سنہ 2020 کے اختتامی پندرہ منٹ


31 دسمبر، 2020، بروز بدھ۔

نئے سال کی آمد میں صرف اور صرف پندرہ منٹ رہ گئے تھے، اور میں کمرے میں گرم بستر اوڑھے موبائل پر نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے پورے دنیا کی نیو ائیر تقریبات پر نظر جمائے بیٹھا تھا، اور پوری دنیا بے چینی سے 12 بجنے کے انتظار میں تھی، تاہم اسی مابین اچانک ایک سوچ نے میرے ذہن میں دستک دی؛ کہ یہ سال تو جیسے پلک جھپکتے ہی اپنے اختتام کو پہنچا گیا۔

ویسے 365 دن، 52 ہفتے اور 12 مہینے، ایسے گزرے جیسے کل کا دن گزرا ہے۔ البتہ یہ سوچتے ہی میں بستر سے اٹھ گیا، اور دسمبر کی یخ بستہ سردی میں باہر نکل آیا اور کھلے آسمان تلے سرد ہواؤں کی لہروں کو محسوس کرتے ؛ آسمان کی طرف نظریں پھیلائے ستاروں کی چمک اور خوبصورتی کی احساس کو اپنے بھیتر محسوس کرنے لگا۔ البتہ سردی کے احساس نے مجھے کانپنے پر مجبور تو کیا تھا مگر میں نے بستر سے اٹھتے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں نئے سال کو سرد ہواؤں کے مابین اور کھلے آسمان تلے ستاروں کی چمکتی روشنی میں ہی خوش آمدید کہا گا۔

تقریباً نئے سال کی آمد کو پندرہ منٹ رہ گئے تھے ؛اور بلا کی سرد ہواؤں نے مجھے اپنی جھکڑ میں لے لیا تھا، تاہم میں اپنے فیصلے پر عمل پیرا تھا اور ہر طرح کی حالات سے نمٹنے کے لیے میں کمر کس لی تھی۔

باہر مائنس سینٹی گریڈ کی ناقابل برداشت سردی میں کھڑے رہنے کا میرے مقصد صرف اور صرف ان پندرہ منٹوں کو یادگار بنانا تھا، اور سال گزشتہ پر نظر ثانی کرنی تھی، تاہم میں اپنے ذہن کو دوڑاتا گیا کہ آیا میں نے سال گزشتہ میں ایسا کیا کام سرانجام دیا ہے جو تا مرگ یاد رکھنے کے قابل ہو۔ دوڑتے بھاگتے بالآخر ذہن نے ہار مان لی، اور وہ لحمہ جس کی میرے ذہن کو تلاش تھی وہ ذہن کے احاطے میں نہ آ سکی۔ یعنی ایسا کوئی لمحہ زیر ذہن آیا ہی نہیں، جس سے میں یہ کہہ سکو کہ یہ سال جو چند لمحے بعد اختتام پذیر ہونے والا تھا؛جس کہ کچھ لمحے ایسے تھے جو مجھے برسوں یاد رہیں گے، لیکن افسوس ایسا ہو نہ پایا،

بالآخر ذہن کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی غرض سے میں اپنے آپ سے گفتگو کرنے لگا اور سوچا کہ یہ سال تو ختم ہونے کی کگر پر ہے، اب کیوں نہ آنے والے سال کی پلاننگ کی جائے تاکہ جب وہ سال اپنے آخری لمحات میں ہو تو میرے پاس انگنت ایسے لمحے ہوں جو زندگی بر یاد رہیں، چنانچہ میں نے موبائل نکالا اور جو بھی میں کرنے والا تھا یہ جو بھی میرے خواہشات تھے جو میں آئندہ سال کرنا چاہتا تھا، ان سب کو موبائل میں درج کرتا گیا۔

ان میں سے چند اہم باتیں ہیں جن کا اظہار میں آپ احباب کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں، حالانکہ میرے ایک استاد ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ:

: جو بھی تم زندگی میں کرنا چاہتے ہو یا جو حاصل کرنا کا ارادہ ہے، ان چیزوں کا اظہار دنیا کے سامنے مت کرو، کیونکہ اظہار کرنے سے تمھارے ارادے کمزور پڑھ سکتے ہیں اور تم راستے سے بھٹک سکتے ہو:

اور جہاں تک میرا خیال ہے یہ بات صحیح بھی ہے، مگر مجھے یقین ہے کہ جن باتوں کا میں ذکر کرنے لگا ہوں، ان کو میں نہیں، بلکہ دنیا کا ہر فرد کرنا پسند کرتا ہے اور کرنا بھی چاہتا ہے۔

تاہم ان درج کردہ باتوں میں سب سے پہلے میں نے یہ عہد کر لیا کہ میں کسی بھی انسان کے لیے باعث دکھ نہ بنو، اور جب بھی مجھے کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کا موقع ملے تو اپنے حیثیت کے مطابق اس کی مدد کرنے میں پہل کروں، اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دور حاضر ہم انسانوں کو انسانوں کی مدد کی اشد ضرورت ہے، مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں لاتعداد ایسے لوگ ہیں جو اپنے پالتو کتوں پر بے تحاشا خرچ کرتے ہیں، اور لاکھوں خرچ کرنے کے لیے ایک لمحہ بھی کتراتے نہیں، البتہ اگر کوئی ضرورت مند انسان ان سے مدد کی درخواست کرے، تو منہ پھیرنے کے ساتھ وہ ان کو برا بھلا کہنے میں ذرا بھی ہچکچاتے نہیں، اور کبھی کبھار تو ہاتھا پائی کرتے نظر آتے ہیں۔

اور دوسری بات یہ تھی کہ اگر آئندہ مجھ سے کسی طرح کی غلطی سر زد ہو جائے تو فوراً معافی مانگنے پر عمل پیرا ہوں گا۔ اگر کوئی فرد مجھے تکلیف میں مبتلا کرنے کا باعث بنے اور بعد ازاں مجھ سے معافی مانگنے پر کاہل ہو جائے، تو اسے معاف کرنے میں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ہچکچاؤں گا، اگرچہ اس نے مجھے بے انتہا تکلیف میں ڈالا ہو۔

اور تیسری بات یہ کہ اپنی زندگی کی ڈور اپنے ہاتھ میں لوں گا کسی اور پر انحصار نہیں کروں گا، کیونکہ جب زندگی دوسروں سائے تلے بسر کی جائے تو پریشانیاں چاروں اطراف سے گھیر لیتی ہیں، پشیمانی اور مایوسی آپ کے آشیانے میں ڈیرہ جما لیتی ہیں، اور اگر زندگی اپنے اصولوں کے تحت گزاری جائے تو پشیمانی کا احساس ذرہ کم ہو گا، البتہ تکلیف اور پریشانی تو زندگی کا حصہ، اور اتار چڑھاؤ ہی زندگی کی اصل خوبصورتی ہے،

ہم اس بات سے تو بخوبی واقف ہیں کہ غربت نے پوری دنیا اپنا ڈیرہ جما لیا ہے۔ خیر، پوری دنیا تک تو ہم رسائی حاصل نہیں کر سکتے مگر ہم اپنے معاشرے میں روزانہ کے بنیاد پر کسی ایک شخص کو اس کی بھوک سے چھٹکارا دلا سکتے ہیں۔ آج کل اکثر و بیشتر گھروں میں کھانا بچتا ہے جسے پھینک دیا جاتا اگر انہیں محفوظ کر کہ حاجت مند لوگوں تک پہنچائے جائے تو نا جانے کتنے لوگ ان سے اپنے بھوک مٹائیں گے۔

دراصل بات یہ کہ ہمارے پلاننگ بک میں دوسروں کے کردار ہوتے ہی نہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہوتا، ہم انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، بنا مدد کے یا اکیلا کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ جب انسان اپنے منزل پر پہنچ چکا ہوتا ہے تو نا جانے انگنت لوگوں نے اس کو وہاں پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہوتا ہے۔

خیر ان سب کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزیں تھیں جو میں نے اس میں درج کیں تھیں، مگر مندرجہ بالا باتیں جو شاید ہر انسان کی خواہش ہوتی ہیں کہ ان سب چیزوں سے پر وہ عمل پیرا ہو۔ اور آج چونکہ اس دن کو ایک سال گزر چکا ہے، مگر جب بھی میں اپنے اس گزرے سال پر نظر پھیرتا ہوں، تو دل کو تسکین ملتی ہے، کہ اگر وہ رات میں نے باہر سردی میں نہ گزاری ہوتی، تو شاید یہ باتیں میرے ذہن میں وارد نہ ہوتیں، حالانکہ اس وقت میں یہ سمجھ رہا تھا کہ، اس سال مجھے کچھ حاصل نہیں ہوا، مگر میں غلط تھا۔ دراصل وہ پندرہ منٹ اسی سال کا حصہ تھیں، جس نے مجھے اپنے ذات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا تھا۔

اور اب چونکہ چند دن بعد پھر سے اسی رات کی آمد آمد ہے (یعنی 2021 کی آخری رات) تو انشا اللہ اس بار بھی میرا ارادہ ہے کہ 2021 کے آخری چند منٹ میں کمرے کے باہر ٹھٹھرتی سردی میں کھڑا ہو کر اپنے پورے سال پر نظر ڈالوں گا کہ آیا جو الفاظ میں نے اپنے موبائل کے نوٹ پیڈ کے اوراق پر لکھے تھے، کیا ان الفاظ پر میں عملی طور پر قائم رہا یا نہیں؟

Facebook Comments HS