نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیل
چند روز قبل کی بات ہے کی بات ہے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ایک سابق رکن جو اپنے ”ناکردہ گناہوں“ کی سزا بھگت کر چکے ہیں ان کے سر پر نا اہلی کی تلوار لٹک رہی ہے انہیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کے بڑا قریب بھی تصور کیا جاتا ہے وہ جب کبھی لاہور کا قصد کرتے ہیں تو میاں شہباز شریف اپنی رہائش گاہ پر ان کی ناشتہ کی میز پر ”نہاری“ سے تواضع کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ 2022 ء کو ”عمرانی حکومت“ نہیں رہے گی۔ وہ اپنی اس ”غیر مصدقہ“ انفارمیشن کو بارہا اپنے احباب کی محافل میں شیئر کر چکے ہیں لیکن جب ان سے اس ”چونکا“ دینے والی خبر کے ”سورس“ بارے میں دریافت کیا جائے تو وہ طرح دے جاتے ہیں اور اس جملہ پر اکتفا کرتے ہیں کہ ”کپتان کی حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے آسمانوں میں عمرانی حکومت کے خاتمہ کا فیصلہ ہو چکا ہے بس تین ماہ انتظار کر لیں“ لیکن جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ عمران خان کی حکومت کس طرح ختم ہو گی؟ دھرنے کے نتیجے میں جائے گی یا تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی۔ کپتان از خود گھبرا کر پارلیمان ہی تحلیل کر دیں گے تو اس ”سزا یافتہ“ پارلیمنٹیرین کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہیں ہوتا لیکن جس یقین اور اعتماد کے ساتھ وہ دعویٰ کرتے ہیں تو پھر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا۔
سیاسی حلقوں میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ بالآخر میاں نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے ”ڈیل“ ہو گئی ہے معلوم نہیں اس افواہ میں کس قدر حقیقت ہے تاہم ڈیل ہر سیاسی محفل کا موضوع گفتگو ہے کم از کم میں جس محفل میں جاتا ہوں مجھے اس سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس بات پر اصرار کیا جاتا ہے کہ چونکہ میرا لندن مقیم میاں نواز شریف اور ان کے ارد گرد سائے کی طرح رہنے والے مسلم لیگیوں سے رابطہ رہتا ہے لہذا مجھے اس ڈیل کی تفصیلات کا ضرور کچھ نہ کچھ علم ہو گا۔
میرا ایک ہی جواب ہوتا ہے اس ڈیل بارے میں تین چار مسلم لیگی لیڈروں (نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور اسحق ڈار) کے سوا کسی کو کچھ علم نہیں کہ ”ہنڈیا“ میں کیا پک رہا ہے میاں نواز شریف بھی پیٹ کے ہلکے نہیں کہ وہ ہر کسی کو رازدان بنا لیں لہذا ان سے کوئی بات اگلوانا کار دارد۔ یہی کیفیت ان کے سابق ”دوست“ چوہدری نثار علی خان کی ہے جو اتنی جلدی اپنی مٹھی نہیں کھولتے۔ میاں نواز شریف، چوہدری نثار علی خان، میاں شہباز شریف اور اسحق ڈار پر مشتمل ”سپرا کچن کیبنٹ“ ہوا کرتی تھی چاروں جو فیصلہ کر لیتے تھے تو کسی کو ہوا نہیں لگنے دیتے تھے
مجھے معلوم ہے ان چاروں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل راحیل شریف سے ”ایکسٹینشن“ کے حوالے سے کچھ وعدے وعید کیے تھے لیکن جب موقع آیا تو انہوں نے ایکسٹینشن دی اور نہ ہی مراعات۔ کیپٹن محمد صفدر گھر کا بھیدی ہے لہذا جب کبھی وہ اپنی زبان کھولتا ہے تو پھر لنکا ہی ڈھاتا ہے پچھلے دنوں کی بات ہے انہوں نے کہا ہے کہ ”اگر جنرل راحیل کو ایکسٹینشن دے دی جاتی تو آج مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوتی۔ جیل یاترا کی نوبت آتی اور نہ ہی عمران خان کی حکومت دیکھنا پڑتی“ ۔
میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے بارے میں برملا یہ بات کہی جاتی ہے دونوں فوج کی ”گڈ بک“ میں ہیں دونوں فوج سے ڈیل کرنے کی شہرت رکھتے ہیں نواز شریف اور فوج کے درمیان خوشگوار تعلقات کا قیام ان کا ایجنڈا رہا ہے لیکن جب بھی میاں نواز شریف نے ان دو قریبی ساتھیوں کو ”بائی پاس“ کر کے کوئی بڑا فیصلہ کیا تو وہ اس کے نتیجے میں آئین کا آرٹیکل ( 2 ( 58 کی زد میں آ گئے یا پھر پرویزی مارشل لاء لگ گیا۔ پانامہ سکینڈل تو دور کی بات نہیں اگر بقول بریگیڈئیر اعجاز شاہ مسلم لیگ والے ہماری بات مان لیتے تو آج مسلم لیگ کی ہی حکومت ہوتی۔ سوال یہ ہے کیا میاں نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کا ”مائنس ون“ کا فارمولہ قبول کر لیا ہے اس بارے میں مسلم لیگی قیادت نے پر اسرار طور پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے کوئی مسلم لیگی لیڈر اس معاملہ پر زبان کھولنے کے لئے تیار نہیں۔
جب بھی مسلم لیگ (ن) کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہوتی یا ان بن ہو جاتی تو میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان پر مشتمل جوڑی کی راولپنڈی آمد و رفت تیز ہو جاتی چوہدری نثار علی خان کو اپنے عسکری پس منظر پر ناز ہے یہی وجہ ہے وہ اپنے اس پس منظر کو خوب کیش کراتے اور معاملہ طے کروا لیتے لیکن جب سے چوہدری نثار علی خان، میاں نواز شریف سے ”کٹی“ کر چکری میں جا بیٹھے ہیں نواز شریف کا کیس لڑنے والا کوئی نہ رہا میاں شہباز شریف بھی اکیلے رہ گئے ہیں انہیں راولپنڈی کے ”چکر“ لگانے کی دو بار سزا بھی مل چکی ہے 6، 6 ماہ کی قید کے بعد ان کو ضمانت پر رہائی ملی تو انہوں نے راولپنڈی میں ایک غیر سیاسی اور ریٹائرڈ زندگی گزارنے والی ”شخصیت“ سے ملاقات کر کے ڈیل کی راہ ہموار کر لی۔
شنید ہے میاں شہباز شریف نے یہ ملاقات میاں نواز شریف کی آشیر باد سے کی ہے۔ یہ شخصیت ڈیل کو حتمی شکل دینے کے لئے لندن گئی اور میاں نواز شریف سے طویل ملاقات کی اس ملاقات میں کیا طے پایا ہے کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی لیکن لندن سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں ڈیل کا پیغام دے رہی ہیں۔ میاں نواز شریف جو گاہے بگاہے اسٹیبلشمنٹ کو ”ووٹ کو عزت دو“ کا درس دیتے رہتے ہیں کی ”خاموشی“ بھی ممکنہ ڈیل کی تصدیق کرتی ہے جب میں نے جج ارشد ملک فیم مسلم لیگی رہنما ناصر بٹ جو ہر وقت نواز شریف کے ساتھ سائے کی طرح رہتے ہیں سے ڈیل بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تاہم ان کا اصرار ہے کہ میاں نواز شریف ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیہ سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے۔
یہ بات کسی ڈھکی چھپی نہیں مریم نواز غیر علانیہ طور پر میاں نواز شریف کے سیاسی جانشین کے طور پر میدان سیاست اتری ہیں اور انہوں نے بڑی حد تک میاں نواز شریف کا سیاسی جانشین ثابت کر دکھا یا ہے اور ہجوم کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان کے ارد گرد بھی کچھ لوگوں نے ہالہ بنا رکھا ہے وہ صبح شام ان کو مستقبل کا وزیر اعظم بننے کا احساس دلاتے رہتے ہیں اس لئے اب وہ اپنے آپ کو مستقبل کا وزیر اعظم ہی سمجھ رہی ہیں انہوں نے بھی پارٹی میں اپنا الگ گروپ بنا رکھا ہے جن کی جاتی امرا تک رسائی ہے۔ پچھلے دنوں مسلم لیگ نون کے ایک سرکردہ پارلیمنٹیرین نے جب ایک ٹی وی پروگرام میں کسی کا نام لئے بغیر اشارتاً کہا کہ ”مسلم لیگ (ن) کے کچھ لوگ اسائنمنٹ پر ہیں“ تو پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف نے فوراً پارٹی کے قائد میاں نواز شریف سے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی اجازت حاصل کر لی دلچسپ امر یہ ہے اس پارلیمنٹیرین کو جاتی امرا کی سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ سے آج تک شو کاز نوٹس کا جواب نہیں آیا
شنید ہے فیصل آباد کے جلسہ میں مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے اس ”طاقت ور“ پارلیمنٹیرین سے شو کاز نوٹس کا اب تک جواب نہ دینے بارے میں استفسار کیا تو اس نے بڑی حقارت سے کہا کہ ”آپ ہوتے کون ہیں مجھ سے جواب مانگنے والے، میں نے جن کو جواب دینا تھا جواب دے دیا ہے“ یہی پارلیمنٹیرین کبھی حمزہ شہباز کے کیمپ میں ہوتا تھا آج کل اس کو جاتی امرا میں بڑی عزت و توقیر حاصل ہے۔ اس پارلیمنٹیرین کے طاقت ور ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے شو کاز نوٹس لندن سے تیار ہو کر آیا تھا جس میں احسن اقبال نے allegations کے ساتھ false کا اضافہ کر دیا تو ان کی باز پرس ہوئی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف ہی وزارت عظمی کے لئے امیدوار ہوں گے ان کے بیان کی اشاعت کے اگلے روز ہی محمد زبیر عمر جو بیک وقت میاں نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان ہیں نے شاہد خاقان عباسی کے بیان پر تبصرہ کیا جو تائید تھا اور نہ ہی تردید لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے انہیں جاتی امرا سے گول مول وضاحت کرنے کا کہا گیا جو انہوں نے بے دلی سے کر دی ممکن ہے شاہد خاقان عباسی نے میاں شہباز شریف کو پارٹی کا وزارت عظمی کا امیدوار بنائے جانے کا اعلان لندن مقیم نواز شریف کی کلیئرنس کے بعد ہی کیا ہو اتنا بڑا اعلان وہ از خود نہیں کر سکتے
ویسے بھی انہوں نے اصولی بات کی ہے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت میاں نواز شریف نا اہل قرار دیے گئے تھے جب کہ وہ اور ان کی صاحبزادی مریم نواز احتساب عدالت کے سزا یافتہ ہیں مریم نواز کی سزا ختم نہیں ہوئی وہ ضمانت پر رہا ہوئی ہیں۔ کیا ڈیل ہوئی ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں؟ ڈیل ہوئی بھی ہے کہ نہیں کوئی سیاسی تجزیہ کار یقین سے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ اگر میاں شہباز شریف کے سر پر ”ہما“ بٹھایا جا رہا ہے تو یقیناً یہ ڈیل کا نتیجہ ہو گا جس میں مائنس ون ہو گا اور مریم نواز کو فی الحال وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھنا چھوڑنا ہو گا عمران خان اس وقت مولانا فضل الرحمنٰ سے خوفزدہ دکھائی نہیں دیتے انہیں میاں شہباز شریف سے خوف ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر ہیں جو کسی بھی وقت ان کی جگہ لے سکتے ہیں اس خوف کی وجہ سے ان کو تیسری بار جیل ڈالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔


