خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کی ناکامی کی اصل وجہ


اس وقت ملک میں خیبرپختونخوا میں جے یو آئی کی بلدیاتی انتخابات میں پہلی پوزیشن کے حوالے سے مختلف قسم کی آرا سامنے آ رہی ہے۔ پنجاب میں زیادہ تر مبصرین اس کو مولانا کی عوامی مقبولیت قرار دے رہے ہیں لیکن یہاں خیبر پختونخوا میں بعض حلقے ان انتخابات کو افغانستان میں آنے والی تبدیلی اور اس حوالے سے خیبرپختونخوا میں ممکنہ اثرات کے لیے گراؤنڈ کی تیاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

دیکھا جائے تو خیبرپختونخوا میں جے یو آئی کی کامیابی سے یقیناً افغانستان کے حوالے سے چیزیں آسان ہو جاتی ہیں لیکن میری نظر میں بلدیاتی انتخابات کو اس طرف کا ابتدا اگر کہتے تو مضبوط دلیل کہی جا سکتی تھی کیونکہ بلدیاتی انتخابات وہ اختیار نہیں ہے جو ایسے حالات کے لیے ہونی چاہیے۔

ہمیں ماننا پڑے گا کہ پاکستان تحریک انصاف کا کمال خیبرپختونخوا سے شروع ہوا تھا اور زوال بھی یہاں سے شروع ہو رہا ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ جے یو آئی کی جیت کے وجوہات بھی سامنے آئیں۔

پاکستان میں عموماً انتخابات کو الیکشن سے زیادہ سلیکشن کہا جاتا رہا ہے لیکن جن دنوں تحریک انصاف کو پہلی بار صوبے میں حکومت ملی تب صوبائی نظام انتہائی کمزور تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی کو چاروں طرف سے گھیرا گیا تھا اور حکومت تو چھوڑیں ان کے وزرا کو اپنی جانیں بچانے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں لیکن پرویز خٹک کے وزیراعلی بن جانے کے بعد بعد نظام سٹیبل ہونا شروع ہوا۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ پرویز خٹک صاحب کو اداروں کی سپورٹ ملی اور اس دوران صوبے میں ادارے نظر آئے۔ بیوروکریسی نے کام کیا اور صوبے میں کافی حد تک میرٹ بحال ہوا۔ کرپشن کم از کم پہلے سے کم ہوئی البتہ مکمل خاتمے کی باتیں لغو ہیں۔

میری نظر میں تحریک انصاف کو صوبے میں دوبارہ حکومت پچھلی بہتر حکومت کے صلے میں ملی لیکن جب دوسری بار وزیراعلی محمود خان صاحب سامنے آئے تو ایک ایک چیز ہلنا شروع ہوئی۔ وزرا مشیران جس انداز میں کمائی میں لگ گئے اس کا پہلے صوبائی دور حکومت میں لوگوں کو تجربہ نہیں تھا۔ سرکاری نوکریاں مبینہ طور گریڈ کے حساب سے بکنے لگیں، اس وقت بھی مختلف علاقوں یا حلقوں میں ایسے مبینہ ڈیلرز موجود ہیں جن کے ذریعے آپ گریڈ ایک سے پندرہ تک کی نوکری خرید سکتے ہیں۔ مختلف علاقوں کے ترقیاتی سکیموں کی مبینہ سیل لگ گئی ہے۔ یقیناً ترقیاتی کاموں میں کرپشن ہمیشہ ہوتی آئی ہے لیکن موجودہ دور میں انتہا ہو گئی۔ کمیشن کے امتحانات میں طلبا و طالبات کے حقوق بیچے گئے۔ ان تمام غلطیوں اور کوتاہیوں کے بعد عمران خان کے پشتونوں کے حوالے سے حالیہ بیانات کے لوگوں پر منفی اثرات پڑے۔ ذاتی طور پر جن لوگوں سے بات ہوئی جو کہ سالوں کی بدامنی اور انتشار کے بعد ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں، وہ عمران خان کے بیانات کو اپنے علاقے کے خلاف ہونے والی کسی نئی سازش کا حصہ کہتے رہے۔

اس وقت خیبرپختونخوا میں عموماً تعلیم یافتہ اور قوم پرست طبقہ تحریک انصاف کی شکست پر جس قدر خوش نظر آتے ہیں، جے یو آئی کی کامیابی پر اس قدر ناراض نظر آتے ہیں۔ لیکن میری رائے میں خیبر پختونخوا میں جے یو آئی کی مقبولیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور کامیابی کی وجہ ٹیکنیکل ہے۔ مثال کے طور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پہلے پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کا شمار یہاں کے بڑی جماعتوں میں ہوتا تھا لیکن حالات کی خرابی کے بعد ان دونوں جماعتوں کی لیڈرشپ نے خیبرپختونخوا کی سیاست میں جزوی حصہ لینے کی کوشش کی اور اس وقت حالانکہ یہ دونوں جماعتیں عوامی سطح پر پرانی مقبولیت نہیں رکھتی لیکن خاصا بڑا طبقہ اس وقت بھی ان دونوں جماعتوں کا ساتھ دے رہا ہے جو اگر کسی بھی جماعت کی حمایت کرے تو ان کو واضح کامیابی مل سکتی ہے اور ان انتخابات میں قریباً دونوں جماعتوں کی حمایت جے یو آئی کے ساتھ تھی۔

دوسری ایک بڑی وجہ امیدواروں کی سلیکشن تھی، جے یو آئی نے اکثر ان لوگوں کو امیدوار رکھا جو مالی لحاظ سے کافی مضبوط تھے۔ ٹانک شہر میں آخری لمحات میں مبینہ طور پر ایک ووٹ کی بولی سات سے دس ہزار تک پہنچی۔ اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان ( جہاں ابھی مئیر کے الیکشن ہونے ہیں ) کے مئیر کی ٹکٹ راجپوت برادری سے تعلق رکھنے والے ایک بڑی کاروباری شخصیت کو دی گئی ہے۔ پورے صوبے میں جے یو آئی کے امیدوار باہر سے نظر آرہے ہیں اور پارٹی کے اندر سے بہت کم لوگوں کو ٹکٹس جاری کیے گئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہاں کسی بھی شخص کو کسی سیاسی جماعت کا دیرینہ کارکن ثابت کرنا مشکل نہیں ہے لیکن ہم بھی دیکھ سکتے ہیں حقیقت سامنے آہی جاتی ہے۔

ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں قصہ پارینہ بن چکی ہے لیکن یہاں کے عوام کا متبادل جے یو آئی نہیں بنی لیکن آنے والے دنوں میں قوم پرست جماعتوں کے لیے کافی سپیس بنتی دیکھ رہا ہوں کیونکہ تحریک انصاف کے جذباتی کارکن کے لیے نظریاتی طور پر سب سے مناسب جماعت قوم پرست جماعت ہی ہو سکتی ہے مگر میرا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر نون لیگ اور پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا کی سیاست میں انٹری کریں تو ان دونوں جماعتوں کو بڑی سپیس مل سکتی ہے۔

 

Facebook Comments HS