خواتین کی آزادی سے مراد کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب بھی خواتین کی آزادی کی بات کی جاتی ہے تو ایک گھٹن زدہ سماج میں اس سے مراد یہی لی جاتی ہے کہ گویا یہ کوئی ایسی آزادی ہے جو سماج کی بنیادیں ہلا دے گی۔ کیونکہ جس معاشرے میں عورت کو برابر کا انسان نہ سمجھا جائے اس کو اک فرد کی حیثیت میں قبول کرنا ہی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک ایسی سوسائٹی جہاں عورت ایک جنس سے زیادہ کچھ نہیں، جس کا یہ خیال ہو کہ اس کی پیدائش کا مقصد محض افزائش نسل ہے وہاں عورت کو انسان سمجھنا اور برابری کی سطح پہ قبول کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اس لیے جب جب عورت کی آزادی کی بات کی جاتی ہے تب تب سیدھی چوٹ ریت و روایات پہ پڑتی ہے، جہاں عزت و غیرت کو عورت کی جنس سے جوڑا جاتا ہے۔ اسی لیے خواتین ایک ایسے سماج میں خود کو محفوظ تصور نہیں کر پاتیں۔ ان میں عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔

لڑکیوں کی آزادی سے مراد یہ ہے کہ انہیں ایک مکمل اور برابری کی سطح کا انسان سمجھا جائے۔ تعلیم، صحت، روزگار، اور سماج میں برابری کے مواقع دیے جائیں۔ وہ خود کو اس معاشرے میں اتنا ہی محفوظ محسوس کرے جتنا کہ ایک مرد کرتا ہے۔ مساوی مواقع اور منصفانہ سلوک تب ہی وجود میں آ سکتا ہے جب ایک لڑکی یا عورت گھر کے اندر یا گھر کے باہر اس خوف سے آزاد ہو کہ اسے کوئی جنسی طور پہ ہراساں کر سکتا ہے یا یہ کہ اگر ایسا ہو جائے تو اسے مورد الزام نہیں ٹھہرایا جائے گا بلکہ مجرم کے لیے ہی یہ ایک جرم ہے۔

اسے کسی دباؤ کی وجہ سے خاموش نہیں رہنا اور خود کو کسی کا آسان شکار نہیں بننے دینا ہے۔ جب لڑکیوں کو یہ تربیت دی جائے کہ وہ ایک مکمل آزاد انسان ہیں جو اپنی مرضی سے ہنس سکتی ہیں انہیں اپنی ہنسی دبانے کی ضرورت ہے نہ ہی آواز نیچی رکھنے کی وہ کھل کے اظہار رائے کر سکتی ہیں۔ وہ جیسے چاہے بیٹھ سکتی ہیں، بھاگ دوڑ کر سکتی ہیں، کھل کے گا سکتی ہیں ہر طرح کے کھیل میں حصہ لے سکتی ہیں۔ ان کے اور لڑکوں کے کھیل مختلف نہیں ہیں۔

کھیل کی بدولت ہی ریفلیکسز مضبوط ہوتے ہیں اور ایسا انسان ہی اچھی ڈرائیو کر سکتا ہے جس کا ریفلیکسز ایکشن اچھا ہو۔ اگر وہ ڈرائیو کر رہی ہوں تو بنا کسی کی نظروں کی پرواہ کیے آرام سے سائیکل، بائیک یا گاڑی چلا سکتی ہیں۔ انہیں اس خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں کہ ان کی ڈریسنگ کیسی ہے، کون اسے گھور رہا ہے اور کون سے لوگ اس پہ ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ باہر نکلتے ہوئے وہ چاہے پیدل چل رہی ہوں کسی بس میں ہوں، مارکیٹ میں یا کسی پارک ان پہ یہی دباؤ نہ ہو کہ کتنے لوگ انہیں گھور رہے ہیں، بلاوجہ کی توجہ دے رہے ہیں اور ان کی ان نظروں اور حرکتوں کی وجہ سے وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں۔ اس کی پروا نہ ہو بلکہ سکون سے اپنے کام بغیر کسی کے سہارے کے کر سکیں۔

تعلیم کے میدان میں لڑکیوں کے پاس بھی وہی مواقع ہوں جو لڑکوں کے پاس ہیں۔ خوراک اور صحت میں بھی ان پہ اتنی توجہ دی جائے جتنی کہ مردوں کو دی جاتی ہے۔ صرف یہی نہیں ایک اور بوجھ جو خواتین پہ پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں ہر صورت اچھا نظر آنا ہے جسمانی طور پہ بھی اور چہرہ بھی خوش رہے۔ یہ نظریہ کہ وہ پریشان نہیں ہو سکتیں یا اپنی پریشانی کا ذکر نہیں کر سکتیں ایک پریشر ہے کہ اس سے اس سے جڑے لوگوں کے متعلق برا امپریشن جاتا ہے تو دنیا دہل جائے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی غلط ہے۔ عورت کو جذبات کے اظہار میں بھی کھلا ہونا چاہیے۔

سوشولینگوسٹکس کا ایک ٹاپک زبان کی وری ایشن کا ہے جس کی سب کیٹگریز میں ڈائیالیکٹ اور جنڈرلیکٹ شامل ہیں مطلب جنڈر کی بنیاد پہ زبان میں فرق، اس کی ذیلی تفصیل میں ایک پہلو یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ خواتین لفظ ”شاید“ کا استعمال مردوں کی نسبت زیادہ کرتی ہیں کیونکہ وہ اپنی بات کو زیادہ اعتماد سے نہیں کہہ پاتیں۔ اس کی وجہ یہی انداز تربیت ہے کو انہیں خود کو آزاد اور خود مختار نہیں سمجھنے دیتا وہ اپنے چھوٹے چھوٹے فیصلوں کے لیے بھی دوسروں پہ انحصار کرتی ہیں۔

یہی معاملہ کیریئر کے چناؤ میں بھی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ مشرقی سماج میں عورت کو معاشی ترقی کا حصہ نہیں سمجھا جاتا لیکن اگر بدلتے زمانے کو دیکھتے ہوئے تھوڑی تبدیلی آئی بھی ہے تو عورت کے کریئر کے ساتھ سو طرح کی مسائل جڑے ہیں۔ ایک تو جاب یا کام وہ ہو جس میں وقت کم ہو کیونکہ لے دے کے وہی ہے جس نے گھر سنبھالنا ہے۔ دوسرا لڑکیوں کو شروع سے ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے کریئر یا جاب کا فیصلہ آخر میں اس کے خاوند کو ہی کرنا ہے کہ آیا کہ وہ کام کرے گی یا گھریلو عورت بن کے رہے گی۔

یہ خیال بچیوں کو شروع سے ہی گومگو کا شکار کر دیتا ہے اور وہ سنجیدگی سے اپنے کریئر کے متعلق نہیں سوچ سکتیں۔ اس بات کی آزادی کہ انہیں کیا ہرنا ہے اور کیا نہیں یہ بھی ان کا بنیادی حق ہے جو بہت نامحسوس طریقے سے چھینا جاتا ہے۔ شادی کرنے کا فیصلہ یا نا کرنے کا یہ اختیار ان سے زیادہ والدین اور سماج کا ہے جو سراسر زیادتی ہے۔ یہ فرد کا انتہائی ذاتی معاملہ ہے لیکن اس معاشرے میں اسی کو بنیاد کہا گیا ہے یہی سماج کی اکائی ہے تو اس کا پریشر اور ناگزیر ہونا بھی ایک بڑا عذاب ہے۔

لڑکیوں کی آزادی سے مراد انہیں بنیادی ضروریات، صحت، تعلیم، روزگار، کا مساوی سطح پہ ملنا ہے دوسرا یہ کہ انہیں مکمل انسان سمجھا جائے وہ کسی کا حوالہ ہیں نہ کوئی ان کا حوالہ بلکہ وہ ایک خود مختار اور آزاد فرد ہیں جو اپنے اچھے برے کی تمیز رکھتے ہوئے زندگی کے فیصلے خود لے سکتی ہیں اور ان کے نتائج کا سامنا کر سکتی ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments