سندھی ٹوپی اجرک کا دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بارہ برس پہلے سندھی ٹوپی پر ایک جملہ معترضہ کے ردعمل کے طور پر ایک نجی ادارے نے سندھی ٹوپی اور اجرک کا دن منایا تھا۔ بعد ازاں دسمبر کے پہلے اتوار کو سندھی ثقافت کا دن قرار دیا گیا۔ یہ دن اب ایک ثقافتی میلے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس روز سندھ بھر میں تقریبات ہوتی ہیں لوگ سندھی ٹوپی اجرک پہن کر سندھ کے ترانے گاتے ہیں اور لہو گرماتے ہیں۔ اس سال 5 دسمبر کو سارے دنیا کے سندھی مل کر یہ دن منائیں گے۔ یوں تو محبت کے لئے دن مخصوص کرنا لازم نہیں محبت تو آتی جاتی سانس کی مانند ہوتی ہے دھڑکن کی تان پر گائے جانے والا نغمہ ہوتی ہے۔ لیکن دن مقرر کرنے کا مقصد تجدید وفا کرنا ہوتا ہے۔ یاد دلانے کا بہانہ ہوتا ہے کہ اپنی جڑوں سے جڑے رہنا ہے۔

سندھ کی ثقافت گوناگوں رنگوں سے سجی ہے۔ اگرچہ اجرک اور ٹوپی سندھ کی پہچان ہیں لیکن رلی، سوسی، اور سندھی کشیدہ کاری بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ شوخ رنگ ان تمام مصنوعات میں قدر مشترک ہے۔ سندھی ٹوپی رنگین دھاگوں اور انگوٹھی میں جڑے ہیروں کی طرح بے شمار شیشوں سے مزین محرابی ٹوپی ہوتی ہے۔ ماتھے کی طرف محرابی کٹاؤ صرف سندھی ٹوپی کا ہی خاصہ ہے۔ رلی میں رنگین کترنوں کو جوڑ کر دلکش ڈیزائن بنائے جاتے ہیں اور پلنگ پوش یا دلائی کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

سوسی شوخ رنگوں سے بنا دھاری دار کپڑے کا نام ہے جسے خواتین شلوار کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ سندھی کشیدہ کاری میں بھی شیشہ گری کا طلسم نظر کو ذخیرہ کرتا ہے۔ ”ہرمچہ“ سندھی کشیدہ کاری کے مخصوص ٹانکے کا نام ہے جس میں تاگا کئی بھول بھولئیوں سے گزر کر دلربا نقش و نگار میں ڈھل جاتا ہے۔ ٹک یا ایپلک کے میز پوش چادر اور لباس بنتے ہین۔ لڑکپن میں سیکھے گئے یہ سارے ہنر اب بحر نسیاں میں غرقاب ہوچکے ہیں۔ لیکن رہ رہ کے گہر نایاب کی تلاش میں غوطہ زن ہونے کو جی چاہتا ہے۔

اور اب بات کرتے ہیں خاصے کی چیز اجرک کی۔ اجرک سندھ کے علاوہ جنوبی پنجاب، انڈین گجرات اور راجھستان مین بھی استعمال ہوتی ہے۔ ملتانی اجرک نیلے سفید اور سیاہ رنگ سے بنتی ہے لیکن سندھی اجرک میں ان رنگوں کے ساتھ سرخ رنگ نمایاں ہوتا ہے۔ اجرک کہنے کو تو گہرے رنگوں سے بلاک پرنٹ کی ہوئی چادر ہے جسے سندھی مردوں زن اوڑھتے ہیں۔ لیکن سندھ میں روایتی طور پر اجرک سے جو تکریم منسوب ہے وہ اسے سندھی ثقافت کے سدرة المنتھى پر فائز کرتی ہے۔

اجرک سندھ کی پہچان ہے، ناز ہے، عزت کا استعارہ ہے۔ اگر کوئی آپ کو اجرک کا تحفہ دیتا ہے تو جان لیں کہ اپ کو شرف بخشا گیا ہے، عزت مآب گردانا گیا ہے اور خلعت فاخرہ عطا کی گئی ہے۔ اجرک چادر کے طور پر استعمال کریں یا خواتین اپنی قمیض بنا لیں لیکن یاد رہے اجرک کے ساتھ تقدس وابستہ ہے اس لئے اس کپڑے کی شلوار یا پاجامہ نہیں بنایا جاسکتا۔

اجرک صدیوں، قرنوں سے سندھ کے رواج و روایت کا حصہ رہی ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ پانچ ہزار سال قدیم تاریخی ورثے موئن جو دوڑ سے ملنے والے پروہت کے مجسمے کے کاندھے پر پڑی چادر اجرک ہی ہے۔ یہ قیاس اس پر موجود تین پتی اور دائرے والے نمونے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جو اجرک کے ایک ڈیزائن ’ککر‘ سے ملتا ہے۔ اجرک کے دس بنیادی ڈیزائن ہیں جن میں چکی، ککر، حاشیہ، تبلی، جلیب، ول، عشق پیچ، بلو کاشی اور قلمدان شامل ہیں۔

گو کہ آج کل کیمیائی رنگوں سے بھی اجرک بنائی جاتی ہے لیکن اصلی اجرک کی تیاری میں قدرتی اجزا سے حاصل کردہ رنگوں کا استعمال کیا جاتا ہے ان میں نیل، حریر، کیسو پھول، انار کے چھلکے، ببول کی چھال، املی کے بیج، ہلدی، پرانا لوہا اور کتھا وغیرہ شامل ہیں۔ ان سے رنگ تیار کرنے میں ہی کئی روز لگ جاتے ہیں۔ روایتی اجرک کی تیاری طویل اور مشقت آمیز عمل ہے۔ تیرہ مراحل اور چالیس دن کی جاں فشانی کے بعد گوہر مقصود کی صورت نظر آتی ہے۔

یہ اجرک سردی میں حرارت خیز اور گرمی میں خنکی رساں ہوتی ہے۔ اصلی اجرک کی پہچان یہ ہے کہ اس پر دونوں طرف سے یکساں چھپائی ہوتی ہے یعنی الٹا سیدھا نہیں ہوتا اور یہ دو ہاٹ میں ملتی ہے جو پلو سے جڑے ہوتے ہیں۔ اصلی اجرک کی قیمت دو ہزار سے چھ ہزار روپے تک ہوتی ہے۔ جبکہ کیمیائی رنگوں سے بنی اجرک دو سو سے چھ سو روپے میں ملتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں اس نادر روزگار اجرک کی تیاری کے تیرہ مراحل کون سے ہین۔

سب سے پہلے سفید کورا کپڑا لیا جاتا ہے اور اسے پانچ میٹر کے ٹکڑوں میں کاٹ لیا جاتا ہے۔ کلف دور کرنے کی لئے اسے دھو کر سکھا لیا جاتا ہے۔ اب اسے کھمب۔ ( 1 ) کیا جاتا ہے۔ جس میں کپڑے کو چنگیر کی طرح لپیٹ کر سات آٹھ گھنٹے انچ دی جاتی ہے۔ یہ کپڑے کو ملائم کرتا ہے۔ بھاپ سے سیلا ہوا کپڑا دھوپ میں خشک کر لیا جاتا ہے۔ اب ساجھ ( 2 ) کے لئے کپڑے کو اونٹ کی لید، سوڈے اور کڑوے تیل کے آمیزے میں بھگویا جاتا ہے۔ پھر اسے دھو کر کسائی ( 3 ) کے عمل سے گزارا جاتا ہے جس میں ہرن کا تیل، ساکن اور لیموں کے پانی میں بھگویا جاتا ہے۔

اب کپڑا نرم ملائم اور رنگوں کے لئے جاذب ہو چکا ہے گویا کینوس تصویر کشی کے لئے تیار ہے۔ اگلے مرحلے کو ’چھر ( 4 ) ‘ کہتے ہیں۔ شاہ لطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں لڑکیوں کے چھر سیکھنے کا ذکر کیا ہے۔ اجرک کے مصور۔ لکڑی کے بلاکوں سے جنہیں وہ ’پور‘ کہتے ہیں دلکش گل بوٹے اور لہریے تشکیل دیتے ہیں۔ ایک چادر پر 2500 سے 5000 بار ٹھپا لگایا جاتا ہے۔ سیاہ رنگ سے ٹھپے لگانے کو کٹ ( 5 ) کا عمل کہتے ہیں۔ یہ سیاہ رنگ پرانے لوہے کو دس روز تک پانی میں بھگو کر حاصل کیا جاتا ہے۔

سیاہ کے بعد سفید رنگ سے گلکاری کی جاتی ہے اسے پھلی ( 6 ) کرنا کہتے ہیں۔ یہ رنگ ببول اور چن سے بنتا ہے۔ اگلی باری انار کے چھلکے۔ مصری، گڑ، ملتانی مٹی، سے حاصل کردہ سرخ رنگ سے بلاک پرنٹنگ کا ہے۔ رنگوں کے ہنر مند اسے ’کھڑ‘ ( 7 ) کا نام دیتے ہیں۔ رنگ آمیزی کے ہر مرحلے کے بعد بھوسا چھڑکا جاتا ہے تاکہ رنگ اپنی حدود میں ہی رہیں کسی اور کی حد میں دخل اندازی نہ کریں۔ اب نیل ملے پانی سے نتھار کر ( 8 ) دھوپ میں سکھایا جاتا ہے۔

پھر کھلے صاف پانی سے دھویا جاتا ہے اسے وچھڑ ( 9 ) کہتے ہیں۔ اب باری آتی ہے رنگائی ( 10 ) کی۔ بھٹی میں سرخ محلول علیجر میں دو ڈھائی گھنٹے تک پکایا جاتا ہے۔ رنگائی کے بعد تپائی ( 11 ) ہوتی ہے۔ دھوپ میں دراز کپڑے تپش سینکتے ہیں وقتاً فوقتاً ان ہر پانی کا چھڑکاؤ ہوتا ہے۔ تپے ہوئے کپڑے کو مینا ( 12 ) کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔ یوں تو ہر ’پور‘ ہی میں مینا کاری ہے لیکن پھتکری، تھور، ملتانی مٹی اور گڑ سے کشید کیے رنگ سے بلاک پرنٹ کرنے کو مینا کا لقب دیا گیا ہے۔ اور آخر میں سونے پر سہاگہ لگانے یعنی نیل، چن اور ہیڈرو کے گاڑھے محلول میں کئی ڈبکیاں دینے کے بعد جب دریا کے کھلے پانی میں نہلا کر نکالا جاتا ہے تو نظر خیرہ ہوجاتی ہے۔

امیر مینائی کا شعر یاد آ رہا ہے
خشک سیروں تن شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے آک مصرعہ تر کی صورت

لیکن افسوس سیروں لہو جلانے والے یہ مزدور 600 روپے یومیہ سے زیادہ اجرت نہیں پاتے۔ بہت سے کاریگر اپنی آئندہ نسل کو اس کسمپرسی میں نہیں دیکھنا چاہتے اور انہیں کسی اور پیشے کی طرف راغب کرتے ہیں مشینوں پر اجرک کی چھپائی نے قیمت میں زمین و آسمان کا فرق پیدا کر دیا ہے لوگ اصل اور نقل کا فرق نہیں جانتے۔ اور کم قیمت اجرک خریدنا چاہتے ہین۔ رہی سہی کسر کورونا کے معاشی ذبیحہ نے پوری کردی۔ اجرک کا روایتی ہنر زوال کا شکار ہے بہت سے کارخانے بند ہوچکے ہیں۔

ہالہ، مٹیاری۔ بھٹ شاہ، ٹنڈو محمد خان سکھر اور ماتلی میں کچھ کارخانے کام کر رہے ہیں نجی ادارے۔ سٹکو (sinds indigenous and traditional craft company) نے اس گراں مایہ ہنر کو زندہ رکھنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ وہ ہنر مندوں کو مالی مدد فراہم کرتے ہیں، رنگ سازی، بلاک میکنگ اور اجرک میکنگ کے مختلف مراحل پر کورسز کرواتے ہیں ہنرمندوں کی تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کا اہتمام کرتے ہیں۔

سندھ سرکار سے ہماری اپیل ہے کہ اس قدیم روایتی ہنر کو سرکاری سرپرستی عطا کی جائے اسے انڈسٹری کا درجہ دیا جائے اور اس کی ترقی ترویج کے لئے اقدامات کیے جائیں۔

جئے سندھ جیے سندھ وارا جئین
سندھی ٹوپی اجرک وارا جئین


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments