یہ بے حد عمدہ کتاب ہے۔ اس میں کچھ بہت نایاب وظائف بھی ہیں جو بہت سوں کے لیے باعث فیض رہے ہیں۔ آپ کے بستر کے سرہانے رہنے کے لائق کتاب کو گاہے گاہے پڑھا کیجیے۔ اس کتاب میں خانقاہِ نظامیہ

Read more

یہ شہرت بھی لے لو، یہ دولت بھی لے لو

شہرت اور مقبولیت کچھ اور شے ہے۔ مانگے اور کوشش کا کھیل نہیں۔ شہرت دراصل گمنامی کا خوف ہے۔ ایسا سیدنا واصف علی واصف کا بھی ماننا تھا۔ اب جب سے سیل فون اور انٹرنیٹ تک سب کی رسائی عام ہو گئی ہے اور انسٹا گرام، ٹک ٹاک فیس بک پر لائیکس دیکھ کر شہرت اور مال کمانے کا شوق کا ایسا عام ہوا ہے کہ مت پوچھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میڈیا کے دوش پر سوار ہو

Read more

کمر۔ کس، ناٹی اولڈ مین اور نیویارک پبلک لائبریری

( 1 ) کمر۔ کس ہماری من پسند اس دکان پر کیا کیا مسالہ نہیں ہوتا، کون سا تیل ہے جو خالص اور دستیاب نہ ہو۔ اسلامی شہد ان کے ہاں بھی البتہ جعلی ہوتا ہے سو ہم نہیں خریدتے۔ مین ہیٹن نیویارک کے ”ٹریڈر۔ جوز“ جہاں بہت بھیڑ ہوتی ہے اس کے خالص شہد پر بھی ہمیں شک ہی رہتا ہے۔ اس لیے کہ ہمیں بخوبی علم ہے کہ ایک پاؤنڈ یعنی 453.592 گرام کے لگ بھگ شہد پیدا

Read more

شناخت پریڈ

وضاحت: پاکستان کے قانون شہادت کی دفعہ 22 ہائی کورٹ سندھ کے مختلف سرکلرز اور سپریم کورٹ کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے پندرہ دن کے اندر اس کی شناخت ہوگی۔ اس شناخت کی بنیادی احتیاط یہ ہے کہ گواہ یا مدعی نے ملزم کو دوران حراست دیکھا نہ ہو، تاکہ عمل شناخت کا تقاضا غیر جانبدار اور شفاف رہے۔ اس کارروائی کی مزید تفصیل پولیس رولز مجریہ 1934 کی دفعہ 26.32 کی ذیلی شقوں سی

Read more

آخری اچھا مرد

بھارت کے آنجہانی ستیش کوشک کیا کچھ نہ تھے۔ اداکار، کامیڈین، رائٹر، پروڈیوسر ڈائریکٹر اور ایک بہت نفیس انسان۔ سونے کے دل والے۔ ہماری دوست کامیا پٹیل امریکی شہری قیام نیو جرسی مگر وہاں قیام صرف گرمیوں کے چند ماہ اور میں کم مگر ناسک اور ممبئی میں زیادہ قیام زیادہ رہتا ہے، اصل میں گجراتی طلاق کی وکیل اور سائیں بابا کی بھگتن۔ ستیش کوشک کو مدر تھریسا سے زیادہ مہان اور نمبر ون مانتی ہے۔ وہ اس جھگڑے

Read more

شہاب نامہ پر ایک اعتراض کے جواب میں

شہاب نامہ کا بار اول یعنی پہلا ایڈیشن سن 1987 کے ماہ اگست میں اور دوسرا اسی سال میں اس کے ایک ماہ بعد ۔ اگر ساحر لدھیانوی کی تلخیاں شاعری کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے تو شہاب نامہ کو ایسی ہی فوقیت اردو سوانح عمری کے باب میں حاصل ہے۔ کتاب کی اشاعت سے کئی برس پہلے اس کے ابواب سیارہ ڈائجسٹ میں چھپا کرتے تھے اور شاید ان میں کچھ اسلام آباد کی ایک

Read more

انسٹا گرام اور اللہ سے پرہیز

مہ وش نے نانی کی یہ نصیحت دل پے لے لی کہ سیکس گندا کام ہے، گناہ ہوتا ہے۔ بچے مجبوری ہیں بس جلدی سے پیدا کرو وہ بھی دو تین، زیادہ نہیں۔ نانی نے فائر فائٹنگ بھی سکھا دی کہ عشا کی نماز مرد کی تاتاری یلغار سے بچنے کے لیے ڈھال اور تہجد جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے بہترین حربہ ہے ہارڈ وئیر کا ہول سیلر دہلی والوں کا میاں ماجد گھر آتا تو بہترین مرغن کھانے

Read more

ڈیفنس ہیپی فلاؤرز شاپ (1)

کاکو (خلیل ماجد) کی ماں شاہانہ، جسے اس کے گھر والے شانو کہتے تھے، گھر سے تین دفعہ بھاگی۔ چوتھی دفعہ بھاگنے میں کامیاب ہو جاتی تو یہ عین ممکن تھا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اسے 42.195 کلومیٹر کی میراتھن دوڑ میں دوڑنے کے لیے بھیج دیتی۔ ہالینڈ کی سفان حسن نے حالیہ پیرس اولمپک میں یہ فاصلہ 2 : 22 : 55 میں طے کیا تھا۔ وہ تربیت یافتہ بھی تھی۔ شانو کی Running۔ Speed کا معیار بھلے

Read more

ٹرمپ اور بھارتی امریکن

سابق صدر اوباما امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر تھے۔ اپنی صدارت کو ہر وقت ہمسائے سے مانگا ہوا وائی فائی کا پاس ورڈ سمجھتے تھے۔ اسی لیے محتاط رویوں کے مالک تھے اور اپنی بیگم مشعل اوباما جو ذرا جمبو سائز کی خاتون تھیں ان کے سامنے تو ہر وقت سہمے سہمے دکھائی دیتے تھے۔ صدر اوباما بھی ہمارے ہر دل عزیز وزیر اعظم گجرات کے من موہن سنگھ، چوہدری شجاعت کی طرح مشرف دور جرنیلوں کو تعویز بنا

Read more

ٹرمپ کی آمد مرحبا

دسمبر کی چھٹیاں آتے ہی بیشتر پاکستانی سائبیریا کی مرغابیوں کی طرح اپنے وطن لوٹتے ہیں۔ اب دسمبر ایسا ہو چلا ہے کہ مساکین اور غریب غربا بے چارے تو ٹھیلے پر مرغی کے سوپ پی کر دسمبر کے اشعار سنا کر جی برما لیتے ہیں مگر یورپ امریکہ کے دیسی گھر آیا میرا پردیسی کی دھن پر ناچتے وطن لوٹ آتے ہیں۔ آپ بھی ان اردو میڈیم فقرا مساکین کی دل جوئی کے لیے دو شعروں کا مزہ لے

Read more

پائے لاگوں سرکار

اُن کے راجھستان میں اور ہمارے سندھ میں بڑوں کے پیر چھونے کا بہت رواج ہے۔ یہ بات اگر نشست و برخاست کی کسی مجبوری کی وجہ سے ممکن نہ ہو تو دونوں رجواڑے (ریاستوں) میں اس کا زبانی اظہار ضرور کیا جاتا ہے۔ مارواڑی ہاتھ کے اشارے سے ” پائے لاگوں سرکار “کہتے ہیں۔ سندھی چونکہ ویسے بھی بہت محبتیلے اور روّاجی لوگ ہیں وہ بھی ہاتھ جوڑ کر حال احوال کرتے ہیں تو زبان سے یہ ضرور کہتے

Read more

میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے

شکاگو میں رات کا کھانا تھا۔ میزبان وہیں کی ایک گجراتی پٹیل فیملی تھی۔ شام سے لانگ ویک اینڈ شروع ہو چکا تھا (ایک ساتھ کئی ایسی چھٹیاں جو ہفتے اتوار کی تعطیل سے جڑی ہوں ) کچھ امریکی کے ماحول کی مناسبت سے مہمان کھانا اور شراب ساتھ لائے تھے۔ شرکت کی شرائط سادہ تھیں دین اور پاسپورٹ کی قید نہ تھی، ہندو، مسلمان، پارسی سبھی ہی مدعو تھے واحد پابندی یہ تھی کہ مہمان لازماً گجراتی بولنے والے

Read more

بوسے عارض گلفام کے

پچھلے برسوں ایک” ایتھے۔ چُمّی۔ اوتھے۔ ٹھا“ قسم کی جسٹس جاوید اقبال کی ایک نیب زدہ ویڈیو ریلیز ہوئی تو ایک شعر ہر قسم کی وردی، بے وردی، انصافی انتظامی بیوروکریسی کے ممبران، یہ کم بخت مردوے سرکاری اہل کار ایسے اللہ لوگ ہیں کہ جیسے سیٹھوں اور سائلین بے بساط سے بے دھڑک رشوت اور بخشش مانگتے ہیں ویسے ہی عفت مآب بی بیوں سے چمیاں بھی مضطر خیر آبادی کی سی معصومیت سے مانگ لیتے ہیں۔ یہ نہیں

Read more

جا جاپان کے چولہے سے آگ لئی لے

عالی مقام مرد کی زبان پھسلے یا پیکر تمکنت و دلربائی کسی نازنین کا لباس، اس میں مزہ دوسروں کو ہی آتا ہے۔ سجیلی بانکی بیبیوں کا لباس کی بغاوت جسے انگریزی میں وارڈ روب۔ میل۔ فنکشن کہتے ہیں، وہ برپا ہو تو نیٹ پر بہت دنوں تک وائرل ہوتا ہے۔ نیک دل فوجی افسر اور بوڑھے سرکاری افسران واٹس ایپ گروپ میں ایسے کلپ ہدیہ تبرک سمجھ کر گھماتے پھراتے رہتے ہیں۔ فرحت ہاشمی کے درس ہدایات کی طرف

Read more

اندھے حافظ جی اور آموں کی پیٹیاں

پہلی دفعہ The Case of Exploding Mangoes ”(قصہ آموں کی پیٹیاں پھٹنے کا) نامی کتاب انگریزی زبان میں شائع ہوئی تو پاکستانیوں نے اسے درخور اعتنا نہ جانا۔ پاکستانی انگریزی زبان میں اگر کسی کتاب کو پڑھنا مناسب سمجھتے ہیں تو وہ چیک بک ہے اور دوسرے خوشونت سنگھ کی کتابیں ہیں۔ ایک تو تھے بھی وہ سرگودھے کے دوسرے مذاق بھی اپنی طرف والا کرتے تھے۔ انڈین سول سروس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ“ اگر گورنر جنرل

Read more

لیا درس نسخۂ عشق کا

وہ ہم سے ایک دن پہلے اسکول میں داخل ہوئی تھی۔ فرح نیسنی نام تھا مگر یہ اصل نام نہیں۔ ہم دونوں کا معاملہ بھی عیسائیوں کے اس مدرسے Convent of Saint میں وہی تھا جو امام احمد بن حنبل اور ابن الہثیم (بغداد کا مشہور چور، نام میں غلطی کا احتمال ہے) کا بغداد کی جیل میں ملاقات کے وقت تھا۔ ابن الہیثم کو اس دن چوری کی سزا میں کوڑے، امام احمد بن حنبل کے بعد مارے گئے۔

Read more

ڈر لگتا ہے تنہا سونے میں جی

نام عبید الرحمن عرفیت بڑے بھائی، عمر بہتر برس، رنگت آبنوسی (شیشم کی لکڑی کے رنگ کی) اردو زبان بولتے ہیں۔ سیٹھوں میں زندگی گزری۔ راز داری کے اہتمام اور کسی کام سے انکار نہ کرنے کی وجہ ان اہل زر کی نجی زندگی میں بہت دخیل رہے۔ کوئی مجرا، کوئی بسنت، سن ستر سے اسی کی دہائی میں تھائی لینڈ کا کوئی دورہ نہ چھوڑا۔ تھائی لینڈ میں یہ عیاشی کا بہترین دور تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب

Read more

داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر

مصطفے زیدی مرحوم جن کے سانحۂ قتل کے بارے میں ہماری شنید معلومات کم از کم جوڈیشل انکوائری افسر ان دنوں کے سابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کراچی، کنور ادریس سے زیادہ تھیں۔ انہی مصطفے زیدی کا شعر ہے داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر کہنے والے کے لیے سب سے نئی رہتی ہے یہ سن 1970 کی بات ہے۔ ان دنوں نیپ کے سربراہ عبدالولی خان نے کہا تھا جس وقت مشرقی پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں سے بدحال

Read more

بھوپال کی تانیا، کمالا حارث اور ہان کانگ

تانیا کا گھرانا بھوپال کا گھرانا ہے۔ تعلیم یافتہ، بین الاقوامی واسطے داریاں، خوشحال اور بے حد شائستہ اور کشادہ طبع۔ چھوٹے بڑے سب کے سب گفتگو اور چال چلن دونوں میں لیے دیے رہنے والے۔ اپنا دور پرے کا تعلق سیف علی خان اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھی جوڑتے ہین۔ ان کے ہاں کیسری رنگ جو زردے زعفران کا رنگ ہے اسے بھوپال والیاں ترئیا کلر کہتی ہیں۔ راجھستان جہاں اس کی ٹھمری کیسریو بالم آؤ پدھارو (تشریف)

Read more

کمیونٹی سروس بطور قانونی سزا

کم خواتین کا نام اتنا نشیلا ہوتا ہے کہ اپنے نام ہی میں مے کدہ آباد کردے، اور بقول سیدنا ذہین شاہ تاجی کے مئے بن کر مے خانہ بن کر ہستی کا افسانہ بن جا RefaEli-Bar اسرائیل کی دگج اور دنیا میں نام چین ماڈل مانی جاتی تھیں۔ ریمپ پر چلتی تھیں تو گردشیں بدن کا طواف کرتی تھیں اور زمانے ٹھہر کے دیکھتے تھے۔ چند سال قبل علم ہوا کہ باقاعدگی سے آئی پی پی ز والوں کی

Read more

بہت بولتی ہو رضیہ!

جس رضیہ کا ذکر ہے وہ امریکہ میں رہتی ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ اب تک غنڈوں میں نہیں پھنسی۔ وہ جن غنڈوں سے نمٹتی ہے ان میں سی پیک سے زیادہ گھاگ چینی، مغرور کورین اور امیر مینائی کی معشوق جیسے مہذب مگر سفاک جاپانی شامل ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ امیر مینائی نے تو ساری عمر دس ہزار فیٹ کے فاصلے سے بھی کسی جاپانی کو اور شدید پردے کی وجہ سے گھر کے باہر

Read more

جمیل نقش کی یاد میں

یہ ایک مختصر سا تاثراتی مضمون ہے۔ کل دو ملاقاتوں پر محیط۔ ان دونوں ملاقات کا کل ملا کر دورانیہ تین گھنٹے سے شاید ہی کچھ زیادہ ہو۔ ہمارے ایک ماتحت ان دنوں بلدیہ جنوبی میں ڈائریکٹر پارکس ہوتے تھے۔ نستعلیق، خوش مزاج اور بڑے ہی باذوق، سندھ کے ایک بڑے شاعر کے داماد مگر بیگم سے نالاں۔ مصور جمیل نقش کے کوئی عزیز ان کے ماتحت ہوتے تھے۔ یوں ان کے جمیل نقش صاحب سے روابط ہو گئے۔ دنیا

Read more

یہ تقریب نہیں ہو سکتی

عجب ہفتہ تھا۔ نومبر 23 تا 29 سنہ 1983۔ شہر تھا دہلی۔ چار بہت نامور خواتین میں ایک طرح کی سمجھو جنگ ہو گئی۔ اب خواتین میں ایسی جنگ پنجاب کی مصلی عورتوں یا ممبئی کی دھراوی جیسے سلم (Slum) جو ہمارے اورنگی ٹاون سے چھوٹا اور میکسکو سٹی کے چائوداد سے بڑا ہے۔ وہ والی بیلنے چمٹے پیتل کی پرات بجانے والی ساڑھی بلائوز سے لاتعلق جنگ تو ہوتی نہیں۔ اس جنگ نے بہرحال افسروں کے چھکے چھڑا دیے۔

Read more

اپُن کا کرانچی (3)

(کراچی کا ایک دل چسپ احوال پیش خدمت ہے۔ یہ نہ تو تحقیقی مقالہ ہے نہ کوئی سرکاری گزٹ۔ دیکھی، پڑھی اور سنی گئی باتوں پر لکھا ایک مضمون ہے۔ طویل اور معلوماتی۔ کراچی شہر کو سمجھنے میں اور اس پر مزید تحقیق کرنے میں اس سے یقیناً ’مدد ملے گی۔ ہمارے دیوان صاحب کراچی کے باسی ہیں۔ ہوم ڈپارٹمنٹ، مجسٹریسی، ڈسٹرکٹ انتظامیہ، کے ایم سی، جیل ایڈمنسٹریشن، ٹرانسپورٹ، محکمہ زراعت اور ریونیو۔ کراچی کے تقریباً ہر انتظامی محکمے سے

Read more

سندھ، انگریز اور کراچی

(کراچی کا ایک دل چسپ احوال پیش خدمت ہے۔ یہ نہ تو تحقیقی مقالہ ہے نہ کوئی سرکاری گزٹ۔ دیکھی، پڑھی اور سنی گئی باتوں پر لکھا ایک مضمون ہے۔ طویل اور معلوماتی۔ کراچی شہر کو سمجھنے میں اور اس پر مزید تحقیق کرنے میں اس سے یقیناً ’مدد ملے گی۔ ہمارے دیوان صاحب کراچی کے باسی ہیں۔ ہوم ڈپارٹمنٹ، مجسٹریسی، ڈسٹرکٹ انتظامیہ، کے ایم سی، جیل ایڈمنسٹریشن، ٹرانسپورٹ، محکمہ زراعت اور ریونیو۔ کراچی کے تقریباً ہر انتظامی محکمے سے

Read more

کیفے ڈی خان

بشارت صاحب کا دفتر ہماری اکثر آماج گاہ ہوتا ہے۔ گو ہم دونوں کی دنیا علیحدہ ہے۔ مگر دوستی بہت گہری اور فہیم ہے۔ کل ان کے ہاں نعیم خان صاحب آئے تھے۔ ارب پتی مہاجر ہیں۔ چار ممالک میں دس ہوٹل ہیں۔ مصر ہیں کہ بیرونی دنیا میں چکن تکہ انہی نے متعارف کرایا۔ ہارن پور بھارت میں دادا نے 1936 میں کیفے ڈی خان بنایا۔ چکن تکہ ان کی ایجاد ہے۔ بٹوارے پر لاہور آ گئے۔ پنجاب سیکرٹریٹ

Read more

اپُن کا کرانچی (1)

(کراچی کا ایک دل چسپ احوال پیش خدمت ہے۔ یہ نہ تو تحقیقی مقالہ ہے نہ کوئی سرکاری گزٹ۔ دیکھی، پڑھی اور سنی گئی باتوں پر لکھا ایک مضمون ہے۔ طویل اور معلوماتی۔ کراچی شہر کو سمجھنے میں اور اس پر مزید تحقیق کرنے میں اس سے یقیناً ’مدد ملے گی۔ ہمارے دیوان صاحب کراچی کے باسی ہیں۔ ہوم ڈپارٹمنٹ، مجسٹریسی، ڈسٹرکٹ انتظامیہ، کے ایم سی، جیل ایڈمنسٹریشن، ٹرانسپورٹ، محکمہ زراعت اور ریونیو۔ کراچی کے تقریباً ہر انتظامی محکمے سے

Read more

کمشنر پنڈی اور جنرل ضیا کا ریفرنڈم

منٹو نے اپنا افسانہ رسوائے ادب مگر بہترین افسانہ ”بو“ یوں شروع کیا ہے : ”برسات کے یہی دن تھے۔ کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے اسی طرح نہا رہے تھے۔ ساگوان کے اس اسپرنگ دار پلنگ پر، جو اب کھڑکی کے پاس سے تھوڑا ادھر سرکا دیا گیا تھا، ایک گھاٹن لونڈیا، رندھیر کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔” فروری کی سردیوں کے یہی دن ہیں۔ ان ہی دنوں نمی نمی دھوپ میں کمشنر راولپنڈی ریٹائرمنٹ سے یہی کوئی پندرہ

Read more

پھر یہ سودا گراں نہ ہو جائے

سیدنا نظام الدین اولیاؒ کے ملفوظات کا مجموعہ فوائد الفواد (یعنی قلوب کا فائدہ) ان کے مرید خاص علاؤ الدین سنجری نے مرتب کیا ہے۔ راہ سلوک کا مسافر اگر طلب صادق رکھتا ہو تو تالیف قلب کے لیے یہ بے حد عمدہ کتاب ہے۔ اس مین کچھ بہت نایاب وظائف بھی ہیں جو بہت سوں کے لیے باعث فیض رہے ہیں۔ آپ کے بستر کے سرہانے رہنے کے لائق کتاب کو گاہے گاہے پڑھا کیجیے۔ اس کتاب میں خانقاہ

Read more

پیوما (چوتھی اور آخری قسط)

< p dir=”rtl” style=”text-align: right;”>   دو دن بعد سعدی جنوبی افریقہ سرکاری مشن پر چلا گیا تو بابین، مسز سعدی اور معصومہ نے عجب حرکت کی، بابین نے ثمر کے ڈرائیور سے گیلانی کے گھر کا پتہ پوچھ لیا اور اس کے گھر پہنچ گئیں۔ چوکیدار سے خود کو پیوما کی اسکول کی سہیلیاں ظاہر کر کے اس کا پوچھا تو وہ کہنے لگا وہ پاکستان سے باہر گئی ہوئی ہیں۔ وقت اور تاریخ روانگی کے علم میں آ

Read more

پیوما (3)

میرے لیے وہ دن نسبتاً خاموش تھا۔ ابا کی ترکے میں چھوڑی ہوئی سن ستر کی مرسڈیز میں کچھ کام نکل آیا تھا۔ ایک عدد جیپ اور ایک نئی کار کی موجودگی کے باوجود وہ مجھے بہت عزیز تھی۔ میں طارق روڈ پر عزیز مستری کے پاس اسے بنوانے چلا گیا۔ مستری حضرات کی اپنی دنیا ہوتی ہے۔ کار اپنی طبیعت سے مقررہ مدت میں بنوانی ہو تو ان کے ساتھ بیٹھ کر سوٹے بھی لگانے پڑتے ہیں۔ کوئٹہ ہوٹل

Read more

پیوما ( 2 )

پہلی بات جس نے مجھے بے لطف کیا وہ اعتراف کے جلو میں سنایا جانے والے لطیفہ تھا۔ کہنے لگی ”آج چونکہ سعدی کی برسی تھی۔ میں نے اسے Tribute (خراج تحسین) پیش کرنے کے لیے تمہیں دیوتاؤں کی طرح پیار کیا It ’s not me، most of the times (میں عام طور پر ایسا نہیں کرتی) ۔ جس طرح سعدی کے حوالے سے تمہیں اپنے بدن کی سیر کرائی ہے اور تم نے جتنی جلدی تھکاوٹ کا اظہار کیا۔

Read more

پیوما (1)

کراچی شہر کی اس مصروف شاہراہ پر گزرتے ہوئے شور مچاتے ٹریفک اور سائبریا کی کوئٹہ کے راستے آنے والی یخ بستہ ہواؤں کی ٹھنڈک سے بے نیاز ململ کے اجلے، سفید کرتے سے دل کو برماتی، بادلوں میں چھپے چاند کی مانند جھلملاتی جھاگ کی طرح ملائم Bordelle کی مشہور، سیاہ شیلف۔ برا پہنے، وہ جو دل نشین و جواں سال خاتون میری جانب پشت کیے بیٹھی ہیں، ان کا نام بینش مزمل واحدی ہے۔ ان کی نگاہیں اس

Read more

ڈپٹی کمشنر

پاکستان میں اکثر سنجیدہ مباحث کی شہ ضرب عمدہ گورننس کا فقدان ہوتی ہے۔ عمدہ گورننس کے لیے اہم ترین لازمہ تو اس معاشرے ہی کے افراد ہوتے ہیں لیکن ان افراد کو سینت سنبھال کر ایک سسٹم رکھتا ہے۔ یہ سسٹم اداروں کی مدد سے پروان چڑھتا ہے۔ مسلم معاشروں میں بہت طویل عرصے سے زوال کا باعث افراد کا اداروں پر غلبہ ہے۔ یورپ نے یہ راز بہت پہلے جان لیا کہ افراد کو اداروں پر قربان کرنے

Read more

امریکہ کے صادق اور امین

دوسرے واقعے سے ایک دن پہلے بے بی لون ریستوراں میں دل بھول آئے تھے۔ ہوا یوں کہ کامیا پٹیل نے ملنے نیو جرسی سے آنا تھا۔ نیویارک سے جڑی ریاست ہے۔ لوگ وہاں سے نیویارک آتے جاتے ہیں۔ ٹیکسز اور مکانات کے حساب سے سستی پڑتی ہے۔ ذرا کھلی کھلی اور غریب پرور ہے۔ سمجھ لیں اسلام آباد پنڈی کا سا گٹھ جوڑ ہے۔ ہمارا دھیان ہوتا ہے کہ ہر جگہ کراچی کا سا موسم ہوتا ہے۔ یہاں کے

Read more

پیسے دے دو، جوتے لے لو

Macy’s دنیا کا سب سے بڑا ڈیپارٹمنٹل اسٹور مین ہٹن نیویارک میں گھر کے قریب ہے جب کوئی مصروفیت نہ ہو دنیا بھر کے سیاحوں میں مقامی افراد کے آتے جاتے دل لبھاتے لوگوں کو دیکھنا ہو چلے جاتے ہیں کچھ نہ خریدو گاۓ کے مکھن جیسی اجلی سیلز گرل سے ڈھیروں سوال پوچھو مجال ہے ابرؤے دل بر پر اک شکن نا خوشگوار کا بل پڑے 2015 میں ایسی ہی ایک سیلز گرل کہ جس کی دید میں لاکھوں

Read more

ایس کے محمود: پنڈی کی کال گرل اور ذوالفقار علی بھٹو کے لئے اقتدار سے ٹکرانے والا افسر

آپ اگر اب تک ڈاکٹر ظفر الطاف کو بغیر روحانیت والا مگر انسانیت کے قریب ترین والا نصف درویش مان چکے ہیں تو ان کی زندگی سے جڑے ڈاکٹر اجمل اور ڈاکٹر طارق صدیقی نامی دو درویشوں سے بھی آشنائی ہو چلی ہو گی۔ ہم ڈاکٹر ظفر الطاف ہی کی پسندیدہ اصطلاح، جو وہ اپنے بارے میں بے دریغ استعمال کرتے تھے، کا سہارا لیں تو یہ سب ایک طرح سے Non-practicing Muslims تھے۔ یہ ذرا مشکل اور ناقابل ہضم

