انسانی حقوق کا عالمی دن
ہر برس 10 دسمبر کو عالم تمام میں انسانی حقوق کا عالمی دن (World Human Rights Day) منایا جاتا ہے۔ جنگ عظیم دوم انسانی تاریخ کی سب سے تباہ کن لڑائی تھی۔ جب جنگ عظیم دوم اختتام پذیر ہوا تو اس وقت انسانیت لہولہان تھی۔ اس جنگ سے انسانی معاشرے پر عبرتناک حد تک اثرات مرتب ہوئے، جنہیں ہنوز یاد کر کہ جسم لرز اٹھتا ہے۔ لاکھوں انسان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، ظلم و تشدد، قتل و غارتگری کا سما انتہاء تک پہنچ چکا تھا۔ اسی مابین 1945 میں اقوام متحدہ کا وجود عمل میں آیا۔
بعد ازاں 10 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے عالمی منشور برائے انسانی حقوق (یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس) کی متفقہ طور پر منظوری کا تاریخی کارنامہ سر انجام دیا۔
جس کے مطابق ہر انسان کو ہر قسم کی آزادی میسر ہوگی، اور تمام عالم جہاں کو یکسانیت کے مطابق بنیادی ضروریات اور سہولیات کا حق دار تصور کیا جائے گا۔
پیرس کے مقام پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی منشور برائے انسانی حقوق کی منظوری کے بعد جیسے دنیا سے متعلق نئے تصورات جنم لیتے نظر آئے، لوگ پرامید تصورات اخذ کرنے لگے، کہ شاید اب یہ مصورین دنیا کی خوبصورتی کو رنگ لگا کر اس کی صحیح عکاسی کریں گے اور معاشرے کے ہر فرد کو آزادی، انصاف، اور امن سے آشنا ہونے کا حق دلائیں گے۔
اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کی پامالیوں اور خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے اور انسان کو ایک مقدس اور قابل احترام مقام فراہم کرنا ہے۔
مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ عالم جہاں انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں کامیاب نظر نہیں آتی، لگتا ہے وہ سارے انسانی حقوق جو کتابوں کے اوراق پر اپنے نقش نگار کی خوبصورتی عیاں کرتے ہیں، وہ بس سفید کاغذوں پر اپنے جلوے بکھیرنے کے لیے وجود میں لائے گئے تھے۔
ایک طرف بھوک اور افلاس نے اپنا ڈیرہ جمایا ہوا ہے تو دوسری طرف مظلوم طاقتور کے ہتھے چڑے ہیں اور طاقت کا بول بالا ہے۔ حکمران امیر تر اور عوام غریب تر ہوتا جا رہا ہے، غریب پر غربت حاوی ہے اور امیر کا کتا باہر ممالک کے بسکٹ کے بغیر اور کوئی بسکٹ نہیں کھاتا۔
کوئی ماسٹرز کرنے کے بعد مزدوری کرتا ہے تو کوئی ماسٹرز کی ڈگری خرید کہ اعلیٰ مقام پاتا ہے۔ رات کو سونے کے لیے سڑکوں پر جگہ کم پڑ جاتی ہے اور کوئی یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ آج کون سے عالیشان گھر میں اپنی نیند پوری کی جائے۔ کوئی یہ سوچ کر پریشان ہے کہ آج اگر پیسے نہیں ملے تو بھوکا مر جاؤں گا اور وہی کوئی یہ سوچ کر پریشان ہے کہ میں دنیا کا امیر ترین شخص کیوں نہیں۔
آج دنیا کے ہر حصے میں انسانی حقوق کی پامالیاں تاحال جاری و ساری ہیں۔
معاشرے میں آزادی رائے کا اختیار نہ ہونے مترادف ہے اور طاقت کا دبدبہ ہمیشہ سے اس پر غالب رہا ہے۔
انسان ہی وہ وجہ ہے، جس سے انسانی حقوق کی پامالیاں تاحال جاری ہیں۔
بالخصوص اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو سماجی شعبوں میں ہمارے ہاں سرمایہ کاری شرمناک حد تک کم ہے۔ چاہے صحت کا شعبہ ہو یا تعلیم کا یا کوئی اور۔
قوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق پاکستان میں ایک ہزار بچوں میں سے 44 بچے پیدائش کے وقت ہی فوت ہو جاتے ہیں اور 75 بچے پانچ سال کی عمر کو نہیں پہنچ پاتے۔
صحت کی بنیادی سہولیات میسر نہ ہونے کے سبب نسل نو کی آمد سے پہلے ہی موت واقع ہو رہی ہے جو کہ ہمارے مستقبل کے درخشاں چراغ ہیں، اس سے ہمارا مستقبل تاریکیوں میں ڈوب رہا ہے۔
دنیا میں بھوک و افلاس پر گلوبل ہنگر انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 114 ممالک میں 92 نمبر پر ہے جس یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں کس حد تک بھوک و افلاس نے اپنا ڈیرہ جما لیا ہے اور ہم کس حد تک اپنے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں
اگر ہم تعلیم کے شعبے کی بات کریں تو تعلیم انسانی معاشرے میں ایک اہم جزو ہے اور ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو تعلیم سے آراستہ کرے اور اس سلسلے میں تعلیم کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے، مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت 10 سال کی عمر کے 55 ملین سے زیادہ پاکستانی لکھنے پڑھنے سے قاصر ہیں اور 5 سے 9 سال کی عمر کے 7 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ تعلیم سے ناآشنا اقوام کبھی ترقی حاصل نہیں کر سکتی،
جس شعبے پر آپ نظر پیریں آپ کو یہی حالات دیکھنے کو ملیں گے۔
اشیاء خورد و نوش میں ملاوٹ کی وجہ سے انسان بیماریوں کی قید میں جکڑا ہوا ہے، اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اور اسے شفاف بنانے کے لیے حکومت کے پاس کوئی توڑ نہیں،
مذکورہ بالا باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کو روندا جا رہا ہے جس میں سب سے زیادہ عام آدمی کی زندگی متاثر ہوئی ہے، یہ سن کر آپ کو ہرگز حیرت نہیں ہو گی کہ ان سب میں مرکزی کردار انسان ہی کا ہے۔
73 برس قبل جب اقوام متحدہ کے فورم پر انسانی حقوق کی متفقہ منشور کی منظوری عمل میں لائی گئی تو پوری دنیا نے اس پر عمل پیرا ہونے کی یقین دھانی کرائی، مگر آج اس یقین دھانی کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی بھی ملک کامیاب نظر نہیں آتا، اور یہی وجہ ہے اس وقت پوری دنیا میں وحشت کا سما برپا ہے۔ کیونکہ جب انسان کو اپنے بنیادی ضروریات میسر نہ ہوں، تو منفی رجحانات انسان پر حاوی ہوتی ہیں اور مجبوراً انسان غلط سمت اختیار کر لیتا ہے جس سے پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ جب تک انسان کو اپنے بنیادی حقوق حاصل نہ ہوں تب تک دنیا میں امن قائم ہونا ممکن نہیں۔


