آبشاروں کا شہنشاہ، نیاگرا

پچھلی بار کینیڈا گئے تھے تو دل میں کسک لے کر لوٹے تھے کہ نیاگرا آبشار نہیں دیکھی۔ اس لئے اس بار پہلی منزل ہی نیاگرا تھی یعنی ہوائی اڈے سے سیدھا شہنشاہ نیاگرا کے دربار میں۔ نیاگرا کے مقابل چودہ منزلہ ہوٹل کی بارہویں منزل پر آبشار کے رخ ہمارا کمرہ بک تھا، جہاں سے نیاگرا کا وسیع النظر مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔ ٹورنٹو انٹرنیشنل ائر پورٹ سے نیاگرا کا فاصلہ تقریباً 123 کلومیٹر ہے۔ ٹریفک کا رش نہ

Read more

ٹورنٹو کے جھینگر ٹراتے ہیں

ٹورنٹو کے جھینگر ٹراتے ہیں۔ اب کوئی زبان دان نکتہ چیں کہہ سکتا ہے کہ مینڈک ٹراتے ہیں، جھینگر تو جھنکارتے ہیں۔ اردو میں مختلف جانوروں اور پرندوں کی آوازوں کے لئے لفظ مخصوص ہیں۔ مثلاً گھوڑا ہنہناتا ہے، بندر خوخیاتا ہے، بکری ممیاتی ہے، چڑیا چہچہاتی ہے، کوئل کوکتی ہے، مکھی بھنبھناتی ہے، گلہری چٹچٹاتی ہے، مینڈک ٹراتا ہے اور جھینگر۔ جھنکارتا ہے۔ لیکن صاحب قسم لے لیں ٹورنٹو کے جھینگر ٹراتے ہیں اور وہ بھی کورس میں۔ اگست

Read more

نیل کے ساحل پر کچھ دن اور

ہرم خوفو کے اندرونی حصے کی مہم جوئی کے بعد تجسس تمام ہو چکا تھا۔ یہ تجسس ہی ہوتا ہے، جان لینے کی جستجو، سر کر لینے کی خواہش، جو کسی بھی مہم جو کو مہمیز کرتی ہے۔ بقیہ دو اہرام جن کے بارے میں شنید تھی کہ تنگ تر ہیں، انہیں اندر سے جان لینے کی کوئی جستجو باقی نہ رہی۔ لہذا تانگے بان کو واپس چلنے کو کہا۔ گھوڑے کی ٹاپ اور تانگے کے ہچکولوں نے پیچھے بہت

Read more

نیل کے ساحل پر

مصر کی سیاحت کا پروگرام اچانک سے نہیں بن گیا تھا۔ بہت عرصے سے ہماری مصری سہیلی ترغیب دلاتی رہی تھی۔ ہر سال جب سالانہ رخصت پر جانے کی گھڑی آتی، وہ کہتی۔ ”قاہرہ چلتی ہو؟“ اور 2023 میں آخر ہم نے کہہ ہی دیا ”چلو دلدار چلو“ ۔ وہ ہم سے تین ہفتے پہلے ہی مصر روانہ ہو گئی تھی ہمیں اکتوبر کے پہلے ہفتے میں جانا تھا۔ ہفتے دس دن کے لئے ایک درمیانہ سوٹ کیس کافی تھا

Read more

خالد سہیل صاحب سے ایک ملاقات

محترمہ و معظمہ و مکرمہ جنابہ راحیلہ خان صاحبہ! یہ میری خوش بختی کہ آپ کینیڈا تشریف لائیں اور میری ’ہم سب‘ کے ادبی خاندان کی ایک اور ادیبہ سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے نہ صرف مل کر کھانا کھایا بلکہ ادبی و فلسفیانہ موضوعات پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ دو سال پیشتر میں نے جب ’ہم سب‘ پر آپ کے کالم پڑھنے شروع کیے تھے تو میں ان پر اپنی رائے دینے سے کتراتا تھا۔ مجھے یہ ڈر رہتا

Read more

چیٹک

رومانہ صرف نام کی رومانہ نہیں تھی، پور پور رومان پرداز تھی۔ رومانویت اس کی نس نس میں لہو بن کر دوڑتی تھی۔ لڑکپن میں اماں سے چھپ کر خواتین کے چٹخارے دار رومانوی ڈائجسٹ اور ناول خیال و لاشعور میں انڈیلنے کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ لاشعوری طور پر ہر مقام پہ خود کو ہیروئن کی جگہ پاتی تھی۔ وہ سوچتی کسی دن عشق پیچاں کی بیل سے ڈھکی اونچی دیواروں والے گھر میں رہنے والا ہینڈسم، ذہین،

Read more

شیطانی کاغذ

میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے اس پر مجہول لکھائی میں فرمائشیں لکھی ہوئی ہیں یہ فرمائشیں کسی بچے نے اپنی ماں سے کی ہیں، نہ ہی کسی بہن نے لاڈ سے اپنے بھائی سے طلب کی ہیں، بلکہ خواہشوں اور مطالبات کی یہ طویل فہرست میرے ہونے والے سسرال سے بھیجی گئی ہے پچھلے اتوار تاریخ کی رسم ہوئی ہے۔ چھ ماہ بعد شادی ہونا طے پائی ہے میں باٹنی (نباتیات) میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہوں۔ میرے

Read more

پیا میں چلی

پچھلے کچھ عرصے میں یہ تیسری نوجوان لڑکی کی خودکشی کی خبر سنی تھی آخر کیا ہو گیا ہے ان نوجوان لڑکیوں کو۔ زندگی سے بھرپور ہوتی ہے یہ عمر تو۔ کیوں مایوسی کی اس پاتال میں جا گری ہیں کہ اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھتی ہیں۔ پریانکا تو مڈ وائف تھی زندگی کی آفرینش کا روزانہ قریب سے مشاہدہ کرتی تھی۔ اچھی طرح جانتی تھی کہ زندگی اتنی آسانی سے وجود میں نہیں آتی۔ نو مہینے

Read more

ٹھنڈی بوتل، گرم چائے

صباحت بہت عرصے بعد کراچی جا رہی تھی۔ پوری کی پوری گرمیوں کی چھٹیاں ماموں کے گھر گزارنے کے تصور سے ہی نہال ہوئی جاتی تھی۔ ٹرین کا سفر اسے بہت پسند تھا۔ جب ٹرین سیہون کے قریب پہاڑوں کے بیچ سے گزرتی یا کڑک چھک کڑک چھک کر کے کوٹری کا پل پار کرتی اور وہ کھڑکی سے جھک کر دودھ پتی سے بھرے سندھو دریا کو موجیں مارتے دیکھتی تو دل کا پیالہ سرور سے بھر جاتا تھا۔

Read more

وہ لڑکی کہتی تھی کہ میں بیٹی نہیں بیٹا ہوں

نوے کی دہائی میں پورے کراچی میں شاید وہ واحد لڑکی تھی جو موٹر بائیک اڑائے پھرتی تھی۔ وہ مردانہ شلوار قمیض پہنتی مگر گھنے بالوں کی لمبی چٹیا کمر پر جھولتی تھی۔ معلوم نہیں اس کا رنگ، دھوپ اور دھول نے جھلسایا تھا یا حالات کی بھٹی میں تپ کر تانبا ہوا تھا۔ وہ بات چیت میں مونث کا صیغہ استعمال کرتی تھی مگر رویے میں بالکل مردوں کی طرح تھی سخت گیر، حاکمانہ اور سنگدل۔ مرد بھی اس

Read more

صفدر صوفیہ کیسے بنی؟

ہاسٹل الاٹمنٹ کی لسٹ لگ چکی تھی۔ عروج رش میں اچک اچک کر اپنا نام تلاش کر رہی تھی۔ آخر اسے نظر آگیا۔ ۔ لیکن یہ کیا ؟ وہ ٹھٹک کر رہ گئی۔ اسی کمرے میں دوسرے الاٹی کا نام صفدر شیخ درج تھا۔ عروج نے سوچا شاید ٹائپنگ کی غلطی ہو،کوئی ہ لگنا رہ گیا ہو،لیکن صفدر ایک خالص مردانہ نام تھا جسکی تانیث رائج نہیں تھی۔ تو پھر کیا اس یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم کے ساتھ مخلوط رہائش

Read more

سات ہزار کی لپ اسٹک

ٹی وی پر مارننگ شو چل رہا تھا۔ بشرہ گھر کی صفائی نبٹا کر اگلے تین چار گھنٹوں کے لئے ٹی وی کے سامنے دھرنا دے چکی تھی۔ دو کمروں کے گھر کی صفائی میں وقت ہی کتنا لگتا ہے۔ اماں کام پر جاتے ہوئے کہہ گئی تھیں، مسور کی دال چاول پکا لینا۔ مسور کی دال ایک بھاپ میں گل جاتی ہے۔ بس ایک بجے اٹھ کر چڑھا دے گی۔ ایک چولھے پر دال، ایک پر چاول۔ چھوٹے بہن

Read more

بے حیائی کی حد

فاروق احمد نے تو بے حیائی کی حد ہی کردی تھی۔ جوان بیٹے، بہو اور بیٹیوں کے ہوتے ہوئے نکاح ثانی کی خواہش کا اظہار کر کے بڑھاپے میں اپنی اور خاندان کی عزت کا جنازہ ہی نکال دیا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ مرد کی عزت، لڑکی بالی کی طرح ململ کی چنری نہیں ہوتی کہ کانٹوں بھرے رواجوں سے تار تار ہو جائے، لیکن پھر بھی کچھ حدود و قیود کا خیال تو مردوں کو بھی رکھنا پڑتا

Read more

چلغوزے کا فراموش

جانے یہ لفظ کھڑی بولی (دلی کی بولی) سے آیا یا پڑی بولی (لکھنو کی بولی ) سے، لیکن قدیم اردو میں بھی اس کے استعمال کے شواہد ملتے ہیں۔ کبھی کبھار پھل خریدتے ہوئے آپ نے دو پھل جڑے ہوئے دیکھے ہوں گے ایسے جڑواں پھل کو فراموش کہتے ہیں۔ فراموش سے جڑی ایک دلچسپ رسم ”یاد فراموش یا چناغ“ ہے۔ فریقین میں طے پاتا ہے کہ جب کسی فریق کو جڑواں پھل دیا جائے اور اس سے پہلے

Read more

خدایان دین کو بلاؤ

اس کا نام حاجرہ تھا۔ ہاں ; یہی اصلی نام تھا اس کا۔ جب سماج کو لاج نہیں آتی اس پر ظلم کرتے ہوئے تو میں کیوں فرضی نام کے پیچھے اس ظلم کی پردہ داری کروں۔ وہ صرف بارہ یا شاید تیرہ برس کی تھی جب اسے اپنے چچا کی جان بچانے کے لئے رب نواز کے حوالے کیا گیا تھا۔ مارئی کا خون اس کے چچا نے نہیں کیا تھا یہ خون تو مارئی کے اپنوں نے کیا

Read more

حادثہ

وہ مجھے بہت یاد آتا ہے۔ ہر گھڑی، ہر لمحہ؛ اس کی شوخ نظریں، اس کی وارفتگی، بے قراری، التفات، شرارتیں کیا کیا بھلاؤں، کیسے بھلاؤں۔ انیقہ ماہر نفسیات ڈاکٹر آفریدی کے سامنے بیٹھی اپنی بپتا سنا رہی تھی۔ وہ ایک شادی شدہ عورت تھی۔ اس کا شوہر عاطف متوسط طبقے کے اور مردوں کی طرح صبح اٹھ کر کام پر چلا جاتا، شام کو آتا، کھاتا پیتا اور پڑ کے سو جاتا۔ چھٹی کا دن ہفتے بھر کی تھکان

Read more

استقلال ۔ ایک فیمیل یورولوجسٹ کی کہانی

استقلال کا نام جتنا انوکھا تھا اتنی ہی انوکھی وہ خود تھی۔ بھلا کیا سوجھی تھی اسے یورولوجسٹ بننے کی۔ لڑکیاں گائناکالوجسٹ یا پیڈیاٹریشن بنتی ہیں یا پھر ڈرماٹولوجسٹ یا سونولوجسٹ، لیکن استقلال نے۔ ایم بی بی ایس کے بعد یورولوجی میں ہاؤس جاب کیا اور پھر اسی شعبے میں ریزیڈنسی جوائن کرلی۔ شہر کے سب سے بڑے ہسپتال کے یورولوجی ڈپارٹمنٹ میں بس وہی ایک خاتون ریزیڈنٹ تھی۔ مردوں کے شانہ بشانہ دن اور رات کی ڈیوٹیاں بھگتانے میں

Read more

ٹھرک – دل پھینک عاشق سے مبلغ تک

”تم دھوپ کا چشمہ نہ پہنا کرو“ اشعر بھائی گہری نظروں سے دردانہ کو تاڑتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ ”کیوں بھلا“ ۔ دردانہ اٹھلائی۔ ”سوا نیزے پر سورج ہوتا ہے اس جہنمی شہر میں۔ سیدھا آنکھ کی پتلی میں گھستا ہے“ ”تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں انہیں یوں سیاہ شیشے کے پیچھے چھپا لینا ظلم ہے“ ۔ اشعر بھائی نے ہماری موجودگی کو بالکل خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے جذبات کی ترجمانی جاری رکھی۔ دردانہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔

Read more

اپنوں نے ہی چھینا تھا برقع میرا

یہ کرناٹک ہندوستان کے کسی کالج کا نہیں بلکہ وطن عزیز ہی کے ایک میڈیکل کالج کا قصہ ہے۔ اور کوئی سنی سنائی نہیں بلکہ راقمہ پر بیتی ہے۔ میرے دادا کبیر خان ایک مطلق العنان حکمران کی مانند تھے ان کے آگے کسی کی دم مارنے کی ہمت نہ تھی ایک بس میں تھی جو ان کی خاص محبت کا فائدہ اٹھا کر اپنی منوا لیتی تھی۔ میڈیکل کالج میں داخلے کا وقت آیا تو دادی کا اعتراض تھا

Read more

میں چپ نہیں رہوں گی

مجھے شراب اور شراب پینے والے دونوں سے نفرت ہے۔ شراب پی کر انسان اشرف المخلوقات کے درجے سے لڑھک کر قعر معزلت میں آ گرتا ہے۔ حیوان سے بدتر ہوجاتا ہے۔ پدر سری معاشرے کا مرد تو یونہی خود کو مختار کل سمجھتا ہے اس دختر رز کے خمار میں تو فرعون ہی بن جاتا ہے۔ میں نے یہ فرعونیت اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ میری خالہ مراد بی بی کے اوپر قہر ڈھاتی بربریت، میری بڑی بہن نازاتون

Read more

پوشیدہ چوٹ: عضو مخصوص کا فریکچر

یورولوجی ڈپارٹمنٹ کے تمام ڈاکٹر چائے کے کمرے میں بلقیس آپا کے ہاتھ کی بنی ہوئی خوشبودار کڑک چائے کا لطف اٹھا رہے تھے۔ بلقیس آپا کے باتھ کی چائے میں جو مزہ تھا وہ کہیں اور ملنا محال تھا۔ ٹرینی ڈاکٹر ردابہ نے ایمپریس مارکیٹ کی اسی دکان سے چائے کی پتی خریدی جہاں سے بلقیس آپا لایا کرتی تھیں مگر مجال ہے جو ان جیسی چائے کا ذائقہ حاصل ہو، ایسی چائے کہ ایک پیالی سے سیری نہ

Read more

ممی خالہ

نام تو ان کا زہرہ نگاہ تھا لیکن زمانے بھر میں وہ ممی خالہ کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ سندھی مسلم سوسائٹی کے ایک پرانی طرز کے بڑے سے بنگلے میں چوڑی چکلی ممی خالہ تنہا رہتی تھیں۔ دس سال پہلے ان کے میاں کسی بیماری کا شکار ہو کر لقمہ اجل ہو چکے تھے۔ ان کا واحد لے پالک بیٹا امریکہ میں بود و باش اختیار کیے ہوئے تھا اور سال میں ایک بار بھی پاکستان آنا گوارا

Read more

سندھی ٹوپی اجرک کا دن

بارہ برس پہلے سندھی ٹوپی پر ایک جملہ معترضہ کے ردعمل کے طور پر ایک نجی ادارے نے سندھی ٹوپی اور اجرک کا دن منایا تھا۔ بعد ازاں دسمبر کے پہلے اتوار کو سندھی ثقافت کا دن قرار دیا گیا۔ یہ دن اب ایک ثقافتی میلے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس روز سندھ بھر میں تقریبات ہوتی ہیں لوگ سندھی ٹوپی اجرک پہن کر سندھ کے ترانے گاتے ہیں اور لہو گرماتے ہیں۔ اس سال 5 دسمبر کو

Read more

میری محبت کا مربع

محبت کی تکون تو آپ نے سنی ہوگی لیکن میری کہانی میں محبت کا مربع ہے۔ محبت کی تکون میں تین کردار ہوتے ہیں لیکن میری کہانی کے اسٹیج پر ایک کردار دو بار نمودار ہوا اس لئے میں اسے محبت کا مربع کہتی ہوں۔ یہ کیونکر ہوا اس کے لئے مجھے اپ کو پوری کہانی سنانی پڑے گی۔ شروع تو یہ کہانی محبت کی تکون سے ہی ہوئی تھی وہی دو مرد اور ایک عورت کی تکون۔ ہم تینوں

Read more

جدوجہد کے بائیس سال

29 اکتوبر کو جدوجہد کے بائیس سال مکمل ہوئے۔ شادی شدہ زندگی ایک جہد مسلسل ہی تو ہے۔ اجنبی شخص، اجنبی ماحول، اجنبی عادات میں ڈھلتے، گرتے سنبھلتے، جیسے دلدل میں قدم جما کر آگے بڑھنا، جیسے طوفان باد و بہاراں میں نیا ہار لگانا، ہر دم نیا الٹنے کا دھڑکا، ہر دم ڈوبنے کا ڈر، کوئی آسان ہے سہاگن کا تاج سر پر سجائے رکھنا۔ شادی ایک شخص سے نہیں ایک کنبے سے ہوتی ہے۔ ایک مائنڈ سیٹ سے

Read more

اجیرن زندگی

عاشر کورونا کا شکار ہوکر آئی سی یو میں داخل تھا۔ مصنوعی تنفس کی مشین اور الا بلا نلکیوں میں جکڑا ہوا بے بس عاشر ہرگز اس عاشر جیسا نہیں دکھتا تھا جو خود کو فرعون سمجھتا تھا جس نے فرناز کی زندگی جھنم سے زیادہ اذیت ناک بنا رکھی تھی۔ عاشر کی والدہ سیاہ عبایے میں لپٹی، انتظار گاہ کی بنچ پر بیٹھی مسلسل تسبیح پڑھے جارہی تھیں اور اپنے بیٹے کی سلامتی کی دعا کر رہی تھیں۔ لیکن

Read more

بارش میں سفر (suffer)

مشکبار خوشحال ایکسپریس کی اوپر والی برتھ پر گویا گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی۔ ایک دو بار آنکھ کھلی اور اس نے جھک کر کھڑکی سے باہر کا نظارہ کیا، کھڑکی کے چوکھٹے میں رات کی سیاہی اجالے میں تبدیل ہوتے دیکھی اور کروٹ بدل کر سو گئی۔ اب کی بار جو آنکھ کھلی اور اس نے برتھ سے منہ لٹکا کے کھڑکی کی طرف دیکھا تو منظر وہی پچھلی بار والا تھا۔ کچھ اچنبھا تو ہوا مگر نیند

Read more

دوسرا ووٹ میرا نہیں تھا

کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہو گئے۔ بیالیس کنٹونمنٹ کی دو سو چھ نشستوں کے لئے اکیس لاکھ ستانوے ہزار چار سو چوالیس ووٹر کا اندراج تھا جن میں خواتین کی تعداد دس لاکھ تینتالیس ہزار ایک سو نوے تھی تقریباً اتنی ہی جتنے مرد تھے۔ ہر الیکشن پر ہمارے ذہن میں ایک ہی سوال اٹھتا ہے۔ کیا الیکشن کے نتائج واقعی ووٹرز کی ذاتی رائے ہوتی ہے یا یہ محض ہندسے ہوتے ہیں جن کے حصول میں اہلیت سے زیادہ

Read more

بابا بھٹ اور شمس پیر جزیروں پر آباد عورتوں کے طبی مسائل

جزیرے کا لفظ سنتے ہی آپ کے تصور میں کیا آتا ہے؟ پام کے درختوں سے گھری چمکتی سنہری ریتلی زمین اور نیلگوں پانی جس میں کوئی گوری پاؤں بھگوئے تو ناخن کا گلابی پن تک صاف دکھائی دے۔ بس کچھ ایسا ہی تصور لئے میں اس سرخ کشتی میں سوار ہوئی تھی جو کیماڑی سے بھٹ جزیرے کو جا رہی تھی۔ ایک فلاحی تنظیم نے فارماسیوٹیکل کمپنی کے تعاون سے بھٹ اور بابا جزیروں کے باشندوں کے لئے مفت

Read more

چودھویں کا چاند یا کھیر کا پیالہ

پتلی دبلی شہر بانو کے ماں باپ بنگالی تھے پر وہ خود کو پاکستانی کہتی تھی۔ وہ کراچی میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی اور یہیں بیاہی گئی۔ جب کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم بنگالیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو اس کے والدین بنگلہ دیش لوٹ گئے مگر شہر بانو یہیں لائنز ایریا میں مقیم رہی۔ وہ پی ای سی ایچ سوسائٹی کے مختلف گھروں میں کام کرتی تھی۔ کام میں وہ بڑی پھرتیلی تھی ذرا سی

Read more

نور پر کس کا حق تھا

بورے والا کے ایک مکان میں بچے کی پیدائش پر خوشی کے بجائے سوگ کا سماں تھا۔ وزیر علی ننگے پیر ایک دیوار سے دوسری دیوار تک لیفٹ رائٹ کر رہا تھا اس کی بیوی ثریا کونے والے پلنگ پر سر جھکائے بیٹھی تھی جیسے سارا قصور بس اسی کا ہے۔ تینوں بیٹیاں سہمی ہوئی ماں سے چپکی ہوئی تھیں۔ صورتحال کا مرکزی کردار نوزائیدہ پنگھوڑے میں بے خبر سو رہا تھا۔ یہ وہی پنگھوڑا تھا جس میں اس کی

Read more

گلیات میں اک گھر بنایا چاہیے

ہفتہ بھر گلیات میں کیا گزار کر آئے گویا دل وہیں چھوڑ آئے۔ گلیات کا قدرتی حسن اپنے پورے جوبن کے ساتھ یوں آپ کی حسیات پر طاری ہوتا ہے کہ بربط دل سے عشق کے نغمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ ارض حسین کا عشق، خالق کا عشق، الوہیت کا عشق۔ اسلام آباد کے ایک گیسٹ ہاؤس میں شب بسر کی۔ اسلام آباد کے ایک دوست نے ڈونگا گلی کے ہوٹل میں بکنگ کرا دی تھی اور گاڑی مع ڈرائیور کم

Read more

گرو عاشی کا ریٹائرمنٹ ہوم

بے ڈھنگے میک اپ سے لتھڑے چہرے، مردانہ جسامت اور نسوانی حرکات و سکنات، کبھی کسی سگنل پر چند پیسوں کی قیمت پر دعائیں بیچتے ہوئے، کسی شادی کی تقریب میں رقص کناں، کہیں لڑکے کی پیدائش پر بدھائی کے گیت گاتے ہوئے اور کبھی زمانے کی نظروں سے چھپ کر کسی امیر زادے کی کار میں سوار ہوتے ہوئے، اپ نے کہیں نہ کہیں انہیں ضرور دیکھا ہوگا۔ لوگ انہی ہیجڑا، کھسرا، مورت جیسے لفظوں کے بھالے مار کے ان کا کلیجہ چھلنی کرتے ہیں لیکن یہ پھر بھی ہنستے رہتے ہیں، ناچتے گاتے رہتے ہیں۔

Read more

ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں

ساحر لدھیانوی نے یہ نظم بیسواؤں کی بے کسی پر لکھی تھی لیکن 14 اگست کو مینار پاکستان کے سائے تلے ایک خاتون کی بے کسی تو بیسواؤں سے بھی سوا تھی۔ وہ تو کسی بند دروازے کے پیچھے کسی چار دیواری میں روندی جاتی ہیں پرچم رنگ لباس میں لپٹی اس خاتون کو تو ہزاروں کے مجمعے میں بے حرمت کیا گیا۔ نہ ماہ محرم کی حرمت کسی کو یار رہی، نہ 14 اگست روز تجدید عہد، نہ مینار پاکستان کا تقدس۔

Read more

میڈم زبیری ماہ رخ سے جلتی ہیں

محبت کی منزل قریب تھی۔ بس کچھ ہی دن باقی تھے پھر وہ اور جمیل ایک ہوجائیں گے۔ محمود آباد کی ماہ رخ دو کمروں کے گھر کے چھوٹے والے کمرے میں لکڑی کے پرانے صوفے پر بیٹھی آنے والے دنوں کے سپنوں میں گم تھی۔ دوسرے کمرے میں، جو ڈرائنگ/ڈائننگ/اسٹڈی/بیڈروم کے کثیر المقاصد استعمال میں آتا تھا، جمیل کے گھر والے سترہ اٹھارہ لوگوں کے ساتھ شادی کی تاریخ لینے آئے ہوئے تھے۔ برآمدے میں غریب آباد کی سیکنڈ

