محبوب خزاں : کچھ یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج اردو کے منفرد غزل گو جناب محبوب خزاں کی برسی ہے۔ وہ 3 دسمبر 2013 ء کو دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔

باصر سلطان کاظمی سے دوستی کے فیضان سے مجھے ناصر کاظمی کے جن احباب سے ملاقات کے مواقع میسر آئے ان میں محبوب خزاں کا نام بھی شامل ہے۔ وہ شعر کہنے میں جتنے کنجوس تھے گفتگو کرنے میں اتنے ہی فیاض تھے۔ وہ پیمانہ و صہبا کے بغیر ہی مسلسل گل افشانی کرتے رہتے تھے۔ ان کی گفتگو علم و ادب سے اس قدر بھرپور ہوتی تھی کہ انسان بس سنتا چلا جائے۔

ستر کی دہائی کا سن تو یاد نہیں کون سا تھا لیکن اتنا یاد ہے کہ سخت گرمی کا موسم تھا۔ میں باصر کے گھر پر تھا۔ کچھ اور دوست بھی موجود تھے۔ اتنے میں محبوب خزاں صاحب تشریف لے آئے۔ اسلام آباد سے جب کبھی ان کا لاہور آنا ہوتا تو وہ ناصر کاظمی کے گھر ضرور آتے تھے۔ زیادہ تر وہ اپنے دوست افتخار شبیر صاحب اور ان کی بیگم کے ہمراہ شام کے وقت تشریف لاتے تھے لیکن اس روز دوپہر کے وقت وہ تنہا تھے۔ ڈرائنگ روم میں ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔

جوتا اور جرابیں اتار کر آرام کرنے کی صورت میں نشست جما لی۔ باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گفتگو کرتے کرتے فراق گورکھپوری اور جوش صاحب کا تذکرہ چھیڑ لیا۔ فرمانے لگے مجھے ایک بات پر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ ان دونوں حضرات کے پاس وسائل بھی تھے لیکن کسی نے کبھی برطانیہ جانے کی کوشش نہیں کی۔ میں اگرچہ بڑے لوگوں کے سامنے خاموش ہی رہا کرتا تھا اور بات کرنے کی جرات کبھی نہیں کی تھی لیکن اس دن نجانے کیا ہوا کہ میری زبان سے ایک ایسی بات نکل گئی جو سراسر گستاخی کے زمرے میں آتی تھی۔

میں نے کہا لوگ وہاں جا کر جو کچھ کرتے ہیں وہ سب انھیں یہیں پر میسر تھا۔ خزاں صاحب نے کہا آپ کا کیا خیال ہے کہ لوگ وہاں یہی کچھ کرنے جاتے ہیں؟ میں نے جواب دیا اوروں کا تو پتہ نہیں لیکن یہ دونوں حضرات یہی کچھ کرنے جاتے۔ میرا جواب انھیں ظاہر ہے اچھا نہ لگا اور وہ کچھ دیر خفگی کے عالم میں خاموش بیٹھے رہے۔

ایک اور واقعہ بھی یاد آ رہا ہے۔ ناصر کاظمی کی برسی کے موقع پر شیخ صلاح الدین، انتظار حسین، صلاح الدین محمود اور محبوب خزاں تشریف لائے ہوئے تھے۔ اس شام انتظار صاحب اور صلاح الدین محمود صاحب ناگپوری سنترے کو یاد کرنا شروع ہو گئے۔ اس سنترے کے رنگ، خوشبو اور ذائقے کی تعریف میں دونوں حضرات رطب اللسان تھے اور ساتھ ساتھ اس کے مقابلے میں کنو کو ہیٹا ثابت کر رہے تھے۔ پھر دونوں میں سے کسی نے محبوب خزاں سے پوچھا آپ نے تو کھایا ہو گا ناگپوری سنترہ۔ محبوب خزاں نے جواب دیا جی کھایا تھا، سخت بدذائقہ تھا۔ یہ سن کر دونوں حضرات کافی بدمزہ ہوئے۔

جنوری سن 1982 کی بات ہے۔ پاکستان نیشنل سنٹر الفلاح میں عزیز دوست ڈاکٹر امجد پرویز کی غالب کی گائی ہوئی غزلوں کی کیسٹ کی تقریب اجرا تھی۔ اس محفل میں انتظار حسین اور محبوب خزاں بھی موجود تھے لیکن خاص بات یہ تھی کہ اس شام شیخ صلاح الدین بھی تشریف لائے تھے جو کئی برسوں کے طویل وقفے کے بعد کسی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ شیخ صاحب جب ہال کے دروازے سے اندر داخل ہوئے تو میڈم کشور ناہید شیخ صاحب کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئیں اور ان کی زبان سے بے اختیار نکلا، شیخ صاحب ایہہ بوہتے سوہنے نیں۔ تقریب ختم ہونے کے بعد ہم چند دوست شیخ صاحب اور محبوب خزاں کی معیت میں انتظار صاحب کے گھر چلے گئے۔

انتظار صاحب کے ڈرائنگ روم میں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے۔ وہاں محبوب خزاں صاحب کا بلا تکان اور بلا انقطاع گل افشانی گفتار کا مظاہرہ شروع ہوا۔ نجانے کتنی کتابوں کا ذکر کیا، ان میں باکسر محمد علی کتاب کا ذکر بھی شامل تھا۔ جوناتھن سوئفٹ کی بیان کردہ جینیئس کی تعریف بیان کی جو مجھے بڑا عرصہ یاد رہی تھی اور میں اسے اکثر دہرایا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ وکٹر ہیوگو کے بارے میں یہ بات مجھے یاد رہ گئی ہے۔

شہر میں وکٹر ہیوگو کا ڈرامہ سٹیج کیا جا رہا تھا۔ گوئٹے سے، جو ہیوگو کو پسند نہیں کرتا تھا، اس کے کسی دوست نے پوچھا کہ اس نے وہ ڈرامہ دیکھا ہے تو گوئٹے نے جواب دیا:

No, but I know they all come from Chateaubriand.

بیچ بیچ میں ایک جملہ بار بار دہراتے تھے کہ میں کافکا کو نہیں پڑھ سکتا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد کہیں پاگل نہ ہو جاؤں۔ چند بار یہ بات سننے کے بعد شیخ صاحب نے کہا آپ کافکا کو پڑھ لیجیے آپ کو کچھ نہیں ہو گا، مگر خزاں صاحب نے اپنا وہی اندیشہ دہرایا۔ اس پر شیخ صاحب نے کہا آپ کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر اس کو پڑھ کر بھی پاگل نہ ہوا تو کیا ہو گا۔

محبوب خزاں کی شعری یادگار ان کا مختصر سا مجموعہ ”اکیلی بستیاں“ ہے۔ شاعری میں ان کا ماٹو تھا
کم کہو، اچھا کہو، اپنا کہو
چنانچہ بسیار گو شاعروں پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا:
جسے دیکھو اسے زکام غزل
اتنے دیوان، ایک مصرعہ نہیں

محبوب خزاں نہیں چاہتے تھے کہ ان کی شاعری پر کسی اور سایہ دکھائی دے۔ ادب لطیف میں ہونے والے ایک مذاکرہ میں سوال، اپنے پرانے ادب کا مطالعہ آپ کرتے ہیں؟ کیوں کرتے ہیں یا کیوں نہیں کرتے؟ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا:

دوسروں کے تجربات اور ان تجربوں سے ان کی اپنی جنگ۔ برائے اظہار۔ میرے لیے ہمیشہ روشنی اور حیرت کا منبع رہی ہے۔ مگر میرے دل میں ان حضرات کے لیے کبھی احترام کا جذبہ نہیں رہا ہے جن کے تازہ کلام سے دوسروں کو یہ معلوم ہو جائے کہ آج کل کون سی کتاب زیر مطالعہ ہے۔ چنانچہ ایک معقول شاعر کی ایک تازہ نظم سن کر میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ ”آپ کی نظم کافی اچھی ہے۔ اس سے مجاز کی شہرت میں یقیناً اضافہ ہو گا۔“ زندگی کی طرح ادب میں بھی بعض لوگ دوسروں کے مزدور کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔

محبوب خزاں شاعری میں الگ تھلگ راستے کے تنہا مسافر تھے۔ اس مسافر کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ سنگی ساتھیوں سے بچھڑ جاتا ہے اور وہ اس کی آواز کا نوٹس لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ مزید براں بالارادہ اوریجنل ہونے کی کوشش کرنے کا انجام بھی بالعموم اچھا نہیں ہوتا۔ تاہم محبوب خزاں نے اگرچہ کم کہا ہے لیکن جتنا کہا ہے اچھا کہا ہے۔

آج ان کی برسی ہے۔ شاعر کو یاد کرنے کا بہتر طریقہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ اس کے شعرستان کی سیر کی جائے۔ ان کی غزلوں کے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔

محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتا
کچھ ایسی بات ہے انکار بھی کرتے نہیں بنتا
تجھے اب کیا کہیں اے مہرباں اپنا ہی رونا ہے
کہ ساری زندگی ایثار بھی کرتے نہیں بنتا
خزاں ؔ ان کی توجہ ایسی ناممکن نہیں
ذرا سی بات پر اصرار بھی کرتے نہیں بنتا
۔
ایک ہی رات سہی پھول تو کھلتے ہیں خزاں ؔ
موت میں کیا ہے کہ جینے کی تمنا نہ کرو
۔
جو کھیل جانتے ہیں ان کے اور ہیں انداز
بڑے سکون، بڑی سادگی سے کھیلتے ہیں
۔
خزاں ؔ کبھی تو کہو ایک اس طرح کی غزل
کہ جیسے راہ میں بچے خوشی سے کھیلتے ہیں
۔
تیری ہی طرح اب یہ ترے ہجر کے دن بھی
جاتے نظر آتے ہیں مگر کیوں نہیں جاتے
اب یاد کبھی آئے تو آئینے سے پوچھو
محبوب خزاں شام کو گھر کیوں نہیں جاتے
۔
ان سے کاغذ میں جان کیسے پڑے
جن کی آنکھوں میں عکس تازہ نہیں
خاک سے کس نے اٹھتے دیکھی ہے
وہ قیامت کہ استعارہ نہیں
کبھی ہر سانس میں زمان و مکاں
کبھی برسوں میں ایک لمحہ نہیں
اے ستارو کسے پکارتے ہو
اس خرابے میں کوئی زندہ نہیں
۔
نظم
چاند کے مسافر
زندگی کو دیکھا ہے زندگی سے بھاگے ہیں
روشنی کے آنچل میں تیرگی کے دھاگے ہیں
تیرگی کے دھاگوں میں خون کی روانی ہے
درد ہے محبت ہے حسن ہے جوانی ہے
چاند ہو تو کاکل کی لہر اور چڑھتی ہے
رات اور گھٹی ہے بات اور بڑھتی ہے
دور ہے پرندوں کا چھیڑ ہے ستاروں سے
کائنات عاجز ہے ہم گناہ گاروں سے
تیرگی خراماں ہے روشنی گریزاں ہے
وقت کے سمندر میں تہ بہ تہ چراغاں ہے
خواب جینے والوں کے چال مرنے والوں کی
اپنے پاس حسرت ہے کچھ نہ کرنے والوں کی
اس ہجوم حیراں میں ہم جو سب سے آگے ہیں
چاند کے مسافر ہیں چاندنی سے بھاگے ہیں
۔
رہگزر کے بعد
میں سوچتا ہوں کہ اس خیر و شر کے بعد ہے کیا
فضا تمام نظر ہے نظر کے بعد ہے کیا
شب انتظار سحر ہے سحر کے بعد ہے کیا
دعا برائے اثر ہے اثر کے بعد ہے کیا
یہ رہگزر ہے تو اس رہگزر کے بعد ہے کیا


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments