تھکی ہوئی زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ولیم کا سٹریچر ڈگنیفائڈ ڈیتھ کلینک میں ایسے داخل ہوا جیسے اس کی زندگی کا ہوائی جہاز طویل مسافت کے بعد رن وے پر لینڈ کر رہا ہو۔ اس نے ویٹنگ روم میں چاروں طرف دیکھا۔ موت کی پرچھائیاں پوسٹروں کی صورت میں اس کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں

’موت زندگی ہے‘
’زندگی کی انتہا موت ہے‘
’صرف ان لوگوں کو زندہ رہنا چاہیے جو زندہ رہنا چاہتے ہوں‘
’باعزت زندگی کے لیے ڈی ڈی سی۔ ڈگنیفائڈ ڈیتھ کلینک۔ کی طرف رجوع کیجیے‘

اس کی اپائنٹمنٹ میں ابھی آدھ گھنٹہ باقی تھا۔ ولیم کی پرائیویٹ نرس شیرن اس کے ساتھ آئی تھی۔ ولیم کے سراپا میں اس کی زندگی کی تھکاوٹ پھیل چکی تھی۔ وہ شیرن کا سہارا لیتے ہوئے سٹریچر پر بیٹھ گیا۔

’مجھے ڈائیجوکسن کی گولی دینا‘
’وہ تو تم آدھ گھنٹہ پہلے کھا چکے ہو‘
’اور پیشاب کی گولی دینا‘
’ وہ تو تم صرف پیر بدھ اور جمعہ کو کھاتے ہو اور آج ہفتہ ہے‘
’شیرن تم بہت مہربان ہو‘
اس کی روح کا تمام تر درد اس کی آنکھوں میں سمٹ آیا۔
’اکثر نرسیں مہربان ہی ہوتی ہیں‘ شیرن نے اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔
’مجھے کچھ پانی پلاؤ‘
شیرن اسے ایک گلاس لا کر دیتی ہے اور پینے میں مدد کرتی ہے۔
’شیرن میں ہر بات بھول کیوں جاتا ہوں؟‘
’زندگی کے اس دور میں بہت سے لوگ اپنی یادداشت کھو بیٹھتے ہیں‘

’میں نہ لکھ سکتا ہوں نہ پڑھ سکتا ہوں نہ سوچ سکتا ہوں۔ زندگی ایک بار بنتی جا رہی ہے۔ اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔

شیرن خاموش رہتی ہے۔

٭٭٭          ٭٭٭
ویٹنگ روم میں نرس داخل ہوتی ہے۔
’میرا نام مونیکا ہے۔ میں ڈگنیفائڈ ڈیتھ کلینک کی رجسٹرڈ نرس ہوں۔ آپ کا نام؟‘
’ولیم‘
’تاریخ پیدائش؟‘
’یاد نہیں تقریباٌ پچھتر سال کا ہوں‘
’آپ کا پتہ؟‘
’ اسی شہر میں رہتا تھا اب تو آپ کا کلینک ہی میرا پتہ ہے‘
’آپ کا سوشل انشورنس نمبر؟‘
’میرے بریف کیس میں ہے‘
’کیا آپ وصیت لکھ چکے ہیں؟‘
’ ہاں میرے وکیل کے پاس ہے‘
’آپ کی انشورنس؟‘
’اس کا بھی انتظام ہو چکا ہے‘
’ کیا آپ اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کو کوئی خط یا تار بھیجنا چاہتے ہیں؟‘
’ نہیں‘
’ کیا آپ کسی چرچ کے پادری کو مطلع کرنا چاہتے ہیں؟‘
’نہیں شکریہ‘
’ آپ کتنی دوائیں کھاتے ہیں؟‘
’ایک گولی دل کے درد کے لیے۔ ایک گولی گردوں کے لیے اور ایک گولہ ضعف جگر کے لیے‘
’ان کے علاوہ کوئی اور علاج کرواتے ہیں؟‘
’ہر تین مہینے کے بعد ڈائلیسز کرواتا ہوں‘
’آپ کو جو علاج یہاں ہو گا اس کا خرچہ کون ادا کرے گا؟‘
’میری انشورنس کمپنی‘
’معاف کرنا نرس میں تمہارا نام بھول گیا‘
’ مونیکا‘

’ولیم اس کلینک میں مرنے کے تین طریقے ہیں۔ تین منٹ کا۔ تین گھنٹوں کا اور تین دنوں کا۔ آپ کون سا طریقہ پسند فرمائیں گے؟‘

’ مجھے پہلے یہ بتاؤ کہ میرے مرنے کے بعد میرے جسم کا کیا کریں گے؟‘

’ جو آپ پسند فرمائیں۔ کیا آپ دفن ہونا چاہتے ہیں جلنا چاہتے ہیں یا اپنا جسم سائنس کی تحقیق کی نذر کرنا چاہتے ہیں؟‘

’ کیا میرے جسم کا کوئی حصہ کسی کے کام آ سکتا ہے؟‘
’آپ کی آنکھیں‘
’سنا ہے میرا خون جو او نیگیٹو ہے وہ بھی ریسرچ کے کام آ سکتا ہے‘
’درست ہے‘

’تو ایسا انتظام کرنا کہ میری آنکھیں اور خون لینے کے بعد باقی جسم جلا کر بھر اوقیانوس میں اس کی راکھ پھینک دینا۔‘

’کیا تین منٹوں یا تین گھنٹوں میں مرنے سے اس پر کچھ اثر پڑے گا؟‘
’ ہاں اگر تین منٹوں میں مرو گے تو تمہارے اعضا سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے گا‘
’ تو پھر تین منٹوں کا علاج ٹھیک ہے‘
’کیا تم گھر میں اکیلے رہتے تھے؟‘

’ ہاں۔ لیکن میری پانچ پرائیویٹ نرسیں ہیں۔ جو ایک ایک ہفتہ میرا خیال رکھتی تھیں۔ آج کل میرے ساتھ شیرن ہے‘

’کیا تم مرتے وقت شیرن کو اپنے ساتھ رکھنا چاہو گے؟‘
’ضرور‘
’میں یہ سب کچھ لکھ کر لاؤں گی تا کہ تم دستخط کر سکو اور اس کی قانونی حیثیت ہو سکے‘
’بہت خوب‘
’تم کب مرنا چاہو گے‘
’ کل شام۔ کل میرا سالگرہ کا دن ہے‘
’بہت خوب۔ ‘

’ولیم اس کلینک میں ایک محکمہ نفسیات کی ٹیم ہے جو موت و حیات کے موضوع پر ریسرچ کر رہی ہے۔ اگر اعتراض نہ ہو تو وہ تمہارا انٹرویو لے لیں‘

’ضرور۔ انہیں اندر بھیج دو۔ لیکن سنو نرس تمہارا نام کیا ہے؟‘
’ مونیکا‘

٭٭٭            ٭٭٭
’میں رابرٹ ہوں۔ اور یہ سنتھیا ہے۔ ہم نفسیات کے طلبہ ہیں۔ آپ سے کچھ سوال پوچھیں گے‘
’ضرور۔ میں بھی دس سال نفسیات پڑھتا رہا ہوں۔ ‘
’آپ مرنا کیوں چاہتے ہیں؟‘

’ میں زندگی سے تھک چکا ہوں۔ ایک وقت تھا جب میں زندگی سے لطف اندوز ہوا کرتا تھا۔ اب وہ میرے کندھوں پر بوجھ بن گئی ہے اور میں دوسروں کے کندھوں پر بوجھ بن گیا ہوں۔ ‘

’کیا آپ اپنے پیچھے دنیا میں کچھ چھوڑے جا رہے ہیں؟‘
’ ہاں میں نے پانچ کتابیں لکھی ہیں۔ جو فلسفے کے نصاب میں پڑھانی جاتی ہیں۔ یہی میری اصل وراثت ہے۔ ‘
’ آپ نے زندگی میں سب سے مشکل کیا پایا؟‘
’ الوداع کہنا لیکن جب میں الوداع کہنا سیکھ گیا تو زندگی کو الوداع کہنے کا وقت آ گیا۔‘
’کیا آپ کو زندگی سے کوئی شکایت رہی ہے؟‘
’نہیں‘
٭٭٭          ٭٭٭
’ولیم میرا نام ڈاکٹر سمتھ ہے کیا تم تیار ہو؟‘
’بالکل‘

’ہم دو طرح کی گیس کا استعمال کرتے ہیں۔ موت کو پرسکون بنانے کے لیے۔ ایک سے انسان مسکرا پڑتا ہے دوسری سے رو پڑتا ہے تم کون سی پسند کرو گے‘

’ مسکرانے والی‘
’ہم تمہیں نشہ آور ادویہ کے کمرے میں لے چلیں گے اور تمہارے پاس صرف شیرن ہوگی۔‘
’بہت خوب‘
٭٭٭       ٭٭٭
’شیرن میں تھک گیا ہوں۔ اب مجھے نیند آ رہی ہے۔
میرے ماتھے پہ بوسہ دو۔ گڈ بائے ’
٭٭٭       ٭٭٭
ولیم کی راکھ بحر اوقیانوس کی سطح پر بکھرتی ہے اور اس کی تہہ میں بڑے سکون سے بیٹھ جاتی ہے۔

بحر اوقیانوس کے ساحل پر بہت سے طلبا و طالبات اس واقعہ سے بے خبر ولیم کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھ رہے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 502 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments