عثمان بزدار نے اچانک چھاپا مار کر ایک سرکاری افسر کو کام کرتے ہوئے پکڑ لیا


مثل مشہور ہے کہ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔ یعنی پبلک جو کہتی ہے اسے سچ جانو۔ اور پبلک یہ کہتی ہے کہ سرکاری افسر کام نہیں کیا کرتے۔ ظاہر ہے کہ عوام کی رائے میں کام کرنا سرکاری افسر کے فرائض سے تجاوز قرار پاتا ہے۔

یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت سو فیصد میرٹ پر چلتی ہے۔ وہ روایات کی پاسدار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حکومت میں افسر خود نجی محفلوں میں کہتے ہیں کہ جو کام کرے گا اسے نیب اٹھا کر لے جائے گی اس لیے سکون سے اپنے دفتر میں بیٹھ کر تنخواہ وصول کرنی چاہیے اور ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے ایک معصوم افسر روایت شکنی کرنے کی پاداش میں قانون کے شکنجے میں پھنس جائے۔

ایسے میں لاہور سے ایک متحیر کر دینے والی خبر ملی ہے۔ ڈان کی خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے منگل کی صبح محکمہ سیاحت کے دفتر پر اچانک چھاپا مارا اور کام کرنے کی علت میں مبتلا ایڈیشنل سیکرٹری کلثوم ثاقب کو سرکاری روایات سے غفلت برتنے کے جرم میں او ایس ڈی بنا دیا۔

ہمارا گمان ہے کہ منگل کی صبح عثمان بزدار اٹھے ہوں گے تو کسی نے انہیں مطلع کیا ہو گا کہ سر آپ شہباز شریف لگے ہوئے ہیں۔ اور شہباز شریف ناشتے میں دو تین افسر معطل کر کے دن کا آغاز کیا کرتے تھے۔ سو عثمان بزدار نے بھی محکمہ سیاحت کا رخ کیا۔

وہ صبح سویرے دفتر پہنچے تو یہ دیکھ کر آگ بگولہ ہو گئے کہ چند افسران کی سیٹیں خالی تھیں۔ انہوں نے بعض کو او ایس ڈی بنایا اور بعض کو معطل کیا۔ اب ہم یہ بات تو جانتے ہیں کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ ایک انتہائی مصروف شخص ہوتا ہے۔ اس کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہوتا کہ وجوہات پوچھتا پھرے۔ وہ تو ایکشن پہلے لیتا ہے اور سوچتا بعد میں ہے۔ سو ایکشن لے لیا گیا۔

بعد میں کلثوم ثاقب صاحبہ نے فیس بک پر دہائی دی کہ ”کیا دن ہے جب آپ کو ڈیوٹی دینے کی سزا کے طور پر او ایس ڈی بنا دیا جائے۔ وقت تو عجیب چل ہی رہا ہے لیکن آج کا دن تو بالکل ہی بے سر و پا ہے“ ۔

کلثوم ثاقب، فاقہ کشی میں مبتلا مہاتما بدھ کو حیرت سے تک رہی ہیں۔ مہاتما بدھ انہیں ہمدردی سے دیکھ رہے ہیں

ان کا یہ دعویٰ ہے کہ بزدار حکومت نے انہیں ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی ایم ڈی کا ایڈیشنل چارج بھی دیا ہوا ہے اور جس وقت چھاپا مارا گیا اس وقت وہ جوہر ٹاؤن میں اس محکمے کے دفتر میں نیپا میں زیر تربیت گریڈ اٹھارہ سے انیس میں پروموشن کی خاطر تربیت پانے والے افسران کے ایک وفد سے سرکاری ملاقات میں مصروف تھیں اور اس کی تصویر بھی انہوں نے پوسٹ کر دی۔ ایک چیز تو واضح ہے۔ ان افسران نے یہ تربیت پا لی ہو گی کہ سزا پانے کے لیے کچھ غلط کرنا ضروری نہیں۔ یہ تو بس قسمت کا پھیر ہوتا ہے۔

ڈان نے وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری عامر جان سے پوچھا کہ کیا چیف منسٹر، پرنسپل سیکرٹری اور وزیراعلیٰ کے دفتر کے پورے عملے میں سے کسی کو بھی علم نہیں تھا کہ کلثوم ثاقب کے پاس ایم ڈی ٹورازم ڈویلپمنٹ کا ایڈیشنل چارج بھی ہے اور وہ اس محکمے کے دفتر میں بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے موجود ہو سکتی ہیں، تو پرنسپل سیکرٹری نے اس قدیم دیسی دانش پر عمل کیا جو کہتی ہے ایک چپ سو سکھ۔

ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ انکشاف کیا کہ یا تو چیف منسٹر کے دفتر کو اس بات کا علم نہیں تھا یا پھر یہ معلومات جان بوجھ کر چھپائی گئیں تاکہ وزیر اعلیٰ کو شرمندہ کیا جا سکے۔ ہمارا خیال ہے کہ معلومات چھپائی گئی ہوں گی لیکن ان مفسدین نے منہ کی کھائی کیونکہ چاہے جو بھی ہو جائے، وزیراعلیٰ کو شرمندہ نہیں کیا جا سکتا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1482 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments