اترن تو اترن ہے

چیزوں کو ہر زاویہ سے دیکھیں تو نئے رنگ، نئے روپ نظر آتے ہیں۔ لیکن جو لوگ چیزوں کو صرف ایک زاویہ سے دیکھتے ہیں وہ حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔
آپ صنعتی میدان میں ترقی یافتہ ممالک کو ہی لیجیے۔ ان کے انسانیت پر ظلم و ستم اپنی جگہ لیکن جب وہ محرومیوں کے شکار غریب ممالک کی جانب نظر عنایت فرماتے ہیں تو جان میں جان آجاتی ہے۔ مثلاً اپنی صنعتوں کو ترقی دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لئے جب وہ کارخانوں کی چمنیاں روشن کرتے ہیں تو غریب ممالک ان کی چمنیوں سے نکلنے والی آلودگی کا شکار ہوتے ہیں۔ صحت کے مناسب وسائل نہ ہونے کے سبب ان کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن ٹھہریے یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے ان فیکٹریوں کا خراب مال، کوڑا کباڑا جب وہ غیر ترقی یافتہ ممالک کو بھیجتے ہیں تو غریبوں کا چو لہا جلتا ہے۔ امیروں کی چمنیاں جلنے سے اگر غریبوں کا چولہا جلے تو سودا گھاٹے کا نہیں ہے۔ آپ کی غریبوں سے ہمدردی اپنی جگہ، آپ کے انسانیت اور اخلاقیات پر مبنی دلائل اپنی جگہ پر بات اس مصرع پر آ کر ختم ہو جاتی ہے۔ ”ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“
یہ تو طاقتور ممالک مطلب ہے ترقی یافتہ ممالک کا کمال ہے کہ ان کے منہ سے کچھ گرتا ہے تو ہمارے بڑے کام کا ہوتا ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ان کے منہ سے گرے ہوئے کی وجہ سے ہی غریب ممالک کا گزارا چل رہا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ زیادہ کیوں سوچیں، ذہین پر زیادہ زور کیوں ڈالیں دیکھ لیں کہ امیر ملکوں کے دیو ہیکل جہاز جب ٹوٹنے کے لئے ہماری بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے ہیں تو ہزاروں چہرے کھل اٹھتے ہیں۔ اور جب ان کے استعمال شدہ کمپیوٹرز سے لدے کنٹینرز ہماری سمندری حدود میں داخل ہوتے ہیں تو دلوں پر سرور سا چھا جاتا ہے اور دل ہچکولے لینے لگتا ہے کہ اب دنیا کی ہر تفریح ہماری دسترس میں ہوگی۔
لیکن ہمارے ساتھ عجیب معاملہ ہے امیر ملکوں کی اترن مطلب استعمال شدہ چیزیں استعمال کرنے سے ہماری انا مجروح نہیں ہوتی۔ مگر غریب ملکوں کے غریب لوگ ان کے استعمال شدہ کپڑے استعمال کر لیں تو بس پھر طعنے لنڈے کے ہیں۔ کوئی تمھارے ناپ والا چل بسا ہو گا۔ چلیں بات سے بات تو چلے تفریح طبع کے لئے کوئی عنوان تو ہو۔ بہت سے حضرات یہ کہتی نظر آئیں گے ”الحمدللہ میں نے کبھی لنڈے کا کچھ نہیں پہنا، ارے بھئی یہ آپ کا زاویہ نگاہ ہے آپ کپڑوں کو ہی اترن سمجھتے ہیں، بہت سے حضرات یہ کہتی نظر آئیں گے“ الحمدللہ میں نے کبھی لنڈے کا کچھ نہیں پہنا، ارے بھئی یہ آپ کا زاویہ نگاہ ہے آپ کپڑوں کو ہی اترن سمجھتے ہیں، اور باقی چیزیں علم و ہنر، سے لے کر ان کے لب و لہجے کی۔
نقالی تک۔ ان کے اٹھنے بیٹھے سے زندگی کے رنگوں سے مزے لینے تک ہر چیز اترن ہی تو ہے۔ جسے ہم یا تو استعمال کر رہے ہیں یا استعمال کی حسرت رکھتے ہیں۔ مگر نہ جانے کیوں بجلی غریب کے آشیانہ پر ہی کیوں گرتی ہے؟ تنقید کا نشانہ غریب کا پیراہن ہی کیوں؟ تن ڈھکنے پر ہی تنقید کیوں؟ طرز کہن پر اڑنا ہمارا وتیرہ ہے شاید؟ ، آئین نو سے ڈرتے ہیں؟
اگر ہم اتنے ہی فرسٹ ہینڈ یعنی نئی چیزوں کے قائل ہوتے تو ہماری عمارتوں کے نقشے غیر ملکی نہ بناتے۔ ہماری شاہراہوں پر چلتی گاڑیاں آج بھی غیروں کی ممنون ہیں۔ ہماری فیکٹریاں جب غیروں کے ہاتھوں سے نکل کر ہمارے ہاتھ میں آئیں تو فولاد کے بجائے نقصان پیدا کرنے لگیں۔ کھیلوں میں ہمیں کس قدر غیروں کی ضرورت ہے اولمپک کے ریکارڈ دیکھئے۔ جب ہر چیز ہی غیروں سے لینی ہے تو غریب اگر اپنا لباس لنڈے سے یعنی غیروں کا استعمال شدہ پہن لیتا ہے تو اس کو تو بخش دیجئے ویسے بھی غریب تو بچہ جمورا ہے جب کہا گھوم جا گھوم گیا۔

