خالی گھونسلا

سردیوں میں سوکھی ٹہنیوں پر بنے ہوئے خالی گھونسلے سیکھ کر کچھ عجیب سی اداسی اور مایوسی ہوتی ہے۔ خدا جانے یہ پرندے کبھی واپس بھی آ پائیں گے یا نہیں۔ کیا ان گھونسلوں کو دوبارہ آباد کریں گے یا نیا گھونسلا بنائیں گے کسی اور ساتھی کے ساتھ۔ کار میں بیٹھی یہ سوچتی جا رہی تھی۔ کھڑکی سے نہایت خوشگوار ہوا آ رہی تھی۔ ایسی خوشگوار جو نہ ٹھنڈی ہو نہ گرم، بس دل و دماغ کو سکون دے

Read more

پہلا پہل افسانہ

ڈاکٹر فرمان پوری نے اپنے دست خاص کے ساتھ ایک ایسی نایاب کتاب مجھے دی جس میں افسانہ نگاروں کے پہلے پہل کا افسانہ شامل کیا گیا تھا اور ادیبوں کا مختصر تعارف ایک اور ندرت۔ یہ کتاب اردو اکیڈمی سندھ نے شائع کی تھی۔ مدتوں بعد آج ان میں سے کوئی بھی لکھنے والا حیات نہیں ہے اس کتاب پر لکھنے کو دل چاہا۔ ع دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

Read more

ہاتھ بادشاہ کا دربار

مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرا ہاتھ ایک دربار ہے۔ اس میں درمیانی انگلی بادشاہ ہے۔ تیسی انگلی بادشاہ کا مصاحب ہے، جی حضوری کے لئے ہر وقت تیار۔ جیسے ہی بادشاہ سلام ذرا سی حرکت کرتے ہیں یہ فوراً جھک کر آداب بجا لاتے ہیں۔ کلمہ کی انگلی وزیر با تدبیر ہیں، جب بادشاہ سلامت مشورہ کرنا چاہتے ہیں تب وہ حاضر جناب ہیں، ورنہ اپنی جگہ پر ہی رہتے ہیں۔ چھوٹی انگلی جو چھنگلیا کہلاتی ہے تیسری

Read more

وہ عجیب رات تھی

اور بات سمجھ میں کب آئی۔ جب ہماری نند کی بیٹی جوان ہوئی اور اس کے رشتے آنے شروع ہوئے تو ہماری نند ایک دن ہمارے گھر آئیں بے حد خوش اور ہیجان میں مبتلا۔ ارے سنو تو ۔ وہ نہیں تھیں جن کا ذکر تم اکثر کیا کرتی تھیں جو تمہارے دادا کے گھر کے ایک حصے میں کرائے پر رہتی تھیں۔ ارے وہی جو زبردست اردو بولتی تھیں، ان کے پوتے کا رشتہ آیا ہے ہماری راشدہ بیٹی

Read more

صدیوں پرانے بچھڑے کزن

میرا نام رفعانا ہے اور رشتے میں نجمی صاحب کی بھانجی ہوتی ہوں۔ اتفاق سے اس تاریخی دن، سردیوں کی رت۔ ڈھائی بجے دوپہر کا وقت میں نجمی خالو کے گھر موجود تھی۔ فون کی گھنٹی بجی۔ خالو کو اب کم سنائی دیتا ہے چنانچہ فون کی آواز بلند کر کے سنتے ہیں۔ بہت بلند، مسرت سے بھر پور آواز آئی۔ دیکھ لیجیے، آخر کار ہم نے آپ کو ڈھونڈ لیا۔ کون صاحب؟ خالو نے پوچھا۔ میں زاہد عرفان بول

Read more

کاہے کو بیاہی بدیس

ہوا یوں کہ ایک بھلے دن سوچا کہ ٹہلتے ٹہلتے ذرا باغ چل۔ یعنی کار میں ایک میل دور اپنی ایک دوست کے گھر۔ اپنے دیس میں کار چلاتے مدت ہو گئی تھی۔ کراچی کی سڑکوں پر کار چلانے والا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے امریکہ میں رہنے والے بیٹے نے دوسرے دن ڈرائیونگ لائسنس دلوانے والی عمارت میں لا کھڑا کیا۔ وہ الگ کہانی ہے پھر کسی دن سنئے۔ ابھی وہ سنئے جو باقاعدہ ڈرائیونگ لائسنس اور کار

Read more

موسم کا حال اور شادی

یار بہت دن بعد ملے ہو یہ بتاؤ تمہاری شادی کیسی چل رہی ہے۔ بیچ میں کچھ ایسی ویسی بات سننے میں آئی تھی۔

بات یہ ہے کہ ایک ہوتا ہے نا مزے دار، چٹخارے دار کھانا وہ بہت جلدی ختم ہوجاتا ہے، اور جو ہوتا ہے پھسا پھسا بے دلی سے پکا ہوا کھانا وہ بہت بچ جاتا ہے۔ سو ہماری شادی مزیدار کھانے کی طرح تھی۔

Read more

آدم جی انعام کی یادیں

آدم جی انعام کے اعلان سننے کا تجربہ سنئے جسے میں شاید کبھی نہیں بھولوں گی۔ ہمارے خاندان میں خبریں سننے کا رواج نانا دادا کے زمانے سے ہے۔ نانا کے ہاں پہلے پہل ریڈیو آیا تو جنگ عظیم کی خبریں محلے والے سننے آتے تھے۔ عورتوں کو پردے میں جانا ہوتا تھا، اور سچ بات ہے عورتوں کو خبروں سے دلچسپی کم ہی تھی۔ چنانچہ خبریں کسی زبان میں ہوں ریڈیو آن ہوتا تھا۔ یہ عادت ہمارے گھر تک

Read more

یادوں کے ذرے

میں نے افسانے لکھے، ناول لکھے، مزاح لکھا، شاعری کی اور پھر خاکے بھی لکھ ڈالے پھر بھی کچھ نہ کچھ لکھنے سے رہ جاتا ہے اور ایسا بھی ہوا کہ بہت کچھ ڈائریوں میں لکھا رہ گیا۔ آصف فرخی نے ایک مرتبہ کہا کہ انھیں ڈائریوں میں لکھی ہوئی تحریروں سے دلچسپی ہے سو میں نے بہت سی چھوٹی موٹی چیزیں انھیں بھیج دیں جو دنیا زاد میں افسانچوں کے نام سے شائع بھی ہو گئیں۔ اب ڈائریوں کے

Read more

(جو میں نے محسوس کیا ) ڈاکٹر شیر شاہ کی سچی کہانیاں

ڈاکٹر شیر شاہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں۔ محبت کی صرف ایک ہی شرط ہوتی ہے کہ وہ بے لوث، بے غرض اور غیر مشروط ہو۔ ان کی زندگی اور کہانیاں اس بات کی گواہ ہیں۔ ہم افسانہ نگار اپنے افسانوں میں جتنا چاہیں بڑھا گھٹا سکتے ہیں لیکن کیا وہ تاثر پیدا کر سکتے ہیں جو ڈاکٹر شیر شاہ کی سچی کہانیوں نے کیا ہے۔ آپ انھیں افسانے کہہ لیں میں انھیں کہانیاں ہی کہوں گی اور سچ

Read more

جوش صاحب

جوش صاحب ماشا اللہ، شخصیت کے لحاظ سے بھی، اور شاعری کے لحاظ سے بھی بہت بھاری بھرکم تھے۔ میں ان کی قادر الکلامی کی قائل ہوں، کیا نظمیں، کیا مناجات اور رباعیات۔ جو شاعری کی بھرپور کی۔

اپنے ایسے خیالات کا اظہار بھی برملا کر دیتے تھے۔ جن پر لوگ برا مان جاتے تھے۔ کبھی مولائے کائنات کو پکارتے ہیں کہ وہ ان کو آواز دے اور کبھی جبرائل سے طاقت پرواز مانگتے ہیں۔ کسی کو سود خور مولوی کہہ دیا۔ ایسے خیالات کی مذمت میں افکار رسالے کو ان پر نمبر نکالنا پڑا۔ (بھلا کس کے لئے کہا، میں تو نہیں کہہ سکتی۔ ”اپنی پوری کتاب دیدی، ہم تو کسی کو ایک شعر نہ دیں۔“ )  ایولیوشن کے سلسلے میں کہا۔ کہ فی الحال تو دم ہی جھڑی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جوش صاحب تشکیک کا شکار تھے، یا یقین و شک کے درمیان رہتے تھے جیسے اور بھی کوئی لوگ رہتے ہیں مگر اس طرح اظہار نہیں کرتے۔

Read more

جوش شاعر جو نہ ہوتے تو مصور ہوتے

میں جوش صاحب سے ملتی تو یہ بات پوچھتی، مگر میں جوش صاحب سے کبھی نہیں ملی ، اگر موقع بھی ہوتا تو شاید میں سامنے نہ جاتی، اس ڈر سے کہ کسی لفظ کا غلط تلفظ منہ سے نکل گیا  کیا ہو گا۔ آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ وہ غلط تلفظ یا خط املاء ہرگز برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ فوراً ٹوک دیتے تھے۔ کسی نے کہا میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ کہا سوال پوچھا نہیں جاتا کیا جاتا ہے۔ کسی نے کہا میں آپ کو کار تک چھوڑ آؤں۔ کہا کیا میں کوئی بکری یا بندر ہوں جو آپ مجھے چھوڑ دیں گے۔ وہ مشہور واقعہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ باتوں میں عصمت آپا نے کہیں دِماغ کہہ دیا۔ جوش صاحب نے فوراً ٹوکا، دِماغ نہیں دَما۔ غ۔ عصمت آپا آخر چغتائی تھیں فوراً بولیں،

” جوش صاحب دَماغ آپ کا ہو گا، ہمارا تو دِماغ ہی ہے۔“

Read more

یہ آواز کہاں سے آئی

مدت ہوئی نانی کا انتقال ہوچکا ہے۔ اب جب بھی ان کی بات کرتی ہوں میں انھیں ایرانی نانی کہتی ہوں۔ نانی کو مجھ سے بڑی شکایت تھی کہ یہ لڑکی کبھی جو میرے پاس بیٹھ جائے۔ آئی ایک مکھی مار سلام کیا اور یہ جا وہ جا۔ وہ پنکھے سے مکھیاں ہلاتے یا غصے میں پنکھے کی ڈنڈی سے مکھی مارتے ہوئے کہتیں، جو کبھی نہ مری۔ میں سنی ان سنی کر جاتی۔ اب ان بڑی بی سے کیا

Read more

وہ تھی ایورسٹ کی چوٹی

ریحان بھائی، آپ میرے کمرے میں آئیے ذرا۔
بھئی کیوں میری بوڑھی ہڈیوں کو تکلیف دے رہے ہو، تم کیوں میرے کمرے میں نہیں آ جاتے۔
کوئی وجہ ہے نا، آپ آئیے تو ۔
اور یہ تم کھس پسا کیوں رہے ہو؟
اب ہر بات فون پر تو نہیں ہو سکتی، اسی لئے تو بلا رہا ہوں۔
تو خود کیوں نہیں آ جاتے؟

Read more

دادی اماں کا دن

اب اماں اور ابا کا دن مناتے ہیں تو دادی کا دن منانا بھی ضروری تھا۔
میں شگفتہ پھولوں کا گلدستہ لے کر ان کے گھر اور پھر ان کے کمرے میں پہنچی تو وہ سنگھار میز کی دراز میں کچھ سٹر پٹر کر رہی تھیں، یعنی کوئی ایسی چیز ڈھونڈ رہی تھیں جو وہاں نہیں تھی کیونکہ انھوں نے وہاں رکھی ہی نہیں تھی۔ اب کھوئی یادوں اور چیزوں کو ڈھونڈتے رہنا ہی ان کا مشغلہ رہ گیا تھا۔ بہرحال میں نے ان کے کمزور کانوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ذرا اونچی آواز میں کہا۔ ”دیکھئے دادی اماں میں آپ کے لئے پھول لائی ہوں۔“

Read more