وزیراعظم شکست کو خوشدلی سے قبول کر رہا ہے
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی الیکشن میں حکومتی پارٹی پی ٹی آئی کو اپنے ہی قلعے پر بھاری ضرب کا سامنا ہے۔ پشاور سمیت پی ٹی آئی کے مضبوط ترین منسٹر اور ایم این ایز کے مضبوط ترین حلقوں پشاور، مردان، بنوں اور کوہاٹ سے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جے یو آئی ف نے بہت بری شکست دی ہے۔ اور نتائج کے مطابق خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں نمبر ون پارٹی کے طور ابھری ہے۔ اور پی ٹی آئی دوسرے نمبر پر پھر آزاد امیدوار، چوتھے نمبر پر جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نون پانچویں نمبر اور پی پی پی آخری نمبر پر اپنی پوزیشن بنانے میں کامیاب ہو سکی۔
ان نتائج کے آتے ہی اپوزیشن نے تو اپنی تنقید کی توپوں کا رخ وزیراعظم عمران خان کی طرف کر دیا۔ خاص کر مسلم لیگ نون کا جشن منانا اور کہنا کہ عمران خان ناکام ہو گیا ہے۔ پبلک نے انھیں مسترد کر دیا ہے۔ اب انھیں پبلک کی جان چھوڑ دینی چاہیے اور گھر چلے جانا چاہیے۔ ان کی یہ خوشیاں سمجھ سے باہر ہیں۔ انھیں تو خود اپنی پارٹی کی ناکامی پر اپنے ووٹر اور سپورٹر سے معافی مانگنی چاہیے تھی۔ کیونکہ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف صاحب کا بیانیہ ہی یہی رہا ہے کہ ان کی جماعت کو دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں زبردستی ہروایا گیا تھا۔ اور وہ آج بھی پاکستان کی سب سے مقبول ترین جماعت اور لیڈر ہیں۔
اگر ان کا بیانیہ سچ تھا تو پھر ان کی جماعت کی بجائے مولانا فضل الرحمان کی جماعت کیسے جیت گئی؟ جبکہ ان کی جماعت مشکل سے تین میئر بنانے میں کامیاب ہو سکی۔ اور آخری نمبر پر آنے والا گھوڑا ریس میں کامیاب نہیں ہارا ہوا کہلاتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان تو اپنی جماعت کی جیت کے بعد پھولے نہیں سما رہے۔ ان کا خوش ہونا بنتا بھی ہے۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر طاقتور حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ہمارے راستے کی ساری رکاوٹیں ہٹا دی جائیں اور ہمیں موقعہ دیا جائے۔ ہم اپ کو ثابت کریں گے کہ ہم سب سے بہتر حکومت کر سکتے ہیں۔
وہ جوش خطابت میں پبلک کو یہ بھی بتانا بھول گئے کہ انھیں خیبرپختونخوا کے علاوہ ایک اور صوبے کی حکومت مل چکی ہے۔ وہاں کی پبلک انھیں پہلے بھی موقع دے چکی ہے۔ وہ اب ایسا کیا خاص کرنا چاہتے ہیں جو وہ پہلے نا کر سکے؟
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا اپنی جماعت کی شکست پر اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کو مخاطب کر کے لکھا اور پیغام دیا۔
”پختونخوا بلدیاتی انتخاب پر اٹھنے والے شور میں کسی کو یہ احساس نہیں ہو رہا کہ یہ انتخابات کامیاب جمہوریتوں میں پائے جانے والے نظام کی طرز پر جدید اور منتقل شدہ اختیارات کے حامل بلدیاتی نظام کا نکتۂ آغاز ہیں۔ براہ راست منتخب شدہ تحصیل ناظمین معیار حکومت میں بہتری لائیں گے اور مستقبل کے قائدین بنیں گے۔ ہماری 74 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمیں مقامی حکومتوں کا ایک با اختیار نظام میسر آیا ہے“
خیبر پختونخوا میں اپنی شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی روایتی سیاست سے ہٹ کر بلدیاتی الیکشن کا نتیجہ دیکھنے کے بعد اپنے ووٹرز کے سامنے سچ کو قبول کرتے ہوئے پیغام دینا کہ ہم اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے سیکھیں گے۔ بہت ہی زیادہ خوش آئند بات ہے۔ انھوں نے کسی اسٹیبلشمنٹ کو کسی جوڑ توڑ کو کسی مذہبی کارڈ کو نہیں اپنی جماعت کو قصور وار ٹھہرا۔ سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی شکست کو تسلیم کیا۔
اور ایسے بہادری اور جرت مندانہ اقدام پر ان کی تعریف نا کرنا زیادتی ہو گی۔
پاکستان میں جب بھی کسی بھی حکومت کے ماتحت ضمنی یا بلدیاتی الیکشن ہوتے ہیں۔ تو ہمیشہ حکومتی امیدوار ہی جیتتے رہے ہیں۔ یہ ہماری پاکستانی سیاست کی تاریخ رہی ہے۔ کیونکہ حکومتیں اپنی سرکاری وسائل کا بھرپور استعمال کر کے اپنے امیدواروں کو کامیاب کرواتی ہے۔ تاکہ پبلک پر یہ تاثر بھی نا جانے پائے۔ کہ ہماری حکومت غیر مقبول ہوئی ہے یا پبلک ہماری پالیسیوں سے ناراض ہے۔
تو پھر اس حکومت میں سب کچھ الٹ کیوں ہو رہا ہے؟
اپوزیشن پارٹیز کا بیانیہ ہے کہ یہ سب عمران خان کی ناقص پالیسیوں اور ناقص کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ جس کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی پنجاب کے اندر کنٹونمنٹ الیکشن ہاری۔ بلکہ اب خیبر پختونخوا میں اپنے ہی گڑھ کے اندر بلدیاتی الیکشن میں بھی شکست کا سامنا ہے۔
میری اپنی ذاتی رائے اور پاکستان کی سیاست کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے مشاہدہ اور تجزیہ ہے۔ کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی جماعت کی جن کوتاہیوں کی طرف نشاندہی کی ہے۔ وہی اصل اور میجر وجہ بنی ہے۔ کافی عرصے سے تحریک انصاف کے ایم پی اے، ایم این اے اور منسٹرز کے اختلافات کی خبریں زبان زدعام تھیں۔ اور تحریک انصاف کے بلدیاتی الیکشن میں آپسی لڑائی جھگڑے اور دھڑے بندی بھی وجہ بنے۔
دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ایک خاموش پیغام اپوزیشن والوں کے لئے کہ اپ لوگ ذرہ دھیرے اور صبر سے کام لیں۔ ہم بھی اپ کے ساتھ مفاہمت ہی چاہتے ہیں۔
میرا ایک سوال ہے۔ کہ مولانا فضل الرحمان تو اس نظام کو ہی نہیں مانتے تھے۔ وہ تو باقیوں کو بھی استعفیٰ دینے پر مجبور کر رہے تھے۔ تو کیا اب وہ اپنی جیت کے بعد 23 مارچ 2022 میں اس حکومت کے خلاف مارچ کریں گے؟ اگر کریں گے تو کیا دھاندلی اور استعفوں کی بات کو دہرا پائیں گے؟
اور تیسری وجہ مہنگائی میں پستی پبلک کو بہکانا بھی آسان ہوتا ہے۔
جب غریب مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہو تو اسے یہ یاد نہیں ہوتا کون سا لیڈر بین الاقوامی سطح پر پاکستانیوں کے لئے کیا جھنڈے گارڈ رہا ہے۔ انھیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ پاکستان میں اکتالیس سال کے بعد او آئی سی کا اجلاس بلانے والا بھی یہی وزیراعظم عمران خان ہے۔ انھیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ یہ وہی حکومت ہے جس نے امریکہ جیسی سپر پاور کو نا کہا ہے۔
ایک غریب کو جو یاد رہتا ہے وہ روٹی، آٹے، دال، چاول کی قیمت ہوتی ہے۔ اسے صرف اور صرف اپنے گھر کے بجلی، گیس کے بل یاد رہتے ہیں
وزیراعظم عمران خان صاحب کے پاس اچھا موقعہ ہے۔ اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور جو پبلک انھیں تبدیلی کے لئے لائی تھی۔ ان کی بیسک ضروری اشیا کی قیمتوں کو کم کریں۔ تاکہ غریب کو ریلیف ملے اور انھیں اصل تبدیلی کے جھونکے محسوس ہوں۔
جاتے جاتے ایک بات کہتی چلوں کہ اسے ستم ظرفی کہیں گے یا قدرت کا کرشمہ جس حکومت کے خلاف تمام اپوزیشن مل کر ایک نعرہ لگاتی تھی۔ کہ آئے نہیں لائے گئے ہیں۔ یہ ہمارا ووٹ چھین کر ہم پر مسلط کیے گئے ہیں۔ آج اسی وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں انھیں کی جماعت سے جیت کر اپنی کامیابی کا جشن منا رہے ہیں۔
اسے ہم اصل جمہوریت کا نیک شگون ہی کہیں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہی ایسا ہوا ہو گا۔ کہ ہارنے والا خوشدلی کے ساتھ اپنی ہار کو اپنی کوتاہیاں مان کر قبول کر رہا ہے۔ اور جیتنے والے بھی دھاندلی دھندلی کا رونا رونے کی بجائے اپنی جیت کا جشن منا رہے ہیں اور جو نا تین میں نا تیرہ میں تھے وہ ہارنے کے باوجود آ دوسروں کی جیت اور دوسروں کی ہار کو اپنے بیانیے کی کامیابی بتا رہے تھے۔


