سگریٹ نوشی میں مبتلا ہمارے بچے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج صبح کچھ سودا لینے محلے کی دکان میں گیا۔ وہاں پہلے سے موجود سکول کی وردی میں دس کے قریب لڑکے جن کی عمریں نو سے بار سال کے قریب ہوں گی، موجود تھے۔ یہ سکول کا بریک ٹائم تھا مجھے یہ دیکھ کے حیرت ہوئی وہ سبھی ہاتھ میں سگریٹ سلگائے ہوئے تھے اور بلا خوف سگریٹ نوشی کر رہے تھے ان کو دیکھ کے سوائے افسوس کے کوئی چارہ نہ تھا اقبال کے شاہینوں کو کچھ کہنے کی جرات ان کے والدین کو نہیں تو میں کہا ان کی محفل کو کچھ کہ کے خراب کرنے کی جسارت کر سکتا تھا۔ ہاں اس سکول کے پرنسپل کو یہ ضرور کہوں گا کہ اقبال کے ان شاہینوں کو بریک کے ٹائم سکول سے باہر جانے نہ دے، یہ ان کا قوم کے اوپر بڑا احسان ہو گا۔

یہ ایک خطرناک صورت حال ہے ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے کم عمر لڑکے سگریٹ نوشی کی لعنت میں مبتلا ہیں سکول ٹائم پارک اور لب دریا خاص کار شہید سیف الرحمان ہاسپٹل کے آس پاس بہت سارے لڑکے سکول یونیفارم میں سگریٹ پیتے نظر آئیں گے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کو اپنا نظام درست کرنا ہوگا۔ صبح سکول آنے والا بچہ کیسے بریک ٹائم سگریٹ نوشی کے اڈوں پہ پہنچتا ہے اس کو ہم ان ادروں کی مجرمانہ غفلت ہی کہ سکتے ہیں۔ آٹھ گھنٹے تو والدین اپنے بچوں کو سکول کے حوالے کر تے ہیں تاکہ علم حاصل کریں لیکن سکول انتظامیہ کو یہ پتہ نہیں ہوتا جو طالب عالم صبح سکول آیا ہے وہ بریک ٹائم کے بعد سکول سے نکلتا ہے اور اوراہ گردی کے بعد چھٹی میں اپنا بیگ اٹھانے آتا ہے

والدین کو بھی چاہیے کہ صرف اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرنا اپنا فرض نہ سمجھیں۔ ان کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مہینے میں کم ازکم دو بار اپنے بچے کے سکول میں جایا کریں کہ ان کا شاہین کی کیا کارکردگی ہے۔ گلگت بلتستان کے تقریباً بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والوں بچوں میں سگریٹ نوشی کا رجحان تشویش ناک حد تک ہے۔ ان تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ مہینے میں ایک ایسا تربیتی پروگرام کروائیں جہاں بچوں کو بتایا جائے کہ سگریٹ نوشی ان کی صحت کے لئے کتنی مضر ہے اور ساتھ اس لعنت سے بچنے کے طریقے بھی بتائیں۔

ملکی سطح پر تو اس لعنت میں مبتلا لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے لکین گلگت بلتستان جہاں بڑی عمر والے بھی چھپ کے سگریٹ پیتے تھے آج کھلے عام کم عمر بچے بھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور شیشہ جیسا نشہ بھی نوجوان نسل میں عام ہوتا جا رہا ہے خاص کار گلگت شہر میں شیشہ جیسے نشے کے تو باقاعدہ اڈے ہیں جہاں نوجوان نسل نشہ کرنے کے لیے جاتی ہے۔ سول سوسائٹی اور حکومت کو چاہیے کہ ان اڈوں کو بند کروائیں۔ جس سکول کے بچے سکول ٹائم میں تمباکو نوشی کرتے ہوئے پکڑے جائیں، اس ادارے پر بھاری جرمانہ کیا جائے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے کم عمر بچوں کو شام کے بعد گھر سے باہر جانے نہ دیں۔ رات کو گھر سے باہر رہنا بھی سگریٹ نوشی کا سبب بنتا ہے۔ ہمارا ملک پاکستان دنیا بھر میں تمباکو نوشی میں دنیا بھر میں سرِ فہرست ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان پندرہ ممالک میں ہوتا ہے، جہاں تمباکو کی پیداوار اور استعمال سب سے زیادہ ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم ”نیٹ ورک فار کنزیومر پروٹیکشن” کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں پانچ لاکھ سے زائد دکانیں اور پان کے کھوکھوں پر سگریٹ بآسانی دست یاب ہے اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ ملک میں روزانہ تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔ یعنی تمباکو نوشی کی جانب قدم بڑھانے والے ہر پانچ میں سے دو کی عمر دس سال ہے۔

ہماری نوجوان نسل تمباکو کی صنعت کا بنیادی ہدف ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم گلوبل یوتھ ٹوبیکو کے سروے کے مطابق اس وقت13.3 فی صد لڑکے اور 6.6 فی صد لڑکیاں (جن کی عمریں 13 سے 15سال ہیں) تمباکو استعمال کرتی ہیں۔ ملک میں تقریباً 160,000 افراد ہر سال تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے مرجاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے تقریباً 40,000 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اپنے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری کاموں میں مصروف رکھنے کے لیے بہت سے نئے صحت مندانہ منصوبے شروع کرے تاکہ یہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت طور پر کام میں لائیں جس سے نہ صرف اُن کی صحت کا معیار بہتر ہوگا بلکہ یہ ملکی ترقی کا باعث بھی ہوگا۔ ہمیں اپنے لوگوں کو مسلسل یہ باور کراتے رہنا چاہیے کہ اپنی زندگی تباہ ہونے سے بچائیں۔ ایک سروے کے مطابق ہمارے ملک میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی عمر کے حساب سے شرح یہ ہے جو اس سے شاید زیادہ ہو۔

19.1 فی صد بالغان (عمر +15 کسی نہ کسی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں) 31.8 فی صد مرد، 5.8 فی صدعورتیں)۔12.4 فی صد بالغان تمباکو نوشی کرتے ہیں۔7.7 ٪ فی صد بغیر دھویں کے تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ 3 فی صد واٹرپائپ استعمال کرتے ہیں (حُقّہ یا شیشہ)۔ نوجوانوں میں (عمر 13–۔15) 10 فی صد تمباکو کی مصنوعات استعمال کرتےہیں (13.3٪فی صد لڑکے۔ 6.6٪فی صدلڑکیاں)7.2 فی صدتمباکونوشی کرتے ہیں اور5.3٪فی صد بغیر دھویں کے تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ نوجوانوں میں جس نے کبھی سگریٹ پی لیا ہو،اُن میں سے40٪فی صدکے قریب نے 10سال سے کم عمر میں پہلا سگریٹ پینے کی کوشش کی ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 4 کروڑ 40 لاکھ ایسے بچے ہیں جو 13 سے 15سال کی عمر میں ہونے کے باوجود تمباکو نوشی کرتے ہیں اور بچّوں کی ایک بڑی تعداد الیکٹرانک سگریٹ کا استعمال بھی کررہی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو اس لعنت سے بچانا ہے۔ میری گلگت بلتستان حکومت سے گزارش ہے وہ گلگت بلتستان میں ایسے سخت قوانین بنائے جس سے تمباکو نوشی کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوسکے ورنہ ہمارے بچے سگریٹ کے دھوئیں کی نذر ہوں گے ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اقبال بجاڑ، گلگت کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments