تبدلی لانے والوں کے خلاف تبدیلی!
خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج بتا رہے ہیں کہ مولانا آ رہا ہے، اس انتخابات کے پہلے مرحلے میں جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن گروپ کو 64 میں سے 19 تحصیلوں میں برتری حاصل ہوئی ہے، جبکہ تحریک انصاف کو متعدد مقامات پر اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، تحریک انصاف کی بلدیاتی انتخابات میں بدلتی صورتحال نشاندہی کر رہی ہے کہ آنے والے دن حکومت پر بھاری پڑیں گے اور پنجاب سمیت پورا پاکستان، اس تبدیلی کی لپیٹ میں آ جائے گا، خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج حکمران جماعت کے لئے ایک بڑا دھچکا ہی سہی، مگر ملک میں بنیادی جمہوریت کے فروغ کے لئے ایک خوش آئند پیش رفت ہے، کیو نکہ یہ انتخابات ہی ملک میں بنیادی جمہوریت کا عمل رواں ہونے کی توقع پیدا کرتے ہیں۔
یہ امر واضح ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں ایک دن کی تاخیر بھی نہیں ہونے دی جاتی، تاہم ہمارے ہاں منتخب سیاسی حکومتوں کے ادوار میں بھی بالعموم بلدیاتی انتخابات سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی ہے اور ان کا انعقاد عدلیہ کے متواتر احکام اور مسلسل سرزنش کے بعد ہی عمل میں لایا جاتا ہے، اس حوالے سے موجودہ دور حکومت میں بھی صورت حال مختلف نہیں رہی اور آخری حد تک تاخیر کے بعد خیبر پختون خوا سے بلدیاتی انتخابات کا آغاز کیا گیا ہے، خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی حکومت اپنی دوسری آئینی مدت پوری کر رہی ہے، اس کے باوجود پہلے مرحلے میں اب تک کے سامنے آنے والے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنی مقبولیت برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نتائج غیر متوقع نہیں ہیں، حکمرانوں کی انگلیاں جب عوام کی نبض پر نہ رہیں اور عوام کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے جائیں تو ایسے ہی اپ سیٹ ہوا کرتے ہیں، خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے، اس کے انتخابی نتائج حکمران جماعت کے لئے چشم کشا ہونے چاہئیں، کیو نکہ خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کے پیچھے بلدیاتی نظام ہی تھا، مگر گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران نہ صرف جمہوری نظام کمزور ہوا ہے، بلکہ حکومت سے عوام سے فاصلے بڑھے اور مہنگائی و غربت نے عوام کے لئے انتہائی کٹھن صورت حال پیدا کردی ہے، حالیہ انتخابی نتائج عوام کے انہی جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں، یہ آواز خلق ہے، اس آواز کو جتنی جلد حکومت سن کر سمجھ لے، اس کے حق میں بہتر ہو گا۔
تحریک انصاف قائدین آواز خلق سننے کی بجائے انتخابی نتائج کے حوالے سے مختلف توجیحات بیان کر رہے ہیں، انہیں ان نتائج کی درست تفہیم کرتے ہوئے حقائق کو ماننا چاہیے، کیو نکہ اصلاح کا امکان اسی سے پیدا ہو سکتا ہے، یہ حکومت کی اب تک خوش قسمتی رہی ہے کہ اس کا کسی بھر پور حزب اختلاف سے پالا نہیں پڑا، اگرچہ حزب اختلاف نے حکومت مخالف اتحاد بھی بنائے اور عوام کو سڑکوں پر لانے کی ڈھیلی ڈھالی کچھ کاوشیں بھی کی ہیں، مگر حزب اختلاف کی بجائے حکومت کی اپنی پالیسیاں اور طرز حکمرانی نے ہی عوام اور حکومت کے درمیان خلیج بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، حکومت کے لئے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کچھ بھی رہے ہوں گے، مگر تبدیلی کی خواہاں عوام کے لئے باعث تکلیف ہیں، کیو نکہ پی ٹی آئی حکومت کو جس تبدیلی کے لئے لایا گیا تھا، اس تبدیلی کے آثار ساڑھے تین سال بعد بھی کہیں دکھائی نہیں دیے رہے ہیں، اس لیے ہی عوام تبدلی لانے کے دعویداروں کے خلاف فیصلہ دینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
پی ٹی آئی وفاق اور خیبر پی کے میں حکمران جماعت کے طور پر موجود ہے، اس کے باوجود بلدیاتی انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ عوام میں پی ٹی آئی کی مقبولیت انتہائی کم ہوتی جا رہی ہے، خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج سب کے سامنے ہیں، دوسرے مرحلے میں باقی 18 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں، اس سے صوبے کے عوام کی رائے مزید واضح ہو کر سامنے آ جائے گی، یہ صورتحال بہرطور پی ٹی آئی جماعت کے لیے لمحہ فکریہ ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے عوام ناخوش ہیں، بالخصوص آئے روز بڑھتی مہنگائی و بے روز گاری کے ہاتھوں زچ ہو چکے ہیں، اگر وزیراعظم عمران خان واقعی اپنی اور اپنی جماعت کی ساکھ بچانے کے لئے سنجیدہ ہیں تو انہیں اپنے اقتدار کی مدت کے باقی رہ جانے والے ڈیڑھ سال میں ہنگامی بنیادوں پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ جن سے عوام کو واقعی حقیقی ریلیف مل سکے اور حکومت کے ساتھ ان کی بدگمانی کا خاتمہ ہو جائے، اگر حکومت نے عوام کے مسائل کے تدارک میں مزید دیر کردی تو عوام تبدیلی لانے والوں کے خلاف تبدیلی لانے میں کبھی دیر نہیں کریں گے۔