Read more

خواجہ سرا نایاب علی۔ گوہر نایاب ہو تم

1913 میں ایلینر پورٹر کا بچوں کے لئے تحریر کردہ ناول ’پولیانہ‘ شائع ہوا۔ پولیانہ ایک خوش گمان اور رجائیت پسند بچی کا کردار ہے جو منفی واقعات و حالات میں بھی مثبت پہلو تلاش کر لیتی ہے اسے وہ glad game کا نام دیتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ پورے قصبے کو اس کھیل کا شائق بنا لیتی ہے اور اس عمل سے وہ اپنے قصبے کے لوگوں کی زندگی میں امید اور مسرت کا مثبت تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ 1970 میں دو محققین مٹلن اور اسٹانگ (Matlin and Stang) نے اس مثبت انداز فکر (positive bias) کو پولیانہ پرنسپل کا نام دیا۔

Read more

ایک بارش، دو آسمان

سفینہ G 7 اسلام آباد کے ایک فلیٹ کی بالکونی میں کھڑی موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ اسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ سورج کی کرنیں کسی کمزور بادل کو دھکیل کر چند لمحوں کے لیے عنان سنبھالنے کی سعی کرتیں لیکن پھر کوئی سیاہ ابر کا ٹکڑا دریچے سے جھانکتی پردے دار بی بی کی مانند سورج کے آگے چلمن کھینچ دیتا۔ مشرقی افق پر بادل بہت گہرے اور سیاہ تھے۔ وہاں کبھی کبھار آسمانی بجلی سنپولیے

Read more

عید قرباں

عید الاضحی میں چند ہی دن رہ گئے تھے قربانی کے لئے میرا سفید بکرا آ گیا تھا جس کے پیروں پر جرابوں کی طرح کتھئی رنگ تھا۔ دم کی پھننگ اور گردن پر بھی کتھئی رنگ کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے۔ میاں جی بکرے کی آرائشی اشیاء ساتھ لائے تھے۔ صاحبزادے نے سرخ اور سبز دھاگے اور سیاہ موتیوں والا کنٹھا گلے میں ڈالا اور چاروں پیروں میں انہی دھاگوں میں گتھے ہوئے چھوٹے چھوٹے گھنگرو باندھ دیے۔ جب

Read more

ہم امتیاز ساحل و طوفاں نہ کرسکے

مجھے جینے کی کوئی خواہش نہیں لیکن میرے ڈاکٹر مجھے مرنے نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں زندگی ایک امانت ہے اور اسے اپنے ہاتھوں تلف کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں مگر میرے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیتے کہ کسی کو کیوں یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ ہمیں جیتے جی مار دے پھر سانسوں کا یہ بوجھ بھی ہم کیوں اٹھائیں۔ کبھی کبھی ندامت اور پچھتاوے کا احساس مجھے کچوکے لگاتا ہے، ڈستا ہے۔ کاش میں احمر کو یوں آگے نہ بڑھنے دیتی کاش میں جان پاتی کہ دامن چھڑانا دامن بچانے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

میرا نام فلک ہے۔ احفاظ مجھے فلکی کہہ کر پکارتے تھے۔ تھے اس لئے کہ اب تو ایک دوسرے کو پکارنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ کام کی بات کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں ہوتی۔

Read more

درد تو اچھا ہوتا ہے

درد سے ہمیں ہمدردی ہے۔ درد بے چارا پاکستانی فلموں کے ولن کی طرح ہر دم مطعون اور ملعون گردانا جاتا ہے۔ بس کچھ جو سمجھے تو خواجہ میر درد اسے سمجھے اور اپنا تخلص ”درد“ فرما کر اسے توقیر عطا فرمائی یا پھر شان الحق حقی نے درد کو لذت سے معمور کیا۔ کہتے ہیں لذت درد سے آسودہ کہاں دل والے ہیں فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے لیکن آج ہم ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ

Read more

جنرل سرجن اور چائے کی پیالی

میں ایک جنرل سرجن ہوں۔ میرا نام ڈاکٹر نوشاد ہے۔ نوشاد یعنی شاداں و فرحاں۔ نام کا مجھ پر اچھا خاصہ اثر ہے، میں ہر حال میں شادمان رہتا ہوں۔ جنرل سرجن پڑھ کر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میری پانچوں انگلیاں گھی میں ہوں گی لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہنوز دلی دور است۔ ٹکسالی سرجن بننے کی تمنا بیتاب ضرور ہے مگر اس کے لئے بڑی صبر طلب عاشقی کرنی پڑتی ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اور

Read more

لاک ڈاؤن

جھلسا دینے والی گرمی پڑ رہی تھی عارفہ گھر سے نکلتے ہوئے جوس کی ٹھنڈی بوتلیں ساتھ رکھ لیتی اور دھوپ میں کام کرنے والے مزدوروں میں تقسیم کرتی جاتی۔ لیکن پہلے ان کا نام پوچھ کر تسلی کر لیتی کہ وہ ہندو تو نہیں۔ یوں اپنی نیکی کو اس نے تعصب کا لبادہ اوڑھا دیا تھا۔ اس روز بھی وہ دلی کے پرانے محلے سے گزر رہی تھی کہ ایک بوڑھے مزدور کو دیوار سے ٹیک لگائے دیکھ کر گاڑی روکی۔ نام پوچھا تو اس نے رامو نام بتایا۔ عارفہ نے گاڑی آگے بڑھا دی۔

گھر پہنچ کر وہ کام کاج میں لگ گئی پر نہ جانے کیوں آج عارفہ کے دل کو عجیب بے کلی تھی بار بار دیوار سے ٹیک لگائے رامو کا چہرہ اس کی نظروں میں آ رہا

Read more

کیا میں ٹربل میکر تھی؟

حکم ملا تھا کہ میں اور ڈاکٹر نیلم شاہ میڈم کے دربار میں حاضر ہوں۔ میں جانتی تھی کہ ہمیں کس لئے طلب کیا گیا ہے لیکن ڈاکٹر نیلم شاہ کی موجودگی سے دل کو ڈھارس تھی کہ معاملہ تھوڑی بہت ڈانٹ ڈپٹ سے آگے نہیں بڑھے گا آخر ڈاکٹر نیلم شاہ ایک قد اور سیاسی شخصیت کی صاحبزادی تھیں۔ ”تم واقعی ٹربل میکر ہو جب سے تم اس ڈپارٹمنٹ میں آئی ہو عجیب و غریب واقعات ہونے لگے ہیں۔“

Read more

دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے

نو دن تک ہم وینکوور کی خاک چھانتے رہے یا شاید یہ ترکیب لفظی ٹھیک نہیں، وہاں تو خاک دیکھی ہی نہیں ہم نے۔ صاف ستھری گلیاں، بازار اور ساحل۔ کانگریس کے مندوبین واپس جا چکے تھے مگر ہم ابھی تک وینکوور میں تھے۔ کینیڈین ہمسفر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ہم نے بینف کے لئے بس کا ٹکٹ لے لیا تھا۔ بینف (Banff) روکی ماؤنٹین کے دامن میں واقع البرٹا کا مسحورکن سیاحتی مقام ہے۔ یہ خوبصورت شہر

Read more

دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے

”میں نے سنا ہے پاکستان میں عورتوں پر بہت پابندی ہے۔ وہ تو اسکول بھی نہیں جا سکتیں۔ چہ جائیکہ بیرون ملک تنہا سفر۔“

ہم نے رسان سے کہا ”پاکستان میں خواتین کا ملک میں اہم کردار رہا ہے۔ 1956 سے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ خواتین اہم عہدوں پر فائز ہیں جن میں وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی۔ قاعد حزب اختلاف۔ پارلیمانی ممبران، وزرا، سفراء۔ ڈاکٹر جج۔ پولیس افسر اور مسلح افواج میں کمیشنڈ افسر بھی شامل ہیں۔ محترمہ بے نظیر کا نام تو آپ نے سنا ہی ہو گا میجر جنرل شاہدہ ملک اور جسٹس ناصرہ اقبال کے نام بھی آپ گوگل پر سرچ کر سکتی ہیں۔

Read more

کٹو (kittu) کی کہانی

فارسی کی کہاوت ہے ”غم نہ داری بز بخر“ یعنی اگر غم نہ ہو تو بکری خرید لے۔ پریم چند نے اسی عنوان سے ایک افسانہ لکھا تھا جس میں بکری خرید کر غم پالنے کی کتھا سنائی ہے۔ ناہید نے اپنے دادا سے موقع بہ موقع یہ کہاوت سنی تھی لیکن کسی نے بھی انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ بلی پالنا بھی مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بلی کو ہمیشہ مسکین، معصوم، بے ضرر، ٹانگوں سے

Read more

نہ شکل نہ فیملی نہ اسٹیٹس

میرے سامنے والی کھڑکی میں اک چاند کا ٹکڑا رہتا ہے زہرہ جبیں نے حسب معمول ٹیپ ریکارڈر پر اونچی آواز میں یہ نغمہ چلایا ہوا تھا۔ آواز اتنی اونچی تھی کہ اس کا آنگن اور درمیان کی چھ فٹ کی گلی کو پھلانگتی رامس کے کمرے کی کھڑکی سے گزر کر دالان تک دندناتی گھس آئی تھی۔ ہر روز بلا ناغہ یہ نغمہ دن میں ایک بار تو ضرور ہی بجتا۔ بادی النظر میں تو یہی لگتا کہ زہرہ

Read more

نیپیئر روڈ کی چمن آرا اور کافی ہاؤس اولڈ ہوم

کافی ہاؤس اولڈ ہوم میں بھونچال آ گیا تھا۔ عورتیں سرگوشیوں میں ایک دوسرے سے ایک ہی بات کہتی پھر رہی تھیں ”یہ نہیں برداشت کیا جا سکتا“ ۔ مردوں کا ملا جلا ردعمل تھا۔ کچھ اس صورتحال سے محظوظ ہو رہے تھے بلکہ ایک من چلے نے تو یہاں تک کہ دیا تھا کہ روم سروس مل جائے تو کیا برا ہے۔ کچھ کانوں کو ہاتھ لگاتے کہتے آخری عمر میں اللہ فتنہ گری سے بچائے لیکن دل میں

Read more

امارات میں عمان اور عمان میں امارات

شوخ سرخ، پیلے اور ہرے رنگ سے رنگی لکڑی کی خوبصورت روسی گڑیاں ( matryoshka dolls) میری بیٹی کی سہیلی اس کے لیے روس سے لائی تھی۔ روسی دستکاری کا نمونہ، روایتی لباس پہنے اس چوبی گڑیا کی گردن مروڑو تو سر علیحدہ ہوجاتا ہے اور اندر سے ایسی ہی اس سے چھوٹی گڑیا نکلتی ہے، اور اس کے اندر ایک اور، پھر ایک اور۔ یوں پانچ سے سات گڑیاں ایک بڑی گڑیا میں سمائی ہوتی ہیں روسی روایت کے

Read more

مسقط اور قرنقشوہ کا تہوار

آج سے ٹھیک بارہ برس پہلے رمضان ہی میں ہم پہلی بار مسقط کی زمین پر اتارے گئے تھے۔ اتارے گئے اس لئے کہ مسقط آنے کا کوئی سوچا سمجھا پلان نہیں تھا۔ حالات نے کچھ ایسی کروٹ لی کہ دل اوبھ گیا۔ ایک روز ناشتے پر اخبار پڑھتے ہوئے عمان میں ڈاکٹر کی ضرورت کا اشتہار دیکھا تو انشا جی کا یہ شعر جانے کیوں یاد آیا

ہو جائیں گے پردیس میں جا کر کہیں نوکر
یاں سال میں اک بار بھی آیا نہ کریں گے

ایک درخواست ارسال کر دی۔ خوبیٔ قسمت انتخاب ہو گیا۔ چچا جان کو بتایا تو عجیب سا سوال کیا۔ ”تم مسقط جاؤ گی یا عمان“ ۔
ہماری معلومات کے مطابق مسقط عمان کا دارالخلافہ ہے اور یہ سوال ایسا ہی تھا جیسے کوئی پوچھے اسلام آباد جاؤ گے یا پاکستان۔

Read more

حمل خارج الرحم (Ectopic pregnancy) جان لیوا ہو سکتا ہے

فون پر میرے کزن کی گھبرائی ہوئی آواز نے تو مجھے بھی گھبرا دیا۔ وہ نارتھ ناظم آباد کے نجی اسپتال سے کال کر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ ماریہ کو دو دن سے پیٹ کے نچلے حصے میں ہلکا ہلکا درد تھا۔ آج اس درد نے شدت اختیار کر لی۔ پھر آنکھوں کے آگے اندھیرا آنے کی شکایت کی اور پھر سانس میں تکلیف شروع ہو گئی۔ وہ لمبے لمبے سانس لینے کی کوشش کر رہی ہے مگر سانس نہیں آ رہا۔ اس سے پہلے اسے دمے کی شکایت نہیں تھی۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں ایکٹوپک ہے، فوری طور پر بڑا آپریشن کرنا پڑے گا۔ کیا واقعی آپریشن کی ضرورت ہے؟

میں نے اس سے کہا ایک لمحہ ضائع کیے بغیر آپریشن کے اجازت نامے پر دستخط کر دے۔ اگر فوری آپریشن نہ کیا گیا تو جان جانے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ آخری جملہ میں نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا۔ مجھے جلد سے جلد نارتھ ناظم آباد پہنچنا تھا۔

Read more

نسوانی جنسی سرد مہری (frigidity)

کمرے میں گلاب اور مہندی کی ملی جلی مہک رچی تھی۔ پردوں کے بیچ سے سورج کی کرن اندر گھس آئی تھی اور فضا میں موجود غیر مرئی ذرات کو ایک دمکتی مخروط میں بدل دیا تھا۔ سیماب نے دمکتے ذروں سے نظر ہٹا کر پہلو میں بے خبر سوتے ہوئے ارسلان کو دیکھا۔ ”تو یہ تھی سہاگ رات جس کا چرچا تھا زمانے میں“ ”مایوس کن۔“ اس نے ایک گہری سانس لی۔ اسے تو کسی لطف اور سرشاری کا

Read more

سالگرہ کا تحفہ

ہ پارہ کو اچانک خیال آیا کیوں نہ سالگرہ پر یہ وائرلیس بلو ٹوتھ ہیڈ فون ہی دے دیں۔ کامیڈی ویڈیوز کی سمع خراشی سے بھی نجات ملے گی۔ وہ ہاتھ میں اٹھا کر جائزہ لینے لگیں۔ بے شمار خصوصیات اور قلیل مدتی پیشکش کی تکرار سے متاثر ہو کر وہ لینے ہی لگی تھیں کہ سیلزمین کے ایک فقرے پر ٹھٹک گئیں۔ وہ کہہ رہا تھا ”اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نوائز فری ہے“

”مطلب؟“
”، مطلب یہ کہ صرف آپ کی آواز کالر تک جائے گی بیک گراؤنڈ آوازیں نہیں“

Read more

کوڑے دان میں سوٹ کیس

کوٹری کے مقام پر دریائے سندھ پر ایک 900 میٹر لمبا بیراج ہے جسے غلام محمد بیراج کہا جاتا ہے عام لوگ اس جگہ کو کوٹری کا پل کے نام سے پہچانتے ہیں جو دریا کے ایک کنارے کو دوسرے کنارے سے متصل کرتا ہے۔ دریا کنارے لوگوں کے کچے پکے گھر ہیں جب دریا چڑھتا ہے تو پانی گھروں میں در آتا ہے لوگوں کی مال متاع برباد ہو جاتی ہے مگر جب پانی اترتا ہے تو پھر یہیں

Read more

نیرنگی آدم کو کھلے دل سے قبول کیجیے

میں اپنے موبائل فون کی فوٹو گیلری میں یونہی سرفنگ کر رہی تھی کہ نظر ایک تصویر پر ٹک گئی۔ اس تصویر کو دیکھ کر بے اختیار مسکراہٹ لبوں پر پھیل گئی۔ ہم چار سہیلیاں ایک قطار میں کھڑے کیمرے کی آنکھ میں جھانکتے ہوئے مسکرا رہی تھیں۔

چاروں ایک دوسرے سے قطعی مختلف بلکہ ذرا غور سے دیکھیں تو دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں ایک خاص فراز و نزول کا مظاہرہ پائیں گے۔ یہ نیرنگی صرف مظاہر تک محدود نہیں بلکہ فروع مذہب، نظریات، مشاغل حتیٰ کہ عمروں میں بھی اچھا خاصہ تفاوت موجود ہے لیکن یہ تلون انس باہمی میں سد راہ نہیں جیسے پھلواری میں گل ہائے رنگ برنگ اپنی اپنی خوشبو سے مشام جاں کو معطر کرتے ہیں

Read more

مغز نہاری سے مونگ پھلی تک

(ہمارے کچھ احباب نے گلہ کیا کہ ہم جدید دور میں مستعمل روز مرہ زباں میں کیوں نہیں لکھتے تو حاضر ہے اردو انگریزی ملغوبہ میں یہ مضمون۔ بورڈ آفس کا برج اترتے ہی دائیں جانب بہت سی کھڑکیوں والی چار منزلہ عمارت ایک اسپتال کی ہے۔ گراؤنڈ فلور پر افس، او پی ڈی اور کیفے ٹیریا ہے۔ فرسٹ فلور پر لیبر روم اور پرائیویٹ وارڈ اور سیکنڈ فلور پر آئی سی یو اور جنرل وارڈ ہے۔ تھرڈ فلور کے

Read more

سرخوشی (Ecstasy)

ہمیں علامہ اقبال سے اس وقت سے محبت ہے جب ہمیں نصابی کتابوں میں پہلی بار ان کی نظموں سے تعارف حاصل ہوا۔ دلچسپی بڑھی تو نصابی کتب کے سوا بھی انہیں پڑھنے لگے۔ معرفت کے باب وا ہوتے گئے۔ ان کی شاعری میں وہ سیرابی تھی کہ تشنگی کو اور سوا کرتی تھی۔ لذت تحریر سے مجبور ہو کر پورا کلام اقبال خریدنے کو جی چاہا اور ایک روز طارق روڈ چلے۔ لبرٹی چوک سے ذرا آگے، طارق سنٹر

Read more

اہم تنصیبات پر حملہ

ہماری بیگم کو خوبصورت چیزیں جمع کرنے کا شوق ہے اور پھر ان خوبصورت چیزوں کو جان سے لگا کر رکھنے کا بھی شوق ہے۔ شامت اعمال اگر کسی بچے سے ان کی کوئی پسندیدہ چیز ٹوٹ جائے تو سمجھو اس کا جیون نرک ہو گیا اور اگر نصیب دشمناں یہ گناہ خود ان سے سرزد ہو گیا تو دنوں یاسیت کا شکار رہیں گی۔ حزن وملال کی تصویر بنی رہیں گی۔ ہم نے سمجھایا کہ مومن کو زیب نہیں دیتا کہ دنیاوی چیزوں سے اتنا دل لگائے ، پٹ سے بولیں۔ ”دل تو میرا آپ سے بھی لگا ہے۔“

Read more

مکالمے کی نہیں، معالجے کی ضرورت ہے

کہتے ہیں کہ خبر یہ نہیں ہوتی کہ کتے نے انسان کو کاٹ لیا، خبر تب بنتی ہے جب انسان کتے کو کاٹ لے یعنی عمومی نہیں بلکہ غیر معمولی واقعہ خبر بنتا ہے۔ اس مقولے کے مصداق اگر اسپوراڈیکلی (sporadically) کہیں کوئی پرورٹڈ (perverted) بھائی یا باپ اپنی بہن یا بیٹی کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے تو خبر تو بنتی ہے اور ایسے شخص کو نشان عبرت بنانا چاہیے۔ لیکن اگر اس خبر کو مکرر بیانیہ بنالیا جائے تو

Read more

آخری سطر پڑھنا ضروری ہے

اس کا نام سرمایہ ہے مگر میں اسے پیار سے مایا کہتا ہوں وہ مصنوعی خفگی سے کہتی ہے ”آپ مجھے مایا کیوں کہتے ہیں مایا تو دھوکا ہوتا ہے“ اور میں کہتا ہوں مایا دولت کو کہتے ہیں اور تم میری دولت ہو ”وہ کھلکھلا کر ہنستی ہے۔ اس کی ہنسی بڑی منفرد ہے جیسے کسی نے موتیوں کو کانچ کی طشتری میں انڈیل دیا ہو۔ اس کی یہی من موہنی ہنسی ہی تو تھی جس نے مجھے سحر

Read more

بڑی کھڑکیوں والا فلیٹ

مالک مکان نے گھر خالی کرنے کا حکم صادر کر دیا تھا۔ وہی مکان مالکوں کا پرانا بہانہ، انہیں اپنے بیٹے کے لئے ضرورت ہے۔ اب یہ ایک اور کار مشکل سر پر آن پڑا تھا۔ دوسرا مکان ڈھونڈنا کوئی آسان امر ہے۔ نہیں صاحب جس پہ پڑی ہو وہی جانے۔ میں عموماً اپنے پندرہ سالہ بیٹے کو ہر قسم کے فیصلے میں شامل کرتا ہوں۔ بھئی آگے چل کر گھر کا سربراہ اسے ہی بننا ہے تو نوعمری سے

Read more

ہم اسٹاک ہوم سنڈروم کا شکار تو نہیں؟

نویرا رات کی ڈیوٹی کر کے تھکی ہوئی آئی تھی۔ نکھٹو شوہر گھر پر نہیں تھا۔ بچوں کو ناشتہ کرا کے بکھرے گھر کو سمیٹ کر بستر پر لیٹی ہی تھی کہ آنکھ لگ گئی۔ تھکاوٹ اتنی زیادہ تھی کہ بچوں کے اودھم مچانے کے باوجود نیند کی وادیوں میں ایسی غرقاب ہوئی کہ دروازہ پیٹنے کی آواز پر بھی نہ اٹھ سکی۔ سات سالہ بچی نے دروازہ کھولا۔ مازن کے استفسار پر بچی نے بتایا وہ سو رہی ہے۔

Read more

خواتین کی لڑائی اور آئس کریم والا

ویمن میڈیکو لیگل افسر (WMLO) کا عنوان پڑھتے ہی آپ کی چشم تصور نے ایک منظر کشی کر لی ہو گی۔ زخمی، لاش، پوسٹ مارٹم وغیرہ وغیرہ۔ عام طور پر لوگ میڈیکو لیگل افسر کو کٹھور اور احساس سے عاری گردانتے ہیں کیونکہ وہ زخموں کا حساب کتاب اور لاشوں کی چیر پھاڑ ایسے کرتے ہیں جیسے خاتون خانہ باورچی خانے میں آلو بینگن کے ساتھ کرتی ہیں۔ درحقیقت میڈیکو لیگل افسر جان جوکھم میں ڈال کر اپنے فرائض منصبی

Read more

انسانی جسم کا دفاعی نظام اور ویکسین

کبھی آپ نے غور کیا کہ چھینک آنے پر الحمدللہ کہنے میں کیا حکمت ہے اور سننے والے پر کیوں واجب ہے کہ وہ یرحمک اللہ کہے یعنی اللہ تم پر رحم کرے؟ پندرہ سو سال پہلے ہمارے نبی ﷺ نے جو سکھایا تھا ، انسان نے صدیوں کی عرق ریزی کے بعد اس کی مصلحت کو جانا۔ چھینک دراصل آپ کے دفاعی نظام کا پہلا مورچہ ہے۔ جب کوئی ضرر رساں چیز ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہونے

Read more

چھتیس سال کی عمر میں سولہ سالہ محبت اور ویلنٹائن ڈے

وہ انٹرنیٹ پر ویلنٹائن کارڈز سرچ کر رہی تھی تاکہ سب سے خوبصورت اور بھرپور جذبوں کا ترجمان کارڈ فائز کو بھیج سکے۔ اف میرے خدا چھتیس سال کی عمر میں سولہ سالہ رومانس؛ ساحرہ نے چھتیس سال پر زور دیتے ہوئے ایک بار پھر اسے گھرکا۔ اس کے لہجے میں بیزاری بھی تھی اور سرزنش بھی۔ اسے حریم کا اپنے شوہر کے لئے یوں مر مٹے جانا بڑا ہی کھلتا تھا۔ بھلا شادی کے دس سال بعد بھی کوئی

Read more

اردو پر ضرب عضب

میرے ایک انگریزی زدہ عزیز نے جھنجھلا کر کہا ”I don ’t understand your infatuation with Urdu“ اور میں نے رسان سے کہا ”انفیچوئشن وقتی اور سطحی ہوتی ہے۔ غیروں سے ہوتی ہے۔ اپنوں سے تو محبت ہوتی ہے ہمیں اردو سے محبت ہے،“ اردو سے محبت ہی تو ہے جو اردو کو مجروح اور معدوم ہوتے دیکھ کر دل تڑپ اٹھتا ہے۔ اب تو ایسے لوگ قلیل ہی ہوں گے جو اردو کے فصیح وبلیغ استعمال سے واقفیت رکھتے

Read more