جنرل بپن روات: انڈین چیف آف ڈیفنس کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار


 

بپن راوت

انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت

انڈیا کی ریاست تمل ناڈو میں انڈین فوج کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے جس میں انڈین چیف آف ڈیفنس جنرل بپن راوت بھی سوار تھے۔

اب تک اس حادثے میں چار افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم ان افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

انڈیا کی فضائیہ نے ایک ٹویٹ میں تصدیق کی ہے کہ جو ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا وہ ایم آئی 17 ماڈل کا تھا اور اس پر چیف آف ڈیفینس جنرل راوت سوار تھے۔

انڈیا کے خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق ہیلی کاپٹر میں عملے سمیت کل 14 افراد موجود تھے جن میں جنرل راوت، ان کا خاندان، ان کے سکیورٹی اسسٹنٹ، ان کا عملہ اور انڈین فضائیہ کے اہلکار شامل ہیں۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق جائے حادثہ سے چار لاشیں جبکہ تین افراد کو زخمی حالت میں نکالا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ہلاک شدگان اور زخمی افراد کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی ہے اور لاشوں اور زخمیوں کو جائے حادثہ کے قریب واقع ویلنگٹن کے فوجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

انڈین فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

یہ حادثہ ریاست تمل ناڈو کے علاقے کنور میں پیش آیا اور جائے حادثہ سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں جائے وقوعہ سے آگ کے شعلے اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

جنرل راوت کو 31 دسمبر 2019 کو ملک کی برّی فوج کے سربراہ کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد ملک کا پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف مقرر کیے گیا تھا۔

انڈین فوج کے چیف آف ڈیفنس کا یہ عہدہ فور سٹار جرنیل کا ہے یعنی یہ تینوں افواج کے سربراہان کے برابر ہے۔ تینوں افواج کے سربراہ انھیں رپورٹ نہیں کرتے بلکہ وہ بدستور وزیر دفاع کے ہی تابع ہیں لیکن چیف آف ڈیفنس سٹاف ان سے صلاح و مشورہ کرتا ہے اور اپنی رائے وزیر دفاع کو دیتا ہے۔

ہم سب: بھارتی آرمی چیف کا ہیلی کاپٹر تباہ، چیف کی ہلاکت کا خدشہ


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26846 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments