خیبر پختونخوا کا سیاسی موڈ


خیبر پختونخوا کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں سب سے اہم بات یہ نہیں کہ پی ٹی آئی کی انہدام کا آغاز اسی خیبر پختونخوا سے ہوا جہاں سے وہ پروان بھی چڑھی تھی کیونکہ مصنوعی سیاسی اٹھان اور بد ترین کارکردگی کے بعد اس سیاسی انہدام میں حیرت کا کوئی پہلو نہیں لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے زوال کا کوئی پھل اس کا طاقتور سیاسی حریف مسلم لیگ نون سمیٹنے میں کیونکر ناکام نظر آئی؟

آگے چل کر اس پر بات کریں گے لیکن فی الحال پختونخوا کے مجموعی سیاسی موڈ کے تجزیے کی طرف بڑھتے ہیں۔

گو کہ اے این پی اپنے مضبوط گڑھ چارسدہ صوابی پشاور اور مردان میں بہت حد تک پٹتی نظر آئی بلکہ جمعیت علماء اسلام ف نے ”گھر میں گھس کر مارا“ والی صورتحال سے دوچار کیا اگر چہ مردان میئر اور چند تحصیلیں اے این پی کے ہاتھ لگی لیکن اسے تسلی بخش کارکردگی کیسے قرار دیا جائے جب مردان صوابی حتی کہ اسفندیار ولی خان کے آبائی ضلعے چارسدہ میں بھی جے یو آئی کا پلڑا بہت حد تک بھاری رہا۔

حالانکہ وسطی خیبر پختونخوا ( جن میں پشاور نوشہرہ چارسدہ مردان صوابی اور بونیر کے اضلاع شامل ہیں ) میں اے این پی ہمیشہ اکثریتی ووٹ لیتی رہی ہے جبکہ جے یو آئی جنوبی اضلاع (جن میں ڈی آئی خان ٹانک بنوں لکی مروت اور کرک شامل ہیں ) میں طاقتور سیاسی اور انتخابی قوت رہی ہے لیکن اب کے بار اے این پی کے اپنے مضبوط اثر و رسوخ کے علاقے اور ووٹ بینک ان کے ہاتھوں سے پھسل گئے جسے جے یو آئی ف نے ایک ماہرانہ چابکدستی کے ساتھ تھام لیا۔

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اے این پی کو اس پریشان کن صورتحال کا سامنا کیونکر کرنا پڑا؟

پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ یہ وہی اے این پی ہرگز نہیں جسے باچا خان اور ولی خان لیڈ کرتے اور جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھاتے جس سے سخت جان لیکن جمہوریت پسند کارکنوں نے جنم لیا تھا

اب چونکہ پارٹی کارکنوں کے فکری اور نظریاتی خد و خال آمریت دشمنی اور جمہوری جدوجہد سے ترتیب پائے تھے لیکن اے این پی کی موجودہ قیادت اس روایت کو آگے بڑھانے میں ناکام نظر آئی حتی کہ پی ڈی ایم سے علیحدگی میں بھی کوئی عار نہیں سمجھا اس لئے پارٹی کے روایتی مزاج کا حامل ووٹر نئے منظر نامے میں خود کو ایڈجسٹ نہ کر سکا اور بہت حد تک منتشر ہو کر رہ گیا جس کا بر وقت اور بھر پور فائدہ جے یو آئی نے اپنے اس مخصوص سیاسی سٹینڈ کی وجہ سے اٹھا لیا جو سیاسی سٹینڈ باچا خان اور ولی خان کے نظریات کے قریب تر ہے۔

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ سول سپر میسی اور جمہوری بالا دستی کی سب سے بڑی علمبردار جماعت مسلم لیگ نون پی ٹی آئی کے انہدام اور اے این پی کے منتشر ہوتے ووٹر سے بنتے سیاسی خلا کا فائدہ اٹھانے میں حد درجہ ناکام کیوں نظر آئی؟

حالانکہ سیاسی اور انتخابی حوالے سے موجودہ بلدیاتی انتخابات مسلم لیگ نون کے لئے حد درجہ آئیڈیل فضا اور سازگار ماحول کی نشاندہی کر رہے تھے جسے بھر حال مقامی لیڈر شپ اور تنظیموں نے ایک مجرمانہ غفلت کے ساتھ نظر انداز کیا جس کا فائدہ جے یو آئی نے کمال مہارت اور چابکدستی کے ساتھ اٹھا لیا کیونکہ سول سپر میسی کے حامی ووٹر کے سامنے دوسری جماعت تھی ہی نہیں۔

آپ اندازہ لگائیں کہ پشاور جیسے اہم شہر میں میئر کے لئے مسلم لیگ نون کا کوئی امیدوار ہی میدان میں نہ تھا۔ یہی حال مردان اور کوہاٹ میں بھی تھا۔ ان تین اضلاع میں سے دو (پشاور اور کوہاٹ ) کا میئر انتخاب جے یو آئی ف نے جیتے جبکہ مردان اے این پی کے حصے میں آیا۔

اسی طرح صوابی کی چار تحصیلوں میں سے صرف ایک تحصیل اسد قیصر کے کزن اور پی ٹی آئی کے امیدوار نے جیتی لیکن مسلم لیگ نون کی قیادت اس سے بے خبر رہی کہ اسد قیصر نے مقامی قیادت کے بیٹوں کو الیکشن سے پہلے کن اہم عہدوں پر تعینات کیا تھا اور یہ مقامی ”قیادت“ اس کا احسان کس طرح اتارتے رہے ( یاد رہے کہ یہ ”قیادت جو کل تین افراد پر مشتمل ہے“ زندگی بھر ایک بھی الیکشن نہیں جیت سکے ہیں جبکہ درجن بھر الیکشن ضرور ہارے ہیں )

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں نہ صرف مسلم لیگ کا روایتی اور طاقتور ووٹ بینک موجود ہے بلکہ پی ٹی آئی کے انہدام اور اے این پی کے منتشر ہوتے ووٹر سے تخلیق پاتے نئے سیاسی خلا کو کسی غنودہ اور لا پرواہ قیادتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ہرگز اپنے حق میں نہیں بھرا جا سکتا۔

اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور اس کی جماعت نے جس ”خلا“ کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا اس خلا سے مسلم لیگی قیادت مکمل طور پر ناشناسا اور بے خبر رہی۔

خیبر پختونخوا کے حال ہی میں ہوئے بلدیاتی انتخابات میں یہ نکتہ ایک توجہ کے ساتھ نوٹ کیا گیا کہ ایک عشرہ پہلے جن نوجوانوں کی کم عمری اور نادانی کا فائدہ اٹھا کر جذباتی انداز میں جس بے مقصد نعروں کے پیچھے لگایا گیا تھا وہ نوجوان اب اسی طرح کا کم عمر بھی نہیں رہا اور اسی طرح کا نادان اور جذباتی بھی نہیں بلکہ اب کے وہ ایک تعمیری مراجعت کی جانب گامزن دکھائی دیا۔

گویا فرسودہ نظام اور خالی خولی نعروں سے شناسا ہوتا اور بیدار ہوتا ہوا ووٹر اور سیاسی کارکن کا نیا لاٹ سامنے آنے لگا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس قیمتی لاٹ پر بروقت توجہ کون دے گا اور اسے تعمیری سیاست کے لئے کیسے بروئے کار لایا جائے گا۔

لیکن یاد رہے کہ اس بار کوئی ڈرامہ نہیں چلے گا کیونکہ اب کے یہ نوجوان بہت چوکنا بھی ہیں اور با خبر بھی

تبھی تو پی ٹی آئی اے این پی اور پیپلز پارٹی کے ہوتے ہوئے بھی وہ جے یو آئی کی طرف جھکے نظر آئے حالانکہ وہ اس جماعت کے ووٹر بھی نہ تھے لیکن انہیں معلوم تھا کہ دستیاب حالات میں اس سے بہتر آپشن موجود ہی نہیں۔

اور یہی وہ ووٹ تھا جس نے پورے صوبے میں غیر متوقع طور پر انتخابات کا پانسہ پلٹ دیا۔

Facebook Comments HS