علم کے بغیر زندگی جہالت جبکہ عمل کے بغیر علم زحمت ہے


ایک محفل میں میرے ساتھ بیٹھے دو افراد باہم محو گفتگو تھے۔
ایک بولا،

عرصہ پہلے ایک مجلس میں، میں نے ایک ”دیندار“ اور پارسا ”کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے بڑی مہذب اور شائستہ انداز میں اپنا خیال پیش کیا تھا، جس سے اکثریت نے اتفاق کیا تھا، وہ دن اور آج کا دن وہ محترم نہ صرف مجھ سے روٹھا ہوا ہے بلکہ موقع ملتے ہی میری کردار کشی کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔

دوسرا بولا،
”اہل مذہب“ کے بغض، کینہ، نفرت اور تعصب سے تو شیطان بھی اللہ کی پناہ مانگا کرتا ہے۔
اچانک میری طرف رخ کر کے کہا،
صوفی صاحب،
خفا نہ شی، اپ ایسا نہیں ہوں گے مگر بعضوں نے میرا بھی دل جلایا ہے۔
چہرے پر ایک پیکی مسکراہٹ لاتے ہوئے دل ہی میں کہا کہ۔

نہ ”اہل مذہب“ ہمیں اس قابل مانتے ہیں کہ ہم بھی ان کی ”صفوں“ میں شمار ہو پائے اور نہ ہمیں کسی پارسائی کا زعم ہے۔

درجہ بالا خیالات سے ہمیں کسی اتفاق کی ہرگز بھی جرات نہیں کہ یہاں معاملہ ”ایمان“ کا ہے البتہ اتنا ضرور جانتے ہیں کہ۔

کوئی فاضل کیا، کوئی پارسا کیا
کوئی خطیب کیا، کوئی امام کیا
کوئی استاد کیا، کوئی مدرس کیا
کوئی قدیم کیا، کوئی جدید کیا
کوئی دینی کیا، کوئی دنیاوی کیا
کوئی علامہ کیا، کوئی دانشور کیا
اگر۔
دل ان کا خوف خدا سے لبریز نہیں اور تقوی کی حقیقی دولت سے مالا مال نہیں تو۔
وہ تقوی کی زعم میں مبتلا ہے
نیکی کی تکبر سے دوچار ہے
اور
عجز و انکساری کی وصف سے عاری ہے۔
اسی لئے نیکی اور بدی کا ان کا اپنا معیار ہے،

ثواب اور گناہ کا ان کا اپنا پیمانہ ہے اور سب سے بڑھ کر ان کے پاس ”ایلاء“ کا وہ تریاق ہے جس سے بڑے سے بڑے گناہ کے زہر کو بھی ہضم کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہوتا ہے۔

اللہ رب العالمین جو۔

الرحم الراحمین ہے، سمیع بصیر ہے، مہربان ہے اور جن کی رحمتوں کی وسعتیں لامحدود اور لامتناہی ہیں، ان ہی کی پناہ میں عافیت ہے اور خطاوں و گناہوں پر پردہ ڈالنا ان ہی کی شان اور وصف ہے۔

اسی رب سے دعا ہے کہ
اے عزت دینے والے رب!

ہمیں ایسے لوگوں کی شر سے محفوظ فرما جو اچھائیوں کے چھپانے کو اپنا کمال اور برائیوں کو آشکار کرانے کو اپنا فن گرداننے پر فخر محسوس کرتے ہیں، اور ایسا سب کچھ ”تقوی و پارسائی“ کا لبادہ پہن کر ہی کر لیا کرتے ہیں۔

شیطان کی چالوں سے بچنا اور رحمتوں کا پانا صرف اللہ تعالی کے فضل وکرم کی بدولت ہی ممکن ہے۔

Facebook Comments HS