طالبان اور ایران کی فورسز میں سرحد پر جھڑپیں کیوں شروع ہوئیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان اور ایران کی فورسز میں بدھ کو جھڑپیں ہوئی ہیں جس کی تصدیق فریقین نے بھی کر دی ہے۔

طالبان اور ایران کی جانب سے سرحد پر ہونے والی جھڑپوں میں کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

جھڑپوں کے حوالے سے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جاری ہونے والے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی سطح پر پیدا ہونے والی غلط فہمی کی وجہ سے صوبۂ نمروز کی سرحد پر تنازع ہوا تھا۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ دونوں جانب کی مفاہمت سے اب صورتِ حال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت نے آئندہ اس طرح کی صورتِ حال سے بچنے کے لیے خصوصی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔

طالبان کے ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ سرحد پر تعینات اہلکاروں کو کیا ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ادھر ایران کے ذرائع ابلاغ نے طالبان پر الزام عائد کیا ہے کہ سرحد پر تعینات ان کے مسلح اہلکاروں نے سرحدی حدود کے حوالے سے غلط فہمی پر ایران کی سیکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر فائرنگ کی تھی۔

'عالمی برادری کو یہ حقیقت ماننی پڑے گی کہ طالبان حکومت کر رہے ہیں'

ایران کی ’تسنیم نیوز ایجنسی‘ کے مطابق جھڑپیں رک چکی ہیں۔ ایران کے حکام اس معاملے پر طالبان سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

نیوز ایجنسی نے ان رپورٹس کو بھی مسترد کرتے ہوئے جھوٹ قرار دیا ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ طالبان نے اس مسلح تنازع میں ایران کی فورسز کی چوکی پر قبضہ کر لیا تھا۔

افغانستان اور ایران کے درمیان کئی مقامات پر غیر روایتی سرحدی گزر گاہیں ہیں جن کو اسمگلنگ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ان گزرگاہوں سے انسانی اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ بھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک میں اکثر کشیدگی ہوتی ہے۔

امدادی اداروں کے مطابق اگست میں طالبان کے کابل پر قابض ہونے کے بعد لگ بھگ تین لاکھ افراد ان غیر روایتی راستوں سے ایران کے راستے بیرونِ ملک فرار ہوئے ہیں۔

ایران نے افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت سے اچھے تعلقات قائم کرنے اور قریبی رابطے رکھنے کی کوشش کی ہے۔

چین، روس، پاکستان اور ترکی کے علاوہ ایران وہ ملک ہے جس نے تین ماہ قبل طالبان کے افغانستان میں برسرِ اقتدار آنے کے بعد اپنے سفارت خانے کو بحال رکھا تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3142 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments