شکست کی وجہ حکومت کی نا اہلی ہے
جو کچھ حالیہ بلدیاتی انتخاب میں ہوا اس بارے کسی سمجھدار شخص کو شک نہیں تھا کہ اس سے بہتر ہوگا۔ تحریک انصاف کی پچھلے تین سالوں میں جو کارکردگی رہی ہے اس کے بعد کوئی احمق ہی ہوگا جس کو اس سے مختلف نتائج کی امید ہوگی۔ یہ بھی نوشتہ دیوار ہے کہ پنجاب کے بلدیاتی انتخاب اور اگلے عام انتخابات میں پورے ملک میں یہی رجحان دیکھنے کو ملے گا۔ تحریک انصاف کی حقیقت اب عوام پر کھل کر آشکار ہو چکی ہے اور ہر کوئی جان چکا ہے ان کے پلے بڑھکوں اور دھمکیوں کے سوا کچھ نہیں۔ ورنہ ایسا ہو سکتا تھا کہ وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور، وزیر مملکت علی محمد خان،صوبائی وزیر تعلیم شہرام ترکئی، وفاقی وزیر دفاع پرویزخٹک، وفاقی وزیر پانی و بجلی عمر ایوب وغیرہ کے امیدوار سرکاری مشنری کے بھرپور استعمال کے باوجود اپنی اپنی تحصیلوں میں بدترین شکست سے دوچار ہوتے۔ اب تحریک انصاف کے ترجمان اور گالم گلوچ بریگیڈ جو مرضی تاویلیں بیان کرتے رہیں شکست کی اصل وجوہات سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی۔ رہی سہی کسر اور بچا کچھا بھرم کے پی کے سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کی گفتگو سے پورا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کھل کر ان عوامل کی نشاندہی کر دی ہے جس کے سبب تحریک انصاف اپنے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں اس انجام سے دوچار ہوئی۔ وہ درست فرماتے ہیں کہ تحریک انصاف کے پاس اقتدار کا جواز ہی عوام کی معاشی مشکلات میں کمی لانا تھا،جب تحریک انصاف کے اقتدار میں مشکلات میں کمی کے بجائے ہر گزرتے دن اضافہ ہوگا تو حال یہی ہونا تھا۔
دیدہ بینا کسی کے پاس ہو تو حالیہ انتخاب حکومت کی مقبولیت جانچنے کے لیے کافی ہیں۔ مانتے ہیں حلقہ جاتی سیاست کے اپنے تقاضے ہیں اور اصل سیاست مقامی ہوتی ہے تاہم ایسا بہت کم دیکھا گیا ہے کہ حکمراں جماعت کسی انتخابات میں اتنی بری طرح شکست سے دوچار ہو جائے۔ صورتحال اس نہج تک پہنچنے میں کوئی ماورائے عقل فارمولا یا اچنبھے کی بات نہیں۔ تحریک انصاف کی حقیقی یا غیر حقیقی جو بھی مقبولیت تھی وہ صرف اور صرف نعروں اور دعووں کی وجہ سے تھی۔ اقتدار میں آنے سے پہلے عوام کی ستر سالہ محرومیوں کو اس جماعت نے اپنا بنیادی بیانیہ بنایا اور قرار دیا اس خرابی کی وجہ ملک پر مسلط دیگر سیاسی جماعتوں کی کرپشن ہے۔ زور و شور سے ڈھنڈورا پیٹا گیا تحریک انصاف اگر اقتدار میں آئی تو چونکہ اوپر "ایماندار شخص” عمران خان صاحب بیٹھے ہوں گے لہذا ابتدائی سو دن میں کرپشن مکمل ختم ہو جائے گی جس کے بعد دوسرا کام ملک کی لوٹی ہوئی دولت سے بیرون ملک جمع کیے گئے دو سو ارب ڈالرز بیرون ملک سے واپس لانا ہوگا۔ ان کے دور اقتدار میں میرٹ کا کلچر ہوگا کوئی دوست نوازی اور اقربا پروری نہیں ہوگی،جس کی وجہ سے عوام کو روزگار کے مساوی مواقع دستیاب ہوں گے۔ ملک میں ایک کروڑ نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور پچاس لاکھ گھر غریبوں کو دیے جائیں گے۔ زراعت جو ملکی معیشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور جس سے ملک کی چالیس فیصد ورک فورس وابستہ ہے اس شعبے میں انقلابی اقدامات کیے جائیں گے۔ وعدوں اور دعووں کی فہرست تو اور بھی بہت طویل ہے لکھنا شروع کریں تو کالم تنگ پڑ جائے۔
اپنے اقتدار میں کئی ایک وعدہ جو تحریک انصاف نے پورا کیا ہو؟وعدے پورے کرنا دور کی بات کی بات کوئی ایک ایسا الزام بتادیں جو تحریک انصاف کی قیادت ماضی کے حکمرانوں پر لگاتی تھی اور اس سے اپنا دامن بچانے میں کامیاب ہوئی ہو؟کرپشن کے خاتمے،میرٹ کے نفاذ اور انصاف کی فراہمی کے نام پر اقتدار میں آنی والی تحریک انصاف کا کس الزام سے دامن داغدار نہیں جس پر وہ مخالفین کو مطعون کیا کرتی تھی۔ ساڑھے تین سالوں میں کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ جب کرپشن کا نیا اسکینڈل اور رولز کی سنگین خلاف ورزی کی داستاں سننے کو نہیں ملی۔ کسی کو پسند ہو یا نہیں سچ بہرحال یہی ہے کہ تحریک انصاف جس طوفانی رفتار سے اٹھی یا اٹھائی گئی تھی اور جس طرح جھاگ کی مانند بیٹھتی جا رہی ہے اس کی اصل وجہ دھڑے بندی کی سیاست ہے اور نہ مقامی قیادت کی ریشہ دوانیاں۔ بلکہ اصل وجہ اس کی مرکزی قیادت کے قول و فعل کا تضاد اور کہہ مکرنیاں ہیں۔ کون سا وعدہ پورا ہوا اور کون سا دعوہ سچ ثابت ہوا؟کیا یہ حقیقت نہیں کہ عوام کے خواب ایک بار پھر سراب ثابت ہوئے؟یہ غلط ہے تو پھر جن "دانشوروں” نے اپنی تحریروں و تقریروں سے تبدیلی کا سونامی برپا کرنے میں دن رات ایک کیا آج وہ سب اپنا گریبان چاک کرکے گریہ کناں کیوں ہیں؟کس طرح جھٹلایا جا سکتا ہے کہ اس حکومت میں دوست نوازی اور اقربا پروری نہیں ہو رہی۔ کون سی تبدیلی آئی کیا اس حکومت میں بھی وہی چہرے غالب نہیں جو پچھلی تمام حکومتوں میں کرتا دھرتا تھے۔ نئی نوکریاں کہاں ملنی تھیں پہلے سے جو برسر روزگار تھے ان میں سے کئی فراغت کا صدمہ لیے گھر بیٹھ گئے ہیں۔ نئے گھروں کا وعدہ کیا وفا ہونا تھا جو اپنے گھر کے مالک تھے گرانی کے سبب ان کے لیے چولہا جلانا مشکل ہو چکا ہے۔ محظ ایوان اقتدار کے مکینوں کا چہرہ بدلنے کے سوا کیا تبدیلی آئی؟
عام آدمی یہ سوچ رہا ہے کہ صرف اقتدار کے ایوانوں میں چہرے بدلنے کا نام ہی تبدیلی تھا؟جس شخص میں ذرا بھی ایمانداری اور انسانیت ہو وہ محسوس کر سکتا ہے ملکی تاریخ میں غریب آدمی اتنے کرب میں کبھی نہیں رہا۔ آج دیہاڑی دار طبقہ مہنگائی اور بیروزگاری کے سبب جس قابل رحم حالت میں ہے اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ یہ دکھ ہر کوئی نہیں جان سکتا کہ جس دن غریب کی دیہاڑی نہ لگے بچوں کا پیٹ بھرنا اس کے لیے کتنا دشوار ہوتا ہے۔ بالفرض پورا مہینہ بلا ناغہ دیہاڑی لگ بھی جائے تو آج افراط زر جس سطح پر ہے صرف کھانے پینے اور دوا دارو کے اخراجات بھی ایک مزدور کی کمائی سے پورے ہو سکتے ہیں؟حیرت ہے کہ اب بھی حکومتی ذمہ داران کو احساس نہیں ہو رہا کہ غریب آدمی کی زندگی کس قدر اجیرن ہے۔ وزیراطلاعات کس آسانی سے فرماتے ہیں کہ قیمت کسی چیز کی قیمت دس بیس روپے بڑھنے سے قیامت نہیں آتی،خود کو یومیہ چار سو روپے سے سات افراد کا کنبہ چلانے والے کی جگہ رکھ کر دیکھیں پتہ چل جائے گا روپے کی اہمیت کیا ہے؟اپنی آئینی مدت کا بڑا عرصہ غیر ضروری محاذ آرائی میں ضائع کرنے کے بعد بھی حکومتی وزراء کو صرف یہ فکر ہے کہ مخالفین کو کس طرح بدنام کیا جائے۔ موجودہ صورتحال wake up کال ہونی چاہیے مگر اب بھی کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی الٹا وزیروں مشیروں کے بیانات بے حسی و سنگدلی کے ساتھ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ لغو بیان بازی اور بیہودہ یاوہ گوئی کے علاوہ حکومتی ذمہ داران کے پاس نا اہلی کو جسٹیفائی کرنے کا کوئی جواز ہے اور نہ ہی ملکی معیشیت گرداب سے نکالنے کی پالیسی۔ ان حالات میں آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کو ڈھنگ کے امیدوار ہی مل جائیں تو معجزہ ہوگا۔


