عزت نفس کاشت کیجیے

عزت نفس بڑی اچھی چیز تھی۔ ہمارے یہاں بھی پائی جاتی تھی اب و ہوا کی تبدیلی نے اسے تقریباً مفقود کر دیا ہے کہیں کہیں نظر بھی آجاتی ہے مگر جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا کے مصداق بہت کم لوگ کی اس سے بہرہ مند ہوتے ہیں ماحول میں مسلسل تبدیلی سے بھی اس کی موجودگی میں کمی آئی ہے اس خطہ کی آب و ہوا میں یہ زیادہ دیر ٹھہر نہیں پاتی یا اس کی زندگی

Read more

اپنے نیرو کی بانسریاں توڑ دو

بابا جی حل بتاؤ ہم سدھریں گے کب؟ بیٹے جی سدھر جائیں گے اتنی جلدی کیا ہے۔ عجیب بات ہے آپ کے منہ سے جو بات نکلتی ہے پوری ہو جاتی ہے پھر آپ ہمارے سدھرنے کی دعا کیوں نہیں کرتے؟ کیا آپ کو ہم سے محبت نہیں؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ کہ ہم خوش رہیں، دعا کریں دعا، بیٹے جی، کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے؟ میرے لال،

Read more

اترن تو اترن ہے

چیزوں کو ہر زاویہ سے دیکھیں تو نئے رنگ، نئے روپ نظر آتے ہیں۔ لیکن جو لوگ چیزوں کو صرف ایک زاویہ سے دیکھتے ہیں وہ حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ آپ صنعتی میدان میں ترقی یافتہ ممالک کو ہی لیجیے۔ ان کے انسانیت پر ظلم و ستم اپنی جگہ لیکن جب وہ محرومیوں کے شکار غریب ممالک کی جانب نظر عنایت فرماتے ہیں تو جان میں جان آجاتی ہے۔ مثلاً اپنی صنعتوں کو ترقی دینے کے لئے زیادہ سے

Read more

تازہ بستیاں آباد کرنے والوں سے ہشیار

ایک گھر سے دو گھر اور پھر دیکھتے دیکھتے یہ گھر بستی سے گاؤں، گاؤں سے شہر میں تبدیل ہو جاتے ہیں یہ بھی ٹھیک تھا مگر صورتحال یہ ہے کہ ایک بستی میں دوسری بستی اور ایک شہر میں کئی شہر آباد ہو جنم لے رہے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا، ”کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد“ چاچا سرفراز کہتے ہیں ہیں کہ لوگوں نے اس شعر کو سمجھنے میں غلطی کی ہے اور یہ غلطی صاحب علم و

Read more

ستائشی جملوں کے طلبگار لوگ

کتنا مشکل کام ہے اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنا۔ اس کام کو ناپسندیدہ سمجھتے ہوئے ہی ایسے جملے کہے جاتے ہیں ”اپنے منہ میاں مٹھو“ ”انجمن ستائیش باہمی“ مگر کچھ لوگوں کے لئے تو یہ معمول کا کام ہے۔ ڈھٹائی سے دوسروں کی کامیابیاں اپنے نام کر لیتے ہیں اور ناکردہ کاموں کی تعریف اس طرح وصول کرتے ہیں جس طرح بارہواں کھلاڑی کامیابی پر اور کچھ خوشامدی لوگ اس کے کان میں کہہ دیتے ہیں کہ اگر آپ

Read more

خبر کو خبر اور تبصرے کو تبصرہ سمجھئے

ھم نے اپنے استاذہ، والدین، بزرگوں اور ہر نیک خواہشات رکھنے والے سے سنا کہ اگر کچھ سیکھنا چاہتے ہو تو اخبارات پڑھا کرو، ان کے خصوصی شمارے، میگزین، اداریہ، اور کالموں کو پڑھا کرو۔ ریڈیو سنا کرو اور ٹی وی دیکھا کرو اس سے تمھیں خاطر خواہ معلومات ملیں گیں۔ بات غلط نہ تھی یہ ذرائع ابلاغ کے ان تمام ذرائع کی اہمیت سے انکار ممکن نہ تھا۔ یہ ادارے شائستگی، تمیز، لحاظ، حفظ مراتب سیکھنے کا بہترین ذریعہ تھے۔ البتہ

Read more

ابا جی آپ بہت یاد آتے ہو

ابا جی! ابا کے عالمی دن کے موقع پر آپ بہت یاد آئے۔ شکر ہے آپ اس دن کو منانے سے پہلے ہی گزر گئے۔ میں سوچتا ہوں اگر آج آپ حیات کی قید میں ہوتے اور میری جانب سے آپ کو یہ دن ”وش“ کیا جاتا تو اس کے نتائج مجھے کیا بھگتنے پڑتے یہ میں ہی جانتا ہوں۔ نہ ہم نے کبھی آپ کی سالگرہ منائی نہ آپ نے کبھی ہماری پھر بھی ہر دن خوشی کا دن

Read more

سوشل میڈیا پر چوہدری قمرالدین کا انتقال کیسے ہوا؟

ہر روز ابلاغ کے نئے طریقے ایجاد ہورہے ہیں۔ پر دل سے پوچھو تو ابلاغ کا ایک ہی طریقہ بہتر تھا۔ ڈھول پیٹنا۔ ۔ ۔ جی ہاں حاکم وقت کو جب بھی ضرورت پڑتی۔ وہ ڈھولچی کو بھیج دیتا اور وہ ڈھول بجا بجا کر لوگوں کی توجہ حاصل کرتا۔ اور حاکم وقت کا پیغام عام ہوجاتا۔ ۔ ۔ خیر ڈھولچی تو ابلاغ کے جدید ذرائع سے آج بھی وابستہ ہیں۔ ۔ ۔ لیکن اب حاکم اور محکوم کی تمیز

Read more