کلیسا بمقابلہ علم اور سیکولرزم

یورپ کی فکری تاریخ میں علم اور مذہب کی باہمی کشمکش سب سے گھمبیر مسئلہ رہی ہے۔ آج کل کے یورپ کو دیکھ کر بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ علم کے مقابلے میں مذہب کو شکست ہو چکی ہے۔ لیکن بعض مفکرین کے نزدیک یہ کشمکش نہ تو کبھی ختم ہوئی تھی اور نہ کبھی ختم ہوگی۔ یہ بات حقیقت ہے کہ علم نے کلیسا کو جن محازوں پر شکست دی ہے وہ خالص مذہب نہیں بلکہ وہ توہمات اور واہم تھے جو رومی سلطنت نے اپنے آبا یونان والوں سے ورثے میں پائے تھے۔ یہ بات زیادہ بہتر رہے گی کہ یہ کشمکش مذہب بمقابلہ علم نہیں بلکہ کلیسا بمقابلہ علم تھی۔ اس موقع پر کلیسا سے دو اہم غلطیاں ہوئیں۔ پہلی خالص مذہبی عقائد میں بشری خواہشات کو خلط ملط کرنا اور دوسری اہم غلطی کلیسا کا لوگوں کی عقل پر نقب لگانا۔ فطری طور پر یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئ کسی کی سوچ اور عقل پر پہرہ دے۔
اس بارے میں برنتن کہتا ہے کہ اس دور میں کلیسا ہی صحافی تھا, کلیسا ہی لابریری, سکول اور کالج تھا۔ کسی کو یہ اختیار نہ تھا کہ وہ خود سے کچھ سوچے۔ اس وقت کلیسا ارسطو اور بطلیموس سے بہت متاثر تھا۔ تو یہاں پہ ایک مخلوط فلسفہ مسیح تشکیل پایا جو کہ تورات, انجیل, قدیم حکما کے اقوال اور یونانی فلسفے کا مرکب تھا۔ ارسطو کا فلسفہ طب, عناصر اربعہ کے نظریات, بطلیموس کا نظریہ کہ زمین کائنات کا مرکز ہے’ مسیحت کا عقیدہ بن گئے۔ اگر طبی میدان میں دیکھا جائے تو شیطانی طاقتوں کو بھگانے کے لیے مختلف رسومات کی جاتیں, جو بیمار ہوتا اسے کہا جاتا کہ کنواری مریم کی تصویر اپنے سرہانے کے نیچے رکھ کر سویا کرو وغیرہ وغیرہ۔
ایسے میں اندلس, سسلی اور جنوبی اٹلی میں مسلم تہذیب دیکھ کر عقل پسند لوگ ششدر رہ جاتے اور علم حاصل کرتے۔ تو کلیسا ان پر قہر بن کر ٹوٹ پڑا۔ اس موقع پر کلیسا نےتفشیشی محکموں کے ذرائع استعمال کرتےہوئے آزار خیال لوگوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔
وہ نظریہ جس نے کلیسا کی بنیادوں کو ہلایا وہ تھا کوپرنیکس کا نظریہ۔ جس سے بطلیموس کے نظریے پر چوٹ پڑی۔ چونکہ حضرت عیسیٰ زمین پر آئے تھے اس لیے یہ ضروری تھا کہ زمین کائنات کا مرکز ہو۔ اس کی کتاب حرکات الاجرام پر پابندگی لگ گئی۔ کوپرنیکس کلیسا کے مظالم سے پہلے ہی مر گیا۔ کلیسا نے سمجھا کہ یہ نظریہ اپنی موت آپ مر گیا ہے۔ مگر پھر گورڈیانو برونو نے اس نظریے کو پھر سے زندہ کر دیا۔ تو کلیسا نے اس کو زندہ جلادیا۔ جب کہ گلیلیو نے بڑی مشکل سے اپنی جان بچائی۔ بات صرف سائنس تک محرود نہ تھی۔ فلسفیوں نے بھی اس کام میں اپنا حصہ ڈالا۔ انہوں نے فقط فطرت اور عقل کو اپنا معبود بنایا۔
اس بارے میں سول کہتا ہے کہ جس نے ایمان باللہ کو ترک کردیا ہے وہ لازم طور پر فطرت کو اپنا خدا مانیں۔ کلیسا کا خدا سخت گیر ہے جس نے اپنے بیٹے کو مار ڈالا کیونکہ اس کے آبا میں سے کسی نے باغ عدن کا پھل کھا لیا تھا اس نئے مذہب کے داعی روسو, والٹیر اور دیدرو تھے۔ والٹیر نے تثلیث, اللہ کی تجسیم, مقدس تصاویراور ساتوں رسومات پر تنقید کی۔ حتیٰ کہ معجزات سے بھی انکار کر دیا۔ اس بارے میں کروسون کہتا ہے کہ بعض لوگ لفظ خدا سے اتنے زیادہ متنفر ہوئے کہ انہوں نے ہمیں لفظ خدا کو حذف کرنے کا کہا۔
ابھی تک بات صرف فلسفیوں اور سائنسدانوں تک محدود تھی۔ عام لوگوں تک یہ باتیں پہنچنے میں ابھی یورپ انقلاب فرانس کا انتظار کر رہا تھا۔ (جاری ہے)
Facebook Comments HS

