چھوٹی عمر اور بڑے دل کا بچہ

اس کی عمر بمشکل آٹھ نو سال ہو گی مگر اس نے اپنی عمر سے بڑی بات کر کے میرے وجود کو نہال کر دیا تھا۔
ایک آدمی رفیق (فرضی نام) ہمارے پاس ہسپتال میں رکشے پہ سبزی بیچنے آیا کرتا تھا۔ رفیق نے اپنے ساتھ مدد کے لیے اس آٹھ نو سالہ بچے کو رکھ لیا۔ اس بچے پہ پہلی نظر پڑتے ہی احساس ہو جاتا تھا کہ وہ انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ رفیق اسے روزانہ کی اجرت دیا کرتا تھا جو اس کے گھر کے مشکل مالی حالات کو سنبھالتی تھی۔
ہم سبزی یا پھل لے رہے ہوتے تو وہ پرانے خستہ حال سے کپڑے پہنے رفیق کی مدد کر رہا ہوتا تھا۔ وہ رفیق کو چاچو کہہ کر بلایا کرتا تھا۔ میں نے ایک روز اس بچے کو بسکٹوں کا پیکٹ پکڑا دیا ، اس نے پہلے تو انکار کیا پھر میرے مسلسل اصرار پہ رکھ لیا۔
پھر ایسا ہوا کہ میں روزانہ ہی اسے کوئی بسکٹ یا ٹافی دے دیا کرتا اور وہ شرماتے شرماتے لے لیتا۔ اب وہ روزانہ آتا اور رکشے سے اترتے ہی دوڑ کر مجھے بلانے کے لیے میرے کمرے میں آ جایا کرتا کہ آ جائیں سبزی پھل وغیرہ لے لیں۔
ایک روز ایسے ہی وہ مجھے بلانے آیا اور میں اس کے ساتھ کمرے سے باہر نکلنے لگا تو اس نے مجھے رک کر وہیں بیٹھنے کا کہا پھر خود بھی میرے پاس آ بیٹھا اور کہنے لگا
"گل سن ، توں میرا بیلی ایں نا”
(تم میرے دوست ہو نا)
میں نے کہا "ہاں بالکل”
تو پھر کہنے لگا
” تمھارا جب بھی دل کرے ، تم رکشے سے اپنی مرضی کی ہر چیز لے کر کھا لیا کرو اور پیسے نہیں دینے۔ چاچو سے کہہ دینا میری دن کی اجرت میں سے پیسے کاٹ لیا کریں۔”
میں کچھ کہنے لگا تو وہ مجھے روکتے ہوئے بولا
” دیکھو تم مجھے چیزیں دیتے ہو تو میں لے لیتا ہوں نا ، تو تم بھی منع نہ کرو۔ جو چیز بھی کھانے کو دل کرے، لے لیا کرو اور پیسے نہیں دینے۔ "
میں اتنے چھوٹے سے بچے کی اتنی بڑی بات سن کر نہال نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔ وہ بچہ جس نے آنکھ کھلتے ہی ہمیشہ مالی مشکلات دیکھی ہیں ، اس کا اپنی دن کی مزدوری میں سے ایسے کشادہ دلی سے کھلی آفر کرنا اس کے اعلیٰ ظرف ہونے کی دلیل تھا۔
یہی عام سی باتیں ، عام سے لفظ ہوتے ہیں جو ہمارے وجود میں بھری اکتاہٹ نکال دیتے ہیں ، ہمیں نئے سرے سے جینے کی امنگ دیتے ہیں۔ ہمیں بتاتے ہیں کہ ابھی یہاں سے خیر کا پہلو رخصت نہیں ہوا، ابھی یہ دنیا جینے کے قابل ہے۔
Facebook Comments HS

