لڑکے لڑکی کی جنس کے تعین میں دیسی ماہرین کی المناک ناکامی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم جانتے ہی ہیں کہ کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر ہے۔ جتنے عالم فاضل اور پڑھے لکھے لوگ اس شہر میں رہتے ہیں، باقی پورے پاکستان میں کہیں نہیں ملیں گے۔ ایسے میں وہاں سے ایک خبر موصول ہوئی ہے کہ بارہ برس تک جس ہستی کو واضح جسمانی شواہد کے باوجود لڑکا سمجھا جاتا رہا، وہ اصل میں ایک لڑکی ہے۔ ایسا سمجھنے والوں میں نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ طبی ماہرین بھی شامل تھے۔

تعجب کی بات ہے۔ ہمارے زمانے میں تو عام لوگ بھی اتنے دور بین اور عقلمند ہوا کرتے تھے کہ بچے کی پیدائش کے وقت ہی نومولود پر محض ایک نظر ڈال کر سو فیصد صراحت کے ساتھ بتا دیتے تھے کہ لڑکا ہوا ہے یا لڑکی۔ اب شاید وہ خوراکیں ہی نہیں رہیں۔ یا اب بزرگوں کے علاوہ ڈاکٹر بھی کچھ کنفیوز رہنے لگے ہیں۔

کراچی کی اس خبر کی مزید تفصیل ملی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کوئی مخیر پاکستانی شکاری سنہ 2009 میں تنزانیہ کے جنگلات سے ہاتھی کے چار ننھے بچے پکڑ کر لایا اور کراچی بلدیہ کو بیچ گیا۔ شکاری، چڑیا گھر کے عملے اور وہاں موجود سلوتریوں نے انہیں دیکھ کر یہ حکم لگایا کہ ان میں سے ایک لڑکا ہے اور تین لڑکیاں۔ لڑکیوں کا نام ملکہ، مدھوبالا اور نورجہاں رکھا گیا۔ لڑکا سونو کہلایا۔

بارہ تیرہ برس گزر گئے۔ ایک دن ایک این جی او نے سندھ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا کہ جانوروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔ جرمنی سے سلوتری بلائے گئے۔ انہوں نے جب ہاتھیوں کا جسمانی معائنہ کیا تو انکشاف کیا کہ بارہ برس سے جسے لڑکا سمجھ رہے تھے وہ تو لڑکی ہے۔ الٹراساؤنڈ میں بھی پیٹ میں زنانہ اعضا پائے گئے۔

آپ اگر ہماری طرح باریک بینی سے چیزوں کو دیکھنے کے عادی ہیں تو آپ نے بھی یہ نوٹ کیا ہو گا کہ جانور عموماً برہنہ ہی پھرتے ہیں۔ ان میں شرم و حیا کا تصور نہیں۔ یا پھر وہ بہت غریب ہوتے ہوں گے۔ بہرحال جو بھی وجہ ہو، سرسری نظر میں بھی ان کے تولیدی اعضا دکھائی دے جاتے ہیں جن کی مدد سے ایک عام سا شخص بھی کسی چوپائے کی جنس کا تعین کر لیتا ہے۔ یا پھر ممکن ہے کہ کراچی کے چڑیا گھر کے عملے میں شرم و حیا کا تصور بہت زیادہ ہو اور وہ کسی کے برہنہ جسم کو دیکھنے کا گناہ نہ کرتے ہوں۔ بہرحال جو بھی وجہ ہو یہ انکشاف ان پر بم بن کر پھوٹا۔

طبی معائنے میں سونو کو سونیا بنایا جا رہا ہے

گلف نیوز نے بتایا ہے کہ چڑیا گھر کے سلوتری، یعنی اعلیٰ تعلیم یافتہ جانوروں کے معالج، الٹراساؤنڈ ٹیسٹ میں یوٹرس اور اووری دکھائی دینے کے باوجود استقامت سے اپنے موقف پر قائم ہیں کہ سونو لڑکا ہے۔ بہرحال گلف نیوز کا کیا ہے، وہ تو یہ بھی لکھ رہا ہے کہ لگتا ہے کہ کوئی سلوتری ان بارہ برسوں میں ہاتھیوں کے قریب تک نہیں پھٹکا۔ شاید یہ موقر جریدہ ہمارے ماہرین کو فیس سیونگ دینے کی کوشش کر رہا ہو گا کہ اگر وہ ہاتھی کے پاس نہیں گئے تو یہ محض ہڈحرامی ہے، لیکن اگر وہ اس کے پاس جا کر بھی لڑکی کو لڑکا سمجھتے رہے ہیں تو یہ ان کی طبی مہارت اور بصارت پر ایک بڑا سا سوالیہ نشان ثبت کر دیتا ہے۔

یہ خبر چہار دانگ عالمی میں گونجی ہے۔ بھارت، امارات اور برطانیہ تک کے بڑے جرائد نے بتایا ہے کہ پاکستانیوں کو بارہ برس تک یہ بھی علم نہ ہو پایا کہ یہ بچہ لڑکا ہے یا لڑکی۔ دیکھیں ہم جانتے ہیں کہ پاکستانی دنیا کی تیسری ذہین ترین قوم ہیں۔ یہ لوگ ہم سے جلتے ہیں جو ایسی خبریں اور ہماری مہارت کی بھد اڑا رہے ہیں۔ کہہ رہے ہیں کہ سابقہ سونو حال سونیا کے نسوانی اعضا اتنے بڑے تھے کہ چڑیا گھر کا عملہ انہیں مردانہ اعضا سمجھ بیٹھا۔ ورنہ یہ گمان کیا جا سکتا تھا کہ شاید سونو ایک مخنث ہاتھی ہو اس لیے غلط فہمی ہو گئی ہو گی۔ ویسے نسوانی اعضا اتنے ہی بڑے تھے تو لڑکی کو بارہ برس تک لڑکا کیوں سمجھ گیا؟

 ”چریا گھر“ کے ماہرین اگر ہم سے بروقت مشورہ کر لیتے تو ہم انہیں صلاح دیتے کہ لڑکے لڑکی کی پہچان میں دقت پیش آ رہی ہے تو چڑیا گھر کی سیر کو آنے والے کسی بچے سے بھی یہ بات پوچھ لیں کہ یہ ہاتھی سونو ہے یا سونیا۔ یا پھر ہمارے ڈیری ٹیلز کے ماہر وسی بابا سے رائے لے لیتے جو بتاتے ہیں کہ جرمنی سے ماہرین بلا کر الٹراساؤنڈ کروانے کی بجائے ہاتھی کی دم اٹھا کر بھی اس کی جنس کا تعین کیا جا سکتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1443 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments