قائد اعظم کا ہولوگرام: بانی پاکستان محمد علی جناح کی یاد میں بنایا گیا لائف سائز ہولوگرام


قائد اعظم
پاکستان کے قیام کے 74 برس بعد شاید ہی کوئی پاکستانی ہو گا جو صحیح معنوں میں اس ملک کو ’جناح کا پاکستان‘ قرار دیتا ہو۔ جناح کے پاکستان اور آج کے پاکستان میں کتنی مطابقت ہے، یہ بحث کے لیے اچھا موضوع ہوسکتا ہے مگر کئی لوگوں کے لیے یہ فرق واضح ہے۔

اسی فرق کو ظاہر کرنے کے لیے ایک ایسی اختراعی مہم کا آغاز کیا گیا جس میں بانی پاکستان محمد علی جناح کا پہلا لائف سائز ہولوگرام بنایا گیا اور جب عوامی مقامات پر اس کی ہولوگرافک سکریننگ کی گئی تو لوگ دنگ رہ گئے۔

تنظیم ہائیو پاکستان نے جب ’ایک بیٹر پاکستان‘ کے نام سے اپنی نئی مہم کا آغاز کرنا چاہا تو انھوں نے سوچا کے جناح کا پیغام ان ہی کی تقاریر کے ذریعے کیسے پیش کیا جاسکتا ہیں۔ انھیں معلوم تھا کہ جناح آج بھی لوگوں کے لیے ایک ‘کریڈیبل میسنجر’ کی حیثیت رکھتے پیں۔

پروگرام مینیجر محسن نسیم بتاتے ہیں کہ انھوں نے سوچا کہ جناح پر فلم بنائی جا سکتی ہے یا کاغذ پر تحریر کی شکل میں جناح کی تقاریر بانٹی جا سکتی ہیں، مگر یہ سب تو پہلے کئی بار ہو چکا ہے۔

قائد اعظم

'ہم اپنے ایونٹ سے پہلے لوگوں تک ’آئیے قائد سے ملیے‘ کا پوسٹر لگاتے تھے۔ یہ لوگوں کے لیے حیران کن ہوتا تھا کہ قائد اعظم کیسے واپس آسکتے ہیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم چاہتے تھے کہ لوگوں کو خاص کر نوجوانوں کو قائد اعظم کی اقدار یاد دلائیں۔ تو ہم نے سوچا کہ قائد اعظم کا ایک لائف سائز ہولوگرافک امیج بنایا جائے۔‘

‘یہ ہولوگرام آپ کو ایک اصل انسان کی طرح نظر آتا ہے۔۔۔ ہم اسے لوگوں کے سامنے لے کر گئے تاکہ قائد کا پاکستان قائد کے اپنے الفاظ میں لوگوں تک پہنچا سکیں۔‘

اس مہم کے دوران جناح کی تقریروں میں سے ایک جامع تقریر لکھی گئی جس کے وائس اوور کے لیے باقائدہ آڈیشن بھی ہوئے۔ محسن بتاتے ہیں کہ پاکستان بھر سے لوگوں نے جناح کی آواز دینے کے لیے ان سے رجوع کیا اور پھر اس پر ایک پینل نے فیصلہ کیا، جس کے بعد ’ہمیں ایک ایسی آواز مل گئی جس پر سب نے اتفاق کیا کہ یہ تو واقعی قائد کی آواز ہے۔‘

منتظمین کا کہنا ہے کہ اس ہولوگرام کو مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہے اور اس کی سکریننگ ایک کنٹینر کے ذریعے کسی پارک یا مشہور عوامی مقام پر کی جاتی ہے۔

لیکن پھر جب اس تنظیم نے کراچی، لاہور اور قصور سمیت پاکستان کے کئی شہروں میں اس کے ایونٹس کرائے تو کیسا ردعمل ملا؟ محسن اور ان کی ٹیم تسلیم کرتی ہے کہ انھیں یہ بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ لوگوں کا رسپانس کیسا ہوگا۔ انھیں یہ ڈر بھی تھا کہ ہوسکتا ہے لوگ اس کا بُرا منائیں۔

قائد اعظم

مگر وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ لوگ اس کا یقین نہیں کرتے تھے، ایسا بھی ہوا کہ ایک نوجوان قائداعظم کی تقریر سن کر رونے لگا کیونکہ اس کو قائد کی شکل اور آواز میں ایسے پیغامات سننے کو ملے جو اس نے کتابوں میں یا اپنے بڑوں سے سنے ہوئے تھے۔ جب لوگوں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا تو وہ جذباتی ہو گئے۔‘

ایک شخص نے تو جناح کی تقریر سننے کے بعد یہاں تک کہہ دیا کہ ‘ایسا محسوس ہوا ہے جیسے بابا جی نے براہ راست لوگوں سے بات کی ہے، لائیو خطاب کیا ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

محمد علی جناح: معاملہ ایک روپیہ تنخواہ اور دو بار نمازِ جنارہ کا

کیا جناح کی مہلک بیماری کا علم تقسیم ہند کو روک سکتا تھا؟

14 جولائی تا 11 ستمبر 1948: محمد علی جناح کی زندگی کے آخری 60 دن

اتحاد

'متحد ہونے کے لیے ہمیں ایک جیسا ہونے کی ضرورت نہیں'

ہائیو پاکستان میں پروگرام سپورٹ آفیسر بریا شاہ کہتی ہیں کہ جب لوگوں کے سامنے ایک دم قائد اعظم آتے ہیں اور اپنی تقریروں میں مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق اور اتحاد کا ذکر کرتے ہیں 'تو لوگ بالکل دنگ رہ جاتے ہیں اور ان کی باتوں سے متفق دکھائی دیتے ہیں۔'

‘اکثر ہم نے دیکھا ہے کہ قائد اعظم کے یہ پیغامات ان لوگوں تک نہیں پہنچ سکے۔ حتیٰ کہ کچھ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں۔’

وہ بتاتی ہیں کہ یہ مہم تشدد پسندی کے بیانیے کو چیلنج کرتی ہے۔ ’پاکستان میں ہر علاقے، ہر مذہب اور ہر کلاس کے لوگ آج بھی قائد کو اپنا ہیرو مانتے ہیں اور ان کی بات غور سے سنتے ہیں۔‘

محمد علی جناح

’قائد اعظم نے اپنی تقاریر میں بار بار ان باتوں کو دہرایا ہے کہ سب برابر شہری ہیں اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگوں کا تعلق کس مذہب یا خطے سے ہے۔ انھوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک مرد و خواتین شانہ بشانہ نہیں ہوں گے کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔‘

بریا کہتی ہیں کہ ’پاکستان کے قیام کے بعد قائد کی کابینہ میں ایسے وزرا بھی تھے جو مسلمان نہیں تھے۔۔۔ انھوں نے بار بار اپنی تقریروں میں یہ درس دیا ہے کہ ہمیں متحد ہونے کے لیے ایک جیسا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp