عبد الصمد خان اچکزئی کی سیاسی، ادبی و صحافتی خدمات


قیام پاکستان کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، ملکی تاریخ کا پہلا سیاسی قیدی اپنے گھر میں پچھلے ایک سال سے نظر بند ہے، اگست کا مہینہ ہے، اچانک مجسٹریٹ، لیویز اور پولیس اہلکار اس سیاسی قیدی کے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور سیاسی قیدی سے کہتے ہیں کہ ہمیں آپ کو جیل منتقل کرنے کا حکم ملا ہے، یہ بات نظر بند قیدی کی 76 سالہ والدہ کو پتہ چلتی ہے تووہ آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کا ماتھا چوم کر کہتی ہیں، بیٹا؛ مجھے تمہاری گھر کی نظربندی پسند نہیں تھی، گھر میں خواتین کی طرح رہنے سے تمہارا جیل جانا ہزار درجہ بہتر لگتا ہے، میری زندگی کا کوئی بھروسا نہیں، پتہ نہیں میں پھر کبھی تمہیں دیکھ سکوں یا نہیں، تم جیل چلے جاؤ اور اللہ تمہاری حفاظت کرے

بیٹے کے جیل جانے کے ایک سال بعد ماں یہ دنیا چھوڑ کر چلی گئیں، جیل حکام سے درخواست کے باوجود بیٹے کو پیرول پر والد کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں مل سکی

یہ قیدی بلوچستان کے قوم پرست پشتون رہنما عبدالصمد خان اچکزئی تھے، ان کے پردادا کمانڈر برخوردار خان اچکزئی نے 1761 کی پانی پت کی جنگ میں احمد شاہ ابدالی کے سپہ سالار کی حیثیت سے شرکت کی تھی، ان کے دادا اور نانا بھی مختلف جنگوں کا حصہ رہے تھے۔ خود عبدالصمد خان اچکزئی نے انگریزوں کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے افغانستان جانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن ان کو انگریز حکومت کی جانب سے روک دیا گیا تھا۔

آٹھویں جماعت کے طالبعلم عبدالصمد خان اچکزئی نے طلباء جلوس کی قیادت کرتے ہوئے اپنی سیاست کا آغاز کیا، اس کے بعد وہ اپنی شہادت تک سیاسی میدان میں سرگرم عمل رہے، وہ برصغیر پاک و ہند کی آزادی سے قبل انگریز سامراج کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے، جس کے بعد ان کی آدھی زندگی زندانوں میں گزری، عبد الصمد خان اچکزئی کو جدوجہد سے ہٹانے کے لئے ہر قسم کی تکلیف دی گئی لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے، ان کو پاکستان کی تمام جیلوں میں قید رکھا گیا لیکن وہ ہر بار نئے جوش و جذبے کے ساتھ میدان عمل میں اترتے اور قوم کی بھرپور رہنمائی کرتے تھے، ان کو پہلی بار 1929 میں برطانوی سامراج نے گرفتار کیا، اس کے بعد ان کی زندگی کے 44 میں سے 25 سے زائد سال ملک کے مختلف جیلوں میں گزرے، ایوب خان کے پورے دور مارشل لاء میں عبدالصمد خان اچکزئی پابند سلاسل تھے، عبدالصمد خان اچکزئی کی زندگی کے آخری چار سال ایسے تھے جس میں وہ جیل نہیں گئے

عبدالصمد خان اچکزئی نے اپنی قید کے مختلف ادوار میں فیوچر آف فریڈم، شیخ سعدی کی گلستان سعدی سمیت متعدد کتابوں کا پشتو ترجمہ کیا، مولانا عبدالکلام آزاد کے ترجمان القرآن اور علامہ شبلی نعمانی کی سیرت النبی کی پشتو تفسیر بھی لکھی ہے، اس کے علاوہ بھی انہوں نے ادبی خدمات سرانجام دیں، ان کی خدمات کا احاطہ چند الفاظ میں ممکن نہیں

اپنی سیاسی جدوجہد میں عبدالصمد خان اچکزئی نے 1938 میں وطن و قوم دوست رہنماؤں کے ساتھ مل کر انجمن وطن کی بنیاد رکھی جس کا مقصد خطے سے انگریز سامراج کا انخلاء تھا، خان شہید جیسے قوم دوست رہنماؤں کی جدوجہد کی بدولت ہی انگریزوں کو یہاں سے نکلنا پڑا۔ انہوں نے برطانوی سامراج کے خلاف کانگریس کا ساتھ دیا اسی لئے ان کو بلوچستان کا گاندھی بھی کہا جا تا تھا، 1939 میں عبدالصمد خان اچکزئی نے کانگریس کی ”ہندوستان چھوڑو تحریک“ کی بھرپور حمایت کی، جس پر ان کے خلاف مقدمہ بھی چلا یا گیا اور جرگہ کے ذریعے تین سال کی سزا سنائی گئی، پاکستان کی آزادی کے بعد ان کو ایک بار پھر گرفتار کیا گیا اور چھ سال تک جیلوں میں رکھا گیا

1954 میں جب طویل عرصے بعد عبدالصمد خان اچکزئی سے رہا ہوئے تو انہوں نے اپنے دوستوں اور رفقاء کے ساتھ مل کر ”ورور پشتون“ کے نام سے نئی سیاسی جماعت تشکیل دی، بعد میں ورور پشتون کا نیشنل عوامی پارٹی میں ضم کیا گیا۔ عبدالصمد خان اچکزئی کی دیرینہ خواہش تھی کہ ملک کے تمام پشتون علاقوں پر مشتمل پشتونوں کا اپنا صوبہ ہو، پشتون علاقوں کو بلوچستان میں شامل کرنے پر عبدالصمد خان اچکزئی کے نیشنل عوامی پارٹی سے اختلافات پیدا ہو گئے اور ان سے راہیں جدا کر لیں، نیپ سے علیحدگی کے بعد انہوں نے نئی جماعت پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی تشکیل دی، 1970 کے انتخابات میں عبدالصمد خان اچکزئی نے بلوچستان اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی، ان کی شہادت کے بعد ضمنی انتخابات میں ان کے صاحبزادے محمود خان اچکزئی نے کامیابی حاصل کی

عبدالصمد خان اچکزئی نے 1938 میں کوئٹہ سے ہفتہ وار اخبار ”استقلال“ جاری کیا۔ اخبار جاری کرنے سے قبل انہیں پریس ایکٹ کے نفاذ کے لئے بھی جدوجہد کرنا پڑی اور ان کی انتھک کوششوں کے بعد پریس ایکٹ بلوچستان میں بھی نافذ ہوا۔ ہفتہ وار ”استقلال“ اردو میں شائع ہوتا تھا۔ استقلال اخبار کے لئے عبدالصمد خان اچکزئی کو اپنا پرنٹنگ پریس لگانا پڑا۔ عبدالصمد خان اچکزئی نے پرنٹنگ پریس اپنے دوست یوسف عزیز مگسی کے (جو 1935 کے قیامت خیز زلزلے میں شہید ہوئے تھے ) نام سے منسوب کیا اور یہ صوبے کی تاریخ کا سب سے پہلا الیکٹرک پریس تھا۔

اخبار کے علاوہ خان عبدالصمد خان اچکزئی یونائٹیڈ پریس آف انڈیا کے لئے بھی کوئٹہ سے خبریں بھیجتے تھے۔ وہ 1938 جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے، ہفتہ وار ”استقلال“ انجمن وطن کا ترجمان اور قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی کا ترجمان اخبار تھا۔ ”استقلال“ انجمن وطن اور کانگریس کا حمایت یافتہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ کی خبروں کو بھی نمایاں کوریج دیتا تھا۔ اخبار کو کئی بار پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ برصغیر پاک و ہند کے اس عظیم رہنما کو 2 دسمبر 1973 کو کوئٹہ میں ان کی رہائشگاہ پر دستی بم پھینک کر شہید کیا گیا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments