اتینا پی ـ ایچ ـ ڈی کتا

ہمارے ہاں جتنے بھی مشکل کام ہیں ان میں سے تعلیم کا حصول بھی ایک مشکل تر کام ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ یہ کوئی ہمالیہ کو سر کرنے یا پھر سمندر کی گہرائی میں غوطہ زن ہونے کے مترادف ہے بلکہ مہنگائی کی وجہ سے ہے۔ دنیا کے جتنے بھی ویلفیئر ممالک ہیں وہاں بنیادی تین چیزیں بہت سہل اور اسان ہیں۔ ایک صحت، دوسرا رہائش اور تیسرا تعلیم۔ جبکہ ہمارے ہاں یہ تینوں اتنے ہی مشکل اور مہنگے ہیں بلکہ لوگوں کی ساری زندگی کی جمع پونجی اپنی رہائش، اچھی صحت اور حصول تعلیم پر خرچ کرنے پر گزر جاتی ہیں۔
اپنا اچھا گھر ہر کسی کا خواب ہوتا ہے۔ اچھے تعلیمی ادارے میں خود یا بچوں کی تعلیم کے حصول کا ہر کوئی خواہش مند ہوتا ہے۔ کون نہیں چاہتا کہ ان کا علاج اعلی ’سے اعلی‘ ہسپتال میں نہ ہو۔ لیکن ہمارے ہاں یہ سب کچھ ممکن ہونا اتنا سہل نہیں۔ کیونکہ ہمارے ہاں تو ٹرسٹ کے نام پر بنے ہوئے ہسپتال بھی سٹیٹس سمبل بنے ہوئے ہیں۔ جیسے کہ کراچی میں آغا خان ہسپتال جو بنیادی طور پر ایک ٹرسٹ ہے اور کراچی کے پوش علاقے کے وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
لیکن ادھر غریب بندہ اپنے علاج کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اور ادھر علاج معالجہ ایک سٹیٹس سمبل ہے۔ امیر آدمی یہاں علاج کروا کر اپنی حیثیت پر اتراتا ہے۔ غریب اگر ٹرسٹ کے ذریعے اتا بھی ہے تو ان کو کئی وسیلے، ذرائع اور تعلقات ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔ لیکن پھر بھی جو باری دی جاتی ہے وہ کئی مہینوں پر محیط ہوتی ہے اور اگر نمبر خدا خدا کر کے ابھی جاتا ہے تو پھر بھی ان کو وہ توجہ نہیں دی جاتی ہے جو ان کو درکار ہوتی ہے۔
یا پھر ان کو دوائیوں کی لمبی لسٹ پکڑا دی جاتی ہے کہ یہ خود ارینج کرو۔ یعنی فیس نہیں لی تو کم از کم دوائیاں تو خود ارینج کریں۔ یہ تو ایک شہر کی ایک مثال دی، اسی طرح کے مثالیں ہر شہر میں وافر مقدار میں ملنے کو دستیاب ہیں۔ بلکہ اسی طرح ٹرسٹ کے نام پر جو تعلیمی ادارے بن چکے ہیں اور جن جن سلیبریٹیز نے بنائی ہیں وہ سب پوش علاقوں میں واقع ہیں جہاں پر غریب بچوں کی رسائی ہی نہیں ہو سکتی یا پھر وہ ایسے علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں پر ہر کوئی ”ان“ ہو ہی نہیں سکتا۔
وہاں جانے کی اتنے فارمیلٹیز ہوتی ہیں کہ عام یا غریب آدمی اس خود ساختہ ”ہول“ یا پراسس سے گزر ہی نہیں سکتا۔ بالکل بعینہ! جب ہم رہائش کی طرف آتے ہیں تو غریب غربا پوش علاقوں اور پوش سوسائٹیز کا سوچ تو سکتے ہیں پر وہاں رہنے کے عملی طور پر روادار نہیں ہوسکتے۔ مجبوراً کچی بستیوں یا کالونیوں میں زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر معذور افراد تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ اچھی صحت کے حامل سہولیات حاصل کر سکیں یا پوش علاقوں میں رہائش رکھ سکیں یا اچھے تعلیمی ادارے تو درکنار ایک عام تعلیمی ادارے میں بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔
معذور افراد کے بارے میں تو ہماری مجموعی سوچ یہ بن چکی ہے کہ وہ بھکاری بنے گا اور لوگوں اور معاشرے پر بوجھ بن کر ان سے مانگ کر کھائے گا اور ان سے منسلکہ لوگ ان کی خدمت تب کریں گے جب وہ اس معذوری کے سہارے مانگ کر ان کو کما کے دے گا۔ اور ایسی مثالیں ہمارے سامنے روز کی بنیاد پر آتی رہتی ہیں اور روز مرہ کی بنیاد پر ہم اور آپ دیکھتے رہتے ہیں جن پر ہم بھی کبھی کبھار ترس کھا کر صدقہ، خیرات یا زکوة دے دیتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم بھی کبھی ویلفیئر سٹیٹ کی طرف بڑھیں گے؟ ریاست مدینہ کب ویلفیئر سٹیٹ کی شکل میں نمودار ہوگی یا پھر صرف باتوں کی حد تک یہ شور شرابا رہے گا۔ تو بات ویلفیئر سٹیٹ کی تعلیم سے متعلق ہو رہی تھی تو حال ہی میں ایک فرانسیز زینٹ نامی شخص نے تیرہ دسمبر دو ہزار اکیس کو کلیو لینڈ یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ یہ شخص در اصل دونوں انکھوں سے نابینا ہے تو اتینا نامی پالتو کتا ان کی خدمت گزاری کرتا ہے اور یہ گزشتہ سات سال سے یہ خدمت گزاری کرتا ہوا آ رہا ہے۔
اس کے علاوہ اتینا نے دیگر کاموں میں بھی فرانسز زنٹ کی معاونت کی ہے۔ زنٹ کبھی کبھار ہنس کے کہہ دیتا ہے کہ اتینا کو بھی پی ایچ ڈی کی ڈگری دے دینا چاہیے کیونکہ گزشتہ سات سال سے وہ ان کے ساتھ کلاس روم میں برابر بیٹھا رہتا رہا ہے۔ لیکن مزے کی بات ہے کہ فرانسز زینٹ بعد میں یہ اعتراف کرتا ہے کہ ان کی بیوی نے بھی اس دوران ان کا ساتھ دیا ہے۔

