مریم نواز کی آڈیو لیک اور ہماری معاشرتی اقدار


مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور سینیر رہنما پرویز رشید کی آڈیو لیک فی الوقت خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے جس میں انہوں نے چند صحافیوں کے خلاف غیر اخلاقی جملے ادا کیے جس کی وجہ صحافیوں کی مسلسل تنقید تھی۔ مریم نواز اور پرویز رشید کا یہ انداز کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں تھا، اس پر مزید یہ کہ حفیظ اللہ نیازی جن کا انداز تحریک انصاف کے حوالے سے تلخ ہے کو (آڈیو لیک میں) سراہنا دوہرا معیار کا شاخسانہ بھی ہے جو موجودہ سیاسی جماعتوں کا وتیرہ ہے۔
ارشاد بھٹی نے اس معاملے پر شدید غصہ کا اظہار کیا اور غیر اخلاقی زبان کو جواز بنا کر مسلم لیگ (ن) کے آزادی صحافت، جمہوری طرز حکومت اور سویلین بالادستی کے نعرے کو ٹارگٹ کیا جو شاید ان کو پہنچنے والی تکلیف کا ردعمل تھا۔
دوسری طرف حسن نثار نے غیر محسوس انداز سے کہا کہ معاشرے میں شاید اس سے زیادہ تلخ اور گھٹیا انداز سے مخالفین ہم پر تنقید کرتے ہوں اس لیے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے اور ساتھ ہی مریم نواز کو خاتون ہونے کا (edge) دیا اور پرویز رشید کی تاریخ میں سیاسی ورکر کے طور پر ہونے والی جدوجہد اور دیانت داری کو سراہا۔
 یہ دو مختلف زاویے ان دو افراد کے ہیں جن کے متعلق آڈیو لیک ہوئی۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ کیا اخلاقی پستی ان دو افراد کا ذاتی مسئلہ ہے اور ان افراد کی اخلاقی بلندی سے معاشرے کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے یا اس کے برعکس اخلاقیات کا بگاڑ ہمارے معاشرتی رویوں کا جزو بن چکا ہے جس کا ہر فرد شکار ہے؟
بات دراصل یہ ہے کہ اخلاقیات ماحول سے پیدا ہوتے ہیں اور ہمارا معاشرتی ماحول مفادپرستی، سرمایہ پرستی، تنگ نظری، غیبت اور چاپلوسی کے عناصر سے مرکب ہے۔ یہ معاشرتی ماحول ہر فرد پر اثر انداز ہے۔ اور یہ بات تاریخ کے لازوال نتائج سے اخذ شدہ ہے کہ معاشرتی اخلاقیات معاشرے کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا عکس ہوتے ہیں۔ مفادپرستی، تقسیم انسانیت، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی بنیاد پر قائم سماجی نظام، آمرانہ (شاہ پرستانہ) سیاسی نظام اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم (سرمایہ دارانہ نظام) پر قائم معاشی نظام میں معاشرتی ماحول ایسا ہی قائم ہوتا ہے جو فی الوقت ہمارے سامنے ہے۔ اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہم سے اختلاف رکھنے والے افراد تو درکنار ہم جن لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے اور ہنستے کھیلتے ہیں کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں ہمارا رویہ ان سے متعلق اخلاقی پستی کا مظہر ہوتا ہے۔
جب تک عدل کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظریات پر ریاست قائم نہیں ہوتی اور اس کے ذیل میں معاشرتی اخلاقیات کا ماحول پیدا نہیں ہوتا، ہمیں حسن نثار کی طرح غیر محسوس انداز میں تسلیم کرنا چاہیے کہ معاشرے کے عمومی رویے ہمارے خلاف کی گئی کسی بھی نازیبا گفتگو سے بھی تلخ ہیں اور ہمیں ان رویوں کو بنیاد بنا کر کسی انسان کو مکمل ریجیکٹ نہیں کرنا چاہیے۔
Facebook Comments HS