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں (8)

قسط نمبر سات کا آخری حصہ نہیں وہ ایسا نہیں۔ گرانڈ بازار کے جالولو حمام میں جب اس نے اس کے پیسے بھی دینے چاہے تو اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکنے کی کوشش کی۔ وہ تنہا حمام کی طرف بھی جانے پر رضامند نہ تھی سو ارسلان کا ہاتھ اس نے تھامے ہی رکھا۔ وہاں سے واپس باہر آنے کے بعد بھی اس نے کوئی عجلت اور رغبت نہ دکھائی نہ ہاتھ تھاما، نہ کمر پر ہاتھ

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں (7)

افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال قسط نمبر چھ کا آخری حصہ سعید کی دلہن بن کر برطانیہ آنا ایک رسم دنیا اور ایک نئی دنیا کی کھوج تھی۔ سعید کے مد مقابل دستیاب سب رشتے قرابت داروں اور برادری والوں کے تھے۔ سب ہی بہت روٹین سے مرد تھے۔ برطانیہ آنے کے فیصلے میں نیلم کا سامنے یہ نقطہ بھی تھا کہ اگر شادی میں کوئی اڑچن آئی تو وہ اس

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں ( 6 )

افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال قسط نمبر 5 کا آخری حصہ بے چارہ. چلو اس کی کوئی مدرنگ کرتے ہیں اس نے اپنا ٹرینچ کوٹ اس کے گارمنٹ بیگ سے نکالا اور ارسلان پر ڈال دیا تاکہ امیر مقام خوشبو بھی سونگھتے رہیں گے اور اس کی وجود کی متروکہ گرماہٹ سے لپٹ کر سوتے بھی رہیں گے. رات کی خنکی کے پیش نظر اپنا کیپ پہن لیا اور شال سے

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں (5)

(افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال) رات چلی ہے جھوم کے ان اتفاقیہ ہم سفروں کا ناؤ نوش کا سلسلہ جب بخیر و خوبی اختتام کو پہنچا تو نیلم نے اپنے پاؤں سینڈل سے آزاد کیے۔ ایک بڑی سی جامنی شال اپنے رول آن بیگ سے نکالی اور صوفے کے ایک آرمز ریسٹ سے کمر جوڑ کر پشت پر لگی دیوار سے سر ٹکا دیا گھٹنوں کی محراب بنا کر دوسرے آرمز

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں ( 4 )

(افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال) دھیمے دھیمے اس نے سوچا کاش اس کا میاں سعید گیلانی، اس سامنے بیٹھے اتفاقی مرد، ارسلان کی شخصیت کا دس فیصد ہی دل چسپ ہوتا تو وہ ابھی واپس برمنگھم لوٹ جاتی۔ اس کی دوست جس کا اصل نام تو برمیندر کور تھا وہ اور نیلم شام کو دفتر سے لوٹتے وقت یا توEagle & Ball پب یاBacchus Bar میں بیٹھ کر چل (Chill) کرنے

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں ( 3 )

(افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال) ارسلان کے جواب دینے سے پہلے ہی کھانا آ گیا۔ آئسڈ لیمن ٹی کا گلاس اور ڈم سم نیلم نے آرڈر کیے تھے اور ارسلان نے اپنے لیے رولز اور کوکونٹ جوس پسند کیا تھا۔ کھانا آیا تو اس نے ایک رول خاموشی سے نیلم کی پلیٹ میں ڈال دیا۔ اور کوکونٹ سپ کے لیے گلاس اس کی جانب بڑھا دیا وہ انکار کرتی رہی مگر

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں (2)

(افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال) نیلم ایک طویل عرصے برطانیہ میں رہنے کے باوجود بہر طور ایک پاکستانی عورت تھی۔ پاکستانی عورت میں، بائبل کے دس بڑے ضوابط (Commandments) اور پاکستانی قانون میں ایک قدر بڑی مشترک ہے۔ ان کی اکثر دفعات کا آغاز نفی سے ہوتا (عبادت مت کرو بجز میری، مت کرو قتل۔ مت کرو بدکاری وغیرہ وغیرہ) بائبل کی طرح پاکستان کے قوانین بھی Notwithstanding (ہرچند، باوجود اس

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں ( 1 )

(افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال) ارسلان آغا کو یہ دیکھ کر بے پایاں مسرت ہوئی کہ وہ بی بی جس کے تعاقب میں وہ یہاں کائونٹر تک پہنچا تھا وہ بھی استنبول جانے والی اسی فلائیٹ کے کاؤنٹر پر کھڑی تھی جہاں پر خود اس نے بھی بورڈنگ کے لیے رپورٹ کرنا تھا, سفری دستاویز کی جانچ پڑتال کے بعد ایک بورڈنگ کارڈ کی صورت میں اسے بھی پروانۂ روانگی ملنا

Read more

منکہ مسمی منیر نسیم (4)

تیسری قسط کا آخری حصہ عباس خان کی بیٹی رفیقہ اسے چابی دیتی تو وہ یہ سوزوکی لے کر کام پر چلا جاتا۔ چابی کے اس لین دین میں سلیمان کا رفیقہ سے کچھ معاملہ سیٹ ہو گیا۔ دونوں ہی بے حد خوب صورت تھے۔ علی اشرف کو اس افیئر کا علم کا مسجد میں ہوا۔ میاں والی کے کئی لوگ وہاں مسجد میں آتے تھے۔ رفیقہ کے چچا نے اسے بتایا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے۔ اس کا ملازم

Read more

من کہ مسمی منیر نسیم… (3)

دوسری قسط کا آخری حصہ یہاں کے مرد کڑیل، عورتیں حسین، گھوڑے اور بیل ناچنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ قتل کا بدلہ ضرور لیتے ہیں۔ اس میں بھی ایک شان رکھ رکھاؤ ہے۔ بیٹی گھر میں کنواری بیٹھی ہے تو بدلہ موقوف رہے گا۔ بیٹی سب کی سانجھی ہے۔ اس بے چاری کو اپنے گھر کی ہو لینے دو۔ دشمن کی بیٹی رخصت ہو کر جائے گی تو اسے رخصت کرنے گاؤں کی سرحد تک دیگر گھر والوں کے ساتھ

Read more

من کہ مسّمی منیر نسیم…. (2)

پہلی قسط کا آخری حصہ آپ کا خادم من کہ مسمی منیر نسیم اے ایس آئی، ان دنوں معطل ہے۔ معاملہ کچھ خاص نہیں تھا مگر ہم پنجابی ملازمان، سندھی میں کہتے ہیں ” شل نہ“ جس کا مطلب ہوتا ہے ’اللہ نہ کرے‘ ان کم بخت، ڈی ایم جی افسران کے ہتھے چڑھ جائیں۔ میری معطلی کے احکامات خاص طور پر سیکر ٹری محکمہءداخلہ سے موصول ہوئے تھے۔ ہم پولیس والوں سے تو یوں بھی یہ زکوٹے جن، اینٹ

Read more

من کہ مسّمی منیر نسیم (1)

”من کہ مسمی اے ایس آئی منیر نسیم، متعینہ تھانہ جوہر آباد امشب بحکم ایس ایچ او بہادر جعفر نقوی، علاقہ گشت پہ تھا کہ مخبر خاص، جہانگیر بھورے کے ذریعے یہ اطلاع ملی تھانے کے قرب و جوار میں واقع ایک غیر قانونی طور پر قائم شدہ ٹال کے پہلو میں، لکڑی کے بے ترتیب ڈھیر کی آڑ میں ایک نوجوان جوڑا دنیا و مافیا سے بے خبر والہانہ انداز میں باہم بوس و کنار ہے۔ ان کا یہ

Read more

اردشیر کاﺅس جی اور طالبان

15 اگست سن 2021 کو جب افغانستان کے صدر اشرف غنی عمان کے راستے دوبئی فرار ہوئے۔ ان کے جہاز پر سوار ہوتے وقت ایک منظر تو ہمیں بہت ہی عجب لگا۔ بظاہر تو ہر طرف اپنے ہی لوگ سیکورٹی پر مامور تھے سوٹ میں ملبوس۔ چار سو ایستادہ۔ طالبان کہیں دور دور دکھائی نہ پڑتے تھے۔  وہ آج ایک ہفتے بعد بھی ایر پورٹ کے انتظام اور انصرام سے خود کو پرے رکھے ہوئے ہیں۔ وہاں ترک وطن کے

Read more

کمیونٹی سروس بطور قانونی سزا

کم خواتین کا نام اتنا نشیلا ہوتا ہےRefaEli-Bar۔ اسرائیل کی ٹاپ موسٹ اور دنیا میں سپر ماڈل مانی جاتی تھیں۔ چند سال قبل علم ہوا کہ باقاعدگی سے ٹیکس چوری کرتی ہیں۔ ہم سے تو غلط انگریزی بولنے پر میرا گرفتار نہیں ہوتی مگر اسرائیل کا ایف بی آر ایسا نہیں کہ شبر زیدی کی طرح زبان عہدے سے ہٹنے کے بعد کھولے۔ جس دن ٹیکس چوری کا علم ہوا، اسی رات کالے ڈالے میں ڈالا اور ماں بیٹی کو

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (آخری قسط)

گیارہوں قسط کا آخری حصہ ٹیپو جی کہنے لگے تمہاری زبان میرے لیے آئین پاکستان کا درجہ رکھتی ہے۔ میں نے اس آئین پر حلف اٹھایا ہے۔ بینو چوں کہ اچھی طرح سے چونا لگا چکی ہے لہذا اس نے ان کے دو تین بڑوں کا نام لے کر چھیڑتے ہوئے ان ہی الفاظ اور لہجے میں کہا۔ جذباتی باتیں مت کرو۔ بھوتنی کے بھانجے یہ بتاﺅ تمہارے ان بڑوں نے کیا کاما سوترا اور نیپال کے آئین پر حلف

Read more

ڈی۔ آئی۔ جی کی محبوبہ (11)

دسویں قسط کا آخری حصہ ٹیپو سے بینو کو عشق ہے۔ وہ اس کے پہلے مرد ہیں۔ فیض یاد ہے نا کہتے تھے جن کی آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے۔ ڈونگا گلی سے تو آخری ملاقات تک وہ ان کی نگاہوں کا ایک ایک رنگ، ہر لباس، ان کے لمس کا ہر ذائقہ، ان کی آغوش کی ہر خوشبو کو Recount کرسکتی ہے۔ اب وہ یہاں کینڈا میں نہیں تو اس کے باوجود جب زونی کو وہ گلے

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (10)

نویں قسط کا آخری حصہ بینو لاہور جاتی ہے تو اس کی امی کا بھی بیوٹی پارلر اپائنٹمنٹ ہوتا ہے۔ خوش لباسی سے اور بیوٹی پارلر کی وجہ سے عمر سے دس سال چھوٹی لگتی ہیں۔ بینو نے امی کو کہا بھی کہ ٹیپو جی کو کہہ کر ایک مقدمہ کر لیتے ہیں کہ آپ کی تاریخ پیدائش کا اندراج غلط تھا۔ نیا سرٹیفیکٹ بنوا کر دوبارہ ملازمت کر لیتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہاتھ کھل گیا تو بینو

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (9)

آٹھویں قسط کا آخری حصہ حضرت رفاقت کے لیے بہت بے تاب تھے. لاہور میں قیام کا پوچھ رہے تھے. بینو کو بڑی الجھن ہوئی. کسی مرد سے یوں سر راہ بے تکلف ہونے کا پہلا موقع تھا. اس وجہ سے اس نے اپنا نام بھی غلط یعنی نینا عباسی بتایا. نمبر مانگنے پر کہا. ان کا نمبر کارڈ پر موجود ہے. وہ کال سپل برگ گی. شاید کھانے پر مزید گفتگو ہو. بھلے سے معروف و مصروف اداکار تھے

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (8)

قسط نمبر سات کا آخری حصہ کراچی ائرپورٹ پر ہی اسے ٹیپو کا میسج آیا کہ لاہور وہ ائرپورٹ پر اس کے سواگت کے لیے خود موجود ہوں گے. باہر آتے وقت البتہ اسے بہت احتیاط کرنی ہوگی. سب سے زیادہ انٹیلی جینس اور خفیہ ادارے ائرپورٹ پر سرگرم ہوتے ہیں. ٹیپو کو دیکھ لے تو وہ یہ اہتمام کرے کہ بیگ میں سے نکال کر عبایہ پہن لے. یہ اشارہ ہوگا کہ اس نے انہیں سپاٹ کر لیا ہے.

Read more

بن میاں کی چنوں، میرا بائی اور ہمارا 71 سالہ اولمپک کمیٹی صدر

آئیں کھیلوں کی بات کریں۔ کھیل دنیا میں انسان اور کسی مملکت کا بہترین تعارف ہوتے ہیں۔ ہمارے کپتان عمران خان سے زیادہ یہ بات کون جانتا ہے۔ صدر فاروق لغاری جنہوں نے ایشائی کھیلوں میں پاکستان کی سن 1974 میں تہران میں شوٹنگ کے مقابلوں میں نمائندگی کی تھی ان کے بارے میں ان کے دوست اور ساتھی سابق فیڈرل سیکرٹری ڈاکٹر ظفر الطاف اپنے گھر کھانے پر پاکستان کے پہلے کرکٹ کپتان اور اپنے گرو عبد الحفیظ کاردار

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (7)

قسط نمبر چھ کا آخری حصہ ابو امی جب ملتان کے لیے سامان سفر کمرے میں سمیٹ رہے تھے، ٹیپو کی جانب سے بینو کو بتا دیا گیا کہ وہ فون وغیرہ کے معاملے میں احتیاط کرے۔ اب ان کا ملنا اچانک ہو گا۔ اسکول کی ملازمت کا جو موجودہ سیٹ اپ ہے، وہ اس ملاقات میں بہت معاون ہو گا۔ کبھی وہاڑی تو کبھی ملتان۔ فوری طور پر اس میں اب کسی تبدیلی کی کوشش سے معاملات آؤٹ آف

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (6)

پانچویں قسط کا آخری حصہ واپسی پر اس کے ابو سامنے والی نشست پر اور وہ خود ظہیر کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی۔ کوشش وہی کہ ظہیر کو یہ نہ لگے کہ اس کی اپنی تو پتنگ ہی کٹ گئی ہے۔ لمبی ڈھیل سے اب بھی اس بات کو سنبھالا جا سکتا تھا باوجود اس کے کہ ٹیپو نے اس سفر میں بینو کے دل میں مزید جگہ گھیر لی۔ راستے بھر وہ کبھی ظہیر کی خاموش ٹھنڈی، بے

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ ( 5 )

چوتھی قسط کا آخری حصہ میڈا سانول مٹھڑا، شام سلونا من موہن جانان وی توں۔ میرے جانو تم کہاں جانو کہ محبت نغموں، دعاؤں اور کہانیوں میں گھر بناتی ہے۔ بینو کا یہ اہتمام کہیں اور ہوتا تو پرانی دوست ضویا ڈاہا کی پھٹے چک دینے والی بات سچی نکلتی مگر ظہیر کے ساتھ یہ معاملہ محض سلگتے صحرا پر برسات کا ایک بے فیض چھڑکاؤ ثابت ہوا ٭٭٭ ٭٭٭ منگل کی صبح فجر کی نماز کے فوراً بعد ٹیپو

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ ( 4 )

تیسری قسط کا آخری حصہ اپنی شکست پر وہ رنجور تھے مگر ٹیپو نے اپنے بڑوں سے بات کر کے ٹوانہ صاحب کو بہت خاموشی سے لاہور میں ڈی آئی جی ریسرچ میں لگوا دیا۔ یہ کوئی ایسی بری پوسٹنگ نہ تھی۔ ٹہورٹہکا یوں بھی ٹوانہ صاحب کے مزاج کا حصہ نہ تھا۔ ٹوانہ صاحب کی جگہ جو نئے ڈی آئی جی صاحب تعینات ہو کر آئے وہ کچھ اور مزاج کے تھے پنجاب پولیس کے رنگ میں رچے بسے۔

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (3)

دوسری قسط کا آخری حصہ تحقیق و تفتیش کا دائرہ وسیع ہوا تو یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ عشق اور شادی دونوں میں ناخوش رہنے کے وافر مواقع ہیں۔ میاں کا مزاج اگر پرتشدد نہیں۔ اسے اپنی کمزوریوں کا شعور اور احساس ہے تو شادی کو نبھاﺅ۔ اسے گھر کے دروازے پر بے ضرر ٹاٹ کا پردہ بنا کر لٹکا لو۔ چینوں جاپانیوں نے اس میں اب نت نئے روپ نکال لیے ہیں۔ بہت سجل، نرم و نازک، من

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ ( 2 )

(گزشتہ قسط کا آخری حصہ) پاکستان سے دولت لوٹ کر مفرور یہ سیاسی اور سرکاری فرزندان توحید پیچھے رہ جانے والے سیاست دانوں، ہر قسم کے افسروں اور تھانے داروں کی کرپشن اور نا اہلی پر تبرہ بھیجتے ہیں۔ اللہ سبحانہ کو تواب الرحیم مان کر سب نے یہاں داڑھیاں رکھ لیں ہیں۔ دوران ملازمت جو مال کمایا ہے وہ بیگمات کے کولہوں کی چربی کے معاملے میں ہوا کی جسمانی خصوصیات (Physical Properties) کی مانند ہے۔ وزن بھی رکھتا

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (1)

پہلے میرے تین چار بیانات سن لیں تاکہ اس قصے کو پڑھتے وقت آپ کو میرے حوالے سے کوئی ویاکو لتا ( ہندی میں کنفیوژن) نہ ہو۔ مجھے ایسی بڑی گنجلک باتیں کرنے کا بہت شوق ہے مگر میں آگے چل کر بہت سادہ انداز اختیار کروں گی۔ آپ اگر توجہ اور دل چسپی سے میری داستان شرارت سنیں گے تو یہ چاروں باتیں آپس میں گہرا تال میل رکھتی ہیں۔ پہلی بات۔ یہ میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ہے

Read more

Queen’s Gambit اور شہ مات

ہم نے چونکہ ترتیب کے اعتبار سے دی کوئین ز گیمبٹ پہلے دیکھی لہذا اس کی بات پہلے۔ سنہ 1980 سے سن 1990 تک ہم ایک مفت کی جنگ میں الجھے رہے۔ یہ سوویت-افغان جنگ تھی۔ لکڑی کے بکسوں میں اس قدر ڈالر آتا تھا کہ کسٹم کے چپراسی بھی ایک آدھ گڈی اپنے پاس رکھ کر نہال ہو جاتے تھے۔ یہ کچھ ایسا مشکل کام نہیں۔ نیٹو کے اسلحہ کے کنٹینرز بھی تو آخر کراچی پورٹ سے ہی کھسکائے

Read more

”رس بھری“ اک نگاہ یار سہی

آئیں بھارت کی ویب سیریز ”رس بھری“ کی بات کرتے ہیں۔ میڈیم ہے ویب سیریز۔ نئے لوگوں کی نئی دنیا، سنسر شپ سے پرے، فن کاروں کے کارٹیلز سے دور۔ ذرا دھیرج رکھیں۔ ایسے ہی تھوڑی۔ ہمارا اسٹارٹ بھی فاسٹ بالر شعیب اختر اور عمران خان جیسا لمبا ہوتا ہے۔ گیند پھینکے کے لیے جب وہ بالر اینڈ سے تماشائیوں کے اسٹینڈ کی طرف بڑھتے تھے لگتا تھا کہ اب کبھی لوٹ کے نہ آئیں گے۔ آپ کے مزاج میں

Read more

چارلس نیپئر، ملکہ وکٹوریہ کی تصویر اور سندھی سردار

آغا خان دوم کی شادی اور قیام ڈیفنس کراچی میں اس ٹھیکری پر رہا جہاں ایک انگریزوں کی تعمیر کردہ ایک عمارت موجود ہے جس کو ہنی مون لاج کہا جاتا ہے۔ اسی اہم علاقے کو سرگوشیوں میں کراچی کی ڈیفنس ہائوسنگ سوسائیٹی کا فیز تھری مانا جاتاہے۔ اسے کسی نقشے میں احتیاطاً اور مصلحتاً اس دھڑلے سے ظاہر نہیں کیا جاتا۔ جیسے فیز ایک سے آٹھ تک کا کونہ کونہ چپہ چپہ ان رہنما نقشوں میں مذکورہے ہز ہائی

Read more

سندھ، انگریز اور کراچی

سندھ میں اپنے زمانے کی بڑی بحری طاقتوں یعنی ولندیزی، پرتگالی اور انگریز تینوں کو کوئی خاص دل چسپی نہیں تھی۔ اس کا ساحلی علاقہ کراچی، ٹھٹھہ اور بدین پر مشتمل تھا۔ سنہ 1635 میں انگریزوں نے شاہ جہاں کے زمانے میں ٹھٹہ میں ایک تجارتی کوٹھی قائم کی تھی۔ یہ ابتدا میں یہاں سے بارود میں استعمال ہونے والا  Saltpetre (پوٹاشیم نائی ٹریٹ) لے جاتے تھے۔ اس لین دین کا وہاں رہنے والے میمنوں نے فائدہ اٹھایا، ان سے

Read more

اپن کا کرانچی (1)

اقبال دیوان کے قلم سے کراچی کا ایک دل چسپ احوال قسط وار پیش خدمت ہے جسے مصنف "نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں” قرار دیتے ہیں۔ یہ نہ تو تحقیقی مقالہ ہے نہ کوئی سرکاری گزٹ۔ دیکھی، پڑھی اور سنی گئی باتوں پر لکھا ایک مضمون ہے۔ طویل اور معلوماتی- کراچی شہر کو سمجھنے اور اس پر مزید تحقیق کرنے میں اس سے یقیناً مدد ملے گی۔ ہمارے دیوان صاحب کراچی کے باسی ہیں، ہوم ڈیپارٹمنٹ، مجسٹریسی، ڈسٹرکٹ انتظامیہ،

Read more

ریل کا سفر: جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی

پیوست ہے جو دل میں وہ تیر کھینچتا ہوں ایک ریل کے سفر کی تصویر کھینچتا ہوں گاڑی میں گنگناتا مسرور جا رہا تھا اجمیر کی طرف سے جے پور جا رہا تھا (جوش ملیح آبادی کی نظم ”ریل کا سفر“ کا ابتدائی بند) ریل کے سفر سے ہمارے رومانس کی ابتدا چھوٹی گیج کی ٹرین سے ہوئی۔ حیدرآباد تا کھوکھرا پار یہ پاکستانی علاقہ تھا اور مونا باؤ راجھستان سے آگے بھارت۔ اس سے پہلے کراچی ایکسپریس اور ریل

Read more

اے ایس آئی منیر نسیم کی ایف آئی آر

جوہر آباد تھانے فیڈرل بی ایریا کراچی کی وہ ایف آئی آر جو اے ایس آئی منیر نسیم نے درج کی تھی اپنی زبان کی چاشنی، اٹکھیلیوں اور اختصار کی بنیاد پر مرزا ہادی رسوا کے ناول شہر آفاق ”امراؤ جان ادا“ کا نسبتاً ایک غیر شائع شدہ باب لگتی تھی۔ کراچی کا جوہر آباد تھانہ 1988 علاقے میں اپنی دھاک رکھتا تھا۔ یہاں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی رہائش گاہ تھی۔ کارکنان۔ بے رحم پولیس کے

Read more

ہندوستان کے کائو بوائز اور مسز اندرا گاندھی کا حلقہ گرہ گیر

ہمارے کتب خانہ میں دو ڈیجٹل کتابیں موجود ہیں۔ پہلی تو مشہور زمانہ جاسوس کم فلبی کے بارے میں ہے۔ اے سپائی امنگ فرینڈز مصنف بین میکن ٹائر اور جان لا کیئرے۔ اس کی تعریف ٹوئیٹر پر وکرم سود صاحب نے کی تھی۔ موصوف را کے چیف رہے۔ سن دو ہزار تین میں ریٹائر ہوئے۔ تعلق ہندوستان کے محکمہ ڈاک سے تھا۔ ہمارے محکمہ ڈاک کے اعلیٰ افسران بھی اُن کی طرح ایک ہی مقابلے کے امتحان سے آتے ہیں۔

Read more

دوسری بیوی کی سہ روزہ بے وفائی

میل ملاپ کی اس رسمی محفل کو دعوت کہنا تو شاید مناسب نہ ہو۔ نیویارک کی فاصلوں اور مصروفیت سے ہلکان جیون دھارا، کرچی کرچی خوابوں سے زخمی، ڈالروں ہڑکائی دوسرے درجے کی زندگی میں دعوت کی موج اور فراوانی کیسی۔ بس پینے اور جینے والوں کو پینے اور جینے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔ مہمانوں میں کوئی نہ کوئی کچھ ساتھ لے آتا ہے اور فریق ثانی رضا مند ہو تو لے بھی جاتا ہے۔ ہم میزبانوں کو جانتے

Read more

داغ سا آدمی نہیں ملتا

ہم بلما کو بھول کر قدرت کے اس بھید بھاؤ سے الجھے ہوئے تھے کہ شاہ سلمان اپنے والد عبدالعزیز کے چھبیس بیٹوں میں سے پچیس نمبر کے بیٹے تھے۔ عبدالعزیز کو دنیا ابن سعود کہتی ہے۔ ان کی من پسند شریک حیات حفصہ سدیری کے سات بیٹے تھے اور یہ ایک طاقتور گھرانا ہے۔ اسی طرح موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان اپنے دو ماؤں کے بارہ بیٹوں میں گیارہ نمبر کے صاحبزادے۔ رب مہربان و بخشندہ نے دونوں

Read more

گھاتک (THE SNIPER): ایک فضائی مسافت کی داستان

نیویارک، امریکہ کے جے ایف کے ائرپورٹ پر کاؤنٹر کلرک من پریت کور، ہمارے کاغذات کی پڑتال کرتی تھی۔ عملے کا ایک غول دور کھلکھلاتا گزرا تو ہم نے اسے فضائی میزبانوں کی پچھلی قطار میں کولہے گھماتے جہاز کی طرف جاتا دیکھا۔ یہ وہ لمحہ تھا کہ ہمارا حال بھی بھارت کے نامور پینٹر ایف ایم کا سا ہوا۔ انہوں نے فلم ہم آپ کے ہیں کون“ میں کھڑکی والا جامنی بلاؤز پہن کر وسیم اکرم کی ریورس سوئنگ

Read more

بلبلی خانہ دہلی کی سلطان رضیہ اور غلام یاقوت کی قوت

نام رضیہ تھا۔ ہندوستان کی چار سال تک پہلی اور آخری مسلمان حکمران تھی۔ رضیہ اپنے لیے سلطانہ کا لقب پسند نہیں کرتی تھی کیونکہ اس کا مطلب ہے سلطان کی بیوی بلکہ اسے پسند تھا کہ اسے سلطان رضیہ کے نام سے پکارا جائے۔ ہم پاکستان ہندوستان والے اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ کس کے آگے پیچھے کون سا نام لگ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اسے رضیہ سلطانہ پکارتے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جبڑا

Read more

مائی نیم از مبارکہ

پچھلی قسط میں بتایا گیا تھا کہ بیگم ایدھی نے نازلی اور رچرڈ کو اس حاملہ بچی کی اولاد لینے کے لیے ایک دو ماہ انتظار کرنے کی تلقین کی تھی۔ اگلے دن وہ تینوں کسی کے ہاں کھانے سے رات کو لوٹ رہے تھے۔ واپسی پر وہ ایک ایسے راستے سے گزرے جہاں ایک کھلی جگہ پر ریسٹورانٹ تھا۔ یہاں لوگ شیشہ پی رہے تھے۔ رچرڈ نے ضد کی کہ وہ یہاں کچھ دیر بیٹھ کر شیشہ پیئے گا۔

Read more

نو نان سینس بلقیس ایدھی اور نان سیرئیس بیوروکریٹ

ایدھی صاحب سے اپنی پیشہ ورانہ ملاقاتوں کا سلسلہ (15، اپریل 1985 کی اس رات جب صبح سویرے بہاری ڈرائیور راشد حسین نے روٹ این ون کی منی بس چلاتے ہوئے سرسید کالج کے سامنے وہاں کی طالبہ بشری زیدی، اس کی بہن نجمہ زیدی اور ان کی پاپوش نگر کی پڑوسن کو کچل دیا تھا) کے بعد بھی جاری رہا۔ ان کا اپنا گھر (ایدھی ویلفئیر ہوم) جو گلبرگ سہراب گوٹھ کے نزدیک تھا وہ لیاقت آباد سب ڈویژن

Read more

مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے

(مسیحا صفت ایدھی صاحب کی کچھ ذاتی یادیں) ایدھی صاحب سے میری ملاقات 1983 کے وسط میں چھاجوں برستی بارش میں ہوئی۔ تب تک بھارتی فلم۔ ”نمک حلال“ ریلیز ہو چکی تھی۔ تین موٹی کیسٹوں والا وی سی آر اور پلاسٹک کے کیس میں لپٹی نازک سی آڈیو کیسٹوں پر ہم اس کا وہ جان لیوا گانا بہت شوق سے سنتے اور دیکھتے جس میں امیتابھ بچن اور سمیتا پاٹل ایسی ہی برستی برسات میں لہرا لہرا کر گاتے ہیں

Read more

ڈاکٹر ظفر الطاف کے بغیر پاکستان کے پانچ سال

حالیہ مہینوں میں جب پنجاب سے دو بھائیوں اور ایک باپ بیٹے کو جیل ہوئی تو ڈاکٹر صاحب یاد آئے۔ ہمارے دوست محسن، مربی, ڈاکٹر ظفر الطاف۔ وہ سن 1965 کے سی ایس پی تھے۔ کرکٹ ٹیم کے سیلکٹر تھے۔ پی سی بی کے چیئرمین تھے۔ چئیرمن پاکستان زراعت کونسل تھے اور کئی دفعہ کے سیکرٹری وزارت زراعت۔ ان دنوں معتوب ان دو سیاسی جوڑیوں کا منصوبہ تھا کہ کسانوں کی تنظیم ہلہ۔ پنجاب کی زمین پر بھائی قبضہ کر

Read more

روشنی کا وزن (Lightweight) اور نیویارک کی ہلکی پھلکی باتیں

ایک مہمان کو نیویارک میں شکایت ہوئی کہ شاور سے نکلتے پانی میں وہ بہائو اور فراوانی نہیں جس کثرت کا جنت میں مسلمانوں سے وعدہ ہے۔ لیزلی ہیزلٹن جن کی کتابAfter the Prophet ہمیں بھی ناپسند ہے وہ اپنی ٹیڈ ٹاک میں قرآن الکریم سے وابستہ چار پانچ بڑی غلط فہمیوں کو دلیل سے رد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جنت اصل میں سلامتی کا نام ہے۔ خوف اور فنا سے پرے ایک عالم بہتات۔ لیزلی کا اصل جملہ

Read more

پڑوسی کے چولہے سے آگ لئی لے

(امریکہ میں بھارت نژاد باشندوں کی کامیابیاں) ماتھا ہمارا اسی وقت تین سال پہلے ٹھنکا تھا۔ جس بس کو نیویارک میں دیکھتے، جس دیوار پر نگاہ ڈالتے۔ ہر طرف تیرا جلوہ کا منظر، پریانکا چوپڑا کی تصویر، ایف بی آئی کے جعلی بیج اور اصلی بھرے بھرے تکیے جیسے ہونٹ۔ بس کو آنے میں دیر بھی ہو تو ان تصاویر کی وجہ سے بس اسٹاپ خمار بارہ بنکوی کے اس شعر کی تصویر شیشہ و سنگ بن جاتا تھا کہ

Read more

ایلان مسک جیسا اور کون؟

امریکہ میں پشتینی رئیس بہت تھوڑے ہیں۔ کل تئیس، اس میں بھی وینڈربلٹ گھرانہ سب سے پرانا ہے۔ نیویارک کا گرینڈ سینٹرل اسٹیشن جو آپ نے کئی فلموں میں دیکھا ہوگا ان ہی کا تعمیر کردہ ہے۔ امریکہ میں سب سے پہلے ڈینم جینز بھی انہیں لوگوں نے بنائی تھی گو ان کا اصل کاروبار ریلوے لائن اور ریل سروس کا تھا۔ دنیا کے ایک اور عظیم الشان اسٹورز کی چین کے مالکان والٹن فیملی ہے۔ آپ نے وال مارٹ

Read more

اگلے جنم میں ونود کو کتا ہی کیجیو

کورونا کی وبا سے پہلے کے یہی دن تھے۔ (منٹو کا افسانہ "بو "یاد آگیا نا مگر ادھر میں ایسا کچھ نہیں)۔ شکاگو میں رات کا کھانا تھا۔ میزبان وہیں کی ایک گجراتی فیملی تھی۔ شام سے لانگ ویک اینڈ شروع ہوچکا تھا (ایک ساتھ کئی ایسی چھٹیاں جو ہفتے اتوار کی تعطیل سے جڑی ہوں) کچھ امریکی کے ماحول کی مناسبت سے مہمان کھانا اور شراب ساتھ لائے تھے۔ شرکت کی شرائط سادہ تھیں دین اور پاسپورٹ کی قید

Read more

سلسلہ گاڈ فادریہ کے اسباق

(سالکان راہ کے لیے سلسلہ گاڈ فادریہ کے اذکار و اشغال کا نایاب مجموعہ – اس کے پڑھنے سے کسی کا بھلا نہیں ہو گا)  پروین شاکر کا شعر ہے اک نام کیا لکھا ترا ساحل کی ریت پر پھر عمر بھر ہوا سے مری دشمنی رہی سپریم کورٹ آف پاکستان میں تین عدد آئینی درخواستوں کی سماعت کے بعد نواز شریف پر عائد الزامات کی روشنی میں جب یہ فیصلہ صادر ہوا کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے

Read more

جمیکا کا پیٹرک اور چین

رات کا پچھلا پہر تھا کہ تیس ہزار فیٹ کی بلندی پر کافی کی طلب ہوئی۔ اب یاد نہیں کہ دست دعا بلند کرتے میں ہمارا ہاتھ کال بیل سے ٹکرایا تھا کہ کافی کی طلب تھی۔ جیف بیزو جیسے مالدار (ایمزن والے اور فوربز میگیزین کے مطابق امریکی تاریخ کے سب سے مالدار فرد) یا برازیل کے ماڈل Marlon Teixeira جنہوں نے بہت دھوم مچا رکھی ہے جیسےجوان نہ سہی اپنے کپتان جیسے ہی ہوتے تو خوش گمانی یہ

Read more

گوگل کے سندر پچائی اور رومالی روٹی

جہاز کا اندرونی منظرکسی خلائی شٹل کا تھا۔ غزنوی کی تڑپ رکھنے والے خطوط کی مالکن تمام فضائی میزبان سفید رنگ کے کاغذی پیرہن میں ملبوس تھیں۔ چہرے پر حفاظتی شیلڈ، منھ پر ماسک کا ڈھاٹا اور چشم بے باک پر آویزاں چشمہ جس کی جھری کو بائی پاس کرکے مہلک جرثومے تو کیا پاکستان کے کس مولوی کی بری سے بری گستاخ نظر بھی پار نہ جا سکے۔ آپ نے اگر بزنس یا فرسٹ کلاس کا ٹکٹ خریدا ہو

Read more

جاپانی عورت اور پیار کی تلاش

سب سے پہلے تو اپنے اس پرانے دوست کا ایک فرضی نام رکھ لیتے ہیں۔ جواد گھانچی۔ گھر والے دوست سبھی اسے جاجو پکارتے تھے۔ سو بہتر ہے آپ بھی اسی نام کو یاد رکھیں۔ نوے کی دہائی میں لپک جھپک میں جاپان جا پہنچا تھا۔ یہاں لیاری کی ایک پانچ منزلہ بلڈنگ کے دو فلور والے گھر میں دس بھائی اور کئی سو بھابھیاں رہتے تھے۔ ماں زبردست عورت تھی مگر اس کے باوجود ان گھروں میں ہر وقت

Read more

یونس حبیب کی دعوت

یونس حبیب اصغر خان کیس کے مرکزی ملزم اور حبیب بینک کے صوبائی صدر تھے۔ یونس حبیب کی گرومنگ نہیں ہوئی تھی۔ لالو کھیت والوں کے محاورے میں کہیں کھلے بندھے نہ تھے۔ مال بنانے کا چمت کار پرانا تھا۔ لڑکپن میں لیاری کے علاقے نو آباد کے اسکول میں سب بچوں سے پاس کرانے کے پانچ پانچ روپے پکڑ لیتے تھے۔ پچیس میں پانچ فیل ہوتے تھے۔ ان کو پیدائشی لوزر ہونے کا طعنہ گالی اور رقم سمیت لوٹا

Read more

راگ شنکرا اور جنم دن

ضابطوں سے جدا ہوکر دل توڑنا اور دل جوڑنا ہمارے ایڈیٹر وجاہت مسعود کو ہم سے زیادہ آتا ہے اور ہمیں بہت تھوڑا۔ ہم دونوں سے زیادہ استاد ولایت خان کو آتا تھا۔ دنیائے موسیقی میں تو میر کا درجہ آپ روی شنکر جی کو دیں اور غالب کا استاد ولایت کو۔ ولایت حسین خان کی مینڈھ بہت اچھی ہوتی تھی۔ شعلہ سا لپک جائے والی مگر راگ بہاگ، باگیشری، پیلو، دیش، کیدارا، جے جے ونتی جو ٹھمری انگ کے

Read more

مسجد میں ناچ

حاجی صاحب غصے میں تھے۔ بڑا کاروبار ہے۔ کھارادر میں بڑا ٹھیہ جما کر بیٹھے ہیں۔ میمن مسجد میں جمعہ پڑھنے آئے تھے۔ نماز کے بعد مسجد کے صدر دروازے پر ملے تو ٹھک سے پوچھ لیا کہ سیٹھ تیرے پاس وہ چھوکری کا واٹس اپ نمبر ہے۔ ہم نے پوچھا کس کا ریحام خان کا۔ انہیں حاجی صاحب نے اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا۔ میمنی میں ایڈی وڈی گالی دے کر کہنے لگے کہ نہیں اڑے اس نچوڑی

Read more

ظالما! مینوں ویزہ تے لا دے

میر ابصار عالم جعفری صاحب سے ہماری ملاقات کراچی کونسلیٹ کے دالان میں ہوئی۔ حضرت امریکہ کا ویزہ لینے آئے تھے۔ ان کا Swag ہمیں اچھا لگا۔ اب آپ کراچی کے جعفری صاحب سے ملے ہی نہیں تو سواگ کیا خاک سمجھ آئے گا۔ آپ کا مسئلہ بھی کرسٹین بیکر والا ہے۔ انہیں جب ان کی دوست نے ڈنر پر مدعو کیا تو ایم ٹی وی کی اس وی جے کو پتہ ہی نہ تھا کہ یونانی دیوتا کیسا ہوتا

Read more

سانگھڑ میں امریکن کونسلیٹ

مختلف ممالک میں بکھرے ہمارے اہل خانہ کا اصرار تھا کہ سبز پاسپورٹ پر امریکی ویزہ کی معیاد ختم ہوتی ہے۔ اس کی تجدید کرا لیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن گئے تو سختیاں کریں گے۔ ہم نے کہا بھی کہ امریکہ کی محبت ماں جیسی ہے۔ مالدار سابق فوجیوں، میمنوں اور ایک پارٹی کے سیاست دانوں کو ان کے مال مسروقہ کی فراوانی کی بنیاد پر برطانیہ اور امریکہ ویزہ پٹزا کی ہوم ڈلیوری والوں کے ہاتھ بھیج دیتے ہیں۔

Read more

چین میں تبدیلی کب اور کیسے آئی؟

ہمارے بڑوں نے جب ڈیفنس فیز ون کراچی میں رئیر ایڈمرل حاجی محمد صدیق پاکستان کے پہلے کمانڈر ان چیف کے سمجھانے پر فیز ون میں ایک پلاٹ خریدا تو خاندان کے غیر عسکری ممبرز نے انہیں سمجھایا کہ اتنے میں تو سنگاپور میں بھی پلاٹ کیا گھر بھی مل جاتا ہے۔ ابوالکلام آزاد کی بات مت سنو مگر جناح صاحب نے یہ کب ضد کی تھی کہ ڈیفنس کراچی میں رہو۔ نہیں مانے۔ بہت بعد میں بستر مرگ پر

Read more

وزیر زادے کی رسوائی

ہمیں تفویض کردہ کام غیر سرکاری تھا، خالصتاً۔ کام سونپنے والے سرکاری افسر بڑے تھے۔ اتنے بڑے کہ گریڈ بائیس میں منڈلاتے تھے۔ سب کی عزت کرتے تھے۔ کا م البتہ ناپ تول کر سوچ سمجھ کر کرتے تھے۔ شیریں گفتار ایسے کہ لگتا تھا جہانگیر ترین نے اپنا چینی کا اسٹاک مہنگا کرنے کے لیے ان کے گلے میں چھپا رکھا ہے۔ درخواست کرنی ہوتی تو ایرانی قالین بن جاتے تھے۔ حکم چلانا ہو تو حجاج بن یوسف کا

Read more

جان لیوا عارضے میں روح پرور معالجے کا تکمیلی احوال

محمد بلال کے رخصت ہوجانے کے بعد سر شام جب ہم جانے والے تھے تو باجی گریس آ گئیں، گوری، دبلی اور سی سی ٹی وی کیمرے کی آنکھوں والی۔ چلتی پھرتی سی۔ آئی۔ اے۔ چند دن قبل اسی وجود ناتواں نے مریض کے لیے اس کے بچپن کے ایک دوست جو وہاں طالب علم تھا اور اس کی بیوی کا کینیڈا سے آنا جانا، ہوٹل میں قیام کے اخراجات دے کر انہیں تین دن کے لیے مریض کی دل

Read more

بیمار کا حال اچھا ہے (کچھ مزید طبی، سماجی اور روحانی مشاہدات)

مریض کی ٹانگ کا بریس کھول کر ڈاکٹر لیزلی نے زخم کا جائزہ لیا۔ کچھ دیر پیر کو گود میں رکھ کر ہلکے ہلکے مختلف سمتوں میں موڑا۔ مریض کو بستر سے سہارا دے کر کمر میں ہاتھ ڈال کرکمرے کے دو تین چکر لگائے۔ نوجوان کا دو ماہ بعد بغیر بیساکھی کے چلنے کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اس دوران وہ ایک منٹ کے لیے بھی مریض کے چہرے کے تاثرات سے غافل نہ ہوئیں۔ زخم کے گرد خشک

Read more

میرا جھوٹا باپ

(روایت در زبان انگلش: پروفیسر شاہ جہاں خان) ہمارے خان صاحب اور ایڈیٹر صاحب میں کئی اقدار مشترک ہیں۔ دونوں وسیع القلب، انسان دوست، خوفناک حد تک آزاد خیال اور ہم عمر ہیں۔ دونوں ہی رات گئے جب ساغر جم کو اپنا جام سفال بنا کر محفل سجا لیتے ہیں تو خان صاحب کا رخ افغانستان کی طرف اور ایڈیٹر صاحب کا رخ امرتسر کی جانب ہو جاتا ہے۔ چاند امائوس کی رات کا ہو کہ سر شاخ صنوبر اٹکا

Read more

روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

گزشتہ نشست میں ہم نے کہا تھا کہ معالجے سے متعلق ہمیں اس عظیم معاشرے (امریکہ) کے چند ایسے پہلو دیکھنے کا اتفاق ہوا جن کو اگر تعصب و ناکامی سے بلند ہوکر دیکھا جائے تو بقول حضرت ذہین شاہ تاجی کے اہل دل کی آنکھ کا سرمہ، شمع کے دل کی ٹھنڈک اور نور دل پروانہ بن سکتے ہیں۔ برا بننے میں دوسروں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ اچھے آپ خود بنتے ہیں۔ کردار سے مثال قائم ہوتی ہے۔

Read more