صدیوں پرانے بچھڑے کزن
میرا نام رفعانا ہے اور رشتے میں نجمی صاحب کی بھانجی ہوتی ہوں۔ اتفاق سے اس تاریخی دن، سردیوں کی رت۔ ڈھائی بجے دوپہر کا وقت میں نجمی خالو کے گھر موجود تھی۔
فون کی گھنٹی بجی۔ خالو کو اب کم سنائی دیتا ہے چنانچہ فون کی آواز بلند کر کے سنتے ہیں۔
بہت بلند، مسرت سے بھر پور آواز آئی۔ دیکھ لیجیے، آخر کار ہم نے آپ کو ڈھونڈ لیا۔
کون صاحب؟ خالو نے پوچھا۔
میں زاہد عرفان بول رہا ہوں، تمہارا صدیوں پرانا کزن۔ کب سے آپ لوگوں کی تلاش میں خوار ہو رہا تھا۔
نجمی خالو نے رونا شروع کر دیا۔ پہلے سوں سوں پھر دھائیں دھائیں۔ بیگم دوڑیں آئیں۔ انا اللہ کس کا انتقال ہو گیا۔
خالو ہنس پڑے۔ ارے سنو۔ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں سسکیوں کے درمیان بولے۔ زاہد عرفان، ہمارا گمشدہ خاندان۔ کب سے ڈھونڈ رہا تھا۔ لو بات کرو۔
شاہین خالہ نے فون اٹھا کر بڑے اطمینان سے بات شروع کردی جیسے روز ان صدیوں کے بچھڑے دیور سے بات کرتی ہوں۔ نجمی خالو سوں سوں کرتے رہے۔ جب ذرا ہوش میں آئے تو فون سنبھالا۔ تم لوگوں کے فراق میں یہ دوہا پڑھا کرتا تھا۔
ع پتہ ٹوٹا ڈال سے لے گئی پؤن اڑائے اب کے بچھڑے کب ملیں دور پڑے ہیں جائے۔
یہ تو سب ٹھیک ہے یہ بتائیے کیا کرتے رہے اور کیا کر رہے ہیں؟
آ کر ملو، جلد سے جلد ملو۔ بہت باتیں ہوں گی۔ نا ختم ہونے والی باتیں۔
ٹھیک ہے، جلد آؤں گا آدھی ادھوری باتیں کرنے کا فائدہ نہیں۔ جم کر بات کریں گے۔
شاہین خالہ نے خالو کے ہاتھ سے فون لے کر کہا۔ ابھی تک روئے جا رہے ہیں۔ بس آپ سارے خاندان کو لے کر آئیے، تب سکون ملے گا۔ ابھی کل اخبار میں اشتہار دینے کی بات کر رہے تھے اور آج آپ کا فون آ گیا۔
بھئی اس کو کہتے ہیں دل سے دل کو راہ ہونا۔
ہاں بھیا، جیسے غیبی مدد مل گئی۔ بس اب آن کر مل جاؤ۔ اللہ حافظ۔
خالو نے بات کرنے کے لئے ہاتھ پھیلایا۔ بیگم فون رکھ چکی تھیں۔
خالو دیر تک روتے رہے، بیگم نے پانی لاکر دیا۔ ڈبے سے کاغذی رومال نکال کر دیا کہ آنکھیں صاف کریں۔ تب بھی روتے رہے تو بگڑ کر بولیں۔
واہ یہ خوب رہی، جب نہیں ملتے تھے، تب بھی روتے تھے، اب مل گئے تب بھی رو رہے ہیں۔
بیگم، یہ خوشی کے آنسو ہیں۔
2
میں نے ان سے پوچھا۔ خالو صاحب پانچ سو سال بعد ان لوگوں نے آپ کو ڈھونڈ لیا، مگر آپ نے کیا کمال کیا؟
ارے کیا پوچھتی ہو، ایک زمانہ آیا تھا کہ بس خبط سوار ہو گیا تھا کہ بچھڑے ہوؤں کو ڈھونا ہے۔ علیگڑھ گیا کہ شاید ہمارے شہر یا قصبے کا کوئی لڑکا ملے اور کوئی سرا ہاتھ آئے۔ لڑکے مذاق اڑاتے تھے۔ جانتی ہو علیگڑھ کے لڑکے کتنے شیطان ہوتے تھے۔
خوب جانتی ہوں۔ ہمارے خاندان کے بزرگ انیسویں صدی کے آخر میں علیگڑھ گئے اور ہمارے کنبے کے آخری علیگی خود ہمارے شوہر تھے۔
بس سمجھ لو، خوب مذاق بھی بنوایا، مگر لگن نہ گئی۔ اسی تلاش میں نیم خبطی بھی کہلائے۔
وہ کیا کہتے ہیں جوئیندہ۔ آخر آپ نے پا ہی لیا۔ میں نے فارسی بگھارنے کی کوشش کی۔
جوئیندہ یا بندہ۔ نجمی صاحب نے کہا، یار رفعانا فارسی نہ آئی تو کچھ نہ کیا۔ مجھ سے سبق لے لو کل سے آنا شروع کردو۔
ایک شرط پر ۔ کہ جب آپ کے یہ ہمزاد آپ کے گھر آئیں تو مجھے ضرور بلائیں۔
ہاں ضرور، کیوں نہیں۔ ابھی میں اپنی تصویر بھیجتا ہوں اور ان حضرت کی تصویر منگواتا ہوں۔
خالہ کی تصویر بھی بھیجیے اور ان کی بیگم کی تصویر منگوائیے۔ دیکھئے کوئی شباہت ہے کہ نہیں، شاید آپ دونوں کی خوبصورتی کا ایک ہی معیار ہو۔ آخر genetics بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
بھلا بتاؤ ٔیہ کیا بلا ہوتی ہے۔
یہ وراثت کا علم ہے کہ ہم میں اپنے پرکھوں کی کتنی خصوصیات ملتی ہیں۔ آپ کو معلوم ہے خالو جان کہتے ہیں کہ انسانوں میں 98 فیصد چمپینزی کی، 21 فیصد چوہوں کی اور سات فیصد ای کو لائی بیکٹریا کی خصوصیات ہو سکتی ہیں۔
ارے بھئی ایسی باتیں مت کرو، میرے قیلولے کا وقت ہو رہا ہے، خدا جانے کیسے کیسے خواب آئیں گے۔
اچھا تو آپ سوتے، میں چلتی ہیں، خدا حافظ۔
خالہ جان بولیں۔ بس اب آنسو بہانہ رونا رلانا بند۔ ہر نماز میں شکرانے کے نفل پڑھئے اور اپنے اور ان کے حق میں دعا کیجئے۔
ہاں، یہ تم نے ٹھیک کہا۔ نفل تو ابھی پڑھے لیتا ہوں۔ انھوں نے فوراً وضو کے لئے غسل خانے کا رخ کیا۔
میں بھی اپنے گھر چلی آئی۔
۔ ۔
نیا باب
وہ دن بھی تاریخی تھا، جس دن خالو کے صدیوں پرانے کزن ان کے گھر آئے۔
مجھے خالہ نے فون کر کے بلایا۔ جب میں وہاں پہنچی تو سوفے پر پاس پاس بیٹھے دو سر نظر آئے، ان کی پیٹھ دروازے کی طرف تھی اور شد و مد سے یہ بحث جاری تھی کہ ان کے پرکھے کہاں کہاں رہے تھے اور ان میں علیحدگی کب سے شروع ہوئی تھی۔
بچھڑنے کے بعد آخر کار دونوں خاندان پاکستان آئے۔ تب تک نجمی خالو کا کنبہ امریکہ آ چکا تھا۔ دوسرا کنبہ کئی سال بعد آن کر کینیڈا بسا۔
سو یوں صدیوں بعد ملاقات ہوئی۔
دونوں مرد باتوں میں محو تھے۔ خالہ جان باورچی خانے میں تھیں۔ میں دبے پاؤں چلتی کہ آواز نہ ہو اس طرح سامنے گئی کہ دیکھو صدیوں کے کھوئے کزن کیسے ہوتے ہیں۔ پھر بھی ان کو آہٹ سنائی دے گئی۔ آہٹ پر دو چہروں نے مجھے حیرانی سے دیکھا اور میں نے انھیں۔
آپ کو مشکل سے یقین آئے گا، مجھے بھی بمشکل یقین آیا۔ ان کو دیکھا تو یوں لگا جیسے دو جڑواں بھائی پاس پاس بیٹھے ہوں۔ ایک سے سر، ایک ناک نقشہ، ایک سے رنگ، ایک سی داڑھی۔ بمشکل خالو کو ان سے الگ کر کے دیکھا تو محسوس ہوا کہ خالو کے کزن وزن میں کچھ بھاری ہوں گے۔
میں سلام کر کے ہکا بکا کھڑی رہ گئی۔
خالو نے میرا تعارف کروایا۔ یہ میری بھانجی ہے۔ بہت اچھی آرٹسٹ ہے۔ ہم دونوں ایک اکٹھی تصویر بنوائیں گے اس سے۔ کیوں رفعانا بنائے گی نا۔
ضرور خالو، اگر آپ مجھے اس تصویر کے نیچے یہ لکھنے کی اجازت دیں گے۔ صدیوں کے بچھڑے جڑواں بھائی۔
دونوں نے مشترکہ قہقہہ لگایا۔ باورچی خانے سے خالہ ہنستی ہوئی نکلیں۔ میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ دونوں کتنے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
تو بس طے ہوا کہ کل سے ہماری بھانجی ہماری پینٹنگ بنانا شروع کردے گی۔
اجازت ہو تو میں ایک تصویر ابھی لے لوں۔
ہاں، ہاں لے کر ہمیں بھی دکھاؤ، ہم بھی تو دیکھیں کہ تم لوگوں کو ہم دونوں میں اتنی یکسانیت کیسے نظر آ رہی ہے۔
میں نے تصویر کھینچ کر انھیں دکھائی۔
دونوں خوشی سے کھلکھلائے۔ کچھ بولے نہیں۔ شاید انھیں یکسانیت نظر آئی ہو یا شاید نہ آئی ہو۔
کون مانتا ہے کہ کوئی اور شخص اس جیسا ہے۔


