کھوجی بابا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بابا جی باتیں کرتے کرتے خلاؤں میں گھورنے لگتے جیسے وہ اچانک اس دنیا سے کسی اور دنیا میں چلے گئے ہوں

کوئی راز جاننے
کچھ تلاش کرنے
کسی چیز کا کھوج لگانے
خیالوں کی دنیا میں
خوابوں کی دنیا میں
آدرشوں کی دنیا میں

کسی کو کوئی خبر تھی کہ وہ اس بستی میں
کب سے آئے تھے
اور کہاں سے آئے تھے
کوئی کہتا وہ مسافر ہیں
کوئی کہتا وہ مہاجر ہیں
کوئی کہتا خانہ بدوش ہیں
کوئی کہتا درویش ہیں
کوئی کہتا وہ شاعر ہیں
کوئی کہتا وہ دانشور ہیں
کوئی کہتا بہت دانا ہیں
کوئی کہتا بہت دیوانے ہیں
کوئی کہتا بہت سیانے ہیں
وہ سب کی باتیں سنتے اور خاموش رہتے
ان کے چہرے پر ہمیشہ ایک بزرگانہ مسکراہٹ اور آنکھوں میں بچگانہ شرارت بسی رہتی۔

بابا جی خود تو چھوٹے قد کے تھے لیکن بال لمبے تھے جو شانوں پر بکھرے رہتے ان کے بال زندگی کے تجربوں ’آزمائشوں اور خوابوں سے سفید ہو گئے تھے۔

لوگوں کو کچھ خبر نہ تھی بابا جی کہاں رہتے ہیں
کبھی وہ درخت کے نیچے بیٹھے ملتے
کبھی وہ ساحل سمندر پر لیٹے ملتے
اور
کبھی کسی سڑک کے لیمپ کی روشنی میں کھڑے ملتے

ان کے ساتھ ہمیشہ ایک تھیلا ہوتا ایک زنبیل ہوتی اور اس زنبیل میں ہمیشہ ایک کتاب ہوتی۔ کبھی نئی کتاب کبھی پرانی کتاب۔ کبھی دبلی کتاب کبھی موٹی کتاب۔ کبھی قدیم کتاب کبھی ضخیم کتاب۔

بابا جی کو کتابوں کا بڑا شوق تھا۔

ان کا کہنا تھا انہوں نے ان کتابوں سے انسان کے اندر کی ذات اور چاروں طرف پھیلی کائنات کے بہت سے راز جانے ہیں۔ ان کتابوں میں نسلوں کی دانائی محفوظ ہے جو ہر دور کے ادیبوں ’شاعروں اور دانشوروں نے رقم کر رکھی ہے اور وہ دانائی ہم سب کا اجتماعی ورثہ ہے۔

ایک دن کچھ نوجوان بابا جی کے پہلے پیچھے پیچھے اور پھر ساتھ ساتھ چلتے ان کے گھر آ گئے۔ پتہ چلا کہ بابا جی جھیل کے کنارے ایک کٹیا میں رہتے ہیں۔

بابا جی نے نوجوانوں کو اندر بلایا۔ آتشدان میں آگ جلائی ’انہیں سبز چائے پلائی اور اپنی کتابوں سے تعارف کروایا۔

بابا جی نے کہا یہ کتابیں میری سہیلیاں ہیں میں جب چاہتا ہوں ان سے ہمکلام ہوجاتا ہوں یہ مجھے صدیوں کی دانائی کے راز بتاتی ہیں اور مجھے

محظوظ و مسحور رکھتی ہیں۔
نوجوانوں نے بابا جی سے کہا اگر آپ کی اجازت ہو تو ہم کبھی کبھار کسی شام آپ سے ملنے آ جایا کریں۔
بابا جی نے کہا میرے دل اور کٹیا کا دروازہ ہمیشہ مہمانوں کے لیے کھلا رہتا ہے۔ جب جی چاہے آ جایا کرو۔
تم جب بھی آؤ گے ہم مل کر
سبز چائے پئیں گے
باتیں کریں گے
کتابیں پڑھیں گے
زندگی کے مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے
ایک طالب علم نے پوچھا
بابا جی کیا آپ کھوجی ہیں؟

بابا جی مسکرائے اور کہنے لگے میں ہی نہیں سچ کو تلاش کرنے والے سب انسان ’چاہے وہ سائنسدان ہوں یا سکالر‘ شاعر ہوں یا دانشور ’صوفی ہوں یا سنت وہ سب کھوجی ہوتے ہیں۔ وہ زندگی کے راز جاننا چاہتے ہیں۔ زندگی کی پہیلی بوجھنا چاہتے ہیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر تلاش کچھ کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں مل کچھ اور جاتا ہے لیکن وہ ساری عمر کچھ نہ کچھ تلاش ضرور کر رہے ہوتے ہیں اور یہی تلاش‘ یہی حیرت ’یہی لگن اور یہی کسک کسی بھی کھوجی کی نشانی ہے پہچان ہے۔

اس دن کے بعد لوگ بابا جی کو کھوجی بابا کہنے لگے۔
۔ ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 499 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail