شکست عمران خان کا مقدر بن چکی
تحریک انصاف کی حکومت جتنی تیزی سے مقبولیت کے ساتھ حکومت میں آئی تھی اتنی ہی تیزی سے غیر مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر رہی ہے، سیاسی روایات یہی تھیں کہ حکومت ہمیشہ ضمنی انتخاب جیتتی ہے مگر یہ ایسی نامراد حکومت ہے کہ اب تک تقریباً 13 ضمنی انتخابات ہار چکی ہے، ان میں سے سب سے زیادہ ذلت ڈسکہ الیکشن میں اٹھائی اور الیکشن بھی ہار گئی
ساڑھے تین سال کی حکومت میں نا اہلی اور نالائقی کی وہ مثالیں قائم کی ہیں کہ جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی، عمران خان سے بہتر کارکردگی تو شوکت عزیز دکھا گئے تھے جو کہ ایک غیر سیاسی شخصیت تھی، عمران خان 22 سالہ جدوجہد کا دعوی تو کرتے ہیں مگر وہ یاجوج ماجوج کی طرح صرف اقتدار کی دیوار ہی چاٹتے رہے اور حکومت کرنے کے لئے کوئی تیاری نہ کی جس کے نتائج ضمنی انتخابات میں پے در پے شکستوں کے بعد خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں بھی شکست کی صورت میں سامنے آچکے ہیں
تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر شبلی فراز کے ظرف کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے بلدیاتی انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کر لی، ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں پی ٹی آئی کا مقابلہ پی ٹی آئی سے تھا، ہمارے بہت سے کارکن پارٹی قیادت سے ناراض تھے اس لئے ہم ہار گئے اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم 14 اضلاع میں کامیاب ہوسکتے تھے، ہار کی ایک وجہ مہنگائی بھی ہے
ان کے بیان پر ہنسی آئی کہ جناب جو حال آپ کی حکومت نے عوام کا کیا ہے ان حالات میں صرف تحریک انصاف کے کارکن ہی نہیں، عوام بھی ناراض ہیں، شاید انہوں نے فیس سیونگ کے لئے مہنگائی کا نام لیا ہے کیونکہ ان کو بھی اندازہ ہے کہ مہنگائی کا جن جس طرح ملک بھر دندناتا پھر رہا ہے وہ عوام کو روزانہ نگل بھی رہا ہے
سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور کے میئر کی سیٹ ہارنے کے بعد تحریک انصاف کا خیبر پختونخوا میں حکومت کرنے کا جواز ختم ہو چکا ہے، عمران خان اپوزیشن میں اور حکومت میں جس پارٹی کے قائد کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور ان کو ڈیزل کہہ کر پکارتے تھے، ان کی پارٹی سے شکست کھانے کے بعد اب تحریک انصاف کیا منہ دکھانے کے قابل رہی ہے
بے تحاشا مہنگائی اور نالائق حکومت شکست کی اصل وجہ ہے، اپنا ملک سنبھالا نہیں جا رہا اور ان کو افغانستان کی فکر پڑی ہے، اپنے ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں، ملک کا بیڑہ غرق ہو گیا، درآمدات بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے ملک مسلسل خسارے میں جا رہا ہے، حکومت بننے کے بعد عمران حکومت نے مسلم لیگ نون کی سابقہ حکومت پر سب سے زیادہ اعتراضات ہی یہی اٹھائے تھے کہ نواز حکومت نے درآمدات پر توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ بہت زیادہ بڑھ گیا اور ملک کی معیشت ڈوب گئی
عمران خان نے اپنی حکومت میں جس شخص کو مشیر تجارت بنایا وہ کاروباری ہے، ساڑھے تین سالوں سے دیکھ رہا ہوں، پڑھ بھی رہا ہوں اور ٹی وی چینلز پر اینکر کی آہ بکا بھی سن رہا ہوں کہ عبدالرزاق داؤد ملکی مفاد کے بجائے اپنی کاروباری برادری کے مفادات کو اولین دیتا ہے، آٹو انڈسٹری کو دیکھ لیں، ایک حکومتی اے ٹی ایم کو ایک سو سی بی یو گاڑی منگوانے کی اجازت ملی تھی مگر اس نے دس ہزار گاڑیاں ملائیشیا سے منگوائیں جس کی وجہ سے 1.6 بلین ڈالر باہر چلا گیا، وزیرخزانہ اس پر تڑپ اٹھے اور اب یکم جنوری سے جون 2022 تک اس پر پابندی لگا دی ہے
ڈالر کی کمیابی کی وجہ سے ہی ملک میں مہنگائی آسمان تک پہنچ گئی ہے مگر مجال ہے کہ عمران خان کو اس بات کا احساس ہو، مشیر تجارت اپنی وارداتیں ڈالے جا رہا ہے، عوام مہنگائی سے مر گئے ہیں، ان حالات میں عوام نے غصہ صرف انتخابات میں ہی نکالنا ہوتا ہے سو عوام نے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں عمران اور چٹا بزدار حکومت کو رد کر کے اپنا غصہ نکال لیا، اب عمران حکومت آگے آگے ڈیزل کے کرشمات دیکھنے کے لئے تیار رہے
بلدیاتی الیکشن میں شکست خورہ وزیراعظم عمران خان نے بیان دیا کہ غلط امیدواروں کا انتخاب شکست کی وجہ بنا، غلطیوں کی خمیازہ بھگتا، اب میں بلدیاتی انتخابات کی خود مانیٹرنگ کروں گا، خیبر پختونخوا میں بلدیاتی الیکشن میں شکست کے بعد وزیراعظم کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلی چٹا بزدار کو طلب کر لیا، ملاقات میں شکست کی وجوہات پر تبادلہ خیال کیا، ظاہر ہے چٹا بزدار نے مدعا کسی اور پر ہی ڈال کر اپنی جان چھڑانا تھی اور وہ اس نے سپیکر اور وزراء پر ڈال کر اپنی صفائی پیش کردی
سوال یہ ہے کہ وزیر اعلی زیادہ طاقتور اور با اختیار ہوتا ہے یا پھر سپیکر اور وزرا ، چٹا بزدار یہ اعتراف کیوں نہیں کرتا کہ وہ بس ”بزدار“ ہے، جس کی بیوروکریسی سنتی ہے نہ پارٹی رہنما، حیرت اس بات کی ہے کہ عمران خان کو اب یہ احساس ہو گیا ہے کہ غلط امیدواروں کا چناؤ شکست کا باعث بنا، تو جناب عرض ہے کہ جب سے عمران خان وزیراعظم بنے ہیں انہوں نے کون سا ہیرا تلاش کر کے کسی وزرات یا وزرات اعلی پر لگایا ہے
عمران خان نے ہر جگہ ”بزدار“ چن کر لگائے ہیں تو انجام یہی ہونا تھا، اگر عمران خان کو اپنے انتخاب کردہ لوگوں پر اب بھی اتنا ناز ہے تو جناب کچھ دیر انتظار کر لیں، پنجاب میں بھی بلدیاتی الیکشن ہونے والے ہیں اور یہاں ان کی مدمقابل مسلم لیگ نون ہوگی جو کہ الیکشن لڑنے کی پوری سائنس اور بے پناہ تجربہ رکھتی ہے، اگر عمران خان آنکھیں بند کر کے دماغ پر زور دے کر ڈسکہ اور خانیوال کے حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج دیکھ لیں تو وہ نوشتہ دیوار پڑھ سکتے ہیں کہ اب ہر جگہ شکست ان کا مقدر بن چکی ہے۔